Friday, July 19, 2019

مڈل ایسٹ کی آتش فشاں صورتحال اور بلوچ اجتماعی موقف کی ضرورت : تحریر آرچن بلوچ

  کل جمعرات کو امریکی صدر نے اعلان کیا کہ یو ایس ایس بوکسر نے دفاعی تدبیر کے تحت ایران کی ایک ڈرون کو آبنائے ہرمز کے دھانے پر اس وقت مار گرایا جب وہ امریکی نیوی کے جنگی جہاز کے قریب آرہا تھا جس سے جنگی جہاز اور اسکے عملہ کی سلامتی کو خطرہ تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی ڈرون کو اس وقت فورا تباہ کیا گیا جب وہ ایک کیلومیٹر کے دوری پر بوکسر نیوی جہاز کے قریب پہنچ چکا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ عالمی سمندری حدود میں آبی جہازوں کے خلاف یہ نیا واقعہ ایران کی کئی اشتعال انگیز اور دشمنانہ کاروائیوں میں سے ایک تازہ ترین واقعہ ہے۔ان کے بقول امریکہ یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں، وسائل اور مفادات کا ہر صورت دفاع کرے۔ امریکی صدر نے تمام اقوام کو دعوت دی کہ وہ آزاد عالمی تجارت اور جہاز رانی کے خلاف ایران کی کاروائیوں کا مزاحمت کریں۔واضع رہے مشرق وسطی کے خطے کی صورتحال میں اس وقت اہک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی جب دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ امریکہ نے ایران کی ریاستی فوج ‘سپاہِ پاسداران انقلاب’ کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا ۔ اور ایرانی پاسداران اپنی عسکری سرگرمیوں کے علاوہ ایرانی معیشت کے اہم اداروں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔امریکا کا یہ ایک اور اہم خیر مقدمی فیصلہ تھا ۔امریکی پابندیوں کے مجموعی طور پر مؤثر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ایرانی موجودہ نظام ( ملا رجیم ) کو ان کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔

امریکا اگر مزید پابندیاں عاید کرتا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ یہ بھی بہت موثر رہیں گی اور یہ عاید کی جانی چاہیے ۔ تاکہ مشرق وسطی کا خطہ اور عالمی طوربہت سے اقوام کو ایرانی دہشتگردی سے معفوظ رکھا جاسکے۔ اس ضمن میں ایران کے بعض بنکوں کو انفرادی طور پر بلیک لسٹ قراردینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایران کے پورے بنکاری نظام کو بلیک لسٹ کی لپیٹ میں لے کر مفلوج کیا جانا چاہیے اور یہ سب سے اہم اقدام ہوگا۔

امریکا کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں ایران کے جہاز رانی کے شعبے پر عاید کردہ پابندیوں کو مزید وسعت دے دے۔ اور اس کا اطلاق ایران سے آنے اور وہاں سے باہر جانے والے تمام مال بردار جہازوں پر لاگو کردے۔ امریکا مستقبل میں ایسے اقدامات کرسکتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایران کی

تخریبی سرگرمیوں سے نالاں دوسرے ممالک امریکا کی ان پابندیوں کی اپنے طور پر ٹھوس اور مضبوط اقدامات کی صورت میں حمایت کریں ۔

اب تازہ تریں رپورٹس کے مطابق ایرانی گماشتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے فیلڈ کمانڈروں نے کہا ہے وہ اسرائیل کے خلاف تباہ کن جنگ کی تیاری کیلئے اپنی فورسز کو اسرائیل کے بارڈر پر تعینات کر رہے ہیں۔۔ ڈیلی بیسٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں نے انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ اسرائیلی محاذ ہی پر ان سے نمٹ لیں۔ اسرائیلی بارڈر پر حزب اللہ کی 800 مسلح جنگجووں کی کمانڈر سمیر نے اپنا اصلی نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ

میڈیا سے بات نہ کرنے کے پابند ہیں لیکن اس دفعہ پہلا گولی وہ خود ہی چلائیں گے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے نیویارک میں بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسکی ملک میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کیلئے بند کردے لیکن وہ ایسا نہیں کرینگے کیوںکہ تنگہائے ہرمز اور پرشین گلف ایران کیلئے شہرگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
مڈل ایسٹ کی اس آتش فشاں صورتحال کو دیکھتے ہوئے قدرتی طور پر ہمارے زہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہمارا قوم اس تمام صورتحال میں آج کہاں کھڑا ہے؟ قوموں کی تقدیر اور مستقبل کی تشکیل میں اگر جغرافیہ کا کوئی عمل دخل اور اہمیت ہے تو ہمارا جغرافیہ بلوچستان کا آدھا حصہ ایران کے قبضے میں ہے اور ایران پر جنگ کے بادل منڈالا رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط ہوا تو اس سے ہمارا سرزمین اورقوم برائے راست متاثرہوگا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے کچھ آزادی پسند حلقے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار کر رکھے ہیں اور ہماری تحریک اس موافق صورتحال سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطی کی اس آتش فشاں صورتحال سے ہم بلکل لاتعلق ہوکر رہ گئے ہیں، ہماری تحریک کا موجودہ تشکیل اور فارمیشن اس حال میں نہیں جو تحریک کی صحیح ڈگر پر ترجمانی کرتے ہوئے مڈل ایسٹ کے اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ بلوچ قومی مفادات کا تحفظ کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ تحریک کا بنیادی عنصر یعنی ایک اجتماعی سیاسی قومی موقف کی کمی ہے جس کی تشکیل دینے کی راہ میں ایک قوم،ایک سرزمین،ایک جغرافیہ،ایک زبان،ایک مزاج، ایک تاریخ ،غلامی کی تکالیف ایک جیسی اور ایک ہی منزل کیلئے راہی ہونے کے باوجود رائیں اور موقف کیوں جدا ؟

جبکہ دشمنوں کے بہکاوے میں آکر ہماری معروضی پالیسی اختلافات روز بروز زور پکڑ کر بد گمانیوں کی ایک وسیع خلیج بنتا جارہا ہے،جو کہ پالیسی اختلافات سے بڑھ کر بلاوجہ اب نظریاتی جیسے رکاوٹیں پہاڑ کی مانند کھڑے ہو گئے ہیں۔ تمام محب وطن آزادی پسند بلوچ سیاسی کارکنوں کی آج یہ اخلاقی و قومی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ وقت کی نبض کو اپنے طور ہی سہی عالمی و علاقائی پیرائے کے مطابق جائزہ لے کر سمجھنے کی کوشش کرے ،کہ آج بہت سے طاقتور قوموں کے آیران کے ساتھ کشمکش میں بلوچ قومی مفاد کو حاصل کرنے کیلئے خود کے داخلی سیاسی میدان کو موافق اور سازگار کیسے بناسکتے ہے؟

جس سے دنیا کے سامنے مضبوط و متفقہ شکل میں بلوچ اجتماعی قومی موقف کو سامنے لاسکے۔

Saturday, July 6, 2019

اجتماعی سیاسی قیادت وقت کی اھم ضرورت۔۔۔۔



اجتماعی سیاسی قیادت وقت کی اھم ضرورت۔۔۔۔
آرچن بلوچ
ہمارے خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی   جیوپالٹکس، بلوچ سرزمیں پر عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ ، ہماری کمزور حیثیت، دشمن کی سفاکیت، اندرونی سیاسی بحرانی کیفیت، عوام کی دلبرداشتگی، تحریک کی سیاسی، سفارتی  اور  معاشی جیسے بحرانوں کا تقاضہ ہے کہ  قومی تحریک کے  تمام آزادی پسند قوتیں  ایک اجتماعی سیاسی قیادت کے آئیڈیا پر متفق ہوں جو تحریک کے سیاسی، سفارتی  اور معاشی ضرورتوں کو پورہ کرسکے۔۔ مگر دردناک حقیقت یہی ہے کہ سیاسی قیادت کی تشکیل کے سامنے پہاڑ جیسے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔

عوام کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ بلوچ تحریک بحرانی کیفیت میں ہے اور اس کی جڑ عسکری میدان کے کچھ لاپروا رہنما ہیں جو نہیں چاہتے کہ قومی تحریک کا ایک سیاسی قیادت ہو۔۔ وہ یہ سجمھتے ہیں کہ چونکہ وہ پہاڑی بابے ہیں لہذا تحریک پر  انکا اجارہ داری ہو۔ انکا سوچ ہمیشہ اجتماعیت کے برعکس رہا ہے۔

