Friday, June 8, 2018

بی این پی مینگل کا گڈا گورنس کا اجنڈا


 آرچن بلوچ

بلوچستان میں بنائے گئے جتنے غیرآزادی پسند پارٹیاں ہیں، ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی واضع قومی اجنڈا نہیں ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔  لیکن ایک بات واضع ہے ان کا اول اور آخری واجب آئی ایس آئی کے اجنڈے کی تکمیل ہے، وہ اجنڈا ہے بلوچستان کو مزید پسماندہ رکھنا تاکہ بلوچوں میں مزاحمت کا رمک باقی نہ رہے اور پنجابی حکمرانوں کا لوٹ کھسوٹ کی بازار گرم رہے۔

صرف بی این پی مینگل کا ایک اجنڈا ہے جسکا اس پارٹی نے بھی تک کھلم کھلا اعلان تو نہیں کیا  ہے لیکن ثنا بلوچ کی انٹریوز سے پتہ چلتا ہے وہ موجودہ پاکستانی آئین کے ساتھ متمئن ہیں، ان کے مطابق آئینی لحاظ سے بلوچستان کے حقوق  بلوچ قوم کو  دیے گئے ہیں، مسئلہ صرف گڈ گورنس کا ہے۔ یعنی ایک اچھا حکومت آئے۔

 بی این پی  مینگل کے منشور میں  بلوچستان کی حق خود ارادیت کا ڈمانڈ شامل ہے، اب پتا نہیں کہ  موجودہ پاکستانی آئین کے فریم ورک سے متمئن ہونے کے بعد آیا بی این پی مینگل کا موجودہ  موقف کہ آئینی لحاظ سے بلوچستان کے حقوق ہمیں دیے گئے ہیں درست ہے کہ نہیں۔ اور دوسرا سوال یہ کہ  کیا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جائے کہ بی این پی مینگل کا حق خود ارادیت کا مطالبہ پورہ ہوچکا ہے؟

پچھلے ادوار میں  بی این پی مینگل نعرہ تو حق خود ارادیت کا لگاتا تھا لیکن انکے انتخابی اور احتجاجی اتحادی جمعت علما اسلام اور مسلم لیگ نون وغیرہ رہے ہیں۔ حالانکہ ان پارٹیوں  نے کبھی بھی بلوچوں کی حق خود ارادیت کو قبول نہیں کیا ہے۔  اس دفعہ  کا نعرہ انتحابی گڈ گورنس ہے اور اتحادی کون ہیں صورتحال واضع نظر نہیں آ رہا ہے۔۔

 اچھے وقتوں میں بھی پاکستان آرمی نے بلوچستان میں انتخابات کو مائیکرو منیج کیا ہے اور اپنے پسند کے لوگوں کو سامنے لایا ہے۔  اب جبکہ موجودہ دور میں پاکستان کو بلوچستان میں ایک مضبوط آزادی پسند مزاحمتی تحریک کا سامنا ہے، تو ایسے میں یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں ہوگا جو بی این پی مینگل کیلیے میدان کھلی چھوڑ دے۔

دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ بی این پی مینگل میں اقتدار میں آنا چاہتا ہے،  اور قابض حکمرانوں کیلھے بھی بی این پی  کو دینے کیلے بہت کچھ ہے۔ شرط یہ ہے کہ اخترمینگل بلوچستان پر پاکستان کی قبضہ گیریت کے شکنجے کو اور مضبوط کرنے میں مدد دے۔۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...