Friday, August 2, 2024

قومی تحریک کے موجودہ حالات اور نئی صف بندی کی ضرورت

 

تحریر: آرچن بلوچ

 

بلوچ تحریک آزادی کو روکنے کے لیے پاکستانی جبر اور استبداد کے نتیجے میں ایک نئی Resultant Force وجود میں آئی ہے جو قابل تعریف ہے۔ اگرچہ موجودہ مسلح مزاحمت انفرادی تنظیمی بنیادوں پر استوار ہے اور اپنی موجودہ شکل میں اپنی حد تک پہنچ چکی ہے، اس کے لیے نئی صف بندیوں کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے، بلوچ مزاحمتی تحریک ہر حال میں جاری ہے، اور پاکستان اسے شکست نہیں دے سکتا۔ اب اس مزاحمتی تحریک نے مہرنگ بلوچ اور اس کی ساتھیوں کی صورت میں ایک بڑی Resultant Force کو جنم دیا ہے جو بلوچ عوام کے انسانی حقوق کا بہترین انداز میں دفاع کر رہی ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ کہا جاتا ہے کہ اس قوت کو بلوچستان کی تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔

 

بلوچ قومی تحریک کے ابتدائی دور میں، تجربے کی کمی یا سیاسی مجبوری کے باعث، پاکستان نے غیر انسانی طور پر تحریک کو Decapitation یعنی "بے سر" کرنے کی کوشش کی۔ تحریک کو نواب اکبر بگٹی، بالاچ مری، اور چیئرمین غلام محمد اور صبا جان دشتیاری جیسے رہنماؤں سے محروم کیا گیا۔ اب بھی وہ تحریک کے ان باقی رہنماؤں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ Decapitation تحریک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کا وہ عمل ہے جس سے تحریک سنجیدہ اور سوچنے والے سروں سے محروم ہو جائے۔ تاہم، اب اسے وہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے جو پہلے ملی تھی۔ اسی لیے وہ عام عوام کو اجتماعی سزا کے طور پر سفاکیت کا نشانہ بنا رہا ہے تاکہ انہیں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے سے روک سکے۔

 

سیاسی اسپیس کے خاتمے کے سبب تحریک کے کئی آزادی پسند سیاسی رہنما اور کارکن مغربی ممالک میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اس سے خاص طور پر سیاسی عمل کو جاری رکھنے اور سفارتی میدان میں کام کرنے کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اب آتے ہیں اتحاد کے حوالے سے اس سوال پر کہ کیا اتحاد کیے بغیر بلوچ تحریک کامیاب ہو سکتی ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہی ہے کہ بلکل نہیں ہو سکتی، اور اس کی افادیت سے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔ تاہم، ہمارے ہاں سیاسی طور پر عملاً اس سے انکار کیا گیا۔ اس بات کا ثبوت گزشتہ آٹھ سالوں کے وہ سارے منفی فیصلے ہیں جو کہ بلکل غلط تھے، جس سے ممکنہ قومی اتحاد کے سارے راستے بند ہو گئے۔

 

ممکنہ اتحاد کی طرف جانے سے پہلے، دنیا کی رسمی سیاسی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کی اگر کوششیں کی جائیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ پارٹی بازی اور قبائلی اپروچ سے بالاتر ہو کر اگر قومی سوچ کے تحت قوم کا تشکیل مقصد ٹھہرے تو سابقہ دور کے غلط فیصلوں کا اعتراف اور مثبت اقدامات و واضح پالسی اپروچ کے ساتھ چلا جائے تو بعید نہیں کہ ہم دنیا کے دوسرے اقوام کے سامنے سرخ رو ہوں، ایک قومی اتحاد سے ایک کامیاب قوم کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے۔

 

یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ سنگت حیربیار مری کی طرف سے قومی سوچ کے تحت قوم کی تشکیل کی مقصد کی برآوری کے لیے بہت کوششیں کی گئیں کہ تمام آزادی پسند قوتیں اتحاد کریں، مگر کسی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا۔ اب ایچ بی مری کی طرف سے مزید کوششیں کرنا شاید ممکن نہ ہو! یہ میرا ذاتی رایہ ہے۔ لیکن ابھی تک براہمدگ بگٹی اور ڈاکٹر نسیم کی طرف سے کوئی ایسا قومی پروگرام پیش نہیں کیا گیا جس سے قومی اتحاد کے راستے کھل سکیں۔

 

آج تحریک کو انسانی وسائل کی تقسیم اور انتشار کا سامنا ہے۔ اس انتشار کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان اور بنگلادیش کی طرح بلوچ قومی تحریک کو بھی ایک قیادت، ایک Line of Action، اور ایک اپروچ کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ بلوچ قومی قوت کو مجتمع کرنے کی ضرورت اور منصوبہ 2007 میں پیش کیا گیا، مگر انفرادیت پسندی اور تحریک پر ایک مخصوص نظریہ کے حامل افراد کی وجہ سے قومی اداروں کی تشکیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ قومی سیاسی اداروں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے تحریک کی قومی قوت کو مجتمع کرنے میں رکاوٹیں کھڑی ہیں۔

 

قومی قوت کا راز متحدہ بلوچستان کی مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے۔ عرب ممالک کی اقوام متحدہ میں 22 نشستوں کے باوجود وہ اسرائیل اور ایران کے سامنے بے بس ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ تحریک کی کامیابی کا دارومدار قومی پالیسی اور اپروچ پر ہے۔ اگر قومی سطح کی منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو دشمن کو متحدہ سرزمین سے نکالنا ممکن ہوگا۔ قومی قوت کو مجتمع کرنے کی ضرورت پہلے تھی اور اب بھی ہے۔ ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لے کر مستقبل کی سمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کے لیے معروضی حالات کے فلسفہ اور سائنسی اپروچ کے باہمی ارتباط کے ساتھ جانا ہے نہ کہ اس کے متضاد رویہ یعنی انا پرستی اور پسند و ناپسند جیسے رکاوٹیں پیدا کریں۔

نادانستہ طور پر پاکستانی بیانیہ سے متاثر ہوکر بلوچ پارٹیاں اپنی قومی قوت کو underestimate کرچکے ہیں، میرے نظر میں یہ سب سے بڑا غلطی ہے، بلوچ قوم قدرتی وسائل کے لحاظ سے دنیا کی امیر ترین قوموں میں سے ایک ہے۔ 65 ملین کی آبادی اور 700,000 مربع کلومیٹر کے جغرافیہ کے ساتھ بلوچستان ایک طاقت ور قوم ہے، دنیا کی تمام قوموں کی average  آبادی 40.31 ملین ہے، جبکہ بلوچ کی  65 ملین آبادی ہے اس آبادی کے ساتھ بلوچ ہر لحاظ سے ایک بڑا قوم ہے۔ بلوچستان کی جغرافیائی محل وقوع اور معادنیات اھمیت کو کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ مگرہماری کوردیدی  myopia ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، ہمیں اپنے قومی قوت کا پتہ نہیں۔  