اپنی اس خفیہ اجنڈے کی تکمیل کیلئے وہ عام عوام اور مخلص سیاسی ورکرں کے کانوں کو بھر چکے ہیں کہ سنگت حیربیارمری، نواب براھمدگ بگٹی، خان اف کلات اور مہران بلوچ یہ سب قبائلی سردار ہیں، بقول انکے وہ غیرانقلابی ہیں۔ ان پہاڑی اجارہ داروں نے تحریک کو مکمل ایک طبقاتی جہد میں تبدیل کردیا ہے۔

ان طبقہ پرستوں نے تحریک کے ہر میدان میں چاہے وہ سیاسی، سفارتی اور عسکری میدان ہو یا عام عوام میں سماجی معاملات ہوں سب میں غلطیوں کے پہاڑ کھڑے کیے ہیں۔ انہی کی وجہ سے عام عوام میں مایوسی پھیل چکی ہے۔ اور انہی لوگوں کی وجہ سے تحریک میں کافی negativity آچکی ہے۔

ان تمام معاملات کا حل holistic approach کے ساتھ ایک قومی پروگرام ہے جس سے تحریک کے تمام اسٹاک ہولڈرز ایک ڈسپلن کے تحت تحریک کی کامیابی کیلئے اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں۔


Wednesday, May 29, 2019

چائنا کی توسیع پسندانہ عزائم بلوچستان کی آزادی پر منتج ہو گی: بلوچ رہبر حیر بیار مری


چائنا کی توسیع پسندانہ عزائم بلوچستان کی آزادی پر منتج ہو گی: بلوچ رہبر حیر بیار مری


منگل 21 مئی, 2019

چائنا کی توسیع پسندانہ عزائم بلوچستان کی آزادی پر منتج ہو گی: بلوچ رہبر حیر بیار مری
تحریر۔ فرانسسکا مارینو
ترجمہ۔ آرچن بلوچ
فرسٹ پوسٹ پرنٹ کو انٹرویو دیتےہو ئے بلوچ رہنما حیربیارمری نے کہا ہے کہ چائنا کی توسیع پسندانہ پالیسی علاقائی رشتوں کو از سرنو طے کریگا۔
فرانسیسکار مارینو کے مطابق “بی ایل اے نے اس آپریشن کو ‘زرپہازگ’ کا نام دیاہے جو ۱۳ مئی کو ختم ہوا۔ بی ایل اے نے گوادر فائیو اسٹار ہوٹل پر پاکستانی فوج کے ساتھ چوبیس گھنٹے بندوقوں سے اس لڑائی کو بلوچستان اور اسکی معدنی وسائل کی لوٹ مارکے خلاف جنگ قراد دیا ہے۔ بی ایل اے نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس نے چینیوں اور لوکل سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی اطلاع کے بعد یہ آپریشن شروع کیا تھا جس کا مقصد استحصالی منصوبوں کے نمائندوں کو مارنا اور استحصال کی نشانی پی سی ہوٹل کو تباہ کرنا تھا۔

انکا دعویٰ ہے کہ انتشار کے شکار اس صوبائی ساحلی شہر کے ہوٹل کا گھیراؤ ختم ہونے تک پاکستانی فوج کے چالیس اہلکار مار دئیے گئے اور بی ایل اے کے چاروں فدائی شہید ہوگئے، جبکہ فوج کی طرف سے مارے جانے والوں کی پیش کی گئی تعداد انتہائی قلیل ہے جس کے مطابق ایک فوجی، ہوٹل کے چارملازمین اور بی ایل اے کے تین جانباز مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورٹ کو راکٹوں سے نقصان پہنچایا ہیں، اور ایک جاسوسی ڈرون کو بھی مار گرایا ہے”۔
بلوچ رہنما حیربیارمری کے مطابق اس تمام کو یکجاہ کرکے دیکھاجائے تو یہ سارا معاملہ، غیرارادی طور پر، بلوچستان کی آزادی پرمنتج ہوگی کیونکہ چائنا کی توسیع پسندی کی وجہ سے علاقائی توازن تبدیل ہوگا۔ ۵۱ سالہ بلوچ رہنما ایک آزاد ملک کی ویژن اور پلان ’بلوچستان لبریشن چارٹر‘ کے ساتھ سامنے آچکا ہے اور انکی کوشش ہے کہ تمام منتشرگروہوں کو یکجاہ کرے۔
مری ، جسے پاکستان نے دھشت گرد قراد دیا ہے، اعتمادکے ساتھ کہتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کی حریت پسندوں کی قیادت کررہے ہیں، وہ قابض کو ملک سے باہر نکال دینگے، انکی جہد کی ایک جائز حیثیت ہے۔فرسٹ پوسٹ کو ایمیل کے زریعے انٹریو دیتے ہوے جناب مری نے کہا کہ ’’عالمی قانون جبری قبضہ و قابض کے بارے میں بلکل واضح ہے۔۱۹۵۴ کے بعد کی دنیا کے عالمی قوانین، یو این چارٹر، جنیوا کنونشن جبر ی انضمام کو غیرقانونی عمل قرار دیتے ہیں۔ اگرکسی ملک پر قبضہ کیا گیا ہےاور قبضہ گیر نوآبادیاتی اور نسل کشی جیسے گھناؤنے حرکات میں مصروف ہیں تو یہ مقبوضہ قوم کا قدرتی اور قانونی حق بنتاہے کہ وہ اپنی وجود کا دفاع کرے‘‘ ۔ بلوچ رہنما کا کہنا ہے کہ ’’اپنی آزادی کو واپس لینے کیلیے پولش مزاحمتی جنگجووں نے سویت اور نازی توسیع پسندوں کے خلاف جنگ لڑی۔ فرانسیسیوں نے بھی نازی جرمنی کے خلاف اپنی آزادی کیلئے جنگ لڑی۔ یہی اصول اور یہی تصور بھی بلوچستان اور بلوچ کیلئے لاگو ہونگے۔ کوئی بھی گوریلا جنگ فسطائی قابض قوت اورکالونیل قوت کے خلاف ہو، وہ قانون اور انصاف پر مبنی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ مقبوضہ قوت جنگ اور تصادم کے قوانین کا احترام کرے‘‘۔
لیڈروں کی ایک مکمل نسل کے گزرجانے کے بعد بلوچ انسرجنسی لگ رہاہے کہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، مری کی چارٹر ایک ایسی کوشش ہے کہ چیزوں کو پھر سے صحیح ڈگر پر ڈال دیا جائے، اور ایک متحدہ قومی جہد کا اجرا کرے۔ حیربیار مری جو فری بلوچستان موومنٹ کی رہنمائی کر رہے ہیں چارٹر کے بارے میں کہتےہیں کہ ’’ یہ ایک آئین تو نہیں لیکن ایک روڈ میپ اور عوام کے ساتھ ایک عمرانی معاہدہ ضرور ہے کہ وہ کس طرح کا ایک مستقبل چاہتے ہیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ آزاد بلوچستان کی جہد کا مقصد و مراد اور خدوحال کیا ہوگی‘‘ ۔
