Monday, March 13, 2017

اجتماعی سیاسی قیادت کی تصور پرمتفق ہونا ہوگا


ہم باربار بلوچ قوم کی اجتماعی قومی قوت کی ایک مرکز میں مرتکز ہونے کی ضرورت پر اس لیے زور دے رہے ہیں کہ ہمارا دشمن باقائدہ اپنی سب سے بڑی منصوبوں کو کامیاب کرانے پر عمل پیرا ہے، اور کسی حد تک troop surge کی اسٹراٹیجی کے بدولت کامیاب ہوچکی ہے۔۔

اور دوسری طرف ہمارا منتشرمزاحمتی قوت، اجتماعی قومی قوت کے بغیر یتیمی کی حالت میں کمزور پوزیشن پر قوم کی دفاع کر رہا ہے۔ اور اسی دفاع کی پاداشت داشت میں سفاک دشمن عام عوام کو اجتماعی سزا دے رہا تاکہ مزاحمت کاروں کو عام عوامی سپورٹ اور حمایت نہ ملے!

اس صورتحال کو بدلنے کیلئے تندہی سے تمام آزادی پسند قوتوں کو ایک اجتماعی قیادت کی ضرورت پر عملی طور پر متفق ہونا ہوگا تاکہ نہ صرف گراؤنڈ پر بلکن بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کی راہیں کھل جائیں


قوم کی اجتماعی قوت دنیا کے سامنے اجتماعی سیاسی قیادت کی شکل میں سامنے نظرآتی ہے اور یہی اجتماعی سیاسی قیادت ہی قومی تحریک کا اصل چہرہ ہوگا۔۔۔

ہنسنے کا مقام یا رونے کا مقام



پتہ نہیں یہ بات ہنسنے کی ہے یا رونے کی، لیکن جب بھی مجھے اس بات کا احساس ہوگا کہ ہمارے جید قومی رہنما اکثر دنیا کی طاقت ورتریں ممالک یورپ امریکہ اور اقوام متحدہ سے اس لیے مدد مانگتے ہیں کہ ان کے پاس طاقت ہے، وہ پاکستان کو روکھنے میں ہماری مدد کریں گے لیکن کیا دنیا اتنا بیوقوف ہے اور ہمیں نہیں پوچھے گی کہ بھئی آپ کا اپنا ایک قومی طاقت ہے کہ نہیں؟ تو کیا جواب بنتا ہے؟ یہی نا کہ ہم منتشر ہیں!

بلے ہی کمزور طاقت ہو، لیکن اسے یکجاہ کرنا قومی رہنماؤں کا ایک اخلاقی فرض تو بنتا ہے۔ اس ایک کمی کی وجہ سے ہمارے تمام سوشل میڈیا کی سرگرمیاں اس وقت تک بے اثر رہیں گے جب تک متحدہ قومی قیادت تشکیل نہیں پاتی! ایک متحرک اور پرعزم اجتماعی قومی قیادت ہی قومی کی اجتماعی قوت ہوتی ہے، وہ تحریک کا چہرہ ہوگا اور دنیا کو اسے قبول کرنے اور اعتماد کرنے پر کوئی دشواری نہیں ہوگی

Saturday, March 11, 2017

خلیل بلوچ کا انکلابی معیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومی اشتراک عمل سے گریزاں کیوں؟

