Tuesday, February 4, 2014

اختلافی پالسی میٹرز پرفوری مزاکرات کا دعوت اور ایک نمائندہ قومی کونسل کی تشکیل وقت کی ضرورت




 آرچن بلوچ
گزشتہ کئی عرصے سے سوشل میڈیا خاص کر فیس بوک میں دوستوں کے درمیان آ پس میں بہت سے پالسی میٹرز کے حوالے تندوتیز بحث دیکھنے کو موقع مل رہا ہے ۔ لیکن قومی نظریہ کے حوالے کسی نے ایک بھی لفظ نہیں کہا ہے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ قومی نظریہ پر سب متفق ہیں، یعنی بلوچستان کی آزادی کی فکر، جس پر بشمول عام عوام کے، قوم کے تقریبا تمام طبقے یعنی لکھاری، دانشور، آرٹسٹس، شاعر و سنگرز ، فلم کَش، ڈاکٹرز، ٹیچیرز ، طلبا، وکلا سب متفق ہیں۔اس لیے اس حوالے بابا مری نے ایک انٹریو میں کہا کہ آزادی حاصل کرنے کیلے تمام سامان تو سرجم ہو چکے ہیں، مگر انہیں اکھٹا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑی خوش قسمتی یہی ہے کہ قومی آزادی کی نظریہ کے تحت ، جس آعلیٰ و بنیادی پالسی نے عام عوام میں پزیرفتگکی یا مقبولیت کی سند حاصل کی ہے وہ ہے جہد کی مزاحمتی طریقہ کار! شہدا کی عظیم قربانیوں کی بدولت آ ج بلوچ قومی آزادی کی تحریک د نیا کی سب سے طاقتورتریں ایوان میں ایک بل کی شکل میں پیش ہو چکی ہے ۔ اور یہی ھمارے لیے قبولیت کا ایک سند ہے۔ اسے پاس کروانا ھمارے لیے ایک امتحان سے کم نہیں۔ اور یہ اس وقت پاس ہوگی جب ھم ایک مشترکہ قومی قیادت دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہونگے۔ قبضہ گیر کی استبدای اقدامات کی وجہ سے ملک میں سیاسی عمل کو بہت سے پیچدگیاں پیش آ رہی ہیں اسی لیے سیاسی عمل کو ملک سے باہر منتقل کر نے کی ضرورت ہے ۔ یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایک مشترکہ قومی قیادت تشکیل پاے گا۔ بلوچوں کا اپنا آزاد میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ایسے عام معاملات ہیں جن سے عام عوام بھی متعارف نہیں ہوسکتا ہے۔ ایک دوسرے سے رابطہ قا یم کرنے کا وسیلہ دور جدید کا سوشل میڈیا ہے ۔ سوشل میڈیا ایک اوپن میڈیا ہے جس میں ہر کو ئی حصہ لے سکتا ہے اور رایہ عامہ کو حق میں یا مخالفت میں بھی متاثر کرسکتا ہے، چاہے وہ دنیا کی سفاک ترین انسان ہی کیوں نہ ہو ۔ ! بلوچ قومی اتحاد سے ڈرنے والوں کی طرف سے اس نئی میڈیا کا خوب فا ئدہ اٹھانے کی کوشش کیا جارہاہے۔ یہ ماننا پڑیگا کہ ایک حد تک انہوں نے بلوچ سنجیدہ سیاسی بحث و مباحثوں کو اوورٹیک اور ہائی جیک کیاہواہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاسی ورکرز سوشل میڈیا میں، قومی نظریہ کو کم اور پارٹی لائن کو زیادہ ترجیح دیا جارہاہے ۔ اسی وجہ سے دشمن کو واردات کرنے میں آسانی ہو چکی ہے۔قابل زکر بات یہ ہے کہ بلوچ آزادی پسندوں میں اختلافات کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں ، لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جاے تو اھمیت کے لحاظ سے آپ کو وہ ثانوی نویت کے پالسی میٹرز کے درجے پر ملیں گے ۔ ان اختلافات کا تعلق نہ قومی نظریہ سے ہے اور نہ ہی جہد کے طریقہ کار کے آعلیٰ و بنیادی پالسی پر یعنی مصلح مزاحمتی جہد سے ہے ۔ بلکن ان کا تعلق زیادہ تر ان معاملات سے ہے جن کو مزن دیوان کے تشکیل دینے کے بعد حل کیا جاسکتا ہے۔ مزن دیوان کا میرا مراد یہ ہے جب بلوچ آزادی پسند سیاسی رھنما ایک بلوچ نمائندہ قومی کونسل تشکیل دینے میں کامیاب ہونگے تو اس کے تحت تمام وہ معاملات زیر بحث آئینگے جن کی وجہ سے مزاحمتی جہد سیاسی چہرہ سے محروم رہا ہے۔ اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرینگے۔اب آتے ہیں ان معاملات کی طرف جن کی مدد سے ھم ایک بلوچ نمائندہ کونسل تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہین۔ اور ہمیں امید ہے کہ ھمارے آزادی پسند لیڈرصاحبان ان پر غور فرمائیں گے۔ اس حوالے ھمارے پاس دو آپشن ہیں جنہیں بطور انسٹرومنٹس یا اوزار استعمال میں لاکر حاطر خواہ نتائج حاصل کییے جا سکتے ہیں ۔ پہلا آپشن کا تعلق بلوچی رواج سے ہے جس کے تحت معاشرے کے بزرگ ، معتبراں، کماش، شے اور مختلف قبائل کے سربراہاں کی سربراہی میں قومی جرگہ منعقد کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مگر سنڈیمنی قبائلی سیسٹم، تھرڈ پارٹی یعنی دشمن کی موجودگیت اور اس کے ریشہ دوانیوں کے وجہ سے یہ آپشن قابل اعتبار اور قابل عمل نہ رہا۔ اب رہا دوسرا آپشن، اور وہ ہے سیاسی سفارتکاری، جسے استعمال میس لاکر اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کیے جاسکتے ہیں اور ساری دنیا بھی اسی سے مستفید ہورہی ہے۔ اور ھمارے لیے بھی یہی آپشن مناسب اور قابل عمل ہے۔ تو اس لیے کہتے ہیں کہ ھم نے ویل کو پہر سے ایجاد نہیں کرنا۔بلکن دنیا کی مہذب قوموں کی طرح ڈپلوماٹیک یا سیاسی سفارت کاری سے کام لیکر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔اب سوچھنے کی بات یہ ہے ہم سیاسی سفارتکاری کے مدد سے کس طرح کا ایک قابل عمل طریقہ کار واضع کرسکتے ہیں جس سے ہمیں بلوچ نمائندہ قومی کونسل کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے ؟ مندرجہ ذیل سیاسی سفارتکاری کے تحت مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں بشرطے کہ اس سلسلہ کا جمبانیت عمودی اقدامات کے تحت ہو ، یعنی نیچے سے اوپرتک جانے کا سلسلہ۔
 ۱۔ تمام بلوچ آزادی پسند قوتوں کو اپنا قیمتی وقت ضایہ کیے بغیر جامع مزاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے، اس کی ابتدا سیاسی سفارتکاری سے ہو اوران تمام اختلافی پالسی میٹرز کو ٹیبل پر بات چیت کے زریعے حل کرنا چاہیے جن کی وجہ سے، بے تحاشہ قربانیوں کے باوجود ، تحریک مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا۔
 ۲۔ بات اس وقت بنتی ہے جب تمام آزادی پسند قوتیں ایک دوسرے کی اہمیت کو بطور ایک تکمیل کرنے والا ناگزیر عنصر کے طور پر قبول کرلیں۔ ایک دوسرے کی مثبت کنٹریبوشن کا اعتراف کرلیں۔ بلوچ نمائندہ قومی کونسل کو بیشک کوئی بھی نام دیں مگر اس میں سب آزادی پسندوں کی نمائندگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ تاکہ قومی اداروں کی تشکیل نمائندہ قوتوں کے زریعے ہوں۔ 
۔۳۔ سیاسی سفارت کاری کے زریعے جب رابطے بحال ہوں گے تو اس سے ایک متفقہ اجنڈا وجود میں آسکتا ہے اور اس میں تمام اختلافی نقاط یا پالسی میٹرز شامل کیے جاسکتے ہیں جنہیں سامنے لاکر بات چیت کے زریعے حل کیا جاسکتا ہے۔
 ۴۔ تمام آزادی پسند فریق اپنے اپنے اداروں کے تحت اپنا تین رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دیں اور یہ کمیٹیاں ان افراد پر مشتمل ہوں جن کو مروجہ سیاسی سفارت کاری کا تجربہ نہ ہو مگر ادراک ضرور رکھتے ہوں ، تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کرسکتے ہوں۔ اور وسیع علمی اور سیاسی فہم و فراست کا حامل ہوں۔ اور انتہائی مخلص ہو۔ پالیسی میٹرز کے حوالے اپنا ہوم ورک مکمل کرکے کم سے کم ان قابل اتفاق نقاط کو تیار کریں جن کو لیکر وہ ٹیبل پر پیش کرسکیں۔ اور انکو ان تمام نقاط کا پیشگی اپرول اپنے اداروں سے لینا ہوگا۔
 ۵۔ ان مزاکرات میں غیر جانب دار بلوچ دانشوروں کا شمولیت بے حد ضروری ہے تاکہ مزاکرات کاروں کو علمی گائیڈنس اور اعتماد کا فیڈ بیک دے سکیں اور ان کی موجودگی سے مزاکرات بھی موقر ہوں۔
 ۶۔ ناگزیر حالات کے علاوہ ، باقی جہاں تک ہوسکے مزاکرات کے تمام مراحل ، اجنڈا، بات چیت کرنے والوں کے نام ، میڈیا انٹراکشن، ہرسیشن کا تاریخ ، غرض ہر معاملہ شفاف ہوں اور یہ اہتمام ہو کہ پبلک تما م معملات کے بارہ آاگاہ کیا جارہا ہے۔ تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔
۷۔ ایک سیکولر اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے قوم کی جہت سے یہ ضروری ہوچکا ہے ان مزاکرات میں بلوچ عورتوں کی نمائندگی شامل ہوں

