Monday, July 14, 2014

پارٹی سیاست یا قومی اتحاد؟ پس پردہ عظائم ! آرچن بلوچ

آرچن بلوچ 


ھم سمجھتے تھے کہ جب اتحاد ہوگی تو وہ اپنی ترقی یافتہ شکل میں ہوگئی یعنی اڈوانس لیول کی سطح تک کی۔ توقعات یہی تھیں کہ انکلابی پیمانوں پر مشتمل ایک متحدہ قومی کونسل تشکیل پائیگی جس کے تحت فوراً قومی ادارے تشکیل پانا شروع ہونگے۔ مسلح تنطیمیں یکجاہ ہوکر قومی فوج کی تشکیل کرینگے۔ عبوری آئین بنائیں گے ۔ قومی تحریک کو عالمی دنیا میں منوانے کے غرض سے خارجہ امور کے نمائندے مقرر کیے جائیں گے۔ اور انہی اداروں کے زریعے دشمن کو مجبور کیا جاے گا کہ وہ ہمارے گلزمیں سے فوراً نکل جائے۔ مگر حال ہی میں بی آر پی کی جانب سے ایک بیان کے مطابق جنیوا میں ایک اھم اجلاس ہوا جس میں بلوچ قومی کی یکجہتی کو وقت کی ضرورت قرار دیاگیا۔ قبضہ گیریت سے نجات اور آزاد و خود مختار بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے بلوچ متحدہ محاذ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔ 
جن افراد و پارٹیوں نے اس اجلاس میں شرکت کی ان میں بی آر پی ، بی این پی مینگل اور بی این ایم شامل تھے۔ بی ایس او کی عدم شرکت سوالیہ نشان ٹہرا۔ اس مجوزہ اتحاد کے اجزاے ترکیبی کو دیکھتے ہو ئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی آزادی کی مقصد کی برآوری کیلئے یہ اُس سطح کی اتحاد نہیں جس کی ہمیں امید تھی۔اگر عوامی مقبولیت کے لحاظ سے قومی تحریک عروج پر پہنچ چکی ہے تو اس مجوزہ اتحاد کے اجزاے ترکیبی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اس سطح سے بہت نیچھے آگئے ہیں جہاں بلوچ فرزندوں نے اپنے لہو دیکر جس بے جگر ی سے قومی تحریک کو اڈوانس کیا تو اس کا نعم البدل قومی اتحاد ہوتا نہ کہ کچھ مخصوص لوگوں کا حصوصی کلب exclusive club جس میں پاکستانیوں کی طرح پارٹی پالٹکس کے روایتی سیاست کا window dressing ہوتا رہتا ہے ۔ یہ وہی سیاست ہے جس سے بابامری ھمیشہ گریزاں رہے۔ سوال یہ ہے کہ نیب کے نا کام سیاست کے بعد بابا مری نے اپنی عمر میں کیوں سردار عطااللہ مینگل کو اتحاد کیلئے دعوت نہیں دی؟ 
جسمانی طور پر بابا مری کی رحلت و کوچ اپنے بزگر و لاچار عوام ، مقبوضہ گلزمیں کو اپنے ھمفکری سنگتوں کے صفرد کرنا احساس زیاں کا ایک عجیب قسم کادرد دل میں پیدا کیے ہوے ہے۔ گوکہ آزادی کی تحریک کی کامیابی کوبابا مری اپنے حیات میں نہ دیکھ سکے مگر خالص بلوچ قومی نظریہ کو اپنے عظیم سینے پررکھتے ہوے اسے آلودگی سے ہمیشہ بچا ئے رکھا۔ اس خالص بلوچ قومی نظریہ کی بلوچ عوام میں شعوری مقبولیت کو اپنا حاصل و صول کہا۔ اپنے گلزمیں پر کسی غیرکی شراکت داری یا حکمرانی کو صرف ایک بے شعور غلام ہی برداشت کرسکتا ہے۔ بابا مری کسی چوھدری کی حکمرانی ، چاہے بلوچ پارلمنٹری سیاست کے زریعے کیوں نہ ہو، کو اپنے سرزمیں پر کیوں قبول کرے؟ لیکن آج جس اتحاد کی بات ہورہی ہے کیا اس میں ہمیں پاکستانی پارلمنٹری سیاست کے اجزا ء نظر نہیں آرہے ہیں؟ اگر خالص بلوچ قومی نظریہ کے تحت بلوچ سرزمیں پر بلوچ کی حاکمیت Sovereigntyکی بحالی کے جہد کیلئے پارلمنٹری سیاست کے ملاپ کو جائز سمجھتے تو بابامری کب کے سردار عطا اللہ مینگل کے ساتھ قومی اتحاد کرتے یا غوث بخش بزنجو کو بھی اپنا فکری سنگت سمجھتے ۔ مگر آج افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نہ سیاسی میدان میں بابا مری کی اصولوں کا پاسداری کیا جارہا ہے نہ ہی مسلح گوریلہ جنگی اصولوں کو اھمیت دیا جارہاہے۔ بابامری کیڈرز کی زھنی تربیت سے لیکر مالی وسائل کی فراھمی تک رھنمائی کرتے رہے۔ اور ترکیب یہ دی کہ بندوق کی گولی سے دشمن کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اسلیے گوریلہ جنگ لڑو مگر چھپ کے س رات کے اندھیرے میں۔ گوریلہ جنگوں کی تاریخ و ٹکٹیس کو اگر کسی نے پڑھا ہوگا تو اسے ضرور پتہ چلے گا کہ گوریلہ جنگ صرف ایک کمزور فریق لڑتا ہے وہ بھی عاجزی اور انکساری کے ساتھ۔ مگر یہاں معامہ الٹا ہے وگرنہ طاقت ہوتی تو براے راست دشمن پر حملہ کرتے ہوے اسے بھگا دیتے۔ مگر حالیہ کچھ عرصے سے ا س کے برعکس کچھ کامیابیوں کے زعم میں مبتلاء گوریلہ جنگ کے تمام اصول بالائے تاک رکھے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا میں کئی وڈیو کلیپس میں کچھ تنظیموں کے علاقائی کمانڈر ز غرور و تکبر کے ساتھ کھلم کھلا، دن دھاڈے ایسے اتراتے ہوے عوامی مجموعوں میں تقریریں کرتے نظر آتے ہیں جیسے جنرل شوارسکوف کی فیلد مارشل کا ٹائٹل حاصل کرچکے ہیں! گاؤں اور کھیل کے میدانوں میں آکے تقریریں کرتے پہرتے ہیں۔ اس سے کیڈروں کا کھوج لگانے میں دشمن کا کام کتنا آسان ہوگا۔ اس کا   اندازہ کسی کو نہیں اور اب یہ کمانڈرز جنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے علاقائی لیڈروں کے زمہ داریوں کو بھی اپنے زمہ لے چکے ہیں۔ تو پھر سیاسی پارٹیوں یعنی بی این ایم ، بی ایس او اور بی آر پی وغیرہ کی کیاضرورت ہے؟
اختر مینگل کی دھمکی !
حال ہی میں سردار مینگل نے گوادر یارترا کے دوراں یہ دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہیں مانے تو وہ ا سمبلی سیٹوں سے دسبردار ہونگے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کا ایک دھمکی پہلے بھی دے چکے تھے۔ مگر اخترجان مینگل کی اسمبلیوں سے اسطفی دینے کی دھمکی کو پاکستانی اسٹیبلمشنٹ سنجیدگی سے لی اور نہ ہی اختر کی تحفظات کو د ور کرتے ہوے ا ن تما م مطالبات، چھ نقاط کے سمیت کو عملی طور مان لی۔ ثابقہ ادوار کے تجربات اور موجودہ آثارو قرا ئن سے پتہ چلتا ہے کہ وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھا سو تب بھی تھا برقرار رہا ۔ کیونکہ نہ نومن تیل بہا نہ رادھا ناچی۔ بلکن حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستانی فوج اور نواز حکومت کے درمیان پرویز مشرف کے بارے میں ایک رویتی سیاسی ماحول بن چکی تھی اس کا حصہ بننے کیلئے صدقے میں ملنے والے دونوں سیٹوں کو واپس کرنے کیلئے پرانی ریت کے مطابق حسب دستور حق خود اداریت کی ناکارہ نعرہ کاستعمال کیا گیا۔ اختر جان کہا کہ وہ اس نعرہ سے دسبردار نہیں ہوگا ۔ مگر کو ئی بتلاے کہ ھم بتلائیں کیا۔ نواز شریف کی پچھلی حکومت کے دوراں پونم کی منکوحہ کے ساتھ ساتھ پرویز حکومت کے دور تک جماعت اسلامی، جے یو آئی پیپلز پارٹی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، ھزاراہ ڈیموکرٹیک پارٹی وغیرہ کے ساتھ ھم مجلس ہوکر جمہوریت کے بحالی کے نعرہ کے ساتھ حق خود ارادیت کا نعرہ لگتا رہا ۔ مجھ جیسے خوش اعتقاد بندوں کو بہکانے کیلئے شاید ایک اچھا نعرہ ہو مگر وہ دو ر لد چکا جب سردار صاحبان اپنے اوتاکوں میں بیٹھ کر اپنی مرضی کے نعرے لگواتے رہے ۔ اس نعرہ کو حکمرانوں سے منوانے سے تو رہا مگر اختر جان عوام کو بتائے کہ کیا مزکورہ پارٹیوں نے تمھاری اس نعرہ کو کھبی ما نا بھی ہے کہ نہیں؟ بلوچ آزادی پسند لکھاری اُن پر انہی متضاد رویوں کی وجہ سے تنقید کیا کرتے تھے۔ بی این پی مینگل حق خود اداریت جیسے نعروں کی سہارا لیکر آزادی پسندوں کی درمیاں واردات کی شکل میں پھوٹ ڈالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہے۔ 
کئی عرصے تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ آج نہیں کل ضرور سردار صاحب بلوچ آزادی پسندوں کے صفوں میں شامل ہونگے، شاید یہی امید تھی جس نے بی آر پی کو بی این ایف سے جدا کیا۔ جس سے قومی مزاحمتی تحریک کی سیاسی پہلو دگرگوں ہوگئی، اور متفقہ سیاسی چہرہ سے محروم رہا ۔ اسی ایک غلط فیصلے کی وجہ سے ایک نا ھتم ہونے والے سیاسی polarization چل پڑی ہے۔ اس غلط امید کا شکار نہ صرف بی آر پی رہی ہے بلکن اس سے بی این ایم اور بی ایس او آزاد بھی اپنا دامن نہ بچا سکے۔ اسی طرح بی این پی مینگل نے بلو چ ہیومن رائٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے کئی لوگوں کو اسی امید کے بہانہ و درپردگی میں دوسرے آزادی پسند پارٹیوں کے خلاف زھر اگلتے رہے۔ اس کار خیر میں ثنا بلوچ ، تاج کچکی ظفر بلو چ اور میجر مجید ہمیشہ لوگوں کو یہ باور کراتے رہے کہ سردار صاحب پر تنقید نہ کرو کہ وہ قومی جہد آجوئی میں کل نہیں تو پرسوں ضرور شامل ہونگے۔ حالانکہ روز لاشوں کے گرنے کے باوجود دوسری طرف سردار قوم کو یہ کہتا گیا کہ آزادی نہیں ملے گی اور اگر مل بھی گیا تو اسے سھنبالنے کی صلاحیت بلوچوں میں نہیں۔ انہی لوگ نے خیر بیار مری کو اسی لیے جمعدار کا لقب دیاگیا کیوں کہ وہ ایک ہی وقت میں دو کشتیوں پر سوار ہونے والوں کے ساتھ چلنا نظریاتی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ اس حوالے مزکورہ بی این پی کے یہ وفادار پیٹ پیچھے سوشل میڈیا میں مختلف ناموں سے سرگرمی کے ساتھ خیربیار مری کی کردار کشی میں شاہ سے زیادہ اپنا وفاداری پیش کررہے ہیں ۔ موجودہ غیرسیاسی رویہ سے یہی پتہ چلتا ہے تاریخ خود کو پھر سے دھرانے کی چکر میں ہے۔ ماضی کی غیر سیاسی رویوں کو دیکھتے ہوے یہ سوال اٹھتا ہے کہ بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ کا (قومی تاریخ سے مراد نہیں) وہ کونسا مرحلہ ہے کہ جہاں قوم پرستی کی نام کو لیکر یہ چہار یار سردار عطاللہ خان مینگل، غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی اور نواب خیربخش مری، خالص بلوچ قومی نظر یے کے تحت اکھٹے ہوکر ایک متفقہ لاء عمل کے تحت قوم کے لیے نجات کی راہیں تلاش کرنے متحد ہوے؟ صرف ایک دفعہ یہ چاریار ایک پرائے غیر بلوچ پارٹی ، نیپ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تھے مگر صرف ایک ہی نشت میں ایک غیربلوچ   کیRemarks کی وجہ سے ان کی یہ اکٹھ بکھرگئی۔ اور یہ چاروں وہی لیڈر ہیں جن کی وجود ہمارے زھنوں میں دیومالی کی سی ہے۔ ان کے بارے میں پروفیسر عزیز محمدبگٹی لکھتے ہیں کہ بلوچ قوم کی قبائل سے قوم تک کاتکمیلیت کا مرحلہ اس وقت مکمل ہوا جب یہ چہاروں یار نیپ کی پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوے۔ لیکن پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ 1970 کی عام انتحابات میں نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچستان کی سیاسی اور انتخابی جدوجہد کے دوران جو سخت جدوجہد کی تھی اس سے شاید ہی کوئی بلوچ انکار کرے ۔ لکن جب اس کے ثمرات کا وقت قریب آیا تو ان کو بالواسطہ طورپر اپنی صفوں سے الگ کیا جاچکا تھا۔ وہ ایک ایسے دھتکارے ہوے انسان کی طرح تھی جسے اس کے اپنے ہی عزیز ترین اہل خانہ نے اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا ہو\"۔ 
موجودہ دور میں بلوچ قوم کی جہد آجوئی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ اس کی ابتداء اس وقت شروع ہوئی جب خیر بیار مری کو بلا وجہ بی این ایف کی پلیٹ فارم سے متنازہ بنایا گیا۔ اس تمام کے باوجود خیربیار کی طرف سے کئی کوششیں کی گئیں کہ سارے آزادی پسند قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں مگر ہر بار اسے عمداً ناکامی سے دوچارکروایاگیا۔ اب سوائے ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اور شکایتوں کے سوا کچھ بچھا بھی نہیں۔ دوسری طرف سے کوئی ایسا روڈ میپ یا پروگرام بھی نہیں دیا گیا جس میں تمام آجوئی پسند اکھٹا ہوسکیں۔ کٹورپن اور دوستی کی ہاتھ کو جھٹکنے کی رویہ نے کدورتوں کو جنم دینا شروع کردیا ہے۔ بقول نواب اکبرخان بگٹی کے One thing led to another thing۔ اب ایک غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ فکری سنگتوں کی طرف سے ہر مثبت تجویز کو ڈھنکے کی چوٹ پر مسترد کردینا ایک ایسی عیاش زھنی رویہ کی
طرف اشارہ کرتی ہے جسے عرف عام میں خودغرضی کہتے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کو میر غوث بخش اور سردار مینگل کی اقتدار کی لالچ نے اور سردار خیربخش مری کی خاموشی نے دھتکارا۔ اور موجو دہ دور کی نئی بلوچ سیاسی سوسائی میں سابقہ بلوچ نشنل فرنٹ کے پیٹ فارم پر سے ونڈو ڈریسنگ کے زریعے بی آر پی کے دوستوں نے بی این پی مینگل کے درپردہ سازشوں کے ایما پر سنگت خیر بیار مری کی کردار کو بلا وجہ متنازہ بنا نے کی کشش کی۔ اور غیرسنجیدگی کی اس Equationمیں بی این ایم کے سیاسی تربیت یافتہ دوستوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔ 70 کی دہائی میں اپنے فکری دوستوں کے منفی و متضاد رویوں کے ردعمل میں نواب بگٹی نے دشمن کے کیپ کو جوائن کیا اور خیر بیار مری نے اس کے برعکس قومی نظریہ کے تحت بردباری اور تحمل کے ساتھ شکایتیں اور حقائق بیان کیے اور تسلسل کے ساتھ قومی تحریک کی بین الاقوامی معاملات کو حتی الوسعی آگے بڑھا رہے ہیں۔ 

