Monday, May 4, 2026

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ریاست یہ اعلان بھی کر رہی ہے کہ بلوچستان کے مغربی علاقوں میں ایف سی کی ایک اور کور تعینات کی جائے گی، جہاں ریکوڈک، سیندک اور دیگر نایاب معدنی ذخائر واقع ہیں۔ اس پالیسی کا اصل مقصد بلوچ نوجوانوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر ایک طرف بلوچ وسائل کی لوٹ مار کو آسان بنانا ہے، اور دوسری طرف بلوچ کو بلوچ کے خلاف جنگی میدان میں استعمال کرنا ہے۔

ایف سی (فرنٹیئر کور) پاکستانی فوج کی وہ شاخ ہے جسے کم اجرت پر قابض پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے بلوچ اور پشتون اقوام کو قابو میں رکھنے (contain) کے لیے بے رحمی سے استعمال کیا ہے۔ اس فورس کا تاریخ خونریزی، جبر اور استحصالی کارروائیوں سے بھرا پڑا ہے۔

کم اجرت  پر کام کرنے والی پشتون ملیشیا، جو ایف سی کے نام سے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہی ہے. 

پشتونوں ہی کے ذریعے پشتونوں کو قابو میں رکھنے کے لیے برطانوی وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے 1907 میں بڑی چالاکی سے کم اجرت پر ایک نچلے درجے کی سرحدی پشتون ملیشیا قائم کی، جسے “فرنٹیئر کور” کا نام دیا گیا۔ شمالی وزیرستان کے میرعلی میں اس کی اسکاؤٹ ٹریننگ اکیڈمی قائم کی گئی، جبکہ پشاور کے بالاحصار میں اس کا ہیڈکوارٹر بنایا گیا۔ اس ملیشیا کا نظم و نسق، اور اس کے ذریعے سرحدی اقوام کو کنٹرول کرنے کا استعماری ڈھانچہ، پنجابی جرنیلوں کو انگریزوں سے وراثت میں ملا۔

شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں، جہاں سے ایف سی کے لیے پشتون بھرتی کیے جاتے ہیں، وہاں کے سماجی ڈھانچے کو جان بوجھ کر قبائلی حالت میں برقرار رکھا گیا۔ ان علاقوں کو دوسرے شہری و ترقی یافتہ خطوں سے الگ رکھنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہاں قبائلی نظام ختم نہ ہو اور یہ خطے ایف سی کے لیے سستی نفری فراہم کرنے کے مستقل ذخیرے بنے رہیں۔ انہی پشتون نوجوانوں کو فوجی رتبے، مراعات اور عزت کے اعتبار سے باقاعدہ فوج سے بہت نیچے اور حقیر درجے پر رکھا گیا۔

آج یہی فورس، جو بنیادی طور پر قبائلی پشتونوں پر مشتمل ہے، انتہائی کم اجرت پر پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کے لیے بلوچوں کے خلاف پوری شدت سے استعمال ہو رہی ہے۔ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہی فورس خود پشتون قوم کے خلاف بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ کل افغان قومی افواج کے خلاف بھی یہی ایف سی استعمال کی گئی، جہاں دونوں طرف مرنے والے پشتون ہی تھے۔

بلوچ اور پشتون اقوام کے تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں کا تقاضا ہے کہ پشتون ایف سی اہلکار پاکستانی بندوبست کے اس استحصالی کردار کو پہچانیں۔ انہیں چاہیے کہ پنجاب کی غلامی اور اس کے مفادات کے لیے محض کم اجرت کے عوض اپنے ہی بلوچ اور پشتون بھائیوں کا خون بہانا بند کریں۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...