آرچن بلوچ
کل صبح اٹھا تو
ایک مہربان دوست نے گلوبل پوسٹ سے ایک بلوچ
بیٹی کی ناقابل
یقین سفر کی داستان کا لنک شئر کیا تھا جسے پڑھ کرمجھے تعجب ہوا، اوریقین نہیں
آرہاتھا کہ ایک بلوچ بیٹی ، عمیرہ اکھیلی اپنے بیٹوں کے ساتھ بلوچستان سے یورپ تک
پیدل سفر کررہی ہے۔ اور پھر کل ہی کی شام ایک اور دوستءَ نے یہ خوش خبری مجھے
سنائی کہ یہ بلوچ بیٹی بحاظت سویڈن میں پہلے ہی موجود اپنی شوہر سے جاکر ملی ہیں۔
اس بیٹی نے یونان میں اخباری نمائندے کو بتایا کہ وہ بلوچستان کی آزادی چاہتے
ہیں،، وہ یہ طویل سفر صرف سیاسی پناہ کیلئے طے کررہے ہین۔ اور جب بلوچستان آزاد
ہوگی تو وہ واپس اپنے ملک بلوچستان جائینگی۔ اس کے ساتھ اخبار نے یہ بتائی کہ یورپ
تک اس سفر میں ان کے ساتھ اور دوسرے بلوچ بھائی بھی ہیں جو اس عورت اور اس کی بیٹوں
کی ہر طرح کمک مدد کررہے ہیں۔ بعد میں یہ پتہ چلا یہ باھمت بلوچ بیٹی مشہور بلوچی
زبان کا گشندہ سنگت حفیظ علی بلوچ کی بیوی
ہے ۔ عمیرہ نے اخبار کو یہ بتائی ان کی حاوند پہلے ہی سویڈن میں موجود ہیں۔
اس سے پہلے بانک کریمہ بلوچ بھی کینڈا پہنچ کر اسائلم
کی درخواست دے چکی ہیں۔ وہ ایک طلبہ سیاسی رہنما ہیں۔ کینڈا میں ان کی سیاسی
سرگرمیاں اگر قومی سوچ کے تحت اور پارٹی
بازی سے بالتر ہوں تو قومی تحریک کیلیئے
بہت اھمیت کے حامل ہونگے۔ اسی
طرح ماما قدیربلوچ اور گودی فرزانہ بلوچ
بھی توقع ہے کہ وہ دبی سے کسی
مغربی ملک جاکر قومی سوچ کے تحت اپنا کردار ادا کرینگے ۔۔
آج کل بلوچوں کی ایک کثیر تعداد یورپ کی طرف محاجرت
کررہی ہے۔ سننے میں یہ بات آرہی ہے کہ ان کی اکثریت سیاسی متاثرین ہیں سیاسی اسپیس space بہت تنگ کی گئ ہے
اس سے مجبور ہوکر یہ لوگ یورپ کی آزاد سیاسی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے۔ کیوںکہ
بلوچستان میں اب ان کیلئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا بلکل ناممکن بنا دی گئی ہے۔ یاد
رہے اس سے پہلے بلوچ قومی تحریک سے وابستہ ایک طبقہ تحریک کی سیاسی پہلو کی یورپ منتقلی کا مخالفت
کر رہی تھی اس حوالے تحریک کے لیے منفی انجام ، فائدہ ونقصان
کا تعین کرنے کی صلاحیت سے محروم ، تحریک
کی لازمی جز یعنی خارجہ امور کی افادیت سے انکاری کے اس طبقے نے
تحریک کے لیے نا
قابل یقین طور غیر سجیدگیت کا مظاہرکیا ۔ ان باتوں کا یہاں زکر کرنا میرے حیال میں اب
فضول ہے۔مگر بعد از حرابی بسیار یہ
احساس اب حقیقت کا روپ دھارچکی ہے کہ اب بلوچستان میں سوائے عسکری پہلو
کے، تحریک کیلئے سیاسی سرگرمیاں بلکل ناممکن ہیں۔ تحریک کے سیاسی سرگرمیوں کا یورپ یا مغربی ممالک میں
منتقلی ایک نیک شگون ہے۔۔ بانک کریمہ کی باہر منتقلی اس پالسی
اپروچ کی دانستہ یا نادنستہ تائید
ہے جسے سنگت حیربیار مری اور ان کے ہم فکری
سنگت فالو کررہےہیں ۔
وقت کی اھمیت سے
غافل اور
تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی
ہمارے خطے کی جیوپالٹکس سے لاتعلق
بلوچ آزادی پسند سیاسی سوسائی ایک
قسم کی غیرسنجیدہ مباحثوں کی یرغمال بن
چکی ہے۔ پالسی میٹرز اور اپروچ
پر اتفاق نہ سئی مگر ، میں
چھیڑوں کہ نا چھیڑوں والی رویہ
وقت کی ضیا کے سوا
اور کچھ بھی نہیں۔ قومی تحریک کی
سیاسی پہلو کی ملک سے باہر منتقلی کی اہمیت
کو وقت نے ثابت کیا ہے اور سارے
اسٹاک ہولڈرز کو مجبور کیا ہے
کہ اسے قبول کرلیں۔ اگر کبھی قومی تشکیل کی کوئی صورت گری کی
ضرورت محسوس کی گئی تو
رابطوں کی سہولت بارہر کی دنیا میں آسانی ہوگی۔ لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب متوقع
سنجیدہ طبقے قومی سوچ کے تحت سابقہ دور کے تمام غلط فیصلوں
کا اعتراف کرینگے ۔ قومی رہنما سنگت حیر بیار مری کی
بات کو میں یہاں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں” عظیم مقصد کے لئے لیے مجھے کہیں بھی جانا پڑا میں تیار ھوں۔
اتحاد کے ساتھ ساتھ ھمیں اختلاف کی وجہ اور سدباب بھی ڈھوننے کی ضرورت ھے کیونکہ
اگر ھم کسی بھی اتحاد جانب جاتے ھیں تو انکی بنیادیں منظم اور علمی سطح پر ھموار
کی جانے کی ضرورت ھے، ھمارے دشمن بہت طاقتور ھیں اور ھمے اتحاد ھوکر دشمنوں کا
مقابلہ کرنا ھے‘‘