انہوں نے چارٹر کودوسرے تمام پارٹی سربراہان اور جلا وطن رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا ہے انکے مطابق یہ ڈاکومنٹ بحث مباحثے اور ترمیم کیلئے کھلا ہے، تاہم دو اصول ناقابل بحث ہیں: پہلا اصول، کوئی بھی پارٹی قابض کی حیثیت کوقبول نہیں کریگی اور نہ ہی انکے نظام سیاست میں حصہ لیگی۔ دوسرا اصول یہ کہ ایک آدمی ایک ووٹ، یعنی کوئی اعلیٰ نہیں، سب برابری کی بنیاد کے شہری ہیں۔
حیربیارمری جو 1999 سے لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کا کہنا ہے کہ “چارٹر ایک ایسی کوشش ہے جس سے یہ بات یقینی بنانا ہے کہ بلوچستان ان تمام لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو وہاں رہتے ہیں۔ بلاامتیاز رنگ، قوم، مذہب، اور سیاسی پس منظر کے اس آزاد ریاست میں ہر فرد کو برابر حقوق اور تحفظ ملے گا”۔
انھیں بلوچستان اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ اس نے بحیثیت بلوچستان کی وزیر روڈ اور کمیونی کیشن پاکستان سے وفاداری کا حلف لینے سے انکار کردیا تھا، اور مئی ۱۹۹۸ میں پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں جو نیوکلیئر ٹیسٹ کیے، انکے خلاف اس نے پُرزور احتجاج کیا تھا۔ 1970 کی تحریک آزادی کے مشہور بلوچ رہنما نواب خیربخش مری کا پانچواں بیٹا حیربیارمری کو ان کے ساتھی ایک ‘ویژنری’ رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اسے اچھی خاصی عوامی حمایت حاصل ہے، افسانوی اس حقیقت پر کہ وہ ایک تنہا پسند آدمی ہے۔ برصغیر کے دوسرے لوگوں کے برعکس، شاذ و نادر ہی وہ لوگوں یا صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ سیکورٹی وجوہات کے سبب لندن میں گھومتے پھرتے نہیں۔
لیکن برطانیہ کا دارالخلافہ لندن پناہ کی وہ جگہ نہیں جو وہ چاہتے تھے، دسمبر 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پراسے لندن میں گرفتار کیا گیا۔ 2009 میں برطانیہ کی ایک عدالت نے اسے تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔ گزشتہ کئی سالوں سے جلاوطن مری اور دوسرے بلوچ سیاسی رہنما یہ کوشش کررہے ہیں کہ انکی تحریک کو اقوام عالم کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارم سے ان تمام انسانی حقوق اور نسل کشی جیسے مسائل، جن کا بلوچ قوم کو سامنا ہے، کو اقوام عالم کے سامنے اجاگر کیا ہے، لیکن ہمدردی کم پائی ہے۔لیکن مری بہت پُراعتماد ہیں، انکے مطابق ’’علاقائی سیکیورٹی کے محرکات تبدیل ہو رہے ہیں، میں یقین سے تو کہہ نہیں سکتا کہ کونسا ملک بلوچستان کو سپورٹ دیگا لیکن مستقبل کی علاقائی صف بندیوں میں چائنا سب سے بڑا فیکٹر ہوگا۔ بلوچستان کی ساحلی علاقوں میں چائنا ملٹری بیس تعمیر کرتےہوئے انڈیا کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ اس خطے کی سیکیورٹی میں دلچسپی رکھنے والے ممالک امریکہ، انڈیا اور دوسرے ممکن ہے کہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو سپورٹ دیں تاکہ یہاں کی علاقائی سیکیورٹی مستحکم ہوسکے‘‘۔
اسلام آباد، جو حیربیار مری کی حوالگی کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے کہتا ہے کہ وہ بلوچستان میں سرگرم ان تمام گوریلا گروپوں کا سربراہ ہے جنہوں نے نومبر میں کراچی میں چائنا کے کونسل خانے پر حملہ کیا تھا۔
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مری کہتا ہے کہ ’’آزادی پسند جنگجو بلوچ سماج کےجزولاینفک ہیں اور وہ بلوچ اقدار و اخلاقیات کے امین اور بین الاقوامی قوانین کے پابند ہیں انہوں نے غیروں کی یلغار کے خلاف اپنے ملک اور قوم کی تحفظ کیلئے سخت ترین ذمہ داری کا بیڑا اٹھایا ہے‘‘۔ ان کے پیش کردہ چارٹر کے مطابق آزادی پسند گوریلا جنگجو آگے جاکر خودمختار و آزاد بلوچستان کی فوج کو تشکیل دینگے۔حیربیار مری کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان آزادی پسند جنگجوؤں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور ایسا کیسے ممکن ہے کہ بغیر کسی لیڈر کے ایک تحریک بیس سال تک اپنی وجود کو برقرار رکھ سکے؟ سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق انکی لیڈرشپ مخفی ہیں ۔ قبضہ گیر اور نوآبادکاروں کے چنگل سے بلوچستان کو آزاد کراتے ہوئے اپنی منزل پانے کے بعد دنیا کے سامنے وہ اپنی شناخت کرائینگے، اور وہ دن دور بھی نہیں جب وہ قبضہ گیروں کو اپنے وطن سے نکال دینگے، انکی جدوجہد کی ایک جائز حیثیت ہے۔
https://www.firstpost.com/world/china-may-end-up-helping-baloch-freedom-war-6649711.html