آرچن بلوچ
گہار فاطمہ بلوچ پر قبضہ گیر کا کلہاڑیوں سے وار اور  بعد ازاں اسے تربت ہسپتال سے اپنی بہن اور رشتہ داروں کے ساتھ اٹھانا ماس پارٹیوں کی خاموشی اور ہماری بےبسی ہمیشہ دل میں اس حقیقی حیال کو تقویت دیتی ہے کہ ہم  متحدہ ہوے بغیر اپنا دفاع نہیں کرسکتے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قوم میں ایک مضبوط قومی قوت وجود تو رکھتی ہے لیکن وہ منتشرہے، اسے یکجاہ کرنے کیلئے اگر دھان کسی طرف جاتی ہے تو وہ سیاسی پارٹیاں یا لیڈرز ہیں۔۔۔ اس حوالے تازہ تریں اپ ڈیٹ بی این ایم  کی مرکزی  کابنیہ کے دو روزہ  مٹینگ  کا رپورت خلیل بلوچ کی بیان میں آئی ہے۔  اتحاد کے حوالے خلیل بلوچ کے بیان  میں یہ کہا گیا ہے کہ  ‘سی پیک جیسے استحصالی منصوبے کے توسط سے پاکستان وچین کاگٹھ جوڑاس امرکاواضح ثبوت ہے ایسے نوآبادیاتی منصوبوں کوخاک میں ملانے اورقومی آزادی کی حصول کوممکن بنانے کیلئے بلوچ آزادی پسندقوتوں کااتحادآج وقت کاتقاضہ تو ہے مگراس کیلئے سنجیدگی ،مستقل مزاجی اورکمٹمنٹ کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی معیارکی ضرورت ہے جس میں پارٹی سیاست کو اولیت حاصل ہوناچاہئے کیونکہ قومی وانقلابی پارٹی اور پارٹی اداروں کی عدم تشکیل یا انہیں اہمیت نہ دے کر ہیرارکی یا وراثتی سیاست کو آگے بڑھانے سے پیدا ہونے والے مسائل اور تحریک کے لئے نقصا ن دہ ثابت ہونے والے طریقہ کار ہمیں پارٹی سیاست اور پارٹی اداروں کوشخصی یاگروہی سیاست پر فوقیت دینے کی درس دیتا ہے،،   اتحاد سے گریزاں  سے خلیل بلوچ کی باتوں سے دو واضح موقف نظر آرہا ہے ایک  وراثتی سیاست، دوسرا انکلابی معیار اب پتہ نہیں خلیل بلوچ کو موجودہ  آزادی پسند سیاسی جہد میں شامل  کن جماعتوں یا اشخاس سے وراثتی خطرے کی بو آرہی ہے  نواب براھمدگ بگٹی کے ساتھ  تو انکے مزاکرات جاری ہیں، اب پتہ نہیں یہ انکلابی معیار کے ہیں یا نہیں، لیکن بہت دیر گزر چکا ہے، ابھی تک عوام کو اس حوالے اپ ڈیت نہیں دیاگیا ہے ان کی اتحاد کی بات چیت کہاں پہنچ چکے ہین، یہ سوال بھی ابھر کرسامنے آرہا ہے کہ اب وہ براھمدگ بگٹی سے کس طرح کے انکلابی باتیں آپ منوائینگے، لیکن اگر واجہ خلیل بلوچ کا اشارہ سنگت حیربیارمری کی طرف ہے تو اس نے کب سے وراثتی سیاست کو تیاگ دیا ہے، سنگت حیربیار مری نے قومی آجوئی کی راہ  میں قومی سوچ کے بنیاد پر سیاسی اپروچ کو اپنایا ہے، اسی  قومی سوچ اور عوامی اپروچ  کو لیکر سنگت نے اپنی رہنمائی میں عوام کے ساتھ ایک عمرانی معائدہ آزاد بلوچستان کی چارٹرتحریری شکل میں لائی ہے جس میں آزادی کی شق کے بعد  دوسرا شق یہ ہے کہ عوام طاقت کا منبع ہے  عوام سے یہ ایک باقاعدہ عمرانی معاہدہ ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ جب بابا مری اس جہاں سے رحلت ہوئے تو سنگت نے فورا یہ اعلان کیا کہ بابا کے رحلت کے بعد مری قبیلہ میں سرداری نظام ختم ہوچکی ہے۔  