خرف آخر ؛ پارٹی پالٹکس کے زریعے سنگت خیر بیار مری اور ان کے دوستوں کو یک تنہا isolate کرنے کی خواھشیں اپنی جگہ ،  اور   مہران مری، براھندگ بگٹی اور ڈاکٹر للہ نظر کا بی این پی مینگل کے ساتھ اتحاد سے آزادی کی قومی تحریک کو شاہد ہی کچھ فائدہ پہنچتا ہو، مگر وقتی طور پر بلوچ قومی تحریک آزادی کا خطے کی نئی جیو پالیٹکس کے equationمیں ٹائم فکٹر کی اھمیت پاؤں تلے روندھا جائے گا۔ اور یہ ایک بہت بڑی بھاری قیمت ہوگی اور اس قیمت کا خمیازہ صرف ستم رسیدہ عوام اور مخلص سرمچاروں کو بگتنا پڑے گا ۔ 

Sunday, May 18, 2014

ُبلوچستان اور آئی ایس آئی

تحریر: ریزرڈ زارنیکی
     ترجمہ: آرچن بلوچ 


قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان انسانی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہے۔ اپنی بے شمار قدرتی وسائل کی بدولت ، جن کی قیمت سینکڑوں بلین ڈالروں کی حساب میں ہے ، دنیا کی امیرتریں خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باسی انتہائی پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی ظلم کا شکار بھی ہیں۔ اس ملک نے صوبہ بلوچستان کے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایک پوشیدہ سفاکانہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ مارو اور پھینکو کے پالسی نے ابتک لاکھوں لوگوں کی جان لی ہے۔ اس غیر واضع جنگ نے ، جسے سفاک قوتوں نے یہاں کئی عرصے جاری کر رکھا ہے ، صوبے کو انسانی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے۔ آ ئی ایس آئی بلوچ لوگوں کو نشانہ بنارہاہے۔ بلوچستان کے لوگ اس وقت سے مشکلات کے شکار ہیں جب بلوچستان کو بزور طاقت پاکستان کے ساتھ شامل کیاگیا۔ حکمران بلوچستان پر اپنا مضبوط گرفت مسلط کرنے کی کام پہ لگے ہوے ہیں کیوں کہ وہاں بے شمار قدرتی وسائل دستیاب ہیں۔ حکمرانوں کو صوبے کی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ماضی میں صوبے کے دانشور طقبہ نے جب یہ بانپ لیا کہ حکمرانوں کی نیت ٹھیک نہیں ، وہ وسائل پر اپنا قبضہ جمانا چاہتے ہیں ، جس سے مقامی آبادی کو کچھ فائدہ نہیں ملتا، تو انہوں نے ریاست کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنایا۔ ریاست احتجاج کرنے والوں کو قانونی جواز کے بغیر نشانہ بناتی ہے، انہیں قتل کرتی ہے یا جیلوں میں ٹھونس دیتی ہے۔ حکومت پاکستان نے عملاً ظلم و جبر کرنے والے مقتدرہ کو کھلی چھوٹ دی ہے، اپنی آنکھ ، کان بند رکھے ہیں۔ مشرف کے دور حکمرانی میں فوج اور آئی ایس آئی کو ناقابل یقین استبدادی قوت و اختیار ات دیا گیا۔ امنسٹی انٹرنشنل نے ۲۰۲۱ میں بریفینگ دیتے ہوے کہا کہ ان کے تحقیق کے مطابق، مارو اور پھینکو آپریشن کی پالسی کے تحت ، صرف ۲۴ اکتوبر ۲۰۱۰ سے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۱ کے درمیان، ۲۴۹ بلوچ کارکن جن میں ٹیچرز، سیاسی ورکر، جرنلسٹ اور وکلاء شامل تھے غائب یا قتل کیے گیے ۔ انسانی حقوق کی اڈوکیسی گروپ ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق گزشتہ ۹ سالوں میں ۸۰۰۰ لوگ اغواء ہوے، جن میں سے ۱۵۰۰ کی مسخ شدہ لاشیں وصول ہوئیں۔ مارو اور پھینکو کی پالسی مشرف کے دور حکمرانی میں اپنائی گئی اور موجودہ حکمرانوں کے دور میں بھی جاری وساری ہے اس پالسی کے تحت بلوچ ورکروں کو گرفتار کرتے ہوے انہیں دنوں اور ہفتوں تک بغیر کسی خارجی رابطہ کے جیلوں میں روکھے رکھتے ہیں ، وہاں انہیں سخت ازیتیں دیکر تحقیق کرتےہیں اورپھر ان کا کام تمام کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے صوبے کو پسماندہ رکھا گیا ہے۔ بچوں کی تعلیم کیلئے سہولتیں بلکل نافید ہیں، سکینڈری سکولینگ سے آگے آپ کو کچھ نہیں ملیگا۔ کیوں کہ حکمراں یہ نہیں چاہتے کہ یہ علاقہ خود انخصار ہو۔ یہاں آئی ایس آئی دانشور طبقہ کی نسل کشی اس لیے کرتی ہے تاکہ لوگ ا نکی استبدادی شکنجے میں رہیں۔ صوبے میں میڈیا براہ راست آئی ایس آئی کے کنٹرول میں ہے ، تاکہ قتل و نسل کشی کی حقائق انکی تعین کردہ حدود میں رہیں۔ انٹرنشنل میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں و بین الاقوامی انسانی فلاحی اداروں کے ورکرز بلوچستان میں قطعً داخل ہو نہیں سکتے۔ حتیٰ دوسرے ممالک کے سفارت کاروں کے اھل کاروں کو بھی اجازت نہیں کہ وہ بلوچستان کا وزیٹ کریں۔ آئی ایس آئی کے کنٹرول میں چلنے والی میڈیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا زکرتک نہیں کرتے۔ پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی بلوچ آزادی پسندوں کے ساتھ ٹکراؤ نے کئی زندگیوں کے چراگ گل کیے ہیں ۔ آئی ایس آئی نے اس صوبے میں اپنی بربریت قتل کرو اور پھینکو کی پالسی تک محدود نہیں کی ہے بلکن اس نے اب بلوچ قومی لیبریشن مومنٹ کے خلاف سائبر جنگ بھی چھیڑ رکھی ہے جس کے تحت تحریک کے خلاف گمراہ کن انفارمیشن پھیلایا جارہاہے۔ بلوچ نشنل لبریشن مومنٹ اس لیے شروع کی گئی تاکہ بلوچستان کے اصل زمینی حقائق دنیا کے سامنے آسکیں۔ آئی ایس آئی کی اس سائبر جنگ نے بلوچ آزادی جہد کیلئے مشکلات پیدا کیے ہیں۔ بلوچستان نہ صرف ریاستی جبر اور امتیازی ناروا سلوک کا شکار ہے، بلکن اسے غیر ھموار معاشی مسائل بھی در پیش ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اپنی لوکیشن اور قدرتی وسائل کی بدولت بڑی اھمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان چاہتا ہے کہ وہ آزاد ریاست رہے مگر پاکستان اسے اس کی قدرتی وسائل کی اھمیت کی وجہ سے اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ بلوچ مزاحمتی تحریک کو قابو میں رکھنے کی زمہ واری آئی ایس آئی ، ملٹری انٹلیجنس اور فرنٹئر کور کو دی گئی ہے۔ آئی ایس آئی کی اس پوشیدہ جنگ ، جسے بلوچستان کی معصوم لوگوں کے خلاف لڑا جارہا ہے کو ختم ہونا چاہیے۔ گرفتار لوگوں کو جیلوں میں قتل کرکے باہر پھینکنا بلوچ کمیونٹی کے خلاف ایک ظالمانہ میسج ہے۔ لوگوں کو ماورئے عدالت قید میں رکھنا اور انہیں قتل کرنا اس لیے روا رکھا جارہاہے تاکہ مقتدرہ ہر قسم کے قانونی جوابدہی سے بچ سکیں۔ لیکن صوبے میں انسانی حقوق کے خلاف ورزی کے حوالے آئی ایس آئی اور پاکستانی حکمرانوں کے کردار بین الا قوامی مقتدرہ قوتوں کے سامنے جواب دہی سے بچ نہیں سکتے ۔ 