ایران پر جنگ کے منڈلاتے ہوے بادل، امریکہ کی جارحانہ پوزیشن تحریر : آرچن بلوچ

ایران پر جنگ کے منڈلاتے ہوے بادل، امریکہ کی جارحانہ پوزیشن تحریر : آرچن بلوچ

جمعہ 10 مئی, 2019

ہمگام کالم : ایران کا کچھ مخصوص ممالک کو آئل برآمد کرنے کا آخری مہلت 2 مئی تھا سو وہ گزر گیا، اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اب ایران پراسٹیل کی تجارت پربھی پابندی لگا دی ہے۔ اسکے بینکنگ سسٹم پر پہلے ہی سے پابندی لگ چکی ہیں۔ اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ جواز ظریف نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وہ تباہی کی اتاہ گہراہیوں میں گرنے سے پہلے جوابی کاروائی کرینگے۔ اسکے جواب میں امریکہ نے اپنے بحری بیڑے یو ایس ایس ابرہم لنکن کو بمعہ بی 52 بمبار جنگی جہازوں کو خلیج عرب کی طرف روانہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کی طرف سے ایسے اشارے مل رہے ہیں وہ امریکی مفادات کے خلاف کوئی کاروائی کرینگے لہذا اگر ایران یا انکے کسی پراکسی نے امریکہ یا انکے کسی اتحادی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس کا سارا زمہ دار ایران ہی ہوگا۔ اب تازہ ترین رپورٹ سی این این نے دی ہے جس کےمطابق امریکی سنٹرل کمانڈ، سینٹکام کی سربراہ جنرل کنیتھ ایف مککنزی جنیئر نے ایران کو مخاطب کرتے ہوے کہا ہے امریکی افواج ایران کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے مغربی ملکوں کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھاکہ ایران کی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے بدلے میں اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائینگی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچتےہوئے یہ کہا کہ یہ ایک بہت بری معاہدہ ہے، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور معائدہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر پہلے سے زیادہ مزید بدتر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔
امریکہ نے ایران پر نہ صرف تیل کی تجارت اور بینکنگ پر بابندی لگا دی ہے بلکن ایران کی فوج یعنی سپاہ پاسدارن انقلاب کو بھی ایک دھشتگرد تنظیم کے درجے میں ڈالا ہے۔جو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ریاستی فوج کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہو۔ جوابی ردعمل دکھاتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو جزوی طور پر پھر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ تیل کی اہم گزرگاہ تنگہائے ہرمرز کو بھی بند کر دینگے۔ ساتھ ہی سی این این نے رپورٹ نے دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کو بحری جنگی کشتیوں پر نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اب اس مرحلے سے آگے کیا ہوگا؟
تنگہائے ہرمرز جہاں دنیا کی تقریبا 40 فیصد تیل گزرتی ہے کی وسعت 40 کیلومیٹر یعنی 25 میل ہے، ایران کی امریکہ کو دھمکی اس بات پر ہے کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کرینگے۔ یعنی وہ اس گزرگاہ میں بحری بارودی سرنگ بچھائینگے۔ جس کی وجہ سے تیل بردار آبی جہازوں کیلئے ممکن نہیں رہے گا وہ اس گزرگاہ سے اپنا تجارتی سفر جاری رکھے ، لیکن امریکہ نے کہا ہے وہ ایران کو ایسا ہرگزکرنے نہیں دینگے۔۔
امریکہ نے یو ایس ایس ابرھم لنکن بحری بیڑہ کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کی فلیٹ کو بھی عرب گلف کی طرف روانہ کیا ہے جو کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہی کے دن کو عرب گلف قطر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں کہ جس سے صاف یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایران نے کہیں بھی کاروائی کی، اس کے جواب میں امریکہ فورا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یاد رہے CIA کی سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پہلے دن سے ہی کہا ہے وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی امکانات کو رد نہیں کرینگے۔
امریکی ایجنسیوں نے ایران کے ارادوں کے بارے ٹھوس اور قابل اعتبار زرائع سے خبر دی ہے کہ وہ عراق اور سوریہ میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے غیراعلانیہ طور ہر کل عراق کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکمرانوں کو ایران کے ارادوں کے بارے خبردار کیا۔ یاد رہے کہ سی این این نے اعلی ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے کشتیوں کے زریعے درمیانہ رینج کے راکٹوں کو عراق روانہ کیا ہے۔
دوسری طرف مغربی ملکوں فرانس جرمنی اور برطانیہ جوایران ڈیل کے شریک ہیں نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 2015 کی معاہدے کے پابند ہیں اگر اس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج نکلینگے۔ حسن روحانی نے مغربی ملکوں کو ساٹھ دنوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائیں، نہیں تو اس کی حکومت یورینیم کی افزودگی کو پھر سے شروع کردے گی ۔
اس تمام معاملے میں مختلف ممالک کے مختلف موقف اور رائے سامنے آئیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ نے کہا ہے انکی اپروچ امریکہ سے مختلف ہے اور پومپیو نے کہا کہ لندن ملاقات کے دوران ”صاف گفتگو“ ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران نیوکلیئر ڈیل یورپی یونین کے سیکیورٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے، فرانسیسی وزیردفاع نے کہا کہ یورپی یونین سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ یہ معاہدہ ختم نہ ہولیکن اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتے ہیں ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے معاہدے کی باقی تمام شریک اپنے زمہ داریوں کے پابند رہیں ساتھ ہی اس نے اس معاہدے کو دستخط کنندگان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چائنا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا بڑے عزم کے ساتھ مخالفت کرینگے۔اسرائیل نے اپنی پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو بلکل نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ”ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنا لڑائی جاری رکھیں گے جو ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں“ نیتن یاہو ، اسرائیلی وزیرآعظم۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بڑے ممالک فرانس برطانیہ جرمنی نے کہا ہے وہ ایران ڈیل کے ساتھ ہیں لیکن وہ ایران کی کسی الیٹیمیٹم کو خاطر میں نہیں لائینگے۔
اب ان تمام محرکات کے بارے کچھ مختصر باتیں کرینگے کہ جن کی وجہ سے ایران آج ایک خطرناک طوفانی بھنور میں پھنس چکی ہے، جس کے اوپر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بقول محمد بن سلمان آل سعود جب سے ایران میں شیعہ انقلاب آئی ہے، اس وقت سے عرب ممالک میں ایران مزھبی فرقہ واریت کے بنیاد پرمداخلت کر رہا ہے، ایران کی اس مداخت کی وجہ سے تقریبا تمام عرب ممالک کی سوسائٹی بھی دو مزھبی فرقہ واریت کے بھنور میں پھنس چکے ہے۔ لبنان، فلسطین، عراق، سوریا، بحرین، یمن، سعودی عرب، سوڈان اور کویت میں ایران مسلسل مداخلت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سنیوں میں مزھبی خدشات بلکہ ان ممالک کی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، آج عراق، سوریا، یمن اور لبنان کئی حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ بحرین جیسا ایک پرامن چھوٹا سا ملک بھی ایران کی شرانگیزیوں سے نہیں بچھا ہے۔ لیکن ان شریف عرب ممالک نے ابھی تک ایران کے اندرونی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی ہے۔ ایک زمانے سے لے کر اج تک ایران اپنے مخالفین کو دنیا کے کسی بھی کونے میں ٹارگٹ کلنگ کرتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں فرانس میں ایرانی دہشتگردی کا ایک سرغنہ پکڑا گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد ، اسی لیے حال ہی میں شیخ محمد بن سلمان آل سعود نے کہا ہے وہ ایران کی اس جنگ کو ایران کے اندر ضرور منتقل کرینگے۔ ایران کی ملا رجیم نے اندرونی طور پر بھی لوگوں کی آزادیاں سلب کی ہیں، عوام شدید غم وغصہ میں ہیں، انسانی حقوق کی شدید پائمالیاں ہو رہی ہیں۔ مریم رجوی کے سربراہی میں ایک گروپ یورپ میں مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آ چکی ہے ویسے امریکی صدرکے ٹیبل پر کئے اقوام کے فائل پڑے ہیں، جن میں بلوچوں کا فائل بھی شامل ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جو فائل رکھ دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے سب سے اولیت کا حامل ہے، اس فائل پر عمل کرنا خود امریکہ کے قومی مفاد میں شامل ہے ۔

ایران پر ناگزیر جنگ۔۔۔

ایران پر ناگزیر جنگ۔۔۔ تحریر : آرچن بلوچ

اتوار 19 مئی, 2019

ہمگام کالم : امریکہ ایران پر مسلسل اپنی عسکری دباؤ کو بڑھا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور انکے اتحادیوں نے ایران پر فوجی یلغارکا مصمم ارادہ کر لیا ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے تجارتی جہازوں کو پرشین گلف پر گزرنے پرانتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غلط شناخت‘‘ کی وجہ سے وہ نشانہ بن سکتے ہیں، فرشین گلف اور گلف آف عمان سے گزرنے والے ان تمام تجارتی ہوائی جہازوں کو کہا گیا ہیں، کہ پرواز کرتے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کیلئے وہ اس خطے کی سخت عسکری اور سیاسی کشیدگی کو مدنظر رکھیں کیونکہ اس ماحول میں جہازوں کے ہواپیمائی کے آلات یعنی راڈار جام بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے برطانیہ کی انشورنس کمپنی لیوڈ آف لندن نے انتباہ کیا تھا کہ اس خطے کی میرین ٹائم میں تجارتی جہازرانی کیلیے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔
دی ٹائم آف اسرائیل کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی قوت کو اس علاقے میں اس وقت بڑھانا شروع کردیا جب امریکہ کو اطلاع ملی کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں چار ہفتے پہلے خفیہ دورہ کرنے کے دوران عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف پراکسی جنگ کیلئے تیار ہوجائیں، جنرل سلیمانی کی اس حکم کی باز گشت ایرانی وزیر خارجہ جواد طریف کی نیویارک میں دی ہوئی اس بیان میں بھی نمایا سامنے آیا جس میں وزیر موصوف نے کہا تھا کہ ایران تباہی کے اتاہ گہرائیوں میں گرنے سے پہلے وار کریگی۔