 

بلوچ قوم کو ہندوستان کی طرح کوئی کانگریس اور گاندھی نہیں ملا اور نہ ہی بنگلادیش کی طرح کوئی عوامی لیگ اور شیخ مجیب ملا، جو اپنی قومی قوت کو مجتمع کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرسکے۔ بلوچ عین اپنی فطرت کے مطابق انفرادیت پسندی کا شکار ہیں، یہی بدقسمتی عرب فلسطینیوں کی بھی ہے، وہ بھی انفرادیت پسندی اور انتشار کا شکار ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہندوستان اور بنگلادیش نے قومی سوچ، قومی قیادت اور ایک Line of Action اور اپروچ کے تحت صف بندی کرتے ہوئے اپنی اپنی آزادیاں حاصل کرلیں۔

 

اب خارجی طور پر ہمارے سامنے تین ایسی مثالیں ہیں جن کا مختصر جائزہ لے کر ہم اچھا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ ایک ناکام تحریک کی مثال اور دو کامیاب تحریکوں کی مثال ہمارے سامنے ہیں، جن سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

 

فلسطین کی تحریک کو دنیا بھر کی حمایت حاصل ہے مگر پھر بھی کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اندرونی انتشار اور قیادت کا خلفشار ہے۔ دنیا کے مختلف بلاکوں سے ان کی جیوپالٹکس وابستگی ہے۔ حماس، حزب اللہ اور دیگر ایرانی ملیشاؤں کا تعلق ایران سے ہے، اور فلسطین کا جغرافیہ ایک ایسی آبی گزرگاہ پر واقع ہے جہاں اگر ایرانی حمایت یافتہ ملیشاؤں کا کنٹرول ہو تو وہ یورپ کی تجارت کو بلاک کرسکتے ہیں۔ یہ تمام جنونی ملیشیائیں اسرائیل کی وجود کو ختم کرنے کی قسم کھا چکی ہیں، ایسے میں ایران کا کردار نہ صرف یورپی ملکوں بلکہ خود معتدل عرب ممالک کو بھی قابل قبول نہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ ملیشاؤں کو ختم کیے بغیر دنیا کی وہ طاقتیں جو دنیا کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں فلسطین کی جداگانہ حیثیت کو قبول نہیں کریں گی۔

 

ہندوستان چھوڑو تحریک، جسے اگست کی تحریک بھی کہا جاتا ہے، ہندوستان کی برطانوی راج سے آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ اس کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس (INC) نے کیا تھا اور 1942 میں مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع کیا گیا تھا۔ گاندھی ہندوستانی تحریک کا چہرہ تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی دنیا بھر میں اسٹریٹجک پوزیشن کمزور ہو رہی تھی، اس لیے برطانوی حکومت نے جنوب مشرقی ایشیاء اور برما میں ہونے والی ناکامیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی کوششوں کے لیے ہندوستانی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مارچ 1942 میں اپنے نمائندہ اسٹافورڈ کرپس کو ہندوستان کی آئین میں ترامیم کے لیے تجاویز کے ساتھ ہندوستان بھیجا گیا تھا، جسے ہندوستانی رہنماؤں نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ ان کے تجاویز میں ہندوستان کی آزادی شامل نہیں تھی۔ 8 اگست 1942 کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے بمبئی میں 'ہندوستان چھوڑو' کی قرارداد منظور کی، جس میں ہندوستان میں برطانوی راج کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہندوستان چھوڑو تحریک ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ تھا، جو برطانوی راج کے خاتمے کے لیے متحد مطالبے کی نمائندگی کرتا تھا۔ اگرچہ اسے شدید جبر کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے ہندوستانی عوام کے عزم کا مظاہرہ کیا اور 1947 میں ہندوستان کی حتمی آزادی کی راہ ہموار کی۔

 

بحیثیت ایک پاکستانی فیڈرٹنگ یونٹ بنگلادیش کی بنگلا عوام نے 1970 کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور ان کی نمائندہ جماعت عوامی لیگ بھاری اکثریت سے جیتی، مگر کامیابی کے باوجود انہیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ عوامی لیگ، جس کی قیادت شیخ مجیب الرحمن کر رہے تھے، بنگلادیش کی تحریک کا قومی چہرہ تھے۔ انہوں نے بنگالی عوام کے حقوق کے لئے پاکستانی حاکموں کے سامنے چھ نکات پیش کیے، جو مشرقی پاکستان کے لیے خودمختاری کی بنیاد تھے۔ 7 مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن نے ایک تاریخی تقریر کی جس میں انہوں نے بنگالیوں کو آزادی کے لیے تیار رہنے کی تلقین کی۔

 

ردعمل میں پاکستانی پنجابی آرمی نے 25 مارچ 1971 کو "آپریشن سرچ لائٹ" شروع کیا، جس کا مقصد مشرقی پاکستان میں آزادی کی تحریک کو دبانا تھا۔ اس کارروائی میں بے شمار لوگ مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ اس کے جواب میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے مکتی باہنی نامی گوریلا تنظیم نے پاکستانی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔ دسمبر 1971 میں بھارت نے بنگلہ دیش کی حمایت میں جنگ میں مداخلت کی۔ 16 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے، اور بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بنگلادیش کی ایک ہی سیاسی قیادت تھی، ایک ہی Line of Action تھا، سوائے انڈیا کے باقی دنیا کی کسی ملک نے ان کی حمایت نہیں کی۔ مگر پھر بھی وہ آزاد ہوگئے۔ تمام تحریک ایک سیاسی قیادت کے کنٹرول میں تھی۔

 

خرف آخر:

اب ہم جانتے ہیں کہ ہمارا فطرت ہندوستانی اور بنگلادشی جیسی عاجز قوم کی طرح نہیں جو ایک قیادت اور ایک پارٹی کے تحت متفق ہوسکے۔ انفرادیت ہمارا نصب العین ٹھہرا ہے تو یہی رویہ ہی سہی۔ دنیا کے دوسرے اقوام نے متحدہ، الائنس اور اس جیسے کئی دوسرے اتحادی فکر کے اصطلاحات ایجاد کیے ہیں، ہمیں بھی بقول سائنس کے "نیا چکر ایجاد نہیں کرنا" بلکہ انہی اصطلاحات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی انتشارپسند فطرت کی تسکین کرتے ہوئے ایک شراکتی قیادت تشکیل دینی ہوگی۔ تکمیلی (complementary) اصول کے تحت تمام قوتوں کے درمیان ایک قومی راہ نکل سکتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی شکل میں جو ایک پراعتماد Resultant Force ابھر کر سامنے آ چکی ہے، یہ قوت قومی تحریک کو ایک Genuine Realignment فراہم کر سکتی ہے۔ اسی پر آسانی سے Build Up کیا جا سکتا ہے۔ ایک سنجیدہ قوت کے ساتھ ہماری تحریک بھی بنیادی نعرے کو لے کر ہندوستانیوں کی طرح پاکستان کو دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ سکتا ہے: پاکستان بلوچستان چھوڑ دو!