۔ حرف آخر: صاف ظاہر ہے کہ کوئی باہر سے توآ کر یہ سلسلہ شروع نہیں کروا سکتا پبلک ان ہی تمام فریقین میں سے ایک فریق کو پہلا قدم اٹھا نا ہوگا۔ پچھلے ادوار کے تجربوں، موجودہ سیاسی ابتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے اور بہت سوچھ بچار کرنے کے بعد میرے زھن کی کمپاس کا سوئی خود کو متواتر پوزیشنگ کرتا ہوا بی آر پی پر آ کر ٹہر گیا ہے ، اسی لیے بی ٓر پی کو میرا درخواست ہے کہ وہ اس کار خیر کا ابتدا کرے۔ تاکہ ایک مشترکہ قومی سیاسی قیادت سامنے آسکے اور تباہ حال بلوچ عوام کو اپنے سرزمین پر عزت اور سکون کی زندگی میسر آسکے۔

Saturday, February 1, 2014

بھئی پہلے اپنا گھر تو ٹھیک کر لو!






                                          آرچن بلوچ

بھائی میرے کسی مصنف کو خدا مان کر اسے پڑھ لوگے تو اس کی  ٹکسٹ کو کس طرح  interrogate انٹروگیٹ کروگے؟ یا یہ کہ قائد آعظم نے فرمایا، چے گویرا نے کہا، یا ماوزے تنگ نے برا مان لیا، کے فرمودات اور اقوال کوعقل کل کی کسوٹی مان کر ہر معاملہ کو اُسی تناظر میں  دیکھو گے جس طرح  کہ اُنہوں نے اپنے وقت کے معروضی حالات کے مطابق کیا تو ایسی صورت میں آپ اپنے ماحول میں برسرزمین حکایق کو معروضی حالات  کے تناظر میں تجزیہ کیے بغیرکس طرح صحیح فیصلہ کروگے؟
ابتک کی تعاثرات سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ وقتوں کا چی گویرا اور ماوزے تنگ تحریک آزادی کے ٹکٹیکل اور اسٹراٹیجک فیصلوں کے رول ماڈل ٹہرے ہیں اور ہمارا قومی ںظریاتی اساس کا بنیاد رکھنےوالا بابا مری انعام کا آدھا حصہ دار ٹہرا! وگرنہ پیٹرتیچل کو انٹریو دیتے ہوے مہران مری یہ ھرگز نہ کہتے کہ  کہ بلوچ عوام کا مجموعی مطالبہ حق خود ارادیت ہے ۔  بھئی یہ کس کا نعرہ ہے جسے آپ آزادی پسندوں کے صفوں میں accommodate کرنا چاہتے ہو؟
وہ نعرہ جس کی بنیاد بابا مری نے سادہ الفاظ میں یہ کہ کر رکھ دی کہ ھمارے پاس کوئی لمبا چھوڑا اجنڈا نہیں بلکن پنجاب کی فوج بلوچستان سے نکل جائے؛ وجہ جہد آزادی بنی جس کی خاطر بلوچ نوجوان پاکستانی سفاکیت کا پروا کیے بغیر بے شمار قربانیاں دیتے آرہے ہیں، وہ اسلیے نہیں کہ حق خودارادیت کا مبہم سیاسی نعرہ پاکستان کی قبضہ گیریت کو بلوچستان پر دوام و جواز فراھم کرتا رہے۔

اگر دور اندیشی سے کام نہیں لیاگیا اور سابقہ ادوار کی غلطیوں کو دہرانے کی روایت برقرار رہی تو آزادی کی وہ خوبصورت منظرآنکھوں سے مزید اوجھل ہوتا جاےگا۔ یہ اعتراف کیجیے کہ آپ ایک سیاستی بحران   political recession میں مبتلا ہو چکے ہو۔  یہ اکسویں صدی ہے آپ کا مسلح مزاحمتی تحریک بغیر سیاستی چہرہ و قیادت کے خانہ جنگی، انتہا پسندی، دہشدگردی، وارلارڈازم، قبائلی جھگڑوں اور دوسرے منفی کٹگریز میں شمارہوگا۔

  خدارا بلوچ قوم کی قومی تحریک میں والہانہ شمولیت کو نعمت خداوندی for granted نہ سمجھا جاے۔ یہ ایسا کیوں ہوا کہ جیسی ہی مسلح تحریک نے مظبوطی سے جڑ پکڑلی، سیاسی عمل پستی میں چلا گیا۔۔ یا دوسرے الفاظ میں سیاسی عمل  miscarriage کی نظر ہوگئی۔  مظبوط سیاسی فورم کے بغیر آپ کی مذاحمتی جہد مھذب معاشروں میں ننگی نظرآئیگی۔۔۔

اقوام متحدہ کی بے حسی بے سبب نہیں، اگر اس سبب کو نہیں سمجھوگے تو بند کرو اپنا یہ سارا رونا دونا۔ بی این ایم کی موجودہ قیادت کی ساری بیانوں کو ایک ایک کرکے پڑھ لیں پتہ چلے گا کس اجنبی کواکب سے ان کا تعلق ہے، کل کی بیان قابل زکرہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت اور کمک کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر  آواز دینے سے نہیں ملتا اور نہ ہی ایک زوردار بیان اخبارات میں داگ دینے سے ملتی ہے۔۔ اس کیلیے الگpolitical Decorum   پولیٹیکل   ڈیکورم چاہے!

اپنا گھر درست نہیں کرسکتے لگے ہیں پاکستانیوں کی طرح دوسروں کودوش دینا۔۔ یار کھبی کسی سامراجی سے تم نے ملاقات کی ہے؟ دنیا کی سب سے بڑے سامراجی ہی  کی گھر میں  تمھارے آزادی کی حمایت میں بل پیش ہوی ہے، اسے پاس کرانےمیں تم نے کونسا تیر چلایا ہے؟ ۔ شہید فدا احمد کا چچا واجہ حاجی فتح محمد منتحب نمائدوں کے بارے ھمیشہ یہی کہا کرتے تھے،ـ ما ترا پشی وا کرتگ، نوں میاؤ تو وت بکن۔ بھئی اس بل کو پاس کرانے میں کچھ تو کرلو، تھمارے پاس تو ایک پارٹی فورم ہے اسے تو استعمال میں لاؤ۔ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ مائنڈ سٹ کی موجودگی میں ایسا ہو سکے گا کیوں کہ اس کیلیے وسیع النظری چاہیے۔ سامراج سامراج کا رٹ لگاکر یار دوستوں نےتو مولانا فضل رحمان کو بھی مات دیا ہے ۔  

 اور آخر میں سب سے پڑی بات یہ کہ  دنیا کی طاقتورتریں فوج کو اگر سیکیورٹی نہ ملے تو وہ مارا جاے گا۔ وہ بھی امن کی حالت میں۔ سیکیورٹی کے معانے ہرگزیہ نہیں کسی کے ہاتھ  میں بندوق تما کرحکم دو کہ گھر کے مین گیٹ پر حفاظتی ڈیوٹی سنھبالو۔ بھائی میرے، انٹلیجنس سیکیورٹی نام کی بھی کوئی ایک شے ہواکرتی ہے جس کے بغیردنیا کی طاقتورتریں فوج ایک قدم آگے بڑ نہیں سکتا۔ ھزاروں کی تعداد میں  جلسہ جلوس و مظاہرہ کرانے کی دعوے دار بی این ایف شہر میں موجود اپنے ایک لیڈر کو سیکیورٹی فراہم نہ کرسکے۔ تربت شہر میں ملیٹری کیمپ سے 4 کیلومٹر کی دوری پر چاہسر میں ایک رات بسر کرنے والے رضا جہانگیر جان کووہ تحفظ وسیکورٹی نہ دے سکے جسکی جنگ کے زمانے میں ہررھنما اور لیڈر کواشد ضرورت ہوتا ہے۔ کیا بی ایس او آزاد اور بی این ایم کی قیادتیں ایک دو کارکنوں کو سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر نہیں لگا سکتے تھے جو بروقت دشمن کی حمل و حرکت کا اطلاع دیتے؟ ایک تھوڑی سی ھلچل کیا ہوی کہ بی ایس اوکے تمام زونوں کی اعتماد حاصل کرنے کی دوڈیں لگ گئی، اوربات دورہ کرنے کی نوبت تک پہنچی۔ اورہر دوسرے دن دورے کی مقام و تفاصیل بھی اخبارات کی زینت بنی۔ دشمن کو اور کیا چاہے؟  



کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...