ایران کی ان دونوں بیانات کی بنیاد پر امریکہ نے اچانک اپنی فوجی قوت کو سریع الوقت جنگی پیمانے پر تعینات کرنا شروع کردیا۔۔ خطرات کے پیش نظر امریکہ نے مجبور ہوکر عراق سے اپنی اضافی فوج اور ایمبیسی اسٹاف کو نکالنا شروع کردیا ہے جس سے عراقی کردوں میں بھی عدم تحفظ پیدا ہوچکا ہیں ۔
عرب امارات کی ساحل پر لنگر انداز چار آبی جہازوں پر ثبوتاژ کی کوشش اور سعودی عرب کے تیل کی پائپ لائنوں پر حوثیوں کے ڈرون حملوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی تشویش میں اور بھی اضافہ کردیا ہیں، ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق امریکی ماہرین ایران یا اس کی پراکسیوں کو زمہ وار ٹہرا رہےہیں۔ بیشتر عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہیں، کہ اگر ایران کا راستہ نہیں روکا گیا تو ایران مشرق وسطی کے خطے کی امن و سکون کو مزید تباہ وبرباد کردیگا۔
دوسری طرف متوقع جنگ سے بچنے کیلئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ تاکہ چین اور روس اس تمام معاملے میں بطور فریق شامل ہو، انہوں نے چین اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ ۲۰۱۵ کی ایران امریکہ نیوکلیئر ڈیل کو بچانے کی عملی کوشش تیز کردیں۔ اس سے پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی صدر نے اخبارات سے استفسارکیا ’’کیا روس ایک فائربریگیڈ ہے جو ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائے گی‘‘۔ پاکستان نے بیان دیا ہے کہ وہ اس تمام معاملے میں نیوٹرل کا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کیلے نیوٹرل رہنا بہت سخت اور مشکل فیصلہ ہوگا۔ سعودی عرب اور عرب امارات نے اسے 6 ارب اس لیے دیے ہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں انکا ساتھ دے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کس حد تک نیوٹرل رہے گا یا ساتھ دیگا مگر پاکستان ایک مکار ملک ہے پیٹھ پیچھے سب کو خوش کرنے کی انتھک کوشش کرے گا۔
شرق الاوسط کے سابقہ آڈیٹران چیف سلمان الدوسری خلیج عرب کے موجودہ صورتحال کے بارے لکھتے ہیں ’’ماحول وہی ہے اور ٹینشن بھی وہی۔ انکے مطابق ۳۹ سال پہلے عراق اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی، پھر ۱۹۹۱ میں کویت کو آزاد کرانے کیلئے عراق کے ساتھ ایک جنگ لڑنا پڑا پھر صدام رجیم کو ہٹانے کیلئے ۲۰۰۳میں تیسرا جنگ کرنا پڑا۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ لوگ حقائق کو توڑ مروڑ کرکے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی ایران پر جنگ مسلط کرنا نہیں چاہتا ، دراصل یہ ایران ہی ہے جو جنگ کی آگ کو بھڑکانا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسرے اسے جنگ سے اجتناب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم ایران اب سخت لہجے میں دھمکی دینے پر اترآیا ہے۔ ایرانی سپاہ پاسدارن انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ اف پولیٹکل افیٗرز کے رہنما یداللہ جوانی نے کہاہے کہ امریکہ کی اتنی جرآت نہیں کہ وہ ہمارے خلاف ملٹری ایکشن لے۔ اگر انہوں نے تھوڑا سا حرکت کی تو ہم انکی سر کوکچل کر رکھ دینگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کی مڈل ایسٹ میں موجودگی پہلے بہت سنجیدہ خطرات تھے، لیکن اب وہ ہمارے ٹارگٹ پر ہیں۔ ہم ان پر میزائلوں کا بارش کردینگے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحرینی وزارت خارجہ نےاپنے شہریوں کو کہا ہیں کہ وہ ایران اور عراق جانے سے گریز کرے، اور جو بحرینی شہری ان دونوں ملکوں میں گئے ہیں انکو فورا اپنے ملک واپس آنا چاہیے کیونکہ ایران کی طرف سے جنگی خطرات بڑھ چکے ہیں غیر مستحکم علاقائی حالات، خطرناک پیش رفت جیسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوچکے ہیں۔
محرکات۔۔ ایران اپنی مخصوص مزھبی فرائض impulse کے تحت مجبور ہے کہ عرب ممالک میں اپنی شیعہ انقلاب کو ایکسپورٹ کرے۔ جس کی وجہ سے سارے عرب ممالک بشمول پُرامن و ترقی یافتہ خلیجی ممالک ایران کی اس بے جا مزہبی فرقہ واریت پر مبنی مداخلت کی وجہ سے غیرمستحکم صورتحال سے دوچار ہونے جارہے ہیں۔ ایران کی یہ بے جا مداخلت جنگی جارحیت پر مبنی ہے۔ اب یہ بات صاف ظاہر ہےایک غیرمستحکم خلیج امریکہ اور یورپ کے مفاد میں ہرگز نہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں مغربی شہری بہترین روزگار سے منسلک ہیں اربوں ڈالر کے حساب سے یورپی سرمایہ کاری خلیجی ممالک میں لگ چکی ہے۔ خلیجی ممالک اور مغرب و امریکہ کے درمیان بہترین پرامن بقا باہمی اور تجارتی تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔ گوکہ خلیجی ممالک کی نظام حکومت قبائلی اور سرداری نظام پر مشتمل ہے لیکن یہاں کی عوام اپنے حکمرانوں سے بہت ہی خوش ہیں اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد خلیجی قبائلی حکمرانوں نے اپنے ملکوں کوایک چھوٹی مدت میں ایسا ترقی یافتہ بنایا ہیں جیسا کوئی زمہ وار شخص اپنے گھر کو بہترین تزعین اور آرائش سے مزین کرے اور اپنے بچوں کی مستقبل روشن کو تابناک بنادے ۔ اب ایسے میں وہ کونسا بے وقوف ہوگا جو اپنے خوشحال گھر کو ایک مزھبی جنونی کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھے گا۔
اس تمام صورتحال سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک ایران شیطانی کردار کو روکنے کیلئے کسی حد تک جاسکتے ہیں۔ چاہے اقتصادی پابندیاں ہو یا برائے راست جنگ ، دونوں صورتوں میں خصارہ ایران ہی کا زیادہ ہوگا۔ اگر جنگ ہوئی تو سارا اخراجات اور نقصان ایران ہی سے وصول ہوگا، کیونکہ اقصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے سارے گاہگ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے پاس جاچکے ہیں۔ جس سے اس سرپلس تیل کی آمدنی سے جنگ کے تمام اخراجات پورا ہونگے۔سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ کوشش کرینگے کہ یہ جنگ نہ ہو لیکن بال اب ایران کے کورٹ میں ہے، یاد رہے کچھ دن پہلے عرب نیوز جوکہ کہا جاتاہے کہ سعودی ولی عہد کی ملکیت میں ہے اپنے آڈیٹوریل میں لکھا ہے کہ ایران کو انکی دھشت گردی روکنے کیلیے اس پر حملہ ضرور ہونا چاہیے۔
اگر ایران کے خلاف جنگ ہوئی تو بلوچ قومی تحریک اس Equations میں کہاں ہوگا؟ ہماری موجودہ قومی جہد کی سیاسی وعسکری تشکیل کو اگر دیکھاجائے تو ہم آنکھیں پھاڑ کر اپنے سامنے دنیا کو بدلتے دیکھ رہے ہیں اور ہمارے سائنسی جہد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ یہ جنگ ہمارے سرپر آ کھڑی ہے جس سے بلوچ قوم کا آدھا حصہ برئے راست متاثر ہو رہا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ پراکسی جنگوں کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ ایران کے خلاف امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل مجوزہ جنگ بلوچ قوم کی مستقبل کیلئے ایک نادر موقع ہےلیکن ہمارے آزادی کی تحریک ایک نامعقول مصلحت کے تحت نظریاتی اور جغرافیائی تقسیم کا شکار ہے جس کی وجہ سے قومی قوت ایک مرکز پر مرتکز نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہاں عالمی قوتوں کے ہاں ایک سوال ضرور سراٹھائے گا کہ بلوچ آزادی کی بات تو کرتے ہیں لیکن انکی اجتماعی سیاست قیادت کہاں ہیں؟ کہ جو ایسے موقعوں پر اپنے قومی مفاد کے خاطر ہم خیال عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت کرسکے !

Sunday, May 19, 2019

ایران پر ناگزیر جنگ۔۔۔ تحریر : آرچن بلوچ

 

امریکہ ایران پر مسلسل اپنی عسکری دباؤ کو بڑھا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور انکے اتحادیوں نے ایران پر فوجی یلغارکا مصمم ارادہ کر لیا ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے تجارتی جہازوں کو پرشین گلف پر گزرنے پرانتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غلط شناخت‘‘ کی وجہ سے وہ نشانہ بن سکتے ہیں، فرشین گلف اور گلف آف عمان سے گزرنے والے ان تمام تجارتی ہوائی جہازوں کو کہا گیا ہیں، کہ پرواز کرتے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کیلئے وہ اس خطے کی سخت عسکری اور سیاسی کشیدگی کو مدنظر رکھیں کیونکہ اس ماحول میں جہازوں کے ہواپیمائی کے آلات یعنی راڈار جام بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے برطانیہ کی انشورنس کمپنی لیوڈ آف لندن نے انتباہ کیا تھا کہ اس خطے کی میرین ٹائم میں تجارتی جہازرانی کیلیے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔
دی ٹائم آف اسرائیل کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی قوت کو اس علاقے میں اس وقت بڑھانا شروع کردیا جب امریکہ کو اطلاع ملی کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں چار ہفتے پہلے خفیہ دورہ کرنے کے دوران عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف پراکسی جنگ کیلئے تیار ہوجائیں، جنرل سلیمانی کی اس حکم کی باز گشت ایرانی وزیر خارجہ جواد طریف کی نیویارک میں دی ہوئی اس بیان میں بھی نمایا سامنے آیا جس میں وزیر موصوف نے کہا تھا کہ ایران تباہی کے اتاہ گہرائیوں میں گرنے سے پہلے وار کریگی۔