 Pakistan Quit Balochistan

 

Thursday, May 16, 2024

فلسطینی تحریک کے تناظر میں بلوچ تحریک کا مختصرجائزہ۔ تحریر: آرچن بلوچ




 شروع سے لیکر آج تک فلسطینی تحریک کو عالمی سطح پر معقول معاشی اور اخلاقی حمایت حاصل رہی ہے اسے عالمی میڈیا کی 75 فیصد کا توجہ بھی حاصل ہے۔ بلوچ قومی تحریک کو عالمی سطح پر کوئی معاشی اور اخلاقی سپورٹ حاصل ہے اور نا ہی عالمی میڈیا کی کوئی ایسی کوریج جہاں سنتےہی کسی کے کان کھڑے ہوجائیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں فلسطین کو لفٹ بلاک کی بھرپور حمایت حاصل تھی، اور اب بھی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے کی لفٹ بلاک میں جنوبی افریقہ کی اے این سی اور پی ایل او کو یکساں نمائندگی حاصل تھی۔ آج پرانے تعلقات کے بنیاد پر اے این سی کی ساؤتھ افریقہ عالمی عدالت میں فلسطین کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے بی ایس او کی 1987 کونسل سیشن میں فلسطینی طلباء تنظیم کے نمائندے بھی شریک تھے جہاں بلوچستان یونیورسٹی کے جلسے میں بلوچ تحریک کی حمایت میں پی ایل او کی پیغام کو سنایا گیا۔ اس کونسل سیشن میں ایرانی زیرقبضہ بلوچستان سے کثیر تعداد میں بلوچ طلباء نمائندے بھی شامل تھے۔ مگر بدبختی سے تقسیم درتقسیم کی سیاست نے اس نوخیز طلباء تحریک کی نمو کو ختم کیا گیا۔

پھر اسی زمانے میں بلوچ قومی تحریک کی کچھ سیاسی نمائندے اور بعد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس مخمصے میں سوچ رہے تھے کہ آیا پاکستان کی وفاقی سیٹ اپ میں کوئی حل ڈھونڈا جائے تاکہ صوبائی خودمختاری مل جائے اور پھر ایک جنریشن کی تعلیم یافتہ سیاسی قیادت حق خود ارادیت جیسے نظریہ کو ٹیسٹ کیس کے طور پر بنیاد بنا کر پاکستانی سیاست کے کرپشن کے جلوؤں میں ایسا دھنس گیا پھر واپس لوٹ آنے کا راستہ بھی بھول گئے۔ 1988 میں پاکستانی پارلیمنٹ میں جانےسے پہلے عوام کو یقین دلایا گیا کہ وہ جہدوجھد کے پارلیمانی راستے کو بھی آزمائیں گے، اگر کچھ نہ ہوا تو پھر واپس عوام کے پاس لوٹ آئیں گے!
جبکہ فلسطینی عوام ایک باوقار سیاسی قیادت کے تحت اپنی جداگانہ تشخص آزاد فلسطین کی غیرمتزلزل مطالبے پر ہمیشہ ڈٹے رہے ہیں۔ مطالبے اور جھد کے لحاظ سے وہ آج تک اپنی پہلی والی پوزیشن یعنی مکمل فلسطینی جغرافیائی وجود کے کل کو لیکر دلجمعی کے ساتھ کھڑے قربانیاں دے رہے ہیں۔ فلسطینی قومی تحریک 9/11 سے پہلے مشترکہ طور پر مختلف سیاسی اور عسکری حربوں کو استعمال لاکر بہت کچھ حاصل کر چکا ہے۔

6220 مربع کیلومیٹر پر مشتمل فلسطینی جغرافیہ کے وہ علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے، یعنی مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی۔ بین الاقوامی عدالت انصاف ICJ نے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کو “مقبوضہ فلسطینی علاقہ” کہا ہے اور یہ اصطلاح ICJ نے جولائی 2004 کی اپنی مشاورتی رائے میں قانونی تعریف کے طور پر استعمال کی تھی۔ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی اصطلاح اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے اکتوبر 1999 اور دسمبر 2012 کے درمیان فلسطینی قومی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں کے لیے استعمال کی تھی.2012 سے اقوام متحدہ نے خصوصی طور پر ریاست فلسطین کا نام استعمال کرنا شروع کیا اور ریاست فلسطین کوغیر رکن مبصر ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یورپی یونین بھی “مقبوضہ فلسطینی سرزمین” کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی موجودہ ’’غیر رکن مبصر ریاست‘‘ کا اسٹیٹس پی ایل او کی وسیع نظر سیاسی قیادت کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ مگر ایران کی حمایت یافتہ حماس کی انتہا پسندانہ اقدامات نے اوسلو معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں اور نتیجہ 9/11 پر منتج ہوا۔

جبکہ 750,000 مربع کیلومیٹر پر مشتمل بلوچ سرزمین کی 6 سے 8 کروڑ آبادی کو دنیا اس لیئے گھاس نہیں ڈالتی کیوںکہ قومی تحریک کو انتشار اور مختلف بہاںوں اور نعروں نے منقسم اور مفلوج کر رکھا ہے۔ موجودہ تحریک کو آج تک ایک ایسی مشترکہ قومی قیادت نصیب نہیں ہونے دیا جا رہا ہے کیوں کہ تحریک کے کچھ شریک کاروں کی نظریں اجارہ داریت کے اجنڈے پر ہیں۔ بے دریغ نوجوانوں کے لاشوں کے گرجانے کا کوئی پروا نہیں، مگر جن منفی تنگ نظر کرداروں نے تحریک کو طبقاتی لائنوں پر محدود کرکے رکھ دیا ہے وہ مقدس گائے بنائے گئے ہیں۔ کوئی انکا نام تک لے نہیں سکتا، جیسا کہ میں انکے نام اس تحریر میں لا نہیں سکتا!

جغرافیہ اور آبادی کے لحاظ سے کروڑوں کی تعداد میں بلوچ قوم دنیا کے بڑے اقوام میں سے شمار ہوتا ہے، جبکہ دشمن کا کہنا ہے کہ بلوچ ایک چھوٹا قوم ہے، دشمن کی اس منفی نفسیاتی پروپیگنڈے کو ہم نے ناسمجھی میں قبول کیا ہے اور خود کو ایک کمزور اور چھوٹا قوم تصور کرتے ہیں۔ یار دوستوں کی تنظیمیں بھی اس چھوٹے قوم کے تصور کے پیمانہ پر تشکیل دئیے گئے ہیں۔ 6 سے 8 کروڑ کی آبادی اپنی تحریک کیلئے کتنا وسائل جمع کرسکتا ہے وہ ایک الگ بحث ہے۔

موجودہ دور کی تحریک کی طریقہ کار mode of struggle گوریلا مسلح مزاحمت کو چنا گیا۔ قوم کی مسلح قومی قوت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیاجائے، اس یقین کے ساتھ کہ دشمن جمہوری جھد اورجمہوری آواز کوخاطر میں نہیں لاتا اس لیے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے جس کے ساتھ وہ ہمارے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ وہ بندوق بردار ہے ہم غیرمسلح ہیں، اس لیے مسلح ہوکر مزاحمت کیاجائے۔ یہاں تک بات درست ہوئی۔ ہمارے لوگ مسلح ہوکر لڑ رہے ہیںمگر تحریک کی قومی قوت کی ارتکاز نہ ہوسکا۔

بلوچ قومی تحریک کا بنیادی فلسفہ یا نظریہ بلوچ قومی ریاست (متحدہ بلوچستان) کی گمشدہ حاکمیت کی بحالی ہے۔ تحریک کی قومی جغرافیہ کے وسعتوں کو پاکستانی زیر قبضہ بلوچستان تک محدود کرنے سے تحریک اپنی strategic edge کھو گئی۔ ایک دوست نما ملک کے فرمائش پر قومی جغرافیہ کے آدھے حصے کو دشمن کے حق میں ڈراپ کیا گیا ہے۔ اب جب قومی تحریک کی فطری جغرافیائی وسعتوں کو محدود کروگےتو عالمی قوتوں کی سپورٹ کہاں سے آئے گی؟

جہاں قومی قوت کو مجتمع کرنے کی ضرورت پیش آئی وہاں قومی قوت کی ارتکاز کا تقاضہ فرض تھا کیونکہ نوجوانوں کی زندگیاں شامل ہیں، مگر یہ ارتکاز نہ ہوا۔ ارتکاز کی جگہ وہاں فرد کی ہوا کھڑا کرتے ہوئے “سیاسی ادارے” کی شرط رکھی گئی، باوجود اس بات کے کہ موجودہ تحریک کی بنیاد رکھنے والا کردار اعلیٰ ترین ادارے کا سربراہ تھا۔ اب جبکہ اس بہانے کی شرط کو پورا کرنے پر سیاسی ادارے کی تشکیل انجام پائی اور سیاسی اختیارات عین اس فرمائش کے تحت سیاسی ادارے کے پاس سونپے گئے مگر پھر بھی “فرد کی انا کا پہاڑ” ایک بہانہ بن گیا ۔تحریک کی قومی قوت کو مجتمع کرنے کا منصوبہ جسے 2007 کے آخری مہینوں میں دوستوں کے سامنے رکھا گیا، ابھی تک وہ پس پشت ڈالا گیا ہے۔ قومی قوت کی مجتمع ہونے کی صورت میں جو کچھ بچایا جا سکتا تھا اور جو کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا، اب اس کا ازالہ تو کوئی نہیں کرسکتا مگر پیچھے مڑا کر کچھ retrospective میں افسوس کیا جا سکتا ہے۔

یہ حقیقت ہمیں ماننا پڑے گا کہ موجودہ تحریک انسانی وسائل کی تقسیم کا شکار ہے ہماری قومی طاقت کی کامیابی کا راز متحدہ بلوچستان کی مشترکہ جدوجھد میں ہے، جس طرح 22 عرب ممالک کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 22 سیٹیں ہوتے ہوتے ہوئے اسرائیل اور ایران کے ریشہ دوانیوں کے سامنے بے بس ہیں۔ عین اسی طرح ہم کئی تنظیموں اور پارٹیوں میں تقسیم ہوکر کچھ کر نہیں کرسکتے۔ ہماری قومی قوت کی کامیابی کا راز مشترکہ قومی پالیسی اور مشترکہ قومی اپروچ میں ہے۔ جس دن ہمیں قومی سطح کی عقل آئی، ہم دشمنوں کو اپنے متحدہ سرزمین سے با آسانی نکال باہر کر سکتے ہیں۔

Tuesday, January 9, 2024

بلوچ راجی آجوئی جنزءِ رھشونیءِ جیڑہ

 




ہمگام کالم:

نبشتانک: آرچن بلوچ

چہ بلوچ یکجھتی کمیٹیءِ طوفانیں مہیمءَ اے جست ءُ باوست پیدا بوتگ کہ ’’بلوچ یک مزنیں راج ئے بلے اشیا جوانیں رھشون نیست‘، پمیشکا بلوچ راج غلام ءُ بدھال انت‘‘۔ اے جست یک وانندوئیں بلوچ وکیلیءَ کرتگ۔  بن اسلءَ اے گپ وزن داریں گپ ئے پرچاکہ اے گپءَ وانندوئیں مردم ببیت یا ھنچائیں مردم ئے ہر کس کنگا انت۔ منا منی پگر ہمے نشون دنت کہ بلوچءَ رھشون ھست بلے آجوئی جنز تہی  جیڑہ ءُ جنجالانی تہا مان گیشنینگ بوتگ۔۔ یا پہ زانت یا پہ ناسرپدی۔۔ بلے اے جستءِ پسہ الم درگیجگی انت۔  ادا اے گپ مارا منگی انت کہ رھشونے ھست کہ یک آجوئی جنزئے یکوی جنزان انت۔ درآمد گشنت کہ اے یک  Low Level Insurgency ئے، غالب گشیت، ’’ جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود، پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے‘‘؟

اے گپءَ کس انکار کرت نہ کنت بلوچ  یکجھتی کمیٹی راجی جنزءِ مھکمیں چریانی سرا ( foundation ) سرا زبردستیں  build up ئے کنگا انت۔ بلوچ راجءِ فطری واھگ وا ہمیش انت کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی جنز سوبین ببیت۔ بلے اگن سوبین مہ بیت ہم, پہ راجی جنزءَ باز کٹ اتگ ئے۔ بالاچءِ شھادت پہ بلوچ مھلوکا یک tipping point ثابت بوت۔ بالاچءِ کوشءَ بلوچ یکجھتی کمیٹی جنزگءَ بلوچءِ کیس را پد  once again گلوبل اسٹیجءَ سر کرتگ، اے گپءَ وت پاکستانی نبشتہ کار من انت، بلے نو دومی مرحلہءِ سوال  ایش پشت کپتگ کہ آ کجام ھوربندیں  پلیٹ فارمے بزاں نمائندہ سیاسی قیادتے نیست کہ آ اے زھمت ءُ واری ءُ ھونریچیانی ترجمانی ءُ جھدءِ برورداں  reap گورشان بکنت؟

اے جستانی  پسہ دئیگ ئے ھاترا مارا وتی ھنوگیں راجی جنزءِ  نزیکیں لہتے دور ءُ باریگ چارگی انت۔ زوراکءِ دیما زور داشت کنت۔ Only the power of power would deter the power of aggression 

ہمے باور ءُ باوستءِ سرا کہ زوراک جمهوریت ءُ ایمنیں جھد ءُ جنزءَ نه منیت، پمیشکا سلاھ بندیں جنز بنا کنگ بوت۔ بابا مریءَ 1973ءِ بے سوبیں جمہوری تجربگءَ رند وتی راھ  چہ پارلمانی سیاستءَ گیشینت، گشت ئے، تنھا سلاھ بندیں جھد یکیں راھ اِنت په بلوچءَ پشت کپتگ۔ بس ہمے یکیں راہ زوراکءَ تکلیپ دنت۔  ہمے ھاترا مند تمپ پنجگور دشت کوھلو کاھان بولان، کلات، کویٹہ، خاران،  سوراب، نوشکے، خضدار کڈکوچہ ءِ کلیں دمگاں سلاھ بندیں جنزءَ منظم کنگا پد سنگت ایچ بی تنظیمءِ فیصلہءِ پدا لندنءَ راھ دیگ بوت دانکہ دنیاءِ دیما بلوچ آجوئی جنزءِ نمایندگی ءُ ترجمانیءَ بکنت۔

مکرانءَ استاد واحد کمبرءَ‌ چہ بی ایل اے نیمگا دعوت دیگ بوت کہ لشکرءَ جوائن بکن، انکار ای کرت، گشت ئے من سردار ھیربکش مریءِ ہمراھ نباں پرچاکہ آ سیاسی ادارہاں نہ منیت۔۔ استادءَ وتی یک دراجیں نبشتانکے تہا ہمے گپ گشتگ انت۔ بجائے بی ایل اے جوائن کنگا آئیا سردار عبدی خان ءُ جمعه خانءِ مرتگیں بی ایل ایفءَ  ماں مکرانءَ آورت ءُ فعال کرت۔ مکرانءِ بلوچ ورناھاں ہمراھداری کرت، شھید ڈاکٹر خالدءِ سربراھیءَ مکرانءِ دمگاں مزاحمت دیما ودّان بوت۔ بی ایل اےءَ بے شرط ءُ شروطءَ بی ایل یفءَ مالی ءُ جنگی سپورٹ کرت۔ چَلہ ریشیں مری بامرداں شہ مری کوہستگا اتک ءُ مکرانءِ کنڈ کنڈءَ ورناھاں په  جنگ ءُ کَنّہِگا (مزاحمت) درآورت اَنت ، جنگی ٹریننگ دات اَنت۔ 2003ءَ، استاد واھد کمبر گشیت، حیربیار مریءَ آرا گوں دگہ بازیں سنگتاں دبیءَ لوٹائینت۔ دعوت داتنت کہ لشکرءَ ھوار بئے، نوں جنگ کنگی انت ابید جنگءَ دگہ راھ نیست۔ استاد کمبر گشیت کہ من انکار کرت پرچاکہ نواب خیربکش مری سیاسی ادارہ نہ منیت۔  ما وتی راھاں جتا کرتاں۔ بھرھال استاد کمبرءَ بابامریءِ credentials دیما نہ اتک انت۔ بلے پدا ھم سنگت ایچ بی مریءَ اشاناں سپورٹ دات۔

بابا مریءَ نیپ تجربگءَ رند ھچ سیاسی پارٹی جوائن یا جوڑ نہ کرت، اشیءِ بنیادی سوب ہمیش ات، 1967 کہ بی ایس او جوان کنگ بوت، آرا پاکستانی اجنسی آن infiltrate کرت، اشی رخ طبقاتی جیڑہ نیمگا ترینگ بوت، پدا دیست ئے کہ ورنا گل بی ایس او یکوی پاکستانی اجنسیانی دست برد شکار انت۔ ورنا وتا داشت نہ کن انت۔ سیاسی جھد بابتءَ بابا مریءَ شھید غلام محمد سرا سک اعتبار ات۔

شھید غلام محمد ءَ بی این ایم چه مرتگیں پرانی چیرءَ یک پشکپتگیں اشکرءِ برانزیءَ دمینت ءُ یک سیاسی لمبوریں آسے جوڑ کت۔۔ شھید چئیرمینءِ سیاسی اپروچ قومی ات، آئی رابطہ گوں بابا مری، شھید نواب بگٹی ءُ بالاچ مری ءُ ھیربیارمری داں کلیں آجوئی پسندیں جھدکاراں ھوار ات۔ بلے پدا ہم دان زندگ ات، وتی آجو پسندیں ھمراھاں  آرا نئشت کہ سیاسی میدانءَ پہ آجوئی جھدءَ ساجو بکنت۔

