آج
ہم جو مسافت طے کر رہے ہیں ہمارے ذہنوں میں کامل انصاف کیلئے ایک نقشہ ہونا چاہیے۔
اگرچہ ہم نہ رہیں لیکن نقشہ ہونا چاہیے‘‘۔ ڈاکٹر اللہ نظر کی حالیہ لیکچر میں مزکورہ
باتیں قابل غور ہیں۔ اور بہت اھمیت رکھتے ہیں۔
ویسے تو ڈاکٹرصاحب طالب علمی کے زمانے
سے سیاسی طور پر تحریک سے وابستہ رہے ہیں، 1999 میں سنگت حیربیارمری کی شروع کردہ مزاحمتی
تحریک میں ڈاکٹر اللہ نظرنے عملی طور غالبا ً 2004 میں شمولیت اختیار کی لیکن ایک الگ
پلیٹ فارم سے۔ اب ایک بہت طویل مدت گزرچکی ہے اور مزحمت بھی بڑی شدت سے جاری ہے، لیکن
ڈاکٹر صاحب کی فلیٹ فارم کی طرف سے ابتک مزکورہ انصاف کیلئے نقشہ سامنے نہیں آیا! یعنی
عام عوام کوتحریری طورپریہ لکھ کرنہیں دیاگیا کہ آپ جو قربانیاں تحریک آزادی کیلئے
دے رہے ہو، ان کا ثمر ایک عمرانی معاہدہ یا میثاق کی شکل میں ملے گا جس سے ‘‘سماجی
انصاف‘‘ کو یقینی بنایا جاےگا! اس کی وجہ شاید الگ پلیٹ فارم پر کام کرنے کی اپروچ
ہو، جہاں ترجیحات مختلف ہوسکتے ہیں جس سے پالسیوں میں ہم آھنگی لانے کیلئے بہت وقت
درکاہوجاتی ہے۔
فی
زمانہ جدید ریاستی تنظیم کے ساخت میں سماجی انصاف یعنی Social Justice کو
بنیادی اولیت دی گئی ہے۔ سماجی انصاف کا تصورتقریبا تمام ترقی یافتہ اقوام میں یکساں
ہے۔ سماجی انصاف کو یقینی بنانے کیلے اگر موجودہ تمام آزادی پسند قوتیں ایک متفقہ عمرانی
معاہد و میثاق کا اگر ایک نقشہ و چارٹردیں تو بعد از آزادی انصاف کا فراہمی یقینی ہوجائےگا
۔۔
آرچن بلوچ
آرچن بلوچ