بلوچ  وراثتی سیاست  کو ایک منٹ کیلئے پرے رکھیے، برطانیہ جوکہ جمہوریت کا ماں ہے وہاں ابھی تک ہراریکی کا سلسلہ چل رہا ہے ، خلیجی ممالک، جاپان ، برونائی وغیرہ میں سارے حکمران ہراریکی کے ہیں۔ جہاں مغربی دنیا کے بعد سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک کی انگریزوں سے آزادی کی مدت چالیس سال سے زیادہ نہیں، انگریزوں کے غلامی سے آزادی  کے بعد ان ملکوں کے وراثتی حکمرانوں نے فورا اپنے اپنے ملکوں کو ایسا ترقی دی ہے  جس طرح ایک زمہ وار شخص اپنے گھر کی تزعین و آرائش کرتا ہے۔  جس کا تصور دنیا میں سو سے زیادہ  جمہوری ممالک نہیں کرسکتے۔  ایشیا اور افریقہ میں ایسے سو سے  زیادہ جمہوری  ممالک ہیں جہاں لوگ ایک دن کی نان نطفہ سے محروم ہیں۔  جب کہ دوسری طرف غیروراثتی انکلابی  حکمران، حاص کر سوریا کی حافظ اسد کی بعث پارٹی کی چالیس سالہ حکمرانی، صدام کی بھی بعث پارٹی کا عراق پر بلا شرکت غیرے  جبر و استبدادی کی حکمرانی، لیبیا پر معمر قزافی کی بھی چالیس سالہ گرین پارٹی کی انکلابی حکمرانی شرکت بلا غیرے رہا۔ ایران میں تھیوکراٹیک ملاشاہی کی جمہوری انکلابی نظام۔۔ ان کے بارے انکلاب کا معیار قائم کرنے والے کیا کہتے ہیں، اسٹالن کی سویت ریشیا کی کیا حال سناؤں ! جنگ آزادی کے دوران  بلوچ نظام حکومت کا تعین  کس طرح ہو، اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے بہتر ہے، آزاد بلوچستان کا عوامی رایہ اور پارلمنٹ آئین ہی اس بات کا تعین کریں کہ کس کا طرح  کی نظام حکومت قائم ہو، انکلابی معیار کی ہو یا وراثتی یا جمہوریت کی! خلیل بلوچ کی باتوں سے مجھے کہورخان کی بات یاد آتی ہے 1986 میں بی ایس او کے چیرمیں ڈاکٹریاسین نے سنئر دوستوں کے مشورے سے ایک قومی پروگرام پیش کی جس میں ‘‘غیرطبقاتی جدوجہد برائے حق خود اداریت کو اولیت دی گئی تھی، لیکن ڈاکٹر کہورخان نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کیوںکہ سوشلسٹ یا کمسنٹ کے جہد میں جس طرح سرمایہ دار شامل نہیں ہوسکتا!  اسی طرح ہمارے تحریک میں سردار شامل نہیں ہوسکتا،  دوستوں نے کہا بابا ہمارے  جہدوجہد کا اولین مقصد قبضہ گیریت سے نجات کی ہےکسی نظام کی تبدیلی نہیں۔  
 پہلے تو یہ لوگ کمنسزم اور سوشلزم کی اچھائیاں گنواتے تھے، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہوا کھڑا کرتے ہوئے سنگت کی سیاسی کردار کشی کرتے تھے اب  وراثت کی scarecrow  کو لیکر عوام کو ڈرا رہے ہیں اگر اتحاد کیا تو وراثتی لوگ آگے آئینگے۔