2003ءَ نواب اکبر خان بگٹی ءِ جمہوری وطن پارٹی، سردار عطاءاللہ مینگلءِ بلوچستان نیشنل پارٹی، ڈاکٹر عبدالحئیءِ نیشنل پارٹی ءُ نواب خیر بخش مریءِ حق توار ءِ چاریں گلاں سائل ءُ وسائل ءِ جیڑہانی 16  نقطہانی لوٹ پاکستانی واکدارنی دیما ایر کرت انت، بلے پاکستانی فوجی واکدار ہرچ وڑا بلوچءَ  subjugate ایرجیگ کنگی ات۔ پاکستانءَ بلوچستان شست پیش داشت۔ اے attitude ءَ پہ آجوئی لوٹوکانی دلیل پک کرت کہ پاکستان زورءِ زبانءَ سرپد کنگی انت۔  وھدے کہ جنگ ءُ کنہگ بنا بوت شھید نواب اکبر خان بگٹیءَ بلوچ مزاحمتءِ ترجمانی بنا کت، ماں گوادرءُ سیاجی ءُ  ڈیرہ بگٹیءَ جنگ بنا بوت، شھید نواب بگٹی ءُ بالاچ مریءَ جنگ کمانڈ کرت۔ پاکستانءَ دیست کہ اے دوئیں رھشون بلوچ جنگ ءَ “قومی سطح”ءَ منظم کنگا انت گڈا نواب اکبر خان بگٹی ءُ بالاچ مری دوئیں زوت شھید کرتنت۔ پدا براھمدگ بگٹیءَ نواب شھیدءِ راھ گپت ءُ جنگا تنظیمی بنیادءَ ھوار بوت، هم کوشش کرت کہ آئی تنظیم کلیں بلوچستانءَ منظم ببیت۔ جنگ کہ بنا بوت بی این پی مینگل ءُ نیشنل پارٹی پشتءَ کنز اتنت۔ سردار مینگلءَ وتی وعدہ وفا نہ کرت۔

 بی این پی مینگل بجائے جنگءَ ھوار ببیت، پشتءَ نشت ءُ بی ایل اے قیادتءِ خلافءَ دگہ دھندائے بنا کرت، ماں لندنءَ سنگت ایچ بی مری خلافءَ دگہ بی ایچ آر سی جوڑ کرت ءُ یک عجیبیں اجنڈائے پیش کرت کہ “ما چوںکہ آجوئی گپت نہ کنیں پمیشکا ما زمینءِ دعوا کنیں دانکہ مھاجر ءُ پنجابی بلوچستانءَ آباد مہ بنت’’۔۔  ھمے اجنڈاءِ دیما بروکاں چہ لندنءَ صمد بلوچ، اکبر بارکزئی، چہ عرب اماراتءَ تاج گچکی، چہ مسکتءَ میجر مجید ھوار انت۔ دنیا ءُ بلوچ مھلوکءِ دیما ہمے تاثر دیگ بوت ھیربیارمری بلوچانی نمائندگ نہ انت۔ باقائدہ ھیربیارمریءِ کردار کشی کنگ بوت۔ بی این پی مینگل انگت ھمے ھیری کارءَ  indirect دگہ پارٹیانی زریعہ انگت کنگا انت۔

ہمے جنگ ءُ مزاھمت ءِ میان شھید چئرمین غلام محمدءَ بلوچ نیشنل فرنٹ ٹہینگ بوت، بلوچ نیشنل فرنٹ اجنڈا: 1- پاکستان ءُ ایرانی قبضہ خلافءَ  آجوئیءِ جدوجہد،  -2غیر پارلیمانی سیاستءِ دگءَ راجی آجوئیءِ جدوجھد۔  3 – زورگیریں قوتانی خلافءَ سرمچارانی سیاسی سپورٹ۔ 2009 شھید چئیرمینءِ شھادتءَ اے بی این ایف چہ سیاست بازیءِ دست بردءَ نہ رکیت۔۔ بقول شھید استاد اسلم بی ایس او ءِ سیاست ادا اتک سربوت، یہ تیرا وہ میرا۔

ٹانگ کشکائی ادا نہ اوشتات۔ وتی چوٹیں کردءِ راست کنگا ءُ اجارہ داریتءِ لالچءَ پدا اینٹی سردارءِ نعرہ چست کنگ بوت۔ ھیربیارمری اشانی مستریں ٹارگٹ بوت۔ چو بی این پی مینگل وڑا بی این ایم نوکیں قیادتءَ ھمل حیدر لندنءَ دیم دات ءُ جار جت کہ ڈنی ملکاں بلوچ راجءِ نمائندہ دگہ کس نہ انت۔ سیکریٹری خارجہ ھمل حیدر انت۔ اے بھتاورءَ لندن رسگا بی ایس اوءَ زون ھست ات پروشائینت کہ بی ایس او ممبراں گشت ئے چوکہ بی ایس او بلوچ نیشنل فرنٹءِ یک بھرے پمیشکا شما گوں ھیربیارمریءَ ھمراھداری مہ کنت۔ لندنءِ زونءِ ممران انکار کرت، گڈا زون جند اشاں پروشت۔

 بی ایس اوءَ بگر داں سرکار ءُ چہ استاد واحد کمبرءَ درآ، درستان اینٹی سردار نعرہ جتگ بلے  بیدء پرشت ءُ پروشءَ ما دگہ چوشیں نتیجگیءَ سر نہ بوتگیں کہ بگندے راجی جہد یک تچکیں direction نیمگا رؤگا انت۔ نواب مگسی دورءَ بگر داں روچ مروچی اینٹی سردار نعرہءَ ہیچ رزلٹ نہ دات۔  تئی کاھان ڈیرہ بگٹی، وڈ ءُ نال  شہ بنداتءَ گوں تو گون اَنت بلے جام لسبیلہءِ کلات تو تنی وھدی پروش نہ داتگ۔ انگریزءِ فوکس بلوچءِ مرکزی حاکمیتءِ پروش دیگ ات، آئی گوں سرداراں جنگ نہ کت بلکن سردار گوں وت زرتنت، وتی طاقت کرتنت، خان کلاتءِ خلافءَ اوشتارینتنت۔  انگریز ایمپائرءَ ہرچ ملکے که گرگی بوت، آئیا ہمے پالیسی ہمودا اپلائی کت، سردار نواب حاکم وغیرہ وتی طاقت جوڑ کرتنت، ہندوستان یک مثال ئے! ہمے پالیسیءَ پنجابی هم من و عن زرتگ، سرداراں زرتگ وتی طاقت جوڑ کرتگ  بلوچ حاکمیت خلافءَ کارمرز کنگا انت.

