Saturday, July 25, 2015

پارٹی پالٹکس اور جامع قومی پروگرام

جب بلوچ نیشنل فرنٹ کے چتری تلے تمام نئے آجوئی پسند پارٹی و تنظیمیں جمع ہوے تو بقول سنگت بزگرگٹ کے اسٹیج پر تقریر کرنے کیلئے بی آر پی، بی ایس او اور بی این ایم کے دوستوں کے درمیان ممقابلہ بازی شروع ہوئی. اور ٹانگوں کی کینچ تھانی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ بیچارہ بلوچ نیشنل فرنٹ اس کی سکت کو برداشت نہ کرسکی اور ٹوٹ گیا.
اس تمام غیر سنجیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوے سنگت حیربیار نے قومی سوچ کے تحت قومی جہد کے بطور لازمی جز ایک جامع قومی پروگرام کی تجویز فکری دوستوں کو دی. نتیجاً آزاد بلوچستان کی چارٹر کی شکل میں جامع قومی پروگرام کی تشکیل ہوئی اور اس جامع پروگرام کو تمام آزادی پسندوں قوتوں حتی اختر مینگل تک کو توسیع دی گئی مگر افسوس محدود سوچھ رکھنے والے ازادی پسند اس کی اھمیت کو جان نہ سکے اور پارٹی بازی کی سیاست کے عینک سے اسے بھونڈے آنداز میں مسترد کردیا.
یاد رہے اس چارٹر کو خان کلات کو بھی پیش کیا گیا. اس نے اسے مسترد تو نہیں کیا مگر اسے ابھی تک رسمی صورت میں قبول بھی نہیں کیا.
فیس بوک میں اکثر و بیشتر دوست اتحاد و تفاق کی باتیں کیا کرتے ہیں. تو عرض ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں بغیر کسی جامع قومی پروگرام کے کامیاب نہیں ہوسکتیں.
میرا مشورہ یہی ہے کہ حالی حولی اتحاد کی باتوں پر زور دینے کے بجائے تمام سیاسی ورکرز اپنے اپنے پارٹی لیڈروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بلوشستان آزادی کی چارٹر کو پارٹی اداروں میں زیر غور لائیں تاکہ مستقل قومی پروگرام کے بنیاد پر قومی آزادی کی جہہد کا راستہ استوار ہو.
چارٹر اب بھی قومی سوچ کے ٹیبل پر موجود ہے.

Wednesday, July 15, 2015

خطے کی جیوپالٹکس میں نئی تبدیلیاں اور بلوچ مزاحمت

ایران اور باقی مغربی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معائدے کے بعد  مغربی جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیوپالٹکس یکسر تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے اور پاکستان کیلئے ایران گیس پائپ لائن پروجکٹ کے خارجی مخالفت اور رکاوٹیں اب  نہ رہیں۔ سوائے اندرونی بلوچ مزاحمت کے۔

لیکن پاکستان کو اب بلوچستان سے بہ یک وقت دو بڑے منصوبوں کو کامیاب کرانے کی چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک چائنا پاکستان اکنامیک کوریڈور اور دوسرا ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی منصوبہ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی ناکامی کی ایک وجہ امریکہ اور سعودی عرب کی مخالفت ہے۔۔ لیکن چائنا کی ڈالروں کی بارش کی وجہ سے اب پاکستان کو نہ سعودی عرب کی دوستی کا لحاظ رہا اور نہ ہی امریکی پابندیوں کا ڈر اور اگر ایک رکاوٹ ہے تووہ ہے بلوچ مزاحمت۔

دنیا کے سامنے  پاکستان کو بلوچستان پر اپنی رٹ کو قائم کرنے کی ایک نئے صورتحال کا چیلنج پیش آرہا ہے۔  پہلے تو سعودی عرب کی ناراضگی اور امریکی پابندی کا ڈرکا بہانہ تھا۔ اب انہیں دوںوں منصوبوں کو کامیاب کرانے کیلئے بلوچ مزاحمت کا سامنا ہے اور اسے حتم کرنے کیلے اسے مزید سفاکیت کرنا ہوگا۔

اسی طرح بلوچ مزاحمت کو بھی پاکستان کی دونوں بڑے منصوبوں کو ناکام بنانے کا چیلینج بھی ایک نئی صورتحال پیدا کرچکی ہے۔ موجودہ ابترغیرسیاسی صورتحال کی وجہ سے بلوچ مزاحمت اس حالت میں نہیں کہ وہ موجودہ  لیول سے آگے بڑے۔ اور اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہا تو آگے جاکے اسے برقرار رکھنا بھی بہت  مشکل ہوگا۔  
 اب اس لیول کی بلوچ مزاحمتی تحریک کو حتم کرنے کیلئے پاکستان کو چائنا کا کمک تو پہلے ہی حاصل ہے لیکن روس اور امریکی فوجی امداد و کمک حاصل کرنے کی بہت سے سفارتی تدبیروں اور منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان چائینا کی مدت سے  شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ 

