Friday, February 24, 2017

چین کا بلٹ اور روڈ کا عظیم منصوبہ مگر درپیش خطرات و اندیشے! برنٹ جونسٹن

ترجمہ آرچن بلوچ

چائنا کی پرائم ٹی وی چینل CCTV چینل کے سائٹ میں  لکھی گئی اس آرٹیکل کے مطابق چائنا کی  بلٹ اور روڈ کے عظیم منصوبے کو خطرات و اندیشے درپیش ہیں۔  مضمون نگار، برنٹ جونسٹن کا کہنا ہے کہ چینی صدر ژی  جی پنگ کا قدیم شاہراہ ریشم کو ازسرنو تعمیر کرنے کا ویژن دنیا کی معیشت کیلئے ایک گیم چینجرکے طور پر متعارف ہوئی ہے۔ قدیم زمانے میں چائنا کی معیشت میں اس شاہراہ  کا بڑا کرداررہا ہے۔  لیکن اسے کئی خطرات درپیش ہیں،
 منضمون نگار کا کہنا ہے کہ شاہراہ ریشم کی معاشی پٹی اور اکیسویں صدی کی سمندری شاہراہ ریشم  Marine time Road  Silk   کے بڑے منصوبے، وسیع سرمایہ کاری، انفراسٹکچر، محفوظ سمندری تجارتی راستے ایسے منصوبے ہیں جس سے چائنا کی معیشت کیلئے  نئی عالمی تجارتی مراکز کھل جاتے ہیں۔ چائنا کی ان مصوبوں بلٹ اور روڈ Belt & Road  سے دنیا کی تمام ملکوں کے معیشت کو بڑھاوا ملے گی اس سے کروڑوں خاندانوں کو غربت کی چنگل  سے نجات ملے گی۔  مگر اس تمام کو انجام دینا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہاہے۔ تجویز شدہ شاہراہ ریشم کئی ملکوں میں ہوتا ہوا گزرتا ہے جہاں مختلف علاقے، کلچر، زبانیں اور اعتقادات ہیں۔ ان تمام مختلف الخیال لوگوں میں قدرمشترک ڈھونڈنا اور قبولیت حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔
چائنا پاکستان اکنامکس کوریڈور  CPEC  کے منصوبے سے پتہ چلتا ہے کہ Belt & Road کو کس طرح کی امکانی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سی پیک اس منصوبے کا سب سے پہلا پڑا امتحان ہے اس  تمام منصوبے کی مستقل کامیابی کیلئے اس کا مطالیہ کرنا بہت ضروری ہے۔ توقعات ہیں کہ چائنا گوادرپورٹ اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کو بہت فوائد حاصل ہونگے لیکن اس تمام کو غیرمستحکم کرنے کیلئے کئی خدشات ہیں۔  
سب سے بڑا خطرہ بغاوت کاروں سے ہے، جن میں طالبان، داعش اور بلوچستان کے لوکل آبادی شامل ہے۔ سنٹرل ایشیا اور پاکستان کے گرد و نواع میں سیکیورٹی کے دگرگوں حالات نے بہت سے وسیع پیمانے پر خطرات پیدا کیئے ہیں۔ انہی گروہوں کی سنجیدہ خطرات سے پورٹ، چائینیز شہری اور کارگو محفوظ نہیں ہیں جوکہ انہی علاقوں سے گزرتے ہیں جن پر ان کا کنٹرول ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ سی پیک کا روٹ انہی علاقوں میں گزرتی ہے جہاں پر انڈیا کا دعوا ہے یہ علاقے انہی کے ہیں۔ چین کو چاہیے کہ وہ انہیں رکاوٹوں کے بارے سبق سیکھے اور آئندہ کی پیش رفت کیلئے انہیں بطورخطرے کی علامت استعمال کرے۔
 خوش قسمتی سےچاہنا اور پاکستان   پہلے ہی دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں لیکن اگر ان دونوں ملکوں کے حکومتوں نے ان مزکورہ خطرات کے اثرات کو محدود نہیں کیا تو گوادر پورٹ اور سی پیک کے کامیابی کے امکانات معدوم ہوجائینگے۔ اگر دونوں ملکوں کے حکومتیں انہی معاملات کودرست کرنے میں کامیاب نہیں ہوے اور سی پیک محدود رہا تو یہ دونوں ملکوں کےلیئے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ بیجنگ کو چاہیئے کہ متبادل اپروچ کے ساتھ سی پیک کو آئیندہ نسلوں کے لیئے محفوظ بنائے تاکہ صدر ژی کی اکسویں صدی کا جدید منصوبہ سمندری شاہراہ ریشم Silk/Maritime Road  کا خواب تعبیر ہوسکے۔

برنٹ جونسٹن آسٹریلیا کی مقائری یونی ورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی سیکیورٹی اسکالر کا ماسٹرکا طالب علم ہے
Brant Johnston, master student of International 
Security Scholar at Macquarie Univerisity, Australia


http://english.cctv.com/2017/02/23/ARTIClec36fGvOQST7J4Zjme170223.shtml#.WK8ZlUpsAUI.twitter 


کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...