13 نومبرءَ زوراکاں پہ چتوری بلوچستان ایرجیگ کت؟ پرچا اے روچ پہ ما آرگ بوت؟، پرچا ما وتی راجی آجوئی داشت کت نہ کت؟، پرچا مئے راجءِ قبائلی زور (طاقت) یکجاھ نہ ات کہ دشمن وتی زوراکیءَ سوبین بوت؟  اِراں 1839ءِ 13 نومبرءِ روچ ءُ مرچیگیں روچءِ میانءَ دگہ پرک ءُ تپاوتے ھست؟ نیست! منی نزءَ آ دورءِ 13 نومبرءُ مرچیگیں روچءِ میانءَ ہچ دیگری نیست۔ زی ما قبائلی رنگا بھر و بانگ ات انت، وتی ملک داشت کرت نہ کرت بلے مرچی ما وتی مَنّءَ یک نوکیں سائنسی دورے تہ انت بلے پدا ھم ما پارٹی آنی رنگا بھر و بانگ اِنت۔ زی قبائلی آن ردی کرت، مرچی ما وتا سیاسی گشیں،بلے سیاسی ردی کنگائیں۔ مرچیگیں آجوئی جنزءِ سجہیں زور بلوچ ورناھانی  کوپگانی سر انت ءُ یاد دارگ ببیت کہ بلوچ وانندہ طبقہ بلوچ ورناھ انت، پمیشکا راجءِ تہا زانتءِ پیدا کنگ ئے زمہ واری ہم بلوچ ورناءِ سرا انت، گڈا باید بلوچ ورنا چہ وتی راجءِ گوستءَ درونت بزوریت critical thinking ءِ جوہر وتی اندرءَ پیدا بکنت۔

2004ءَ بگر داں 2012 ءَ بلوچ راجی جنز وڑے نہ وڑے دیما روگا ات، عالمی میڈیا ھور عالمی انٹلکچول ءُ ٹینک تھینک بلوچ جیڑھءِ سرا برابر نبشتہ کنگا ات انت۔۔  داں دنسکاں کہ سوشل میڈیا اکٹیوسٹاں امریکہءِ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ را ھم مجبور کرت کہ آ بلوچ جیڑہ بابتءَ گپ بکنت۔۔ سنگت ایچ بی مری یکوی عالمی میڈیا گوں برابر اینگیج ات۔ جوانیں سپارت کاری بووگا ات، امریکی کانگریسءِ رپبلکن رھشون لوئی گولمرٹ، دانا روھرباکر امریکی کانگریس تہا بلوچستانءِ آجوئیءِ ھمایتءَ  112TH CONGRESS  2D SESSION H. CON. RES. 104  قرارداد پیش کرت۔ مھلوک زبردست راجی جنزءَ سپورٹ دئیگا ات۔ بلے دیر نہ گوست سیاست بازیءِ لئیب بنا بوت۔  party politics kicked inیک لشکر جنز ات سنگت ایچ خلافءَ کہ آ ملٹی نیشنل کمپنی آنی دستءَ بھا بوتگ، گوں رھمان ملک ءُ مھمود اچکزئیءَ ملاقات کرتگے، ھیربیارمری کئے انت کہ یک تنھا چارٹر پیش کنت۔ آ یک فردے، آرا پارٹی ادارہ نیست، وغیرہ وغیرہ۔ آ سیاست بازی ئے کہ بی ایس او زاداں دربرتگ ات ءُ سنگت ایچ بی خلافءَ کارمرز کنگائتنت، چه اے سیاستءَ سنگت ھیربیار مری  چٹا نا واقف انت۔ ھمے منفئیں سیاستءِ شکار شھید غلام محمد بلوچ ات۔

ہمے بی ایس او زادانی جیڑہ ءُ جنجالانی سوب سنگت ایچ بی مری ءُ آئی ہمراھ دیوالءَ جنگ بوتنت لاچار بوتگ انت کہ پہ وت یک پارٹی بہ ٹہینت۔  2016 فری بلوچستان مومنٹءَ ٹہینگ بوت۔ ایف بی ایمءِ تاسیسی بیان تہا پدا اتحادءِ بابتءَ لشکرءَ گوانک جنگ بوت۔ پہ یکجاہی کار کنگءَ ھاترا اولی رند ھما ات استاد واھد کمبرءَ دبی دعوت دیگ بوت کہ آ بی ایل اےءَ جھدءَ ھوار ببیت۔۔ انکار کرت کہ تو سرداری ئے، تو ادارہ نہ من ئے۔  پدا جھدءِ ضورتانی پورہ کنگ ئے ھاترا بی ایل ایف لشکرءَ دوہزار ہپتءَ ماں بولانءَ دعوت دیگ بوت بیا ات وتی کلیں جھدءِ مڈیاں یک ھند کنیں، گوں یکسویءَ دیما دشمنءَ کنیں، ادا پدا بقول شھید استاد اسلم بلوچ اشاں نہ منیت۔۔  استاد اسلم وتی نبشتانک: انتشار و حقائق۔۔ جنوری 21/2013، 2007ء سے مسلسل 2011ء تک وہ کوششیں جن میں دونوں تنظیموں کو یکجا کرنے کیلئے بی ایل اے کے ساتھیوں کی طرف سے پیش پیش رہنا اور بی ایل ایف کے ساتھیوں کا مکمل سرد مہری۔  بولان اتحاد کالءَ رجکٹ کنگا پد ہم پہ اتحادءَ یکوی یک شلءَ وار وار بی این ایم ءَ پہ اتحادءَ کال دیگ بوتگ، 2016 پہ اتحادءَ کمیٹی تہینگ بوتنت۔ اے کلیں کوشش درست منگ نہ بوتگ۔  پدا 2021 ءَ پہ اتحادءَ گوں بی این ایمءَ رابطہ کنگ بوت۔ ہما وھدا خلیل بلوچ بی این ایمءِ صدر ات۔ آرا گوں گال کنگ بوت، پدا رندا کہ ڈاکٹر نسیم بلوچ بی این ایمءِ چیرمین بوت، ایشرا ہم رابطہ کنگ بوت، پدا دوسال کپیءَ پد چہ بی این ایم نیمگا یک 12  نقاطی ڈرافٹ ایف بی ایم سرا دیم دیگ بوت. اے ڈرافتءِ پسہ ایف بی ایمءِ مرکزی سنگتانی گشگ انت کہ ہمے سالءِ اکتوبرءِ 11 دیم دیگ بوتگ۔ بلے تنی وھدی ھچ پسہ نیست۔ راجی جنز چہ یک ھوریں سیاسی قیادتیءَ انگت زبھر انت۔۔

قومی قوتءِ یک ھند نه بوؤگ سببءَ ما جہدءِ ہرچ تکءَ کمزور انت۔ نا شھیدانی فیملی آں سپورٹ دات کت کنیں نا دژمنءَ جوانیں ڈک جت کنیں نا سیاسی میدانءَ مھلوکءَ موبلائزد کت کنیں، نا عالمی قوتانی دلگوشءَ بلوچ جیڑہ ءِ نیمگا گور کت کنائینت کنیں۔ نا سفارتکاری بوت کنت۔

ادا باز بنیادی گپ ھست انت کہ مارا سرپد ہوگی انت۔ اول لبز “قومی جھد” جند سرپد بوگی انت، ایش مئے آجوئی جھدءِ بنیادیءِ فلسفہ انت همے لوٹءَ کنت کہ جھد “باید” لازمی انت کہ قومی لیولءَ ببیت۔