ایران کی ان دونوں بیانات کی بنیاد پر امریکہ نے اچانک اپنی فوجی قوت کو سریع الوقت جنگی پیمانے پر تعینات کرنا شروع کردیا۔۔ خطرات کے پیش نظر امریکہ نے مجبور ہوکر عراق سے اپنی اضافی فوج اور ایمبیسی اسٹاف کو نکالنا شروع کردیا ہے جس سے عراقی کردوں میں بھی عدم تحفظ پیدا ہوچکا ہیں ۔
عرب امارات کی ساحل پر لنگر انداز چار آبی جہازوں پر ثبوتاژ کی کوشش اور سعودی عرب کے تیل کی پائپ لائنوں پر حوثیوں کے ڈرون حملوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی تشویش میں اور بھی اضافہ کردیا ہیں، ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق امریکی ماہرین ایران یا اس کی پراکسیوں کو زمہ وار ٹہرا رہےہیں۔ بیشتر عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہیں، کہ اگر ایران کا راستہ نہیں روکا گیا تو ایران مشرق وسطی کے خطے کی امن و سکون کو مزید تباہ وبرباد کردیگا۔
دوسری طرف متوقع جنگ سے بچنے کیلئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ تاکہ چین اور روس اس تمام معاملے میں بطور فریق شامل ہو، انہوں نے چین اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ ۲۰۱۵ کی ایران امریکہ نیوکلیئر ڈیل کو بچانے کی عملی کوشش تیز کردیں۔ اس سے پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی صدر نے اخبارات سے استفسارکیا ’’کیا روس ایک فائربریگیڈ ہے جو ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائے گی‘‘۔ پاکستان نے بیان دیا ہے کہ وہ اس تمام معاملے میں نیوٹرل کا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کیلے نیوٹرل رہنا بہت سخت اور مشکل فیصلہ ہوگا۔ سعودی عرب اور عرب امارات نے اسے 6 ارب اس لیے دیے ہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں انکا ساتھ دے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کس حد تک نیوٹرل رہے گا یا ساتھ دیگا مگر پاکستان ایک مکار ملک ہے پیٹھ پیچھے سب کو خوش کرنے کی انتھک کوشش کرے گا۔
شرق الاوسط کے سابقہ آڈیٹران چیف سلمان الدوسری خلیج عرب کے موجودہ صورتحال کے بارے لکھتے ہیں ’’ماحول وہی ہے اور ٹینشن بھی وہی۔ انکے مطابق ۳۹ سال پہلے عراق اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی، پھر ۱۹۹۱ میں کویت کو آزاد کرانے کیلئے عراق کے ساتھ ایک جنگ لڑنا پڑا پھر صدام رجیم کو ہٹانے کیلئے ۲۰۰۳میں تیسرا جنگ کرنا پڑا۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ لوگ حقائق کو توڑ مروڑ کرکے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی ایران پر جنگ مسلط کرنا نہیں چاہتا ، دراصل یہ ایران ہی ہے جو جنگ کی آگ کو بھڑکانا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسرے اسے جنگ سے اجتناب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم ایران اب سخت لہجے میں دھمکی دینے پر اترآیا ہے۔ ایرانی سپاہ پاسدارن انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ اف پولیٹکل افیٗرز کے رہنما یداللہ جوانی نے کہاہے کہ امریکہ کی اتنی جرآت نہیں کہ وہ ہمارے خلاف ملٹری ایکشن لے۔ اگر انہوں نے تھوڑا سا حرکت کی تو ہم انکی سر کوکچل کر رکھ دینگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کی مڈل ایسٹ میں موجودگی پہلے بہت سنجیدہ خطرات تھے، لیکن اب وہ ہمارے ٹارگٹ پر ہیں۔ ہم ان پر میزائلوں کا بارش کردینگے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحرینی وزارت خارجہ نےاپنے شہریوں کو کہا ہیں کہ وہ ایران اور عراق جانے سے گریز کرے، اور جو بحرینی شہری ان دونوں ملکوں میں گئے ہیں انکو فورا اپنے ملک واپس آنا چاہیے کیونکہ ایران کی طرف سے جنگی خطرات بڑھ چکے ہیں غیر مستحکم علاقائی حالات، خطرناک پیش رفت جیسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوچکے ہیں۔
محرکات۔۔ ایران اپنی مخصوص مزھبی فرائض impulse کے تحت مجبور ہے کہ عرب ممالک میں اپنی شیعہ انقلاب کو ایکسپورٹ کرے۔ جس کی وجہ سے سارے عرب ممالک بشمول پُرامن و ترقی یافتہ خلیجی ممالک ایران کی اس بے جا مزہبی فرقہ واریت پر مبنی مداخلت کی وجہ سے غیرمستحکم صورتحال سے دوچار ہونے جارہے ہیں۔ ایران کی یہ بے جا مداخلت جنگی جارحیت پر مبنی ہے۔ اب یہ بات صاف ظاہر ہےایک غیرمستحکم خلیج امریکہ اور یورپ کے مفاد میں ہرگز نہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں مغربی شہری بہترین روزگار سے منسلک ہیں اربوں ڈالر کے حساب سے یورپی سرمایہ کاری خلیجی ممالک میں لگ چکی ہے۔ خلیجی ممالک اور مغرب و امریکہ کے درمیان بہترین پرامن بقا باہمی اور تجارتی تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔ گوکہ خلیجی ممالک کی نظام حکومت قبائلی اور سرداری نظام پر مشتمل ہے لیکن یہاں کی عوام اپنے حکمرانوں سے بہت ہی خوش ہیں اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد خلیجی قبائلی حکمرانوں نے اپنے ملکوں کوایک چھوٹی مدت میں ایسا ترقی یافتہ بنایا ہیں جیسا کوئی زمہ وار شخص اپنے گھر کو بہترین تزعین اور آرائش سے مزین کرے اور اپنے بچوں کی مستقبل روشن کو تابناک بنادے ۔ اب ایسے میں وہ کونسا بے وقوف ہوگا جو اپنے خوشحال گھر کو ایک مزھبی جنونی کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھے گا۔
اس تمام صورتحال سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک ایران شیطانی کردار کو روکنے کیلئے کسی حد تک جاسکتے ہیں۔ چاہے اقتصادی پابندیاں ہو یا برائے راست جنگ ، دونوں صورتوں میں خصارہ ایران ہی کا زیادہ ہوگا۔ اگر جنگ ہوئی تو سارا اخراجات اور نقصان ایران ہی سے وصول ہوگا، کیونکہ اقصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے سارے گاہگ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے پاس جاچکے ہیں۔ جس سے اس سرپلس تیل کی آمدنی سے جنگ کے تمام اخراجات پورا ہونگے۔سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ کوشش کرینگے کہ یہ جنگ نہ ہو لیکن بال اب ایران کے کورٹ میں ہے، یاد رہے کچھ دن پہلے عرب نیوز جوکہ کہا جاتاہے کہ سعودی ولی عہد کی ملکیت میں ہے اپنے آڈیٹوریل میں لکھا ہے کہ ایران کو انکی دھشت گردی روکنے کیلیے اس پر حملہ ضرور ہونا چاہیے۔

اگر ایران کے خلاف جنگ ہوئی تو بلوچ قومی تحریک اس Equations میں کہاں ہوگا؟ ہماری موجودہ قومی جہد کی سیاسی وعسکری تشکیل کو اگر دیکھاجائے تو ہم آنکھیں پھاڑ کر اپنے سامنے دنیا کو بدلتے دیکھ رہے ہیں اور ہمارے سائنسی جہد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ یہ جنگ ہمارے سرپر آ کھڑی ہے جس سے بلوچ قوم کا آدھا حصہ برئے راست متاثر ہو رہا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ پراکسی جنگوں کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ ایران کے خلاف امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل مجوزہ جنگ بلوچ قوم کی مستقبل کیلئے ایک نادر موقع ہےلیکن ہمارے آزادی کی تحریک ایک نامعقول مصلحت کے تحت نظریاتی اور جغرافیائی تقسیم کا شکار ہے جس کی وجہ سے قومی قوت ایک مرکز پر مرتکز نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہاں عالمی قوتوں کے ہاں ایک سوال ضرور سراٹھائے گا کہ بلوچ آزادی کی بات تو کرتے ہیں لیکن انکی اجتماعی سیاست قیادت کہاں ہیں؟ کہ جو ایسے موقعوں پر اپنے قومی مفاد کے خاطر ہم خیال عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت کرسکے !

