Wednesday, December 16, 2015

قومی تحریک کی سیاسی پہلو کی ملک سے باہر منتقلی ایک مثبت قدم

آرچن بلوچ
کل  صبح اٹھا تو ایک مہربان دوست نے گلوبل پوسٹ سے ایک بلوچ  بیٹی    کی ناقابل یقین سفر کی داستان کا لنک شئر کیا تھا جسے پڑھ کرمجھے تعجب ہوا، اوریقین نہیں آرہاتھا کہ ایک بلوچ بیٹی ، عمیرہ اکھیلی اپنے بیٹوں کے ساتھ بلوچستان سے یورپ تک پیدل سفر کررہی ہے۔ اور پھر  کل ہی  کی شام ایک اور دوستءَ نے یہ خوش خبری مجھے سنائی کہ یہ بلوچ بیٹی بحاظت سویڈن میں پہلے ہی موجود اپنی شوہر سے جاکر ملی ہیں۔ اس بیٹی نے یونان میں اخباری نمائندے کو بتایا کہ وہ بلوچستان کی آزادی چاہتے ہیں،، وہ یہ طویل سفر صرف سیاسی پناہ کیلئے طے کررہے ہین۔ اور جب بلوچستان آزاد ہوگی تو وہ واپس اپنے ملک بلوچستان جائینگی۔ اس کے ساتھ اخبار نے یہ بتائی کہ یورپ تک اس سفر میں ان کے ساتھ اور دوسرے بلوچ بھائی بھی ہیں جو اس عورت اور اس کی بیٹوں کی ہر طرح کمک مدد کررہے ہیں۔ بعد میں یہ پتہ چلا یہ باھمت بلوچ بیٹی مشہور بلوچی زبان کا گشندہ سنگت حفیظ علی بلوچ  کی بیوی ہے ۔ عمیرہ نے اخبار کو یہ بتائی ان کی حاوند پہلے ہی سویڈن میں موجود ہیں۔
اس سے پہلے بانک کریمہ بلوچ بھی کینڈا پہنچ کر اسائلم کی درخواست دے چکی ہیں۔ وہ ایک طلبہ سیاسی رہنما ہیں۔ کینڈا میں ان کی سیاسی سرگرمیاں  اگر قومی سوچ کے تحت اور پارٹی بازی سے بالتر ہوں تو  قومی تحریک کیلیئے بہت اھمیت کے حامل ہونگے۔  اسی طرح ماما قدیربلوچ  اور گودی فرزانہ بلوچ بھی توقع ہے کہ وہ  دبی سے  کسی   مغربی ملک   جاکر  قومی سوچ کے تحت  اپنا کردار ادا کرینگے ۔۔
آج کل بلوچوں کی ایک کثیر تعداد یورپ کی طرف محاجرت کررہی ہے۔ سننے میں یہ بات آرہی ہے کہ ان کی اکثریت سیاسی متاثرین ہیں  سیاسی    اسپیس  space  بہت تنگ کی  گئ ہے  اس سے    مجبور ہوکر یہ لوگ یورپ کی آزاد  سیاسی  ماحول  سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے۔ کیوںکہ بلوچستان میں اب ان کیلئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا بلکل ناممکن بنا دی گئی ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بلوچ قومی تحریک سے وابستہ ایک طبقہ  تحریک کی سیاسی پہلو کی یورپ منتقلی کا مخالفت کر رہی تھی اس حوالے  تحریک کے لیے  منفی انجام ،  فائدہ ونقصان  کا تعین کرنے کی  صلاحیت سے محروم ،  تحریک  کی لازمی جز  یعنی  خارجہ امور کی افادیت سے انکاری  کے اس طبقے نے   تحریک کے لیے    نا قابل یقین طور غیر سجیدگیت کا مظاہرکیا ۔  ان باتوں کا یہاں زکر کرنا میرے حیال میں  اب  فضول ہے۔مگر بعد از  حرابی بسیار یہ احساس اب   حقیقت کا روپ  دھارچکی ہے کہ اب بلوچستان میں سوائے  عسکری    پہلو کے،  تحریک  کیلئے سیاسی سرگرمیاں    بلکل ناممکن         ہیں۔  تحریک کے سیاسی سرگرمیوں  کا یورپ یا مغربی ممالک  میں  منتقلی  ایک نیک شگون ہے۔۔  بانک کریمہ کی باہر منتقلی  اس پالسی  اپروچ  کی دانستہ یا نادنستہ تائید ہے جسے سنگت حیربیار مری اور ان کے  ہم فکری سنگت  فالو کررہےہیں ۔ 
وقت کی اھمیت سے  غافل اور   تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی  ہمارے  خطے کی جیوپالٹکس  سے    لاتعلق  بلوچ آزادی پسند سیاسی سوسائی   ایک قسم کی غیرسنجیدہ  مباحثوں کی یرغمال بن چکی ہے۔  پالسی میٹرز  اور اپروچ  پر   اتفاق نہ سئی مگر ، میں چھیڑوں  کہ نا چھیڑوں  والی رویہ  وقت کی ضیا   کے سوا  اور کچھ بھی نہیں۔    قومی تحریک کی  سیاسی پہلو کی ملک  سے   باہر منتقلی  کی    اہمیت    کو وقت نے ثابت کیا ہے اور   سارے اسٹاک ہولڈرز  کو  مجبور کیا ہے  کہ اسے قبول کرلیں۔  اگر کبھی  قومی تشکیل کی کوئی صورت گری  کی   ضرورت محسوس کی گئی    تو رابطوں کی سہولت  بارہر کی دنیا میں    آسانی ہوگی۔  لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب  متوقع   سنجیدہ  طبقے  قومی سوچ کے تحت سابقہ دور کے تمام غلط فیصلوں کا اعتراف کرینگے ۔   قومی رہنما سنگت  حیر بیار مری     کی  بات کو  میں یہاں  لکھنا ضروری سمجھتا ہوں”    عظیم مقصد کے لئے لیے مجھے کہیں بھی جانا پڑا میں تیار ھوں۔ اتحاد کے ساتھ ساتھ ھمیں اختلاف کی وجہ اور سدباب بھی ڈھوننے کی ضرورت ھے کیونکہ اگر ھم کسی بھی اتحاد جانب جاتے ھیں تو انکی بنیادیں منظم اور علمی سطح پر ھموار کی جانے کی ضرورت ھے، ھمارے دشمن بہت طاقتور ھیں اور ھمے اتحاد ھوکر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ھے‘‘


Saturday, November 14, 2015

براھمدگ بگٹی کی قومی اتحاد کی دعوت درست قدم، مگر حدشات و تحفظات صرف نظر نہیں ہوسکتے


آرچن بلوچ

گزشتہ روز بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ براھمدگ بگٹی نے اپنے طویل وضاحتی بیان میں قومی اتحاد کیلئے بلوچ آ زادی پسند پارٹیوں اور لیڈروں کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے پاس آ کر سرجوڑ کربیٹھیں اور اپنی تمام اختلافات کو باہمی گفت و شنید سے دور کرتے ہوے قومی اتحادکی تشکیل کو یقینی بنائیں۔ درجہ بندی کے حوالے براھمدگ بگٹی کا بیان تین کٹگریز پر مشتمل ہے ۔ اس بیان کا پہلا حصہ ان ٹوٹے ہوے قومی اتحاد کے بارے وضاحتوں پر مشتمل ہے جہاں بحیثیت فریق زمہ واریوں سے کوتاہی برتنے کی وجہ سے ان کی پارٹی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس بیان کے دوسرے حصہ کا ان اعترافات سے تعلق ہے ۔ جہاں ان کی پارٹی سے کمزوریاں اور غطلیاں سرزد ہوئی ہیں جن کا وہ بظاہر اعتراف کرتے ہیں ۔ اور اس بیان کے تیسرے حصہ کا تعلق قومی اتحاد کی دعوت پر مشتمل ہے جہاں وہ آزادی پسند پارٹیوں اور رہنماوں کو یکجاہ سرجوڑنے کو کہتے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کو تشکیل دیں ۔ براھمدگ بگٹی کا بیان قومی اتحاد کے حوالے ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ حکومت کے ساتھ مزاکرت کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ حدشات اور تحفظات کے پیش نظر یہ بات براہ راست پوچھی جاسکتی ہے بھائی صاحب کہیں ایسا تو نہیں اس قومی اتحاد کے دعوت کے آڑ میں آپ ہمیں مامو بنانے کے چکر میں تو نہیں ہو؟ یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش تو نہیں کررہے ہو کہ یہ آزادی پسند بندے آپ کے پاس آتے ہی دنیا کو یہ پیغام جائے کہ آپ کی مزاکراتی عمل میں ان کی رضامندی شامل ہے؟ اور اگر یہ لوگ آ پ کے پاس آنے میں انکار کردیں تو عوام میں یہ پیغام جائے کہ دیکھو ہم نے قومی اتحاد کی دعوت دے لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ اس لیئے مجبورا قومی مفاد کی خاطر دشمن کے ساتھ مزاکرات کرنا پڑرہاہے۔ اگر بالفرض محال مجوزہ آزادی پسند رہنماوں اور پارٹیوں نے آپ کی دعوت قبول کی اور آپ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مزاکرات کے حق میں مجوزہ قومی اتحاد سے اکثریت رایہ کا طلب کیا گیا۔ تو اکثریت پاکستان کے ساتھ مزاکرات کرنے کے حق میں ہوگا۔ کیو نکہ اب جن لوگوں کو آپ نے فریق بنا کر اتحاد کی بات کی ہے ، وہ پہلے ہی آ پ کے ساتھ ہیں۔ گنتی اور حمایتی کے حساب میں مہران مری، جاوید مینگل، بختیار ڈومکی بی آر پی وغیرہ یہ تمام ایسے افراد ہیں جن کا آپ کے ساتھ پہلے ہی بہت بڑا ھم آہنگی ہے ۔ اب اس تناظر میں دیکھا جائے تو آ پ کو پہلے ہی مزاکرات کرنے کا منڈیٹ اور حمایت حاصل ہے، تو قومی اتحاد کی بات کرنا چے معنا دارد؟
ج

Wednesday, October 21, 2015

جرنلسزم کے پانچ بنیادی سوالات

جرنلسزم کے پانچ بنیادی سوالات
_________________
رپورٹنگ اور تبصرہ کرنے کے بارے پتہ نہیں پاکستان میں کس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مگر جہاں جن ملکوں میں صحافت آزادی کے ساتھ سرانجام دی جاتی ہے وہاں پانچ بنیادی سوالوں کے بنیاد پر ہی رپورٹنگ ہوتی ہے اور تبصربہ بھی انہی بنیادی سوالوں کے گرد غیرجانب داریت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لکھنے اور بولنے میں غیرجانبداریت ہر صورت بنیادی شرط ہے ۔ ان پانچ بنیادی سوالوں کو اگر انگلش میں لکھوں تو بات بھتر انداز میں واضع ہوجاتی ہے۔ ان پانچ سوالوں کو Five Ws کہا جاتا ہے۔
1. What
2. Why
3. Who
4. When
5. Where
اپ کا رپورٹینگ اور تبصرہ اگر اوپر کی دی ہوئی ان پانچ سوالوں کا احاطہ نہ کرسکتا ہو تو آپ کی رپورٹنگ کلیاّ نامکمل ہے۔ میں نے ان پانچ بنیادی سوالوں کو اصولی نہیں لکھا کیوںکہ اصولوں کو بدلنا، مروڈنا اور زاتی مفاد کے خاطر اپنی مرضی سے پیش کرنا بہت آسان ہے مگر سوالات اٹل حقیقت ہوا کرتے ہیں۔ ان کا بدلنا بلکل ناممکن ہے۔
ایک چھوٹا سا مثال۔۔ آج کی بلوچ سوشل میڈیا میں ایک بات (میں اسے رپورٹ نہیں کہوںگا) آئی ہے کہ ‘‘پنجگور سے ایف سی نے ایک آدمی کو اٹھایا ہے‘‘۔۔۔۔ اب یہ بات رپورٹنگ کے حوالے ہر لحاظ سے بلکل نامکمل ہے۔ جب تک مزکورہ بالا پانچ Ws کا احاطہ نہ ہو !
اس میں شک نہیں کہ ایف سی نے ایک بندے کو اٹھایا ہے مگر رپورٹر کو چاہیئے تھا کہ وہ درجہ زیل سوالوں کا احاطہ کرتے
۔1۔ اب پنجگور ایک بہت بڑا ضلع ہے، پنجگور میں ایف سی نے کس جگہ where سے آدمی کو اٹھا یاہے؟
2. ایف سی نے جس آدمی کو اٹھایا ہے اس کا نام کیا (who) ہے ؟
3۔ ایف سی نے اس آدمی کو اٹھایا ہے تو کس وجہ why سے ؟
4۔ جب ایف سی نے اس ادمی کو اٹھایا تