ڈاکٹر اللہ نظر کا اتحاد کیلئے کال ایک مثبت پیش رفت !
تحریر۔ آرچن بلوچ۔۔
ڈاکٹر اللہ نظر نے سوشل میڈیا ٹویٹر کے توسط سے تمام آزادی پسند
اسٹاک ہولڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اتحاد کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ اخلاقی شکست خوردہ پاکستانی ریاست گھناونے حرکتوں میں اتر
آئی ہے اور عام عوام بھی یہی سمجھتی ہے کہ اتحاد کے بغیر یہ ایک مشکل سفر ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ بیان ایک مثبت پیش رفت ہے، ڈاکٹر
صاحب کو یہ بات بہلے ہی کرنا چاہیے تھا.
قومی اتحاد ایک اسٹراتجک چوائس ہے جس کا انتخاب کرنا کامیابی کیلئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ کردستان اور کٹالان رفڑنڈم نے دنیا کی کئی کثیرالاقومی ملکوں
خاصکر ایران پاکستان ترکی، سوریا، اسپین اور عراق کے حکمرانوں کو اس خدشے میں ڈالا
ہے کہ ان کی ملکوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ پاکستان نے حالیہٓ بین الاقوامی آزادی پسند
تحاریکوں میں یکسانیت، (قومیت کی بنیاد پر) اور رفڑنڈم کے رجحان کے پیش نظر بلوچ قومی
تحریک کو کرش کرنے کی غرض سے اٹھاؤ، قتل کرو اور پھینکو کے ساتھ اب ایک اور گھناؤنا حرکت شروع کردی ہے۔ یعنی بلوچ
ننگ و ناموس کی پائیمالی جیسے گھناونے حرکتوں میں اتر آئی ہے۔ کیوںکہ شاید وہ یہ سمجھتی
ہے کہ اس طرح وہ تحریک کو روکھ سکتی ہے۔۔ بلوچ رہنماؤں کیلیے صرف واحد راستہ یہ بچھا
ہے کہ وہ قومی قوت کو مجتمع کرتے ہوئے پوری زور و شور سے دنیا سے اپنا مدد مانگے، متحد
ہوے بغیر دنیا بلوچ کو کمک دینے کیلیے ہرگز تیار نہیں ہوگا۔ لنگڑے گھوڑوں پر صرف عقل
کا مارا ہوا انسان ہی بازی لگا ئے گا۔ ہماری موجودہ جہد کا فارمیشنformation
، یعنی شکل
وتشکیل انتشار کی کیفیت میں ہے۔۔
شاید
انہی باتوں کے پیش نظر ڈٓاکٹر اللہ نظر نے آزادی پسند اسٹاک ہولڈروں سے متحد ہونے
کی اپیل کی ہے کہ وہ ایک الائنس بنائیں۔
بلوچ رہنماؤں کو یہ بات بھولنا نہیں چاہیے کہ کامیابی کی راز صرف blitz تیزی اور پرتی میں پنہاں ہے۔۔
دنیا جدید سے جدید اختراعات اور ایجادات کے اس تصور کہ ساتھ عمل کر رہی ہے تاکہ ترقی
کے مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔ جنگی سازوسامان سے لیکر عام سمارٹ موبائل تک جدیدیت،
تیزی اور مسلسل اپ ڈیٹ کا رجحان سپ پر غالب ہے۔ بقول بابا مری کے جتنا دیر کروگے اتنا
ہی نقصان اٹھاؤگے۔ اتحاد کیلیے بلوچ رہنماؤں کو بلکل دیر نہیں لگانا چاہیے۔ ہمارے سامنے
دنیا کی ساری نظاموں کے ٹپلیٹ template موجود ہیں۔
ہمیں وہیل پھر سے ایجاد نہیں کرنا۔۔ We do not need to
reinvent the wheel
خوش آنند بات یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکروں میں یہ بات
یکساں پائی جاتی ہے کہ ہمیں تحریک کو اتحاد کی طرف لے جانا چاہیے، اور پہلے سے بہت
زیادہ سنجیدہ اور میچور بھی پائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں غاصب قبضہ گیر کے خلاف ایک
لاوا پک رہا ہے، اسے صرف اتحاد کی صورت میں ہی کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔
اتحاد کے حوالے فری بلوچستان مومنٹ کے سربراھ سنگت حیربیار مری
کا شروع دن سے ہمیشہ
یہی موقف رہا ہے کہ اشتراک عمل سے ہی بلوچستان آٌزاد ہوگا سنگت حیربیار مری کی طرف
سے اتحاد کیلیے کئی بار کوششیں کی گئیں، اور اب بھی فری بلوچستان مومنٹ کی طرف سے اتحاد
و الائنس کیلیے کمیٹی قائم ہے۔ سنگت حیربیارمری کی سربراہی میں فکری دوستوں نے قومی اتحاد
کیلیے بلوچستان لبریشن چارٹر جیسا ایک بہتریں روڈ میپ بھی دی گئی ہے۔۔ لیکن بدقسمتی
سے بلاوجہ کوئی پریزائی نہیں ملی۔ اب جبکہ ڈاکٹر اللہ نظر کی طرف سے اتحاد کی کال آئی
ہے، یہ گمان بھی ہے کہ اتحاد کی روڈ میپ کیلیے شاید وہ پہلے ہی ہوم ورک بھی کرچکے ہیں،
اگر اس بارے ہوم ورک نہیں کی گئی ہے تو وہ جلد عوام کے سامنے ایک قومی روڈ میپ اور
قومی پروگرام سامنے لائے۔ تاکہ اتحاد کی راہیں کھلیں۔