Friday, May 10, 2019

ایران پر جنگ کے منڈلاتے ہوے بادل، امریکہ کی جارحانہ پوزیشن تحریر : آرچن بلوچ

 

 ایران کا کچھ مخصوص ممالک کو آئل برآمد کرنے کا آخری مہلت 2 مئی تھا سو وہ گزر گیا، اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اب ایران پراسٹیل کی تجارت پربھی پابندی لگا دی ہے۔ اسکے بینکنگ سسٹم پر پہلے ہی سے پابندی لگ چکی ہیں۔ اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ جواز ظریف نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وہ تباہی کی اتاہ گہراہیوں میں گرنے سے پہلے جوابی کاروائی کرینگے۔ اسکے جواب میں امریکہ نے اپنے بحری بیڑے یو ایس ایس ابرہم لنکن کو بمعہ بی 52 بمبار جنگی جہازوں کو خلیج عرب کی طرف روانہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کی طرف سے ایسے اشارے مل رہے ہیں وہ امریکی مفادات کے خلاف کوئی کاروائی کرینگے لہذا اگر ایران یا انکے کسی پراکسی نے امریکہ یا انکے کسی اتحادی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس کا سارا زمہ دار ایران ہی ہوگا۔ اب تازہ ترین رپورٹ سی این این نے دی ہے جس کےمطابق امریکی سنٹرل کمانڈ، سینٹکام کی سربراہ جنرل کنیتھ ایف مککنزی جنیئر نے ایران کو مخاطب کرتے ہوے کہا ہے امریکی افواج ایران کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے مغربی ملکوں کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھاکہ ایران کی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے بدلے میں اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائینگی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچتےہوئے یہ کہا کہ یہ ایک بہت بری معاہدہ ہے، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور معائدہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر پہلے سے زیادہ مزید بدتر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔
امریکہ نے ایران پر نہ صرف تیل کی تجارت اور بینکنگ پر بابندی لگا دی ہے بلکن ایران کی فوج یعنی سپاہ پاسدارن انقلاب کو بھی ایک دھشتگرد تنظیم کے درجے میں ڈالا ہے۔جو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ریاستی فوج کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہو۔ جوابی ردعمل دکھاتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو جزوی طور پر پھر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ تیل کی اہم گزرگاہ تنگہائے ہرمرز کو بھی بند کر دینگے۔ ساتھ ہی سی این این نے رپورٹ نے دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کو بحری جنگی کشتیوں پر نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اب اس مرحلے سے آگے کیا ہوگا؟
تنگہائے ہرمرز جہاں دنیا کی تقریبا 40 فیصد تیل گزرتی ہے کی وسعت 40 کیلومیٹر یعنی 25 میل ہے، ایران کی امریکہ کو دھمکی اس بات پر ہے کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کرینگے۔ یعنی وہ اس گزرگاہ میں بحری بارودی سرنگ بچھائینگے۔ جس کی وجہ سے تیل بردار آبی جہازوں کیلئے ممکن نہیں رہے گا وہ اس گزرگاہ سے اپنا تجارتی سفر جاری رکھے ، لیکن امریکہ نے کہا ہے وہ ایران کو ایسا ہرگزکرنے نہیں دینگے۔۔
امریکہ نے یو ایس ایس ابرھم لنکن بحری بیڑہ کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کی فلیٹ کو بھی عرب گلف کی طرف روانہ کیا ہے جو کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہی کے دن کو عرب گلف قطر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں کہ جس سے صاف یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایران نے کہیں بھی کاروائی کی، اس کے جواب میں امریکہ فورا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یاد رہے CIA کی سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پہلے دن سے ہی کہا ہے وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی امکانات کو رد نہیں کرینگے۔
امریکی ایجنسیوں نے ایران کے ارادوں کے بارے ٹھوس اور قابل اعتبار زرائع سے خبر دی ہے کہ وہ عراق اور سوریہ میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے غیراعلانیہ طور ہر کل عراق کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکمرانوں کو ایران کے ارادوں کے بارے خبردار کیا۔ یاد رہے کہ سی این این نے اعلی ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے کشتیوں کے زریعے درمیانہ رینج کے راکٹوں کو عراق روانہ کیا ہے۔
دوسری طرف مغربی ملکوں فرانس جرمنی اور برطانیہ جوایران ڈیل کے شریک ہیں نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 2015 کی معاہدے کے پابند ہیں اگر اس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج نکلینگے۔ حسن روحانی نے مغربی ملکوں کو ساٹھ دنوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائیں، نہیں تو اس کی حکومت یورینیم کی افزودگی کو پھر سے شروع کردے گی ۔
اس تمام معاملے میں مختلف ممالک کے مختلف موقف اور رائے سامنے آئیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ نے کہا ہے انکی اپروچ امریکہ سے مختلف ہے اور پومپیو نے کہا کہ لندن ملاقات کے دوران ”صاف گفتگو“ ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران نیوکلیئر ڈیل یورپی یونین کے سیکیورٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے، فرانسیسی وزیردفاع نے کہا کہ یورپی یونین سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ یہ معاہدہ ختم نہ ہولیکن اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتے ہیں ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے معاہدے کی باقی تمام شریک اپنے زمہ داریوں کے پابند رہیں ساتھ ہی اس نے اس معاہدے کو دستخط کنندگان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چائنا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا بڑے عزم کے ساتھ مخالفت کرینگے۔اسرائیل نے اپنی پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو بلکل نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ”ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنا لڑائی جاری رکھیں گے جو ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں“ نیتن یاہو ، اسرائیلی وزیرآعظم۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بڑے ممالک فرانس برطانیہ جرمنی نے کہا ہے وہ ایران ڈیل کے ساتھ ہیں لیکن وہ ایران کی کسی الیٹیمیٹم کو خاطر میں نہیں لائینگے۔

اب ان تمام محرکات کے بارے کچھ مختصر باتیں کرینگے کہ جن کی وجہ سے ایران آج ایک خطرناک طوفانی بھنور میں پھنس چکی ہے، جس کے اوپر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بقول محمد بن سلمان آل سعود جب سے ایران میں شیعہ انقلاب آئی ہے، اس وقت سے عرب ممالک میں ایران مزھبی فرقہ واریت کے بنیاد پرمداخلت کر رہا ہے، ایران کی اس مداخت کی وجہ سے تقریبا تمام عرب ممالک کی سوسائٹی بھی دو مزھبی فرقہ واریت کے بھنور میں پھنس چکے ہے۔ لبنان، فلسطین، عراق، سوریا، بحرین، یمن، سعودی عرب، سوڈان اور کویت میں ایران مسلسل مداخلت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سنیوں میں مزھبی خدشات بلکہ ان ممالک کی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، آج عراق، سوریا، یمن اور لبنان کئی حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ بحرین جیسا ایک پرامن چھوٹا سا ملک بھی ایران کی شرانگیزیوں سے نہیں بچھا ہے۔ لیکن ان شریف عرب ممالک نے ابھی تک ایران کے اندرونی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی ہے۔ ایک زمانے سے لے کر اج تک ایران اپنے مخالفین کو دنیا کے کسی بھی کونے میں ٹارگٹ کلنگ کرتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں فرانس میں ایرانی دہشتگردی کا ایک سرغنہ پکڑا گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد ، اسی لیے حال ہی میں شیخ محمد بن سلمان آل سعود نے کہا ہے وہ ایران کی اس جنگ کو ایران کے اندر ضرور منتقل کرینگے۔ ایران کی ملا رجیم نے اندرونی طور پر بھی لوگوں کی آزادیاں سلب کی ہیں، عوام شدید غم وغصہ میں ہیں، انسانی حقوق کی شدید پائمالیاں ہو رہی ہیں۔ مریم رجوی کے سربراہی میں ایک گروپ یورپ میں مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آ چکی ہے ویسے امریکی صدرکے ٹیبل پر کئے اقوام کے فائل پڑے ہیں، جن میں بلوچوں کا فائل بھی شامل ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جو فائل رکھ دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے سب سے اولیت کا حامل ہے، اس فائل پر عمل کرنا خود امریکہ کے قومی مفاد میں شامل ہے ۔


Thursday, May 9, 2019

آزاد بلوچستان کا مقدمہ تحریر: آرچن بلوچ

 

جرمنی کی جمہوریت پسندی ، انسانی حقوق کی حفاظت و احترام اور آزادی اظہار رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی بلوچ سیاسی کارکنان نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں۔ لیکن بد قسمتی سے بلوچ سیاسی کارکنان کا اندراج یا تو پاکستانی یا پھر ایرانی شناخت سے ہوتا ہے، اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ معلومات کی عدم دستیابی ہے جہاں جرمنی کے ساتھ، ساتھ دنیا کے دیگر اقوام کو بلوچستان پر پاکستانی اور ایرانی غیر قانونی قبضے کا علم نہیں ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ نے جرمنی میں ایک دستخطی آگاہی مہم کا آغاز کیا تاکہ جرمن عوام کے ساتھ، ساتھ جرمن حکومت کو بلوچستان کے متعلق آگاہ کیا جائے کہ “بلوچستان نہ پاکستان ہے اور نہ ہی ایران”۔
یہ آگاہی مہم نہ صرف لوگوں کو بلوچستان پر غیر قانونی قبضے کی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے پاکستان و ایران کے مظالم کو بھی اجاگر کرنا ہے جہاں شدید قسم کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں لیکن وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں اور دنیا ان سے لاعلم ہے۔ مذہبی انتہا پسند پاکستان و ایران نہ صرف بلوچستان میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں بلکہ وہ دنیا میں مذہبی منافرت اور انتہا پسندی پھیلانے میں بھی ملوث ہیں۔
مظالم، نا انصافی اور جابرانہ غلامی کے خلاف بلوچ عوام کی آواز دبانے اور اس کو دنیا کے دیگر مہذب ممالک و اقوام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے قابض پاکستان و ایران نے بلوچستان میں میڈیا پر شدید قسم کی قدغن اور پابندی لگائی ہوئی ہے۔ لیکن جرمنی کی جمہوریت پسند معاشرے میں فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں کو اپنی رائے کے اظہار اور قابضین کے جرائم کو دنیا کے سامنے آشکار کرانے کا موقع ملا تو وہ اپنی پوری توانائی سے اس کوشش میں لگ گئے ہیں کہ وہ جرمنی سمیت پوری دنیا کو بتا سکیں کہ بلوچ قوم کا پاکستان و ایران کے ساتھ رشتہ کیا ہیں ۔
اس وقت نظریہ ضرورت سے سمجھوتہ کئے بغیر فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں انسانی حقوق تک محدود نہیں رکھیں بلکہ وہ ایک حقیقی مقصد کے ساتھ بلوچستان کی مکمل آزادی کے موقف و جدوجہد آزادی کا پرچار کرتے ہوئے پوری دنیا کو یہ بتانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ بلوچ قوم کو پاکستان و ایران کا حصہ نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دو ممالک سے کسی قسم کی تاریخی قربت کے بغیر غیر قانونی طور پر بلوچستان کی آزاد و خودمختار حیثیت پر شب خون مارا گیا اور بلوچستان کی آزادی بزور طاقت ختم کی گئی۔فری بلوچستان موومنٹ جرمنی چیپٹر کے آرگنائزر الٰہی بخش بلوچ نے بلوچ ورنا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اپنی چھینی گئی آزاد و خود مختار حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں، اس وقت ہماری سرزمین دو حصوں میں تقسیم ہے جن میں سے ایک حصے پر پاکستان اور دوسرے پر ایران قابض ہے۔ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہم جرمن عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوسکیں کہ بلوچ ایک الگ قوم ہے وہ پاکستانی و ایرانی اقوام کا حصہ نہیں۔ ہم ہر طرح سے الگ ہیں۔ ہماری زبان، ثقافت، کھانا، موسیقی اور دیگر رسم و رواج مختلف ہیں۔ ہمارے اور پنجابی و فارسی کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں”۔
الٰہی بخش بلوچ نے مزید بتایا کہ “اس وقت یہ دستخطی آگاہی مہم بعنوان”بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” تین ماہ سے زائد عرصے سے جرمنی کے تقریباً زیادہ تر بڑے شہروں میں منعقد ہوگیا ہے۔ ہمارا مقصد جرمن عوام کو اپنی تحریک آزادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے، ہمیں اپنے وطن بلوچستان جس پر فوجی قوت و طاقت کے ذریعے قبضہ کیا گیا ہے اور اسی طاقت کے زور پر اس قبضے کو برقرار رکھنے کی ظالمانہ کوشش کی جارہی ہے کے بارے میں جرمنی اور دنیا کو معلومات فراہم کرنی ہیں۔ اس لئے یہ تمام مہذب اور آزادی پسند اقوام کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ہماری طرف مدد کے ہاتھ بڑھائیں تاکہ ہم اپنی کھوئی ہوئی آزاد و خودمختار حیثیت کو دوبارہ حاصل کرسکیں”
مہم “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران”کا انعقاد کرنے والے کارکنان اپنی سرگرمیوں کی تشہیر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیسبک پر اپنے پارٹی پیج اور دیگر آن لائن بلوچ خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک جاری بیان میں انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ انگریز آقاؤں نے بلوچستان کو دو مصنوعی لکیروں “ڈیورنڈ” اور “گولڈ سمتھ” کے ذریعے تقسیم کیا اور پھر ایران و پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بلوچستان کی آزاد و خودمختار سرزمین پر قبضہ کرلیں جو قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔
تین مئی دوہزار انیس بروز جمعہ فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں نے بیک وقت دو مقامات پر مہم کا انعقاد کیا۔ جرمن دارالحکومت برلن میں امریکی و فرانسیسی سفارت خانوں کے سامنے برلن گیٹ کے مقام پر مہم کا انعقاد ہوا جبکہ دوسری جانب جرمن صوبے نارتھ ویسٹ فالیا کے شہر وُوپرتال میں بھی اسی روز مہم منعقد ہوئی۔ مہم کا انعقاد کرنے والوں کے مطابق جرمن عوام کے علاوہ دیگر اقوام بھی بڑی تعداد میں حصہ لے کر “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” کے موقف کی حمایت کررہے ہیں ۔مہم کا انعقاد کرنے والوں نے ان الفاظ میں اپنے سابقہ حکمران برطانوی راج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “ یہ امر برطانوی تاریخ و ارتقاء پر ہمیشہ ایک قرض رہے گا، اب یہ برطانیہ کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنی تاریخی غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی مدد کرے تاکہ برطانیہ کی آزادی و جمہوریت پسند عوام کے لئے ان کی تاریخی غلطی باعث شرمندگی نہ بنے”۔
فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ واجہ حیربیار مری نے حال ہی میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے درخواست کی کہ “پاکستان اور ایران کو بلوچستان میں بلوچ نسلی کُشی اور دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کی پاداش میں بلیک لیسٹ کیا جانا چاہئے تاکہ ان ممالک کو اپنے جرائم کی وجہ سے ایک سخت اور واضح پیغام مل سکے”۔
بلوچ ایک سیکیولر قوم ہے جو اپنی بنیادی حق آزادی اور قومی وقار کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ ان کے اپنے آزاد ملک بلوچستان کے بغیر ان کو دبایا جائیگا اور دو انتہا پسند ممالک پاکستان و ایران اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کے لئے ان کے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے۔
فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ آگاہی مہم حقیقی طور سے بلوچ قوم کی امنگوں اور موقف کی نمائندگی کرتی ہے جس کو پاکستان اور ایران کے ذرائع ابلاغ ہمیشہ غلط اور منفی انداز میں تھوڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام جلا وطن بلوچ آزادی پسند کارکنان کی اخلاقی اور قومی ذمہداری بنتی ہے کہ وہ فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ دستخطی مہم کی تشہیر کریں تاکہ دنیا کو بلوچستان پر غیر قانونی قبضے اور بلوچ قوم کی جدوجہد آزادی کے متعلق مطلع کیا جا سکے۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...