 شنگائی کوآپریشن آرگنائیشن کے سمیٹ کے سائڈلائن میں مودی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوے نواز شریف نے بہت سے سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں وہ مودی کو اس بات پر راضی کرچکے ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر فوجی ٹنشن کو کم کرے تاکہ پاک فوج افغانستان کے ساتھ لگے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی حمل و نقل پر روکھ تام کرسکے۔ پاکستان اب اپنی خارجی معاملات  میں بہت سے تبدیلیاں لاچکی ہے۔ اور وہ تبدیلیاں دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات  کے مطابق ھم آہنگ ہوتے نظر آرہے ہیں! ان تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ ہے کہ اب ایس سی او کا ممبر بننے کے بعد پاکستان افغانستان میں بھارتی مفادات کی وجود کو قبول کرچکی ہے۔

 طلالبان کی طرف سے پاکستان کو سیکیورٹی حدشے کا ڈر کبھی نہیں تھا۔  طالبان کو افغان  مزاکرات میں شمولیت پر رضامند کروانے کے بعد  پاکستان اپنی سلامتی کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی صورت میں دیکھ رہاہے۔  کیوں کہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائیشن تجارت سے زیادہ ایک سییکیورٹی تنظیم ہے ۔

 اب اس تمام صورتحال کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضورت ہے۔ بلوچ مزاحتمی تحریک کے منصوبہ سازوں کیلئے حالات غیرمتوقع ہوچکے ہیں! بلوچ آزادی پسند لیڈر حیربیار نے گزشتہ دنوں ایران ڈیل کے حوالے عالمی رہنماؤں کو تنبہ کرتے ہوئے کہا ایران کے ساتھ نیوکلر معاہدہ ایک بہت بڑا رلیف ہوگا اوروہ اسے بلوچ کے خلاف استعمال کریگی۔

قومی سوچ  قومی جہد کے فارمولے کے تحت  قومی تحریک کے اندروںی معاملات کی درستگی اب وقت کی ضرورت ہے۔ اب جیت کیلئے جنگ لڑنی ہوگی۔ ورنا مزاحمت کی جنگ  ہارکی امکان کو رفع نہیں کرسکتا!

Monday, July 13, 2015

مزاحمتی تحریک کا مکران مورچہ ایک المیہ!

ارچن بلوچ 
___________________________________

 پچھلے دو ہفتوں میں بی ایل ایف کے سابقہ کمانڈر فضل حیدر کے ہاتھوں  اکبر زامرانی کا ساتھیوں سمیت قتل اور زخمی ہونا اور پھر فضل حیدر کا بی ایل ایف کے ہاتھوں  مبینہ دھوکہ دہی سے قتل ایک ایسا المیہ ہے کہ جس سے پتا چلتا ہے کہ مزاحمتی تحریک کی مکران کا مورچہ کا  کس ابتر صورت حال  میں ہے۔  تمپ گومازی  بلنگور سے لیکر بالگتر حوشاب تک اور پھر زامران و بلیدہ تک مزاحمت کا چہرہ داغ دار ہوچکی ہے۔ 

تاہم یہ ماننا پڑھتا ہے کہ مزاحمتی تحریکوں میں ایسے واقعات ضرور  ہوتے ہیں مگر وہ یکا دکا ہوتے ہیں۔ اور پھر انہیں سبھالا جاتا ہے لیکن مکران کے مورچے میں تو آوے کا آوا بھگڑ چکا ہے۔ 

  مکران کے مورچے سے پچھلے کئی ایسے واقعات کا تعلق  براہ راست ایسے کئی کمانڈروں کی غیر زامہ دارانہ رویوں سے ہے جس  سے نہ صرف تحریک کی بدنامی ہوئی  ہے بلکن عوام میں بھی تحریک کے کامیابی کے بارے شکوک و شہبات جنم لے چکلے ہیں۔ 

 اور یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بی ایل ایف کی قیادت یا تو انتہاہی نا اھل و نالائق ہے یا اپنی پچھلی غلطیوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں سرائیمگی  اور گھبراھٹ کی شکار ہوچکی ہے۔ اور  ہر غلط پرغلطی کر رہا ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ بی ایس او، بی این ایم اور ڈیاسپورہ بلوچ کا سپورٹ کے باوجود ایک مکران کا مورچہ  بی ایل ایف سے سنبھالا نہیں جارہا! 


بی ایل ایف مزاحمتی تحریک کا ایک جز ہے۔ یہ پچھلے دس سالوں سے مکران میں سرگرم ہے۔ مگر مکران سے اگے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔  اور اس کی قیادت کی پچھلے دس سالوں کی تمام سیاسی فیصلے بھی قومی سوچ کے برعکس رہے ہیں!۔ 


Sunday, July 12, 2015

دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے مشغول کرنے کی ضرورت

پاکستانی مقدرہ قوت پنجابی اور پشتون عام عوام کے زھنوں میں اسلامی نظریات کو بنیاد بناکر یہ بات بٹھا چکے ہیں کہ بلوچ اسلام کے قلعے پاکستان کو اسرائیل اور انڈیا کے مدد سے توڑنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان عالم اسلام کا واحد اٹمی قوت ہے. اور.دنیا کو بھی ایک حد تک باور کراچکی ہے کہ بلوچستان میں جو نیچے درجے کی شورش جاری ہے وہ انڈیا کی پیدہ کردہ پروکسی وار ہے جو کشمیر کی مسئلہ کو دبانے کی خاطر شروع کی گئی ہے.
جب کہ اس کے برعکس بلوچ سیاسی کارکنوں نے روایتی انداز میں سیاسی وسماجی پلیٹ فارم کے زریعے مظاہروں اخباری بیانات اور انسانی حقوق کے اکٹیویزم کے تحت اپنا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے.
اڈورڈ سعید نے امریکہ میں فلسطین کی کیس کو اکیڈمک انٹلکچولزم کے زریعے اسرائیل اور باقی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی جس کے نتائج یوں نکلے کہ دنیا کو فلسطین کی کیس کو سمجھنے میں آسانی ہوئی اور دنیاکے تمام ممالک نے پی ایل او اور یاسر عرفات کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا. مگر خود تحریک کے اندر انتہا پسندی نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا.
اب بلوچ قومی تحریک دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے engaged کرنے میں ناکام رہا ہے.

