Wednesday, September 9, 2015

مزھب سے جان چھڑایا نہ جاسکا

مغرب میں سماجی آزادی، استبدادی سوشلزم، جمہوری حکمرانی، تحمل کے شاندار روایات ، علم و آگہی، سائنس و تکنالوجی اور فردی آزادی کے باوجود مزھب سے جان چھڑایا نہ جاسکا۔۔۔۔

70 سال تک بند سویت سوشلسٹ نظام کے تحت زندگی گزارنے والے روسی سماج سے مزھب حتم نہ ہوسکا۔
جیسے ہی سویت یونین ڈھا گیا، چرچ نے اپنے وجود کو سماج میں قائم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔۔

مگر خوش قسمتی سے چرچ کو اس بات کا احساس ہے کہ مزھب جدید سماجی تقاضوں اور ضرورتوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ سکتا ! اس لیئے چرچ نے مغرب اور دوسرے ممالک میں ریاستی امور سے خود کو الگ رکھا ہے۔

بلوچ سوسائٹی عام طور پر، اور سیاسی سوسائٹی خاص طور پر اس بات کا احساس رکھتا ہے کہ قبضہ گیر کی طرف سے استعمال ہونے کے باوجود مزھب قومی سوچ کے تحت چلنے والی قومی جہد کے سامنے کدی رکاوٹ نہ بنی

مزھب کے حوالے بلوچ کا سیکولر نطریہ اس بات پر مبنی ہے کہ مزھب کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوے
 اسے روحانیت کی حد تک قبول کیا جائے تو سماج کی بنیادیں مضبوط ہوںگی۔۔

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...