نوٹ۔ ریزرڈ زارنیکی یورپین پارلمنٹ کا ایک رکن ہے، انہوں نے یہ آرٹیکل یورپین پارلمنٹ کی ماھنامہ نیوزپیپر کے لیے لکھا ہے جو اس مہینے کی ۹ تاریخ کو شائع ہوا ہے ، اھمیت کے لحاظ سے میں نے اسے اردو میں ترجمہ کیاہے۔


Tuesday, February 4, 2014

اختلافی پالسی میٹرز پرفوری مزاکرات کا دعوت اور ایک نمائندہ قومی کونسل کی تشکیل وقت کی ضرورت




 آرچن بلوچ
گزشتہ کئی عرصے سے سوشل میڈیا خاص کر فیس بوک میں دوستوں کے درمیان آ پس میں بہت سے پالسی میٹرز کے حوالے تندوتیز بحث دیکھنے کو موقع مل رہا ہے ۔ لیکن قومی نظریہ کے حوالے کسی نے ایک بھی لفظ نہیں کہا ہے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ قومی نظریہ پر سب متفق ہیں، یعنی بلوچستان کی آزادی کی فکر، جس پر بشمول عام عوام کے، قوم کے تقریبا تمام طبقے یعنی لکھاری، دانشور، آرٹسٹس، شاعر و سنگرز ، فلم کَش، ڈاکٹرز، ٹیچیرز ، طلبا، وکلا سب متفق ہیں۔اس لیے اس حوالے بابا مری نے ایک انٹریو میں کہا کہ آزادی حاصل کرنے کیلے تمام سامان تو سرجم ہو چکے ہیں، مگر انہیں اکھٹا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑی خوش قسمتی یہی ہے کہ قومی آزادی کی نظریہ کے تحت ، جس آعلیٰ و بنیادی پالسی نے عام عوام میں پزیرفتگکی یا مقبولیت کی سند حاصل کی ہے وہ ہے جہد کی مزاحمتی طریقہ کار! شہدا کی عظیم قربانیوں کی بدولت آ ج بلوچ قومی آزادی کی تحریک د نیا کی سب سے طاقتورتریں ایوان میں ایک بل کی شکل میں پیش ہو چکی ہے ۔ اور یہی ھمارے لیے قبولیت کا ایک سند ہے۔ اسے پاس کروانا ھمارے لیے ایک امتحان سے کم نہیں۔ اور یہ اس وقت پاس ہوگی جب ھم ایک مشترکہ قومی قیادت دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہونگے۔ قبضہ گیر کی استبدای اقدامات کی وجہ سے ملک میں سیاسی عمل کو بہت سے پیچدگیاں پیش آ رہی ہیں اسی لیے سیاسی عمل کو ملک سے باہر منتقل کر نے کی ضرورت ہے ۔ یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایک مشترکہ قومی قیادت تشکیل پاے گا۔ بلوچوں کا اپنا آزاد میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ایسے عام معاملات ہیں جن سے عام عوام بھی متعارف نہیں ہوسکتا ہے۔ ایک دوسرے سے رابطہ قا یم کرنے کا وسیلہ دور جدید کا سوشل میڈیا ہے ۔ سوشل میڈیا ایک اوپن میڈیا ہے جس میں ہر کو ئی حصہ لے سکتا ہے اور رایہ عامہ کو حق میں یا مخالفت میں بھی متاثر کرسکتا ہے، چاہے وہ دنیا کی سفاک ترین انسان ہی کیوں نہ ہو ۔ ! بلوچ قومی اتحاد سے ڈرنے والوں کی طرف سے اس نئی میڈیا کا خوب فا ئدہ اٹھانے کی کوشش کیا جارہاہے۔ یہ ماننا پڑیگا کہ ایک حد تک انہوں نے بلوچ سنجیدہ سیاسی بحث و مباحثوں کو اوورٹیک اور ہائی جیک کیاہواہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاسی ورکرز سوشل میڈیا میں، قومی نظریہ کو کم اور پارٹی لائن کو زیادہ ترجیح دیا جارہاہے ۔ اسی وجہ سے دشمن کو واردات کرنے میں آسانی ہو چکی ہے۔قابل زکر بات یہ ہے کہ بلوچ آزادی پسندوں میں اختلافات کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں ، لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جاے تو اھمیت کے لحاظ سے آپ کو وہ ثانوی نویت کے پالسی میٹرز کے درجے پر ملیں گے ۔ ان اختلافات کا تعلق نہ قومی نظریہ سے ہے اور نہ ہی جہد کے طریقہ کار کے آعلیٰ و بنیادی پالسی پر یعنی مصلح مزاحمتی جہد سے ہے ۔ بلکن ان کا تعلق زیادہ تر ان معاملات سے ہے جن کو مزن دیوان کے تشکیل دینے کے بعد حل کیا جاسکتا ہے۔ مزن دیوان کا میرا مراد یہ ہے جب بلوچ آزادی پسند سیاسی رھنما ایک بلوچ نمائندہ قومی کونسل تشکیل دینے میں کامیاب ہونگے تو اس کے تحت تمام وہ معاملات زیر بحث آئینگے جن کی وجہ سے مزاحمتی جہد سیاسی چہرہ سے محروم رہا ہے۔ اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرینگے۔اب آتے ہیں ان معاملات کی طرف جن کی مدد سے ھم ایک بلوچ نمائندہ کونسل تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہین۔ اور ہمیں امید ہے کہ ھمارے آزادی پسند لیڈرصاحبان ان پر غور فرمائیں گے۔ اس حوالے ھمارے پاس دو آپشن ہیں جنہیں بطور انسٹرومنٹس یا اوزار استعمال میں لاکر حاطر خواہ نتائج حاصل کییے جا سکتے ہیں ۔ پہلا آپشن کا تعلق بلوچی رواج سے ہے جس کے تحت معاشرے کے بزرگ ، معتبراں، کماش، شے اور مختلف قبائل کے سربراہاں کی سربراہی میں قومی جرگہ منعقد کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مگر سنڈیمنی قبائلی سیسٹم، تھرڈ پارٹی یعنی دشمن کی موجودگیت اور اس کے ریشہ دوانیوں کے وجہ سے یہ آپشن قابل اعتبار اور قابل عمل نہ رہا۔ اب رہا دوسرا آپشن، اور وہ ہے سیاسی سفارتکاری، جسے استعمال میس لاکر اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کیے جاسکتے ہیں اور ساری دنیا بھی اسی سے مستفید ہورہی ہے۔ اور ھمارے لیے بھی یہی آپشن مناسب اور قابل عمل ہے۔ تو اس لیے کہتے ہیں کہ ھم نے ویل کو پہر سے ایجاد نہیں کرنا۔بلکن دنیا کی مہذب قوموں کی طرح ڈپلوماٹیک یا سیاسی سفارت کاری سے کام لیکر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔اب سوچھنے کی بات یہ ہے ہم سیاسی سفارتکاری کے مدد سے کس طرح کا ایک قابل عمل طریقہ کار واضع کرسکتے ہیں جس سے ہمیں بلوچ نمائندہ قومی کونسل کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے ؟ مندرجہ ذیل سیاسی سفارتکاری کے تحت مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں بشرطے کہ اس سلسلہ کا جمبانیت عمودی اقدامات کے تحت ہو ، یعنی نیچے سے اوپرتک جانے کا سلسلہ۔
 ۱۔ تمام بلوچ آزادی پسند قوتوں کو اپنا قیمتی وقت ضایہ کیے بغیر جامع مزاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے، اس کی ابتدا سیاسی سفارتکاری سے ہو اوران تمام اختلافی پالسی میٹرز کو ٹیبل پر بات چیت کے زریعے حل کرنا چاہیے جن کی وجہ سے، بے تحاشہ قربانیوں کے باوجود ، تحریک مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا۔
 ۲۔ بات اس وقت بنتی ہے جب تمام آزادی پسند قوتیں ایک دوسرے کی اہمیت کو بطور ایک تکمیل کرنے والا ناگزیر عنصر کے طور پر قبول کرلیں۔ ایک دوسرے کی مثبت کنٹریبوشن کا اعتراف کرلیں۔ بلوچ نمائندہ قومی کونسل کو بیشک کوئی بھی نام دیں مگر اس میں سب آزادی پسندوں کی نمائندگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ تاکہ قومی اداروں کی تشکیل نمائندہ قوتوں کے زریعے ہوں۔ 
۔۳۔ سیاسی سفارت کاری کے زریعے جب رابطے بحال ہوں گے تو اس سے ایک متفقہ اجنڈا وجود میں آسکتا ہے اور اس میں تمام اختلافی نقاط یا پالسی میٹرز شامل کیے جاسکتے ہیں جنہیں سامنے لاکر بات چیت کے زریعے حل کیا جاسکتا ہے۔
 ۴۔ تمام آزادی پسند فریق اپنے اپنے اداروں کے تحت اپنا تین رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دیں اور یہ کمیٹیاں ان افراد پر مشتمل ہوں جن کو مروجہ سیاسی سفارت کاری کا تجربہ نہ ہو مگر ادراک ضرور رکھتے ہوں ، تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کرسکتے ہوں۔ اور وسیع علمی اور سیاسی فہم و فراست کا حامل ہوں۔ اور انتہائی مخلص ہو۔ پالیسی میٹرز کے حوالے اپنا ہوم ورک مکمل کرکے کم سے کم ان قابل اتفاق نقاط کو تیار کریں جن کو لیکر وہ ٹیبل پر پیش کرسکیں۔ اور انکو ان تمام نقاط کا پیشگی اپرول اپنے اداروں سے لینا ہوگا۔
 ۵۔ ان مزاکرات میں غیر جانب دار بلوچ دانشوروں کا شمولیت بے حد ضروری ہے تاکہ مزاکرات کاروں کو علمی گائیڈنس اور اعتماد کا فیڈ بیک دے سکیں اور ان کی موجودگی سے مزاکرات بھی موقر ہوں۔
 ۶۔ ناگزیر حالات کے علاوہ ، باقی جہاں تک ہوسکے مزاکرات کے تمام مراحل ، اجنڈا، بات چیت کرنے والوں کے نام ، میڈیا انٹراکشن، ہرسیشن کا تاریخ ، غرض ہر معاملہ شفاف ہوں اور یہ اہتمام ہو کہ پبلک تما م معملات کے بارہ آاگاہ کیا جارہا ہے۔ تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔
۷۔ ایک سیکولر اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے قوم کی جہت سے یہ ضروری ہوچکا ہے ان مزاکرات میں بلوچ عورتوں کی نمائندگی شامل ہوں