دیوار کج کا حدشہ

آرچن بلوچ 
___________
کل میں نے بنگلادیش کی ناکام جمہوری نظام کے تناظر میں بلوچستان کی مستقبل سیاسی نظام کے حوالے دو مضبوط جمہوری پارٹیوں کی ضرورت پرزور دیا تھا کیوںکہ بنگلادیش میں محض آزادی کے تین سال بعد تالع آزما فوج نے اورٹیک کیا اور مارشلا کی طویل تاریک دور میں چلاگیا اس کی بنیادی وجہ عوامی لیگ کی یک جماعتی پارٹی سیسٹم تھی۔ بنگلادیش آج بھی سیاسی استحکام کیلئے ترستی ہے۔ اب بات کا ادراک کرتے ہوے میں نے لکھا تھا کہ
“لازوال قربانیوں کا ماحاصل بلوچستان کی قومی آزادی کے بعد دوسرا سب سے بڑا حاصل دو ایسے مضبوط جمہوریت پسند اور اصول پسند پارٹیوں کا قیام ہو جن میں قومی آزادی کی اصل مقصد یعنی عوام کی حکمرانی کو یقینی بنائے جہاں سماجی انصاف کا بول بالا ہو”.
لیکن کچھ دوستوں نے میرے اس حدشے کے حوالے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوے اسے بےجا کہا۔ خاص کر سنگت نودبندگ بلوچ نے براہوئی ضرب مثل کا یہ کومنٹ - اسٹ ءِ لمہ الو ہوغاکہ بلہ کے ۔ دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کہ وہ بلوچستان کے مستقبل کے حوالے کوئی حدشہ نہیں رکھتے۔۔ 
بنگلادیش کی مختصر آزادی کی تاریخ اور بعد کے پے درپے کودیتاؤں کی وجہ جاننے کے بعد آدمی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ آزادی کے بعد فوراً وہاں یک جماعتی نظام مسلط ہوی اوریہ بے لگام استبدادی قوت کی شکل میں تبدیل ہوتی گئی۔ عوامی لیگ نے Bangladesh Krishak Sramik Awami League کے تحت ایک اجارہ دارانہ پارٹی سیسٹم مسلط کردی اس سے بدانتظامی اور کرپشن کی بازار گرم رہی۔ شیخ مجیب کی سربراہی میں قائم BAKSAL کے تحت قوم کے تمام طقبے اور تنظیمیں اس بات کے پابند تھیں کہ وہ نشنل پارٹی یعنی عوامی لیگ میں شامل ہوں ورنا اس کے بغیر کوئی بھی شخص پالمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ 
حالانکہ 1972 میں آزادی کے بعد بنگلادیش کی آئین عوامی لیگ کے پارٹی منشور سیکولر اقدار، قومپرستی، سوشلزم اور جمہوری رویات کی بنیاد پررکھی گئی تھی۔
لیکن اپوزیشن ( دوسری پارٹی ) کی نہ ہونے کی وجہ سے جبر کی نظام پنپنے لگی۔ اس سے منفی قوتوں کو بھی اقتدار پر آنے کی معقول جواز فراہم ہوگئی. اسلیے اس وقت فوج ہی ایک منظم ادارہ تھا جس نے جنرل ارشاد کی سربراہی میں اپوزیشن کی جگہ لینے کا فیصلہ کرلیا. اقدار پر آتے ہی اس نے شیخ مجیب کا فیملی سمیت بے دردی سے قتل کیا. عوامی لیگ پارٹی کے متبادل کے طور بنگلادیش نشنل پارٹی BNP کو تشکیل دیاگیا جس میں پاکستان کے حمایتی مسلم لیگی عناصر سے لیکرمزھبی عناصر خاص کر جماعت اسلامی اور عوامی لیگ سے ناراض دوسرے رہنما شامل کئے گئے تاکہ عوامی لیگ کی جائز حیثیت حتم ہوجاے۔ 
فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ - خشت اول چون نهد معمار کج تا ثریا می رود دیوار گج - اگر آزادی سے پہلے یا بعد میں دو مضبوط پارٹیاں قائم ہوتیں اور بنگلادیشی عوام کی نمائندگی کرتیں تو وہاں کوئی تالع آزما فوجی جنریل عوامی اقتدار پرہرگز مسلط نہیں ہوتا۔ 
بلوچ نفسیاتی طور پر سیکولر تو ہیں مگران کی سرشست میں hegemony یعنی اجارہ داریت کی رجہان بھی شامل ہے یعنی دوسری الفاظ میں غیر جمہوری رویہ! یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر چانس ملا تو کسی شوان یا شکاری کا بیٹا بھی بڑا میرو معتبر، کہودا یا ٹکری کہلوانے کی خواھش کا اظہار ارادی یا غیر ارادی طور پر کرتا رہتا ہے۔ 
میرے حیال میں ایسی ہی حدشات اور منفی رجہانات کے ادراک کی بنیاد پر ہی سنگت حیربیارمری نے اپنی سربراہی میں قومی سوچ کے تحت فکری سنگتوں کے ساتھ بلوچستان آزادی کی چارٹرکو ترتیب دیکر سحیح سمت کا تعین کیا ہے۔ تاکہ استبدادیت کا تدارک ہو۔ 
بلوچستان کے عظیم فرزند لازوال قربانیاں اس امید پر دے رہے ہیں کہ ان کی قوم کی مستقبل محفوظ ہو شرف و آبرو بحال ہو۔ اب جبکہ تمام تر جہد و قربانیاں روشن مستقل کی امید پر وابسطہ ہیں تو کیوں نہ مستقبل کے امکانی حدشات کے حوالے بھی سوچھا نہ جائے؟ اس کی تدارک کیلئے ابھی سے بندوبست کیوں نہ کی جائے تاکہ دیوار کج کا حدشہ نہ رہے اور میرے حیال میں دو پارٹی سیسٹم اس کی بہترین حل ہے۔۔

Friday, July 10, 2015

ڈاکٹر مالک کی خان کلات سے متوقع ملاقات


مجھے نہیں لگتا کہ خان کلات ڈاکٹر مالک سے ملاقات کریگی ! کل خان کلات نے فیس بک پر اپنے مسکراتے ہوے چہرے کو update کرتے ہوئے اپنے مخالفیں کو یہ پیغام دیا کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوگا! اسی تناظر میں نے کل یہ لکھا کہ پاکستان کی بڑی کوشش ہے کہ اپنے پالے ہوے گماشدوں کے زریعے خان کلات کی اسٹیٹس کو متنازہ کرواے تاکہ اس کے زریعے قومی تحریک کی قانونی حثیت و اھمیت دنیا کے مقتدر قوتوں کے نظروں سے کم ہو! کیوں کہ ایسی کوششیں کئی دفعہ پہلے بھی ہوچکی ہیں لیکن خان کلات اپنی بلوچی وعدے پر اٹھل رہا ہے۔۔ ا
اور ٹویٹر پر بھی میں نے یہ لکھا کہ
Pakistan's foxy tricks to dispute ‪#‎KhanKalat‬ status among pro freedom forces are deemed to failure! it only strengthens him all the more
مقصد یہ کہ پاکستان کے یہ تمام ٹوٹکے ناکام ہونگے اور خان کلات کی اعتبار نہ صرف عوام کی نظروں میں بلکن دنیا کے ان تمام قوتوں کے پاس بھی اور زیادہ بڑھے گی جو یہ توقع رکھتے ہیں کہ بلوچ قیادت سنجیدگی سے اپنی قومی کیس دنیا کے سامنے پیش کرینگے۔۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...