جھدءَ کہ قومی لیولءَ کارئے گڈا جنزءِ تہا درستیں “قومی قوت” یک ھند بیت. پمیشکا ما گشاں کہ “پارٹی پرستی” بنیاد سرا جھدءِ قومی قوتءَ را یک ھند کنگ نه بیت۔ نو “قومی جھد” کسی زاتی انفرادی شے نه انت، اے قومیگ انت۔نو جست ایش انت کہ  قومی جھد پرچا ریاستی دروشم زورگا نہ انت؟ اشی بنیادی سوب ہمیش انت کہ سلاھبندیں جہدءِ تہا لہتے ’’کرد‘‘ ھست انت کہ یکے چہ اینٹی سردارءِ کوہنیں نعرہءَ درآتک نہ کن انت۔ اے ذاتی اجارہ داریتءِ ھوس انت کہ ایشاں شھید غلام مھمد ءُ ھسا ظفر وڑیں ’’غیرسردار‘‘ ھم برداشت نہ بوت انت۔ نو اے aquation  ءِ میانءَ اے لشکر اتکگ ءُ جھدءِ سیاسی کردءِ دیم داشتگ۔ نو ہمے سیاسی کردءِ نہ بؤگءِ سوبءَ دنیاءِ دیما بلوچ آجوئی جنزءَ ترجمانی بؤگا نہ انت۔

وھدے کہ قومی جھد قومیگ اِنت گڈا  آزادی پسندیں قوتانی اپروچ هم قومی  بیت، پمیشکا چه بنداتءَ سنگت ایچ بی مریءَ کوھلوءَ بگر تاں مندءَ قومی اپروچ بنیاد سرا آجوئی پسندیں قوت کمک ءُ سپورٹ کتگ انت، نبشتانک آن رکارڈ ایر انت کہ سنگت ایچ بی مریءَ بار بار گوں اے لشکرءَ اتحادءِ کال داتگ داں روچ مروچی، ھچ رزلٹ در نه یتکگ۔  نو جیڑہ ایش انت قوم سک تکلیف انت لٹ ورگا انت، ہزارانی ھسابءَ بلوچ سیاسی ورکرز فوجی جیلانی تہا عزاب سگگا انت بلے بی این ایم لشکر ھچ اپڈیٹ دئیگا نئیں، ھنچو زانگ بیت گشے اے لشکرءِ تہا sense of Urgency نیست۔

اگن ھست انت گڈا آ کجام مجبوری انت کہ اے لشکر  قومی قوتءَ یک جاھ کنگءَ ہچ پیش رفت نه کنت؟ زھنءَ باز سوال کئیت اے تئی چونیں اپروچ ئے کہ تو جنزءِ گٹانی ضرورتاں پورہ کنگءِ بابتءَ پالیسی دات نہ کن ئے ؟  بجائے قومی قوتءَ یک ھند کنگا، قومی جنزءَ را یک طبقاتی لشکرءِ دروشم ئے دئیگ تئی نیت تو نه انت؟  آیا دگہ ڈنی قوتے ترا نئیلگا انت کہ تو یک سرئسیں قومی اتحادے نیمگا خودمختاریں قدمے بجن ئے؟۔ ہرکس کہ پہ اجارہ داری نیتءَ جھدءِ گاماں سست کنگا انت آ اے سرپد ببیت کہ بلوچ جمہوریت پسندیں قوت ئے، جمہوریت تہا ہرچ وڑیں مردمے ببیت، آزاد بلوچستانءِ یک سٹیزنیءِ حیثیتءَ آئی ووٹ یکے۔ آ تنھا یک ھلقہءِ نمائندگے شمار بیت۔

منی نظرءَ پہ بلوچ آجوئی جھدءِ سوبمندیءَ دو بنیادی معروضی حالت ضروری انت یکیں وھدءَ  دوئیں معروجی جاور وتی نقطہ عروجءَ سر ببنت گڈا optimal climax توام بیت. اولی معروضی جاور کہ آ وت بلوچءَ پیدا کنگ لوٹ ایت آ بلوچ جھد ءِ وتی تنظیمی structure انت کہ تنی وھدی وتی قوتءِ توامیءَ سر نہ بوتگ  پرچا کہ  سلاھ بندیں جھد چہ سیاسی واھندیءَ  political ownership زبھر انت۔ دومی ھنو معروضی حالت ایش انت کہ تئی قبضہ گیریں دشمن ہرچ تک و پہناتاں نزور و کمزور تراتگ۔ پنجابی شاونسٹ رجیم  مورل گراؤنڈ سرا بلوچ و پشتون جھدءَ پروشءِ نزیکءَ سر کرتگ۔

بلوچ آجوئی جھدءِ سامان کلی سرجم بوتگ انت۔ ھیربیارمری براھمدگ بگٹیءُ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ آجوئی جھدءِ رھشونی جھتءَ ہمیشاناں مورل اتھارٹی گون انت کہ مھلوک آجوئی جھدءَ شامل انت۔ اے زانگی انت کہ مزاھمتی جنزءِ پیدا کرتگیں کشت و کوش، ھون ھید، شد، لنگڑی، جیل گار بیگواہی جلاوطنی ءَ ھور جنزءِ مستریں  ultimate resultant آئی optimal climax بزان راجی آجوئیءِ دوا انت کہ تنی وھد سوبین نہ بوتگ۔ بلے پدا ہم یک حسابیءَ تو اشیءِ سک نزدیکءَ رستگ ئے بلے دومی حساب تو شہ اشیءَ سک دورئے۔ نزیک ئے پمیشکا کہ دو معروضی شرط پورہ بوتگ، تئی مھلوک پہ  گڈی چوگانءَ تیار انت، دنیا ہم پہ تئی سپورٹ تیار انت پہ اے شرطءَ کہ تئی جنزءِ ہیرارکی  organizational order عالمی  کچ ءُ کیلہانی مطابق منظم ببیت۔۔  دومی معروضی حالت کہ ھنو پیدا بوتگ آ تئی دشمنءِ نزورترگ انت۔ تئی دشمنءِ دروگانی بُن ٹنگ بوتگ۔ سرء پہ پنڈگا کپتگ۔ گڈی کار پہ کنگا کہ پشت کپتگ، آ تئی متبادل ریاستی قوتءِ تہا وتا تشکیل دئیگ انت، پریشی واستا ترا راکٹ سائنس وانگی نہ انت۔ تنھا یک نمائندہ قومی کونسل ئے ٹہینگی انت آئی تہا کلیں آجوئی پسندیں جھدکارانی نمائندگی ببیت، چہ ہمے کونسلءَ  یک governing body ٹہینگی انت۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...