۔ حرف آخر: صاف ظاہر ہے کہ کوئی باہر سے توآ کر یہ سلسلہ شروع نہیں کروا سکتا پبلک ان ہی تمام فریقین میں سے ایک فریق کو پہلا قدم اٹھا نا ہوگا۔ پچھلے ادوار کے تجربوں، موجودہ سیاسی ابتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے اور بہت سوچھ بچار کرنے کے بعد میرے زھن کی کمپاس کا سوئی خود کو متواتر پوزیشنگ کرتا ہوا بی آر پی پر آ کر ٹہر گیا ہے ، اسی لیے بی ٓر پی کو میرا درخواست ہے کہ وہ اس کار خیر کا ابتدا کرے۔ تاکہ ایک مشترکہ قومی سیاسی قیادت سامنے آسکے اور تباہ حال بلوچ عوام کو اپنے سرزمین پر عزت اور سکون کی زندگی میسر آسکے۔

Saturday, February 1, 2014

بھئی پہلے اپنا گھر تو ٹھیک کر لو!






                                          آرچن بلوچ

بھائی میرے کسی مصنف کو خدا مان کر اسے پڑھ لوگے تو اس کی  ٹکسٹ کو کس طرح  interrogate انٹروگیٹ کروگے؟ یا یہ کہ قائد آعظم نے فرمایا، چے گویرا نے کہا، یا ماوزے تنگ نے برا مان لیا، کے فرمودات اور اقوال کوعقل کل کی کسوٹی مان کر ہر معاملہ کو اُسی تناظر میں  دیکھو گے جس طرح  کہ اُنہوں نے اپنے وقت کے معروضی حالات کے مطابق کیا تو ایسی صورت میں آپ اپنے ماحول میں برسرزمین حکایق کو معروضی حالات  کے تناظر میں تجزیہ کیے بغیرکس طرح صحیح فیصلہ کروگے؟
ابتک کی تعاثرات سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ وقتوں کا چی گویرا اور ماوزے تنگ تحریک آزادی کے ٹکٹیکل اور اسٹراٹیجک فیصلوں کے رول ماڈل ٹہرے ہیں اور ہمارا قومی ںظریاتی اساس کا بنیاد رکھنےوالا بابا مری انعام کا آدھا حصہ دار ٹہرا! وگرنہ پیٹرتیچل کو انٹریو دیتے ہوے مہران مری یہ ھرگز نہ کہتے کہ  کہ بلوچ عوام کا مجموعی مطالبہ حق خود ارادیت ہے ۔  بھئی یہ کس کا نعرہ ہے جسے آپ آزادی پسندوں کے صفوں میں accommodate کرنا چاہتے ہو؟
وہ نعرہ جس کی بنیاد بابا مری نے سادہ الفاظ میں یہ کہ کر رکھ دی کہ ھمارے پاس کوئی لمبا چھوڑا اجنڈا نہیں بلکن پنجاب کی فوج بلوچستان سے نکل جائے؛ وجہ جہد آزادی بنی جس کی خاطر بلوچ نوجوان پاکستانی سفاکیت کا پروا کیے بغیر بے شمار قربانیاں دیتے آرہے ہیں، وہ اسلیے نہیں کہ حق خودارادیت کا مبہم سیاسی نعرہ پاکستان کی قبضہ گیریت کو بلوچستان پر دوام و جواز فراھم کرتا رہے۔