 خلیل بلوچ کی بیان سے ایک اور بات بھی واضع کی گئی ہے وہ ہے پارٹی سیاست یعنی  Party Politics، ان کا یقین ہے کہ پارٹی سیاست کو اولیت حاصل ہوناچاہئے  دنیا  کی مروجہ سیاسی روایتوں میں، خاص کر آزاد جمہوری ملکوں میں عوام کا حمایت حاصل کرنے  اور اقتدار  میں آنےکیلئے  سیاسی داؤ پیچ کھیلا جاتا ہے مخالف پارٹی کی ہر کمزوری  اورغلطی کو عوام کے سامنے اجاگر کرنااور قانون ساز ایوانوں میں رکھاوٹیں ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ برطانیہ اور امریکہ میں ہوتا رہتا ہے، انڈیا میں بی جی پی اور کانگریس کے درمیاں جو سیاسی کھیل کھیلا جاتا ہے وہ پارٹی پالٹکس یا سیاست کے زندہ مثالیں ہیں، پاکستان میں صرف فوج کھیل کھیلتا ہے، یہ بدبخت ملک کسی کٹگری میں فٹ نہیں آتا۔ بلوچوں میں پارٹی پالٹکس کی تاریخ  اس وقت شروع ہوئی جب 1970 کی الیکشنوں میں جیت کی زعم میں  مبتلا بلوچ قیادت  وزارت اعلی اور گورنرشپ کی لالچ میں نیپ کےپلیٹ فارم پر غوث بخش بیزنجو اور  سردارعطاللہ خان مینگل نے نواب نواب اکبرخان بگٹی کو بلا وجہ زک پہنچایا، نیپ کی پلیٹ فارم سے نواب شہید کی بے عزتی اس بات پر  کرائی گئی  کہ وہ  نیپ کا پارٹی ممبر نہیں ہے۔ یہ واقع  بلوچ سیاسی  تاریخ  کا ایک المناک تریں موڈ  ثابت ہوئی! جس کے اثرات نواب کی شہادت تک نظر آئے، تراتانی کی پہاڑوں میں مورچہ زن  شہید نواب نے جب فوج کی نیت کو بانپ لی ، تو اس نے کاغزی شیر کو پکارا ، لیکن وہ اپنی ضد کی ہول سے باہر نہیں نکلا، گستاخ دشمن نے بانپ لیا کہ اب نواب بگٹی سے اکھیلا ہے۔ تو اس نے نواب صاحب اور انکے عظیم ساتھیوں کو شہید کرنے میں ایک دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  بدقسمتی یہی پارٹی سیاست سنگت حیربیارمری کے ساتھ بھی کھیلا گیا، براھمدگ بگٹی نے بی این ایف کو اس بہانے  توڑا کہ فرنٹ  میں شامل دوسرے پارٹیوں نے کیوں حیربیار مری کو  تحریک کی خارجہ امور کی زمہ واریاں تجویز کی گئیں! فرنٹ کی دوسری بڑی پارٹی  بی این ایم کی قیادت نے بھی کہا کہ ہم نے تو اس کا نام  تجویز نہیں کیا۔ بلا وجہ قوم اور دنیا کے سامنے سنگت کی سبکی کرنےکا کیا ضرورت تھی؟  ایک طرف بی آر پی  کی جانب سے خیربیار پر عدم اعتماد کا اظہار اور دوسری طرف بی این ایم کا خیر بیار مری کے ساتھ اظہار لاتعلقی کا بیان دینا کونسا قوم دوستی اور سیاسی بلوغت ہے؟  اس  میں بی این ایم کا کتنا تعلق ہے؟۔  کیا  یہ خیربیار مری کی   ساک کو بلوچ قوم میں اور خاص کر بین الاقوامی اداروں میں متائثر کرانے کی ایک دانستہ یا غیر دانستہ کوشش نہیں تھی؟ یہ ہیں پارٹی پالٹکس کے نتجائج ۔
یہاں پارٹی سیاست سے اگر خلیل بلوچ کا مراد  سیاسی پارٹی پلیٹ فارم یا فورم سے ہے اور اشارہ سنگت حیربیار مری کی طرف ہے  تو خلیل بلوچ کو  اردو میں لکھی گئی علم سیاسیات کی کتابوں کو  پڑھنا چھوڑ دینا چاہیے اور ازسرنو کسی دوسری زبان میں سچے سیاسیات کے بارے پڑھنا چاہے، کیوںکہ  اردو میں لکھی گئی کتابیں پاکستانی سیاست کے گرد گھومتی ہیں، جہاں سچ ہمیشہ مفقود ہے۔ واجہ خلیل بلوچ پارٹی سیاست اور پارٹی پلیٹ فارم میں زمیں و آسمان کا فرق ہے، یہاں یہ بات عرض کرتا ہوں کہ سنگت حیر بیار مری جس نے مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھ دی، وہ کیسے بغیر کسی سیاسی پلیٹ فارم سے عوام کو مزاحمت پر آمادہ کرسکتا ہے؟ مسلح مزاحمتی تنظیمیں بھی سیاسی پلیٹ فارم  یا فورم شمار ہوتے ہیں!
خلیل بلوچ کی سابقہ اتحادوں کے ٹوٹ پھوٹ  کے بارے باتیں حقیقت سے چشم پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں، خلیل کہتا ہے کہ  تحریک آزادی سے وابستہ بعض حلقوں نے ماضی میں سطحی مسائل پراتحاداوریکجہتی کے عمل کوسبوتاژکیا، واجہ خود اپنی کردار کے حوالے خاموش ہے، موجودہ مزا حمتی تحریک کا  سب سے بڑا اتحاد سیاسی پلیٹ فارم، بی این ایف تھا جسے شہید غلام محمد نے تشکیل دی، اسے آپ انکلابیوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا؟ ، اس کے توڑنے میں خود خلیل کا کردار مرکزی تھا۔  خلیل دوسروں کو نصیحت کرتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا تدارک کریں، سابقہ دور کی کیا بات کریں موجودہ دور میں بھی یہ پارٹیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کے پروسس میں گزر رہے ہیں، لیکن ان کو پتہ نہیں۔  ٹوٹ پھوٹ کے دو شکلیں ہیں، روایتی طور پر ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے جس طرح غیرسنجیدگی کی وجہ سے بی این ایم ٹوٹ گئی، دوسری ٹوٹ پھوٹ یہ ہے کہ لوگ مایوس ہوکرخاموشی سے پارٹیوں سے الگ ہوجاتے ہیں، اب بی این ایم کی موجودہ قیادت کی تنگ نظری  سے لوگ تنگ آ چکے ہیں, اس سے کنارہ کش ہورہے ہیں۔  اس کی واضع ثبوت یہ ہے کہ جب قبضہ گیر آرمی واجہ عبدالرؤف کی گھر کو اہک ہفتے تک گیرے میں لیتی ہے  تو ہرتال کی کال دینے کے باوجود کوئی سڑکوں پر نہیں آتا۔  گوکہ یہ پارٹی خود کو ماس پارٹی کہتے نہیں تھکتی!
اس پارٹی کی لیڈرشپ کی غیر زمہ دارانہ رویہ  کٹورپن اور نا اھلی اور کیا ہوسکتی ہے  ‘‘اگرکوئی اتحادکی ضرورت کوسنجیدگی سے محسوس کرتاہے تواتحادکیلئے ٹھوس پروگرام وخاکہ پیش کریں اوراپنے ماضی کی غلطیوں کاتدارک بھی کریں۔  ارے میرے بھائی تھمیں شہیدوں کا واستہ، کچھ قوم پر رحم تو کرو،  اتحاد کسی بھوکے انسان کی بھوک کا حاجت نہیں جس کے سامنے تم جیسے طاقت ور انسان  نوالہ پھینک دیتے ہیں، نہ صرف  انسانی سماجوں  میں بلکن حیوانوں میں بھی اتحاد زیست ومرگ کا معاملہ ہے جس کے بغیر دنیا کی تمام طاقت ورتریں ممالک بھی اپنی وجود کو خطرے میں پاتے ہیں نیٹو اس کی زندہ مثال ہے۔ چیرمیں غلام محمد کی مہنتوں کا ثمر ایک بی این ایف تھا جسے آپ لوگ سنھبال نہ سکے،  دوسروں کو کہتے ہو کہ ایک ٹھوس پروگرام اور خاکہ پیش کریں، اگر یہ بات ہے تو تمھاری انکلابی معیارات کو زنگ لگ چکی ہے؟ آپ کا پارٹی کس درد کا دوا جو اتحاد کیلئے ایک پروگرام پیش نہیں کرسکتا؟  کسی درپیش قومی مسئلے کو حل کرنے کیلیئے دنیا کی سیاسی روایات میں سیاسی پارٹیاں قومی کانفس، آل پارٹی کانفرس یا سمیت مٹنگ بلاتے ہیں، اسے اسے پولیٹکل ڈپلومیسی کہتے ہیں، پارٹی پارٹی  کی رٹ لگا کر ایک قومی کانفرنس بلا نہیں سکتے! پھربلا کس چیز کی توقع کریں!
