آرچن بلوچ
بھائی میرے کسی مصنف کو خدا مان کر اسے پڑھ لوگے تو اس کی ٹکسٹ کو کس طرح interrogate انٹروگیٹ کروگے؟ یا یہ کہ قائد آعظم نے فرمایا، چے گویرا نے کہا، یا ماوزے تنگ نے برا مان لیا، کے فرمودات اور اقوال کوعقل کل کی کسوٹی مان کر ہر معاملہ کو اُسی تناظر میں دیکھو گے جس طرح کہ اُنہوں نے اپنے وقت کے معروضی حالات کے مطابق کیا تو ایسی صورت میں آپ اپنے ماحول میں برسرزمین حکایق کو معروضی حالات کے تناظر میں تجزیہ کیے بغیرکس طرح صحیح فیصلہ کروگے؟
ابتک کی تعاثرات سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ وقتوں کا چی گویرا اور ماوزے تنگ تحریک آزادی کے ٹکٹیکل اور اسٹراٹیجک فیصلوں کے رول ماڈل ٹہرے ہیں اور ہمارا قومی ںظریاتی اساس کا بنیاد رکھنےوالا بابا مری انعام کا آدھا حصہ دار ٹہرا! وگرنہ پیٹرتیچل کو انٹریو دیتے ہوے مہران مری یہ ھرگز نہ کہتے کہ “کہ بلوچ عوام کا مجموعی مطالبہ حق خود ارادیت ہے ۔ بھئی یہ کس کا نعرہ ہے جسے آپ آزادی پسندوں کے صفوں میں accommodate کرنا چاہتے ہو؟
وہ نعرہ جس کی بنیاد بابا مری نے سادہ الفاظ میں یہ کہ کر رکھ دی کہ ھمارے پاس کوئی لمبا چھوڑا اجنڈا نہیں بلکن پنجاب کی فوج بلوچستان سے نکل جائے؛ وجہ جہد آزادی بنی جس کی خاطر بلوچ نوجوان پاکستانی سفاکیت کا پروا کیے بغیر بے شمار قربانیاں دیتے آرہے ہیں، وہ اسلیے نہیں کہ حق خودارادیت کا مبہم سیاسی نعرہ پاکستان کی قبضہ گیریت کو بلوچستان پر دوام و جواز فراھم کرتا رہے۔
اگر دور اندیشی سے کام نہیں لیاگیا اور سابقہ ادوار کی غلطیوں کو دہرانے کی روایت برقرار رہی تو آزادی کی وہ خوبصورت منظرآنکھوں سے مزید اوجھل ہوتا جاےگا۔ یہ اعتراف کیجیے کہ آپ ایک سیاستی بحران political recession میں مبتلا ہو چکے ہو۔ یہ اکسویں صدی ہے آپ کا مسلح مزاحمتی تحریک بغیر سیاستی چہرہ و قیادت کے خانہ جنگی، انتہا پسندی، دہشدگردی، وارلارڈازم، قبائلی جھگڑوں اور دوسرے منفی کٹگریز میں شمارہوگا۔
خدارا بلوچ قوم کی قومی تحریک میں والہانہ شمولیت کو نعمت خداوندی for granted نہ سمجھا جاے۔ یہ ایسا کیوں ہوا کہ جیسی ہی مسلح تحریک نے مظبوطی سے جڑ پکڑلی، سیاسی عمل پستی میں چلا گیا۔۔ یا دوسرے الفاظ میں سیاسی عمل miscarriage کی نظر ہوگئی۔ مظبوط سیاسی فورم کے بغیر آپ کی مذاحمتی جہد مھذب معاشروں میں ننگی نظرآئیگی۔۔۔
اقوام متحدہ کی بے حسی بے سبب نہیں، اگر اس سبب کو نہیں سمجھوگے تو بند کرو اپنا یہ سارا رونا دونا۔ بی این ایم کی موجودہ قیادت کی ساری بیانوں کو ایک ایک کرکے پڑھ لیں پتہ چلے گا کس اجنبی کواکب سے ان کا تعلق ہے، کل کی بیان قابل زکرہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت اور کمک کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر آواز دینے سے نہیں ملتا اور نہ ہی ایک زوردار بیان اخبارات میں داگ دینے سے ملتی ہے۔۔ اس کیلیے الگpolitical Decorum پولیٹیکل ڈیکورم چاہے!
اپنا گھر درست نہیں کرسکتے لگے ہیں پاکستانیوں کی طرح دوسروں کودوش دینا۔۔ یار کھبی کسی سامراجی سے تم نے ملاقات کی ہے؟ دنیا کی سب سے بڑے سامراجی ہی کی گھر میں تمھارے آزادی کی حمایت میں بل پیش ہوی ہے، اسے پاس کرانےمیں تم نے کونسا تیر چلایا ہے؟ ۔ شہید فدا احمد کا چچا واجہ حاجی فتح محمد منتحب نمائدوں کے بارے ھمیشہ یہی کہا کرتے تھے،ـ “ما ترا پشی وا کرتگ، نوں میاؤ تو وت بکن”۔ بھئی اس بل کو پاس کرانے میں کچھ تو کرلو، تھمارے پاس تو ایک پارٹی فورم ہے اسے تو استعمال میں لاؤ۔ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ مائنڈ سٹ کی موجودگی میں ایسا ہو سکے گا کیوں کہ اس کیلیے وسیع النظری چاہیے۔ سامراج سامراج کا رٹ لگاکر یار دوستوں نےتو مولانا فضل رحمان کو بھی مات دیا ہے ۔
اور آخر میں سب سے پڑی بات یہ کہ دنیا کی طاقتورتریں فوج کو اگر سیکیورٹی نہ ملے تو وہ مارا جاے گا۔ وہ بھی امن کی حالت میں۔ سیکیورٹی کے معانے ہرگزیہ نہیں کسی کے ہاتھ میں بندوق تما کرحکم دو کہ گھر کے مین گیٹ پر حفاظتی ڈیوٹی سنھبالو۔ بھائی میرے، انٹلیجنس سیکیورٹی نام کی بھی کوئی ایک شے ہواکرتی ہے جس کے بغیردنیا کی طاقتورتریں فوج ایک قدم آگے بڑ نہیں سکتا۔ ھزاروں کی تعداد میں جلسہ جلوس و مظاہرہ کرانے کی دعوے دار بی این ایف شہر میں موجود اپنے ایک لیڈر کو سیکیورٹی فراہم نہ کرسکے۔ تربت شہر میں ملیٹری کیمپ سے 4 کیلومٹر کی دوری پر چاہسر میں ایک رات بسر کرنے والے رضا جہانگیر جان کووہ تحفظ وسیکورٹی نہ دے سکے جسکی جنگ کے زمانے میں ہررھنما اور لیڈر کواشد ضرورت ہوتا ہے۔ کیا بی ایس او آزاد اور بی این ایم کی قیادتیں ایک دو کارکنوں کو سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر نہیں لگا سکتے تھے جو بروقت دشمن کی حمل و حرکت کا اطلاع دیتے؟ ایک تھوڑی سی ھلچل کیا ہوی کہ بی ایس اوکے تمام زونوں کی اعتماد حاصل کرنے کی دوڈیں لگ گئی، اوربات دورہ کرنے کی نوبت تک پہنچی۔ اورہر دوسرے دن دورے کی مقام و تفاصیل بھی اخبارات کی زینت بنی۔ دشمن کو اور کیا چاہے؟
No comments:
Post a Comment