اگر دور اندیشی سے کام نہیں لیاگیا اور سابقہ ادوار کی غلطیوں کو دہرانے کی روایت برقرار رہی تو آزادی کی وہ خوبصورت منظرآنکھوں سے مزید اوجھل ہوتا جاےگا۔ یہ اعتراف کیجیے کہ آپ ایک سیاستی بحران   political recession میں مبتلا ہو چکے ہو۔  یہ اکسویں صدی ہے آپ کا مسلح مزاحمتی تحریک بغیر سیاستی چہرہ و قیادت کے خانہ جنگی، انتہا پسندی، دہشدگردی، وارلارڈازم، قبائلی جھگڑوں اور دوسرے منفی کٹگریز میں شمارہوگا۔

  خدارا بلوچ قوم کی قومی تحریک میں والہانہ شمولیت کو نعمت خداوندی for granted نہ سمجھا جاے۔ یہ ایسا کیوں ہوا کہ جیسی ہی مسلح تحریک نے مظبوطی سے جڑ پکڑلی، سیاسی عمل پستی میں چلا گیا۔۔ یا دوسرے الفاظ میں سیاسی عمل  miscarriage کی نظر ہوگئی۔  مظبوط سیاسی فورم کے بغیر آپ کی مذاحمتی جہد مھذب معاشروں میں ننگی نظرآئیگی۔۔۔

اقوام متحدہ کی بے حسی بے سبب نہیں، اگر اس سبب کو نہیں سمجھوگے تو بند کرو اپنا یہ سارا رونا دونا۔ بی این ایم کی موجودہ قیادت کی ساری بیانوں کو ایک ایک کرکے پڑھ لیں پتہ چلے گا کس اجنبی کواکب سے ان کا تعلق ہے، کل کی بیان قابل زکرہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت اور کمک کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر  آواز دینے سے نہیں ملتا اور نہ ہی ایک زوردار بیان اخبارات میں داگ دینے سے ملتی ہے۔۔ اس کیلیے الگpolitical Decorum   پولیٹیکل   ڈیکورم چاہے!

اپنا گھر درست نہیں کرسکتے لگے ہیں پاکستانیوں کی طرح دوسروں کودوش دینا۔۔ یار کھبی کسی سامراجی سے تم نے ملاقات کی ہے؟ دنیا کی سب سے بڑے سامراجی ہی  کی گھر میں  تمھارے آزادی کی حمایت میں بل پیش ہوی ہے، اسے پاس کرانےمیں تم نے کونسا تیر چلایا ہے؟ ۔ شہید فدا احمد کا چچا واجہ حاجی فتح محمد منتحب نمائدوں کے بارے ھمیشہ یہی کہا کرتے تھے،ـ ما ترا پشی وا کرتگ، نوں میاؤ تو وت بکن۔ بھئی اس بل کو پاس کرانے میں کچھ تو کرلو، تھمارے پاس تو ایک پارٹی فورم ہے اسے تو استعمال میں لاؤ۔ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ مائنڈ سٹ کی موجودگی میں ایسا ہو سکے گا کیوں کہ اس کیلیے وسیع النظری چاہیے۔ سامراج سامراج کا رٹ لگاکر یار دوستوں نےتو مولانا فضل رحمان کو بھی مات دیا ہے ۔  

 اور آخر میں سب سے پڑی بات یہ کہ  دنیا کی طاقتورتریں فوج کو اگر سیکیورٹی نہ ملے تو وہ مارا جاے گا۔ وہ بھی امن کی حالت میں۔ سیکیورٹی کے معانے ہرگزیہ نہیں کسی کے ہاتھ  میں بندوق تما کرحکم دو کہ گھر کے مین گیٹ پر حفاظتی ڈیوٹی سنھبالو۔ بھائی میرے، انٹلیجنس سیکیورٹی نام کی بھی کوئی ایک شے ہواکرتی ہے جس کے بغیردنیا کی طاقتورتریں فوج ایک قدم آگے بڑ نہیں سکتا۔ ھزاروں کی تعداد میں  جلسہ جلوس و مظاہرہ کرانے کی دعوے دار بی این ایف شہر میں موجود اپنے ایک لیڈر کو سیکیورٹی فراہم نہ کرسکے۔ تربت شہر میں ملیٹری کیمپ سے 4 کیلومٹر کی دوری پر چاہسر میں ایک رات بسر کرنے والے رضا جہانگیر جان کووہ تحفظ وسیکورٹی نہ دے سکے جسکی جنگ کے زمانے میں ہررھنما اور لیڈر کواشد ضرورت ہوتا ہے۔ کیا بی ایس او آزاد اور بی این ایم کی قیادتیں ایک دو کارکنوں کو سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر نہیں لگا سکتے تھے جو بروقت دشمن کی حمل و حرکت کا اطلاع دیتے؟ ایک تھوڑی سی ھلچل کیا ہوی کہ بی ایس اوکے تمام زونوں کی اعتماد حاصل کرنے کی دوڈیں لگ گئی، اوربات دورہ کرنے کی نوبت تک پہنچی۔ اورہر دوسرے دن دورے کی مقام و تفاصیل بھی اخبارات کی زینت بنی۔ دشمن کو اور کیا چاہے؟  



کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...