چیئرمین خلیل بلوچ  مزید فرماتے ہیں کہ ‘‘بلوچ قوم کو یہ احساس وادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ آج پاکستان اور چین مشترکہ دشمن کی صورت میں بلوچ سرزمین پر حملہ آور ہیں ،اس لئے بلوچ قوم کے لئے تحریک کا بھرپور حمایت اور عملی تعاون سے جدوجہد کوبڑھانا وقت کی سب سے بڑاتقاضاہے‘‘  اب بات اس پر آکر رکھ گیا ہے کہ عوام میں ادراک واحساس نہیں بقول خلیل بلوچ کے، اس لیے تحریک کامیاب نہیں۔  تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادراک و احساس کس کو کرناچاہیے قوم یا لیڈرشپ کو؟ میرے خیال میں یہ عوام کی احساس و ادراک ہی ہے کہ 16سالہ مزاحمتی تحریک اب تک چل رہاہے، وگرنہ انکلابی لیڈراں تو گزشتہ کتنے عرصے سے ٹانگ کینچھنے میں مصروف رہے ہیں! اب یہ ادراک لیڈرشپ کو کرنا چاہیئے کہ عوام نے کیوں تحریک سے  دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے۔  دوسری بات یہ کہ خلیل بلوچ کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان اور چین مشترکہ دشمن کی صورت میں بلوچ سرزمیں پر حملہ آور ہیں، تو ان کو ضرور اس بات کا بھی ادراک ہوگا کہ نہ پاکستان کمنسٹ ہے اور نہ ہی چین ایک اسلامی  ملک ہے تو پھر ان کے درمیان وہ کونسا انکلابی معیار ہے جس نے ان دونوں ملکوں کو مشترکہ طور پربلوچوں پر حملہ آور کردیا ہے، جبکہ بلوچ مشترکہ ورثہ کا مالک ہوتے ہوئے منتشر ہے ؟ دشمن مشترکہ اتحاد کے تحت بلوچ پر حملہ آور ہوچاکا ہے لیکن خلیل بلوچ نے بلوچوں کے اتحاد  کیلئے انکلاب کا وہ آعلی معیار قائم کردیا ہے کہ جس کے معیار پر شازونادر ہی کوئی دوسرا آزادی پسند اترے ۔
خرف آخر:  قومی اتحاد یا قوم کی اجتماعی قوت کو مجتمع کرنے کی حق سے کوئی حقیقی آزادی پسند دستبردار نہیں ہوسکتا! قومی اتحاد اور اشتراک عمل کے لیے حیربیار مری کی طرف سے قا ئم کردہ کمیٹیوں کی کوششوں کے باوجود کوئی پیش رفت ہوئی مگراس  کے باوجود، فری بلوچستان مومنٹ کے پلیٹ فارم پر متحرک دوستوں پر مشتمل کمیٹیوں نے اپنے حالیہ متوازن بیان میں یہ کہا ہے کہ  ‘‘ہماری طرف سے تمام آزادی پسندوں کے لیے ہر وقت قومی شرائط اور مفادات کے تحت مزاکرات کے لیے دروازے کھلے رہنگ‘‘۔ سنگت حیربیارمری نے اشتراک عمل کے لیے دعوت دی تھی، اشتراک عمل ایک ہلکا پلکا اتحاد ہے، جوکہ اعتماد کی بحالی کے اقدامات (confidence building measure)  کے طور لیے جانا چاہیے تھا، لیکن افسوس کوئی پیش رفت نہ ہوئی!





کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...