Monday, July 14, 2014

پارٹی سیاست یا قومی اتحاد؟ پس پردہ عظائم ! آرچن بلوچ

آرچن بلوچ 


ھم سمجھتے تھے کہ جب اتحاد ہوگی تو وہ اپنی ترقی یافتہ شکل میں ہوگئی یعنی اڈوانس لیول کی سطح تک کی۔ توقعات یہی تھیں کہ انکلابی پیمانوں پر مشتمل ایک متحدہ قومی کونسل تشکیل پائیگی جس کے تحت فوراً قومی ادارے تشکیل پانا شروع ہونگے۔ مسلح تنطیمیں یکجاہ ہوکر قومی فوج کی تشکیل کرینگے۔ عبوری آئین بنائیں گے ۔ قومی تحریک کو عالمی دنیا میں منوانے کے غرض سے خارجہ امور کے نمائندے مقرر کیے جائیں گے۔ اور انہی اداروں کے زریعے دشمن کو مجبور کیا جاے گا کہ وہ ہمارے گلزمیں سے فوراً نکل جائے۔ مگر حال ہی میں بی آر پی کی جانب سے ایک بیان کے مطابق جنیوا میں ایک اھم اجلاس ہوا جس میں بلوچ قومی کی یکجہتی کو وقت کی ضرورت قرار دیاگیا۔ قبضہ گیریت سے نجات اور آزاد و خود مختار بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے بلوچ متحدہ محاذ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔ 
جن افراد و پارٹیوں نے اس اجلاس میں شرکت کی ان میں بی آر پی ، بی این پی مینگل اور بی این ایم شامل تھے۔ بی ایس او کی عدم شرکت سوالیہ نشان ٹہرا۔ اس مجوزہ اتحاد کے اجزاے ترکیبی کو دیکھتے ہو ئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی آزادی کی مقصد کی برآوری کیلئے یہ اُس سطح کی اتحاد نہیں جس کی ہمیں امید تھی۔اگر عوامی مقبولیت کے لحاظ سے قومی تحریک عروج پر پہنچ چکی ہے تو اس مجوزہ اتحاد کے اجزاے ترکیبی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اس سطح سے بہت نیچھے آگئے ہیں جہاں بلوچ فرزندوں نے اپنے لہو دیکر جس بے جگر ی سے قومی تحریک کو اڈوانس کیا تو اس کا نعم البدل قومی اتحاد ہوتا نہ کہ کچھ مخصوص لوگوں کا حصوصی کلب exclusive club جس میں پاکستانیوں کی طرح پارٹی پالٹکس کے روایتی سیاست کا window dressing ہوتا رہتا ہے ۔ یہ وہی سیاست ہے جس سے بابامری ھمیشہ گریزاں رہے۔ سوال یہ ہے کہ نیب کے نا کام سیاست کے بعد بابا مری نے اپنی عمر میں کیوں سردار عطااللہ مینگل کو اتحاد کیلئے دعوت نہیں دی؟ 
جسمانی طور پر بابا مری کی رحلت و کوچ اپنے بزگر و لاچار عوام ، مقبوضہ گلزمیں کو اپنے ھمفکری سنگتوں کے صفرد کرنا احساس زیاں کا ایک عجیب قسم کادرد دل میں پیدا کیے ہوے ہے۔ گوکہ آزادی کی تحریک کی کامیابی کوبابا مری اپنے حیات میں نہ دیکھ سکے مگر خالص بلوچ قومی نظریہ کو اپنے عظیم سینے پررکھتے ہوے اسے آلودگی سے ہمیشہ بچا ئے رکھا۔ اس خالص بلوچ قومی نظریہ کی بلوچ عوام میں شعوری مقبولیت کو اپنا حاصل و صول کہا۔ اپنے گلزمیں پر کسی غیرکی شراکت داری یا حکمرانی کو صرف ایک بے شعور غلام ہی برداشت کرسکتا ہے۔ بابا مری کسی چوھدری کی حکمرانی ، چاہے بلوچ پارلمنٹری سیاست کے زریعے کیوں نہ ہو، کو اپنے سرزمیں پر کیوں قبول کرے؟ لیکن آج جس اتحاد کی بات ہورہی ہے کیا اس میں ہمیں پاکستانی پارلمنٹری سیاست کے اجزا ء نظر نہیں آرہے ہیں؟ اگر خالص بلوچ قومی نظریہ کے تحت بلوچ سرزمیں پر بلوچ کی حاکمیت Sovereigntyکی بحالی کے جہد کیلئے پارلمنٹری سیاست کے ملاپ کو جائز سمجھتے تو بابامری کب کے سردار عطا اللہ مینگل کے ساتھ قومی اتحاد کرتے یا غوث بخش بزنجو کو بھی اپنا فکری سنگت سمجھتے ۔ مگر آج افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نہ سیاسی میدان میں بابا مری کی اصولوں کا پاسداری کیا جارہا ہے نہ ہی مسلح گوریلہ جنگی اصولوں کو اھمیت دیا جارہاہے۔ بابامری کیڈرز کی زھنی تربیت سے لیکر مالی وسائل کی فراھمی تک رھنمائی کرتے رہے۔ اور ترکیب یہ دی کہ بندوق کی گولی سے دشمن کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اسلیے گوریلہ جنگ لڑو مگر چھپ کے س رات کے اندھیرے میں۔ گوریلہ جنگوں کی تاریخ و ٹکٹیس کو اگر کسی نے پڑھا ہوگا تو اسے ضرور پتہ چلے گا کہ گوریلہ جنگ صرف ایک کمزور فریق لڑتا ہے وہ بھی عاجزی اور انکساری کے ساتھ۔ مگر یہاں معامہ الٹا ہے وگرنہ طاقت ہوتی تو براے راست دشمن پر حملہ کرتے ہوے اسے بھگا دیتے۔ مگر حالیہ کچھ عرصے سے ا س کے برعکس کچھ کامیابیوں کے زعم میں مبتلاء گوریلہ جنگ کے تمام اصول بالائے تاک رکھے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا میں کئی وڈیو کلیپس میں کچھ تنظیموں کے علاقائی کمانڈر ز غرور و تکبر کے ساتھ کھلم کھلا، دن دھاڈے ایسے اتراتے ہوے عوامی مجموعوں میں تقریریں کرتے نظر آتے ہیں جیسے جنرل شوارسکوف کی فیلد مارشل کا ٹائٹل حاصل کرچکے ہیں! گاؤں اور کھیل کے میدانوں میں آکے تقریریں کرتے پہرتے ہیں۔ اس سے کیڈروں کا کھوج لگانے میں دشمن کا کام کتنا آسان ہوگا۔ اس کا   اندازہ کسی کو نہیں اور اب یہ کمانڈرز جنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے علاقائی لیڈروں کے زمہ داریوں کو بھی اپنے زمہ لے چکے ہیں۔ تو پھر سیاسی پارٹیوں یعنی بی این ایم ، بی ایس او اور بی آر پی وغیرہ کی کیاضرورت ہے؟
اختر مینگل کی دھمکی !
حال ہی میں سردار مینگل نے گوادر یارترا کے دوراں یہ دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہیں مانے تو وہ ا سمبلی سیٹوں سے دسبردار ہونگے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کا ایک دھمکی پہلے بھی دے چکے تھے۔ مگر اخترجان مینگل کی اسمبلیوں سے اسطفی دینے کی دھمکی کو پاکستانی اسٹیبلمشنٹ سنجیدگی سے لی اور نہ ہی اختر کی تحفظات کو د ور کرتے ہوے ا ن تما م مطالبات، چھ نقاط کے سمیت کو عملی طور مان لی۔ ثابقہ ادوار کے تجربات اور موجودہ آثارو قرا ئن سے پتہ چلتا ہے کہ وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھا سو تب بھی تھا برقرار رہا ۔ کیونکہ نہ نومن تیل بہا نہ رادھا ناچی۔ بلکن حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستانی فوج اور نواز حکومت کے درمیان پرویز مشرف کے بارے میں ایک رویتی سیاسی ماحول بن چکی تھی اس کا حصہ بننے کیلئے صدقے میں ملنے والے دونوں سیٹوں کو واپس کرنے کیلئے پرانی ریت کے مطابق حسب دستور حق خود اداریت کی ناکارہ نعرہ کاستعمال کیا گیا۔ اختر جان کہا کہ وہ اس نعرہ سے دسبردار نہیں ہوگا ۔ مگر کو ئی بتلاے کہ ھم بتلائیں کیا۔ نواز شریف کی پچھلی حکومت کے دوراں پونم کی منکوحہ کے ساتھ ساتھ پرویز حکومت کے دور تک جماعت اسلامی، جے یو آئی پیپلز پارٹی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، ھزاراہ ڈیموکرٹیک پارٹی وغیرہ کے ساتھ ھم مجلس ہوکر جمہوریت کے بحالی کے نعرہ کے ساتھ حق خود ارادیت کا نعرہ لگتا رہا ۔ مجھ جیسے خوش اعتقاد بندوں کو بہکانے کیلئے شاید ایک اچھا نعرہ ہو مگر وہ دو ر لد چکا جب سردار صاحبان اپنے اوتاکوں میں بیٹھ کر اپنی مرضی کے نعرے لگواتے رہے ۔ اس نعرہ کو حکمرانوں سے منوانے سے تو رہا مگر اختر جان عوام کو بتائے کہ کیا مزکورہ پارٹیوں نے تمھاری اس نعرہ کو کھبی ما نا بھی ہے کہ نہیں؟ بلوچ آزادی پسند لکھاری اُن پر انہی متضاد رویوں کی وجہ سے تنقید کیا کرتے تھے۔ بی این پی مینگل حق خود اداریت جیسے نعروں کی سہارا لیکر آزادی پسندوں کی درمیاں واردات کی شکل میں پھوٹ ڈالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہے۔ 
کئی عرصے تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ آج نہیں کل ضرور سردار صاحب بلوچ آزادی پسندوں کے صفوں میں شامل ہونگے، شاید یہی امید تھی جس نے بی آر پی کو بی این ایف سے جدا کیا۔ جس سے قومی مزاحمتی تحریک کی سیاسی پہلو دگرگوں ہوگئی، اور متفقہ سیاسی چہرہ سے محروم رہا ۔ اسی ایک غلط فیصلے کی وجہ سے ایک نا ھتم ہونے والے سیاسی polarization چل پڑی ہے۔ اس غلط امید کا شکار نہ صرف بی آر پی رہی ہے بلکن اس سے بی این ایم اور بی ایس او آزاد بھی اپنا دامن نہ بچا سکے۔ اسی طرح بی این پی مینگل نے بلو چ ہیومن رائٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے کئی لوگوں کو اسی امید کے بہانہ و درپردگی میں دوسرے آزادی پسند پارٹیوں کے خلاف زھر اگلتے رہے۔ اس کار خیر میں ثنا بلوچ ، تاج کچکی ظفر بلو چ اور میجر مجید ہمیشہ لوگوں کو یہ باور کراتے رہے کہ سردار صاحب پر تنقید نہ کرو کہ وہ قومی جہد آجوئی میں کل نہیں تو پرسوں ضرور شامل ہونگے۔ حالانکہ روز لاشوں کے گرنے کے باوجود دوسری طرف سردار قوم کو یہ کہتا گیا کہ آزادی نہیں ملے گی اور اگر مل بھی گیا تو اسے سھنبالنے کی صلاحیت بلوچوں میں نہیں۔ انہی لوگ نے خیر بیار مری کو اسی لیے جمعدار کا لقب دیاگیا کیوں کہ وہ ایک ہی وقت میں دو کشتیوں پر سوار ہونے والوں کے ساتھ چلنا نظریاتی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ اس حوالے مزکورہ بی این پی کے یہ وفادار پیٹ پیچھے سوشل میڈیا میں مختلف ناموں سے سرگرمی کے ساتھ خیربیار مری کی کردار کشی میں شاہ سے زیادہ اپنا وفاداری پیش کررہے ہیں ۔ موجودہ غیرسیاسی رویہ سے یہی پتہ چلتا ہے تاریخ خود کو پھر سے دھرانے کی چکر میں ہے۔ ماضی کی غیر سیاسی رویوں کو دیکھتے ہوے یہ سوال اٹھتا ہے کہ بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ کا (قومی تاریخ سے مراد نہیں) وہ کونسا مرحلہ ہے کہ جہاں قوم پرستی کی نام کو لیکر یہ چہار یار سردار عطاللہ خان مینگل، غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی اور نواب خیربخش مری، خالص بلوچ قومی نظر یے کے تحت اکھٹے ہوکر ایک متفقہ لاء عمل کے تحت قوم کے لیے نجات کی راہیں تلاش کرنے متحد ہوے؟ صرف ایک دفعہ یہ چاریار ایک پرائے غیر بلوچ پارٹی ، نیپ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تھے مگر صرف ایک ہی نشت میں ایک غیربلوچ   کیRemarks کی وجہ سے ان کی یہ اکٹھ بکھرگئی۔ اور یہ چاروں وہی لیڈر ہیں جن کی وجود ہمارے زھنوں میں دیومالی کی سی ہے۔ ان کے بارے میں پروفیسر عزیز محمدبگٹی لکھتے ہیں کہ بلوچ قوم کی قبائل سے قوم تک کاتکمیلیت کا مرحلہ اس وقت مکمل ہوا جب یہ چہاروں یار نیپ کی پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوے۔ لیکن پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ 1970 کی عام انتحابات میں نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچستان کی سیاسی اور انتخابی جدوجہد کے دوران جو سخت جدوجہد کی تھی اس سے شاید ہی کوئی بلوچ انکار کرے ۔ لکن جب اس کے ثمرات کا وقت قریب آیا تو ان کو بالواسطہ طورپر اپنی صفوں سے الگ کیا جاچکا تھا۔ وہ ایک ایسے دھتکارے ہوے انسان کی طرح تھی جسے اس کے اپنے ہی عزیز ترین اہل خانہ نے اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا ہو\"۔ 
موجودہ دور میں بلوچ قوم کی جہد آجوئی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ اس کی ابتداء اس وقت شروع ہوئی جب خیر بیار مری کو بلا وجہ بی این ایف کی پلیٹ فارم سے متنازہ بنایا گیا۔ اس تمام کے باوجود خیربیار کی طرف سے کئی کوششیں کی گئیں کہ سارے آزادی پسند قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں مگر ہر بار اسے عمداً ناکامی سے دوچارکروایاگیا۔ اب سوائے ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اور شکایتوں کے سوا کچھ بچھا بھی نہیں۔ دوسری طرف سے کوئی ایسا روڈ میپ یا پروگرام بھی نہیں دیا گیا جس میں تمام آجوئی پسند اکھٹا ہوسکیں۔ کٹورپن اور دوستی کی ہاتھ کو جھٹکنے کی رویہ نے کدورتوں کو جنم دینا شروع کردیا ہے۔ بقول نواب اکبرخان بگٹی کے One thing led to another thing۔ اب ایک غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ فکری سنگتوں کی طرف سے ہر مثبت تجویز کو ڈھنکے کی چوٹ پر مسترد کردینا ایک ایسی عیاش زھنی رویہ کی
طرف اشارہ کرتی ہے جسے عرف عام میں خودغرضی کہتے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کو میر غوث بخش اور سردار مینگل کی اقتدار کی لالچ نے اور سردار خیربخش مری کی خاموشی نے دھتکارا۔ اور موجو دہ دور کی نئی بلوچ سیاسی سوسائی میں سابقہ بلوچ نشنل فرنٹ کے پیٹ فارم پر سے ونڈو ڈریسنگ کے زریعے بی آر پی کے دوستوں نے بی این پی مینگل کے درپردہ سازشوں کے ایما پر سنگت خیر بیار مری کی کردار کو بلا وجہ متنازہ بنا نے کی کشش کی۔ اور غیرسنجیدگی کی اس Equationمیں بی این ایم کے سیاسی تربیت یافتہ دوستوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔ 70 کی دہائی میں اپنے فکری دوستوں کے منفی و متضاد رویوں کے ردعمل میں نواب بگٹی نے دشمن کے کیپ کو جوائن کیا اور خیر بیار مری نے اس کے برعکس قومی نظریہ کے تحت بردباری اور تحمل کے ساتھ شکایتیں اور حقائق بیان کیے اور تسلسل کے ساتھ قومی تحریک کی بین الاقوامی معاملات کو حتی الوسعی آگے بڑھا رہے ہیں۔ 

خرف آخر ؛ پارٹی پالٹکس کے زریعے سنگت خیر بیار مری اور ان کے دوستوں کو یک تنہا isolate کرنے کی خواھشیں اپنی جگہ ،  اور   مہران مری، براھندگ بگٹی اور ڈاکٹر للہ نظر کا بی این پی مینگل کے ساتھ اتحاد سے آزادی کی قومی تحریک کو شاہد ہی کچھ فائدہ پہنچتا ہو، مگر وقتی طور پر بلوچ قومی تحریک آزادی کا خطے کی نئی جیو پالیٹکس کے equationمیں ٹائم فکٹر کی اھمیت پاؤں تلے روندھا جائے گا۔ اور یہ ایک بہت بڑی بھاری قیمت ہوگی اور اس قیمت کا خمیازہ صرف ستم رسیدہ عوام اور مخلص سرمچاروں کو بگتنا پڑے گا ۔ 

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...