Monday, September 26, 2016

سماجی انصاف کا نقشہ اور ڈاکٹر اللہ نظرکی حقیقت پسندی

آج ہم جو مسافت طے کر رہے ہیں ہمارے ذہنوں میں کامل انصاف کیلئے ایک نقشہ ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہم نہ رہیں لیکن نقشہ ہونا چاہیے‘‘۔ ڈاکٹر اللہ نظر کی حالیہ لیکچر میں مزکورہ باتیں قابل غور ہیں۔ اور بہت اھمیت رکھتے ہیں۔ 

ویسے تو ڈاکٹرصاحب طالب علمی کے زمانے سے سیاسی طور پر تحریک سے وابستہ رہے ہیں، 1999 میں سنگت حیربیارمری کی شروع کردہ مزاحمتی تحریک میں ڈاکٹر اللہ نظرنے عملی طور غالبا ً 2004 میں شمولیت اختیار کی لیکن ایک الگ پلیٹ فارم سے۔ اب ایک بہت طویل مدت گزرچکی ہے اور مزحمت بھی بڑی شدت سے جاری ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کی فلیٹ فارم کی طرف سے ابتک مزکورہ انصاف کیلئے نقشہ سامنے نہیں آیا! یعنی عام عوام کوتحریری طورپریہ لکھ کرنہیں دیاگیا کہ آپ جو قربانیاں تحریک آزادی کیلئے دے رہے ہو، ان کا ثمر ایک عمرانی معاہدہ یا میثاق کی شکل میں ملے گا جس سے ‘‘سماجی انصاف‘‘ کو یقینی بنایا جاےگا! اس کی وجہ شاید الگ پلیٹ فارم پر کام کرنے کی اپروچ ہو، جہاں ترجیحات مختلف ہوسکتے ہیں جس سے پالسیوں میں ہم آھنگی لانے کیلئے بہت وقت درکاہوجاتی ہے۔

فی زمانہ جدید ریاستی تنظیم کے ساخت میں سماجی انصاف یعنی Social Justice کو بنیادی اولیت دی گئی ہے۔ سماجی انصاف کا تصورتقریبا تمام ترقی یافتہ اقوام میں یکساں ہے۔ سماجی انصاف کو یقینی بنانے کیلے اگر موجودہ تمام آزادی پسند قوتیں ایک متفقہ عمرانی معاہد و میثاق کا اگر ایک نقشہ و چارٹردیں تو بعد از آزادی انصاف کا فراہمی یقینی ہوجائےگا ۔۔

آرچن بلوچ

Tuesday, September 13, 2016

کھلا خط بی این ایم اور بی ایس او کی قیادتوں کے نام


نہ چاہتے ہوے بھی یہ بات کہے بغیربھی رہا نہیں جاسکتا کہ جب سے جنگ آزادی شروع ہوچکی ہے اس وقت سے تمام آزادی پسند پارٹیاں بلوچستان کی قومی جھنڈا ہرمحاذ پر، جنگ کی میدان سے لیکر بلوچستان میں سکولوں پر، گلیوں میں، جلسہ جلوسوں میں، یا شہدا کی قبروں پر، پہاڑوں کے چھوٹیوں پر استعمال ہوتا آرہاہے۔۔ لیکن میں دیکھ رہاہوں کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے آپ کی یورپی امریکی اور کنیڈین نمائندے احتجاجی جلسہ جلوسوں میں قومی جھنڈے کے بجائے اپنی اپنی پارٹیوں کے جھنڈوں کو استعمال کررہےہیں!


اب ہمیں اس کی وجہ بتایا جائے کہ احتجاجی جلسہ جلوسوں میں قومی جھنڈے کا استعمال کرنا آپ لوگوں نے کیوں ترک کردیا ہے؟

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...