جب بلوچ نیشنل فرنٹ کے چتری تلے تمام نئے آجوئی پسند پارٹی و تنظیمیں جمع ہوے تو بقول سنگت بزگرگٹ کے اسٹیج پر تقریر کرنے کیلئے بی آر پی، بی ایس او اور بی این ایم کے دوستوں کے درمیان ممقابلہ بازی شروع ہوئی. اور ٹانگوں کی کینچ تھانی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ بیچارہ بلوچ نیشنل فرنٹ اس کی سکت کو برداشت نہ کرسکی اور ٹوٹ گیا.
اس تمام غیر سنجیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوے سنگت حیربیار نے قومی سوچ کے تحت قومی جہد کے بطور لازمی جز ایک جامع قومی پروگرام کی تجویز فکری دوستوں کو دی. نتیجاً آزاد بلوچستان کی چارٹر کی شکل میں جامع قومی پروگرام کی تشکیل ہوئی اور اس جامع پروگرام کو تمام آزادی پسندوں قوتوں حتی اختر مینگل تک کو توسیع دی گئی مگر افسوس محدود سوچھ رکھنے والے ازادی پسند اس کی اھمیت کو جان نہ سکے اور پارٹی بازی کی سیاست کے عینک سے اسے بھونڈے آنداز میں مسترد کردیا.
یاد رہے اس چارٹر کو خان کلات کو بھی پیش کیا گیا. اس نے اسے مسترد تو نہیں کیا مگر اسے ابھی تک رسمی صورت میں قبول بھی نہیں کیا.
اس تمام غیر سنجیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوے سنگت حیربیار نے قومی سوچ کے تحت قومی جہد کے بطور لازمی جز ایک جامع قومی پروگرام کی تجویز فکری دوستوں کو دی. نتیجاً آزاد بلوچستان کی چارٹر کی شکل میں جامع قومی پروگرام کی تشکیل ہوئی اور اس جامع پروگرام کو تمام آزادی پسندوں قوتوں حتی اختر مینگل تک کو توسیع دی گئی مگر افسوس محدود سوچھ رکھنے والے ازادی پسند اس کی اھمیت کو جان نہ سکے اور پارٹی بازی کی سیاست کے عینک سے اسے بھونڈے آنداز میں مسترد کردیا.
یاد رہے اس چارٹر کو خان کلات کو بھی پیش کیا گیا. اس نے اسے مسترد تو نہیں کیا مگر اسے ابھی تک رسمی صورت میں قبول بھی نہیں کیا.
فیس بوک میں اکثر و بیشتر دوست اتحاد و تفاق کی باتیں کیا کرتے ہیں. تو عرض ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں بغیر کسی جامع قومی پروگرام کے کامیاب نہیں ہوسکتیں.
میرا مشورہ یہی ہے کہ حالی حولی اتحاد کی باتوں پر زور دینے کے بجائے تمام سیاسی ورکرز اپنے اپنے پارٹی لیڈروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بلوشستان آزادی کی چارٹر کو پارٹی اداروں میں زیر غور لائیں تاکہ مستقل قومی پروگرام کے بنیاد پر قومی آزادی کی جہہد کا راستہ استوار ہو.
میرا مشورہ یہی ہے کہ حالی حولی اتحاد کی باتوں پر زور دینے کے بجائے تمام سیاسی ورکرز اپنے اپنے پارٹی لیڈروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بلوشستان آزادی کی چارٹر کو پارٹی اداروں میں زیر غور لائیں تاکہ مستقل قومی پروگرام کے بنیاد پر قومی آزادی کی جہہد کا راستہ استوار ہو.
چارٹر اب بھی قومی سوچ کے ٹیبل پر موجود ہے.
No comments:
Post a Comment