Wednesday, July 15, 2015

خطے کی جیوپالٹکس میں نئی تبدیلیاں اور بلوچ مزاحمت

ایران اور باقی مغربی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معائدے کے بعد  مغربی جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیوپالٹکس یکسر تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے اور پاکستان کیلئے ایران گیس پائپ لائن پروجکٹ کے خارجی مخالفت اور رکاوٹیں اب  نہ رہیں۔ سوائے اندرونی بلوچ مزاحمت کے۔

لیکن پاکستان کو اب بلوچستان سے بہ یک وقت دو بڑے منصوبوں کو کامیاب کرانے کی چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک چائنا پاکستان اکنامیک کوریڈور اور دوسرا ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی منصوبہ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی ناکامی کی ایک وجہ امریکہ اور سعودی عرب کی مخالفت ہے۔۔ لیکن چائنا کی ڈالروں کی بارش کی وجہ سے اب پاکستان کو نہ سعودی عرب کی دوستی کا لحاظ رہا اور نہ ہی امریکی پابندیوں کا ڈر اور اگر ایک رکاوٹ ہے تووہ ہے بلوچ مزاحمت۔

دنیا کے سامنے  پاکستان کو بلوچستان پر اپنی رٹ کو قائم کرنے کی ایک نئے صورتحال کا چیلنج پیش آرہا ہے۔  پہلے تو سعودی عرب کی ناراضگی اور امریکی پابندی کا ڈرکا بہانہ تھا۔ اب انہیں دوںوں منصوبوں کو کامیاب کرانے کیلئے بلوچ مزاحمت کا سامنا ہے اور اسے حتم کرنے کیلے اسے مزید سفاکیت کرنا ہوگا۔

اسی طرح بلوچ مزاحمت کو بھی پاکستان کی دونوں بڑے منصوبوں کو ناکام بنانے کا چیلینج بھی ایک نئی صورتحال پیدا کرچکی ہے۔ موجودہ ابترغیرسیاسی صورتحال کی وجہ سے بلوچ مزاحمت اس حالت میں نہیں کہ وہ موجودہ  لیول سے آگے بڑے۔ اور اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہا تو آگے جاکے اسے برقرار رکھنا بھی بہت  مشکل ہوگا۔  
 اب اس لیول کی بلوچ مزاحمتی تحریک کو حتم کرنے کیلئے پاکستان کو چائنا کا کمک تو پہلے ہی حاصل ہے لیکن روس اور امریکی فوجی امداد و کمک حاصل کرنے کی بہت سے سفارتی تدبیروں اور منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان چائینا کی مدت سے  شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ 

 شنگائی کوآپریشن آرگنائیشن کے سمیٹ کے سائڈلائن میں مودی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوے نواز شریف نے بہت سے سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں وہ مودی کو اس بات پر راضی کرچکے ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر فوجی ٹنشن کو کم کرے تاکہ پاک فوج افغانستان کے ساتھ لگے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی حمل و نقل پر روکھ تام کرسکے۔ پاکستان اب اپنی خارجی معاملات  میں بہت سے تبدیلیاں لاچکی ہے۔ اور وہ تبدیلیاں دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات  کے مطابق ھم آہنگ ہوتے نظر آرہے ہیں! ان تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ ہے کہ اب ایس سی او کا ممبر بننے کے بعد پاکستان افغانستان میں بھارتی مفادات کی وجود کو قبول کرچکی ہے۔

 طلالبان کی طرف سے پاکستان کو سیکیورٹی حدشے کا ڈر کبھی نہیں تھا۔  طالبان کو افغان  مزاکرات میں شمولیت پر رضامند کروانے کے بعد  پاکستان اپنی سلامتی کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی صورت میں دیکھ رہاہے۔  کیوں کہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائیشن تجارت سے زیادہ ایک سییکیورٹی تنظیم ہے ۔

 اب اس تمام صورتحال کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضورت ہے۔ بلوچ مزاحتمی تحریک کے منصوبہ سازوں کیلئے حالات غیرمتوقع ہوچکے ہیں! بلوچ آزادی پسند لیڈر حیربیار نے گزشتہ دنوں ایران ڈیل کے حوالے عالمی رہنماؤں کو تنبہ کرتے ہوئے کہا ایران کے ساتھ نیوکلر معاہدہ ایک بہت بڑا رلیف ہوگا اوروہ اسے بلوچ کے خلاف استعمال کریگی۔

قومی سوچ  قومی جہد کے فارمولے کے تحت  قومی تحریک کے اندروںی معاملات کی درستگی اب وقت کی ضرورت ہے۔ اب جیت کیلئے جنگ لڑنی ہوگی۔ ورنا مزاحمت کی جنگ  ہارکی امکان کو رفع نہیں کرسکتا!

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...