بھائی میرے، بات
سیدھی سی ہے. آپ قومی تحریک کو پارٹی بازی کی عینک سے کیوں دیکھتے ہو؟ لبز "قومی
تحریک" اور "قومی سوچ " کیا معنی رکھتے ہیں اور کس سیاسی رویہ کی متقاضی
ہیں؟
جبکہ حیربیار کے
فکری ہمراہ قومی سوچ کو کسوٹی مان کر فیصلہ کرتے ہیں. اور جہاں جہاں آپ کے عمل اور
فیصلے قومی سوچ کے برخلاف ہوں تو وہاں منطق و دلیل کے ساتھ آپ کی غلطیوں کی نشاندہی
کی جاتی ہے.
اور یہ سلسلہ مثبت
سوچ کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتا ہے کیوں کہ سیاسی سماج ایک جامد شے نہیں جہاں تبدیاں رونما
نہ ہوں، بلکن برعکس اس کے تبدیلیوں کے ساتھ پالسیاں بدلتے رہتے ہیں، اس سلسلے میں موافق
حالات خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور پیدا بھی کیے جاسکتے ہیں۔ قومی مفادات کے حق میں
مستقل بینی کرتے ہوئے فیض رساں فیصلے بھی کیے جاتے ہیں۔ مگراگر فیصلے غلط ہوں، اوران
پر متواتر اصرار کیاجائے، جس طرح کہ آج ہورہا ہے اور بلوچ قوم بہت سے غلط فیصلوں کی
وجہ سے غیرضروری عزاب میں مبتلا ہے تو ایسے میں مثبت تنقید کیے جاتے ہیں ۔۔۔
یہ ایک حقیقت ہے
کہ زوراک کی سفاکیت و معاشی تنگدستی سےبیزار ستم رسیدہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل
میڈیا میں حاص کر فیس بک میں روزانہ اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے رہتے ہیں موجودہ تنقیدی
سلسلے کو بند کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن تنقید نہ کرنے کے حق میں معیاری لکھنے والوں
کی تعداد بہت کم ہے جوکہ پرزور دلیل بھی دے نہیں سکتے، یہ ایک افسوسناک امر بھی ہے۔
ان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ تحریک کے حوالے سابقہ دور میں کئے گئے تمام منفی
فیصلوں پر سوال اٹھانے سے کتھرا رہے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف اُن
کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جو کچھ سابقہ دور میں ہوا ہے اور جو اب ہو رہا ہے ان
کے بارے کچھ مت کہو.یعنی تمام معاملات کو جوں کا توں رہنے دو اور آگے بڑھو. سابقہ ادوار
کے تمام فیصلے اب بھی برقرار و قائم ہیں، ان پر اب بھی بی این ایم، بی ایس او، بی آر
پی، بی ایل ایف، بی آر اے وغیرہ عمل پیرا ہیں !!
لیکن ہم سمجھتے ہیں
کہ جو کچھ پہلے ہوا اور اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب پارٹی بازی کی بنیاد پر ہوے ہیں.
اسی غیر سیاسی رویہ نے قومی اداروں کو بننے نہیں دیا.
اب قومی تحریک کو
صرف اور صرف عام ورکروں کے سروں کے قربانی کے زور پر تو کامیاب نہیں کروایا کا سکتا.
تحریک کو کامیاب
سے ہمکنار کرانے کیلئے چھ مضبوط اداروں کی ضرورت ہے.
پہلا ۔۔ ایک مشترکہ
سیاسی ادارہ جوکہ مجموعی طور پر قومی تحریک کا سیاسی چہرہ ہو.
دوسرا ادارہ ۔۔۔
وہ قومی عسکری ادارہ جس کی تشکیل رسمی طور پر غیر سیاسی ہو. اسکی اولین و آخری زمہ
واری دفاعی حربی و ضربی صلاحیتوں سے لیس ملکی دفاع ہو.
تیسرا ادارہ ۔۔۔
دنیا کے دوسرے مہزب اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے قومی مفادات کی تحفظ کیلئے
سیاسی مداخلت سے پاک خارجہ امور کا ادارہ قائم کرنا ہوگا اور اسی کے زریعے سفارت کاری
کے امور چلانے ہونگے.
چوتھا ادارہ ۔۔۔
قومی نشریاتی اور میڈیا کے ادارے ہوں جہاں تعصب سے پاک اور غیرجانب دار جرنلزم کی فروغ
ہو۔۔
پانچواں اور چھٹا
ادارے انصاف کے فراہمی کے ادارے اور عوام کو معاشی رلیف دینے کے مراکز ہونگے ، یہ دونوں
ایسی صورت میں ممکن ہونگے جب سیاسی اور عسکری ادارے مضبوط ہونگے۔
لیکن افسوس کے ساتھ
کہنا پڑھتا ہے 15 سالہ قومی جہد پارٹی بازی کی سیاست کی وجہ سے مزکورہ بالا اداروں
کوقائم کرنے سے قاصر رہا۔۔
حرف آخر۔۔ شاید کسی
کے زھن یہ سوال اٹھتا ہو کہ ہم تو غلام ہیں تو ایسے میں قومی ادارے کیسے بن سکتے ہیں۔
تو جناب اگر نیتیں صاف ہوں اور زھن قومی ہو، پارٹی بازی رکاوٹ نہ بنے تو بلوچ قومی
اتنی صلاحتیں ہیں کہ وہ ہفتوں میں نہیں مہینوں میں موجودہ دستیاب وسائل کے ساتھ بلوچستان
کی نمائندہ قومی حکومت ضرور قائم کرسکتے ہیں۔۔ سپورٹ اور خام مال کی اتنی فراوانی ہے
کہ جس کی تصور کرنا بھی محال ہے۔ بھڑک بازی کی احساس دامن گیر ہونے کے باوجود میں یہ
بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم دنیا کی مثالوں سے سبق سیکھیں بلکن
ھماری قوم خود دنیا کیلیے ایک نئی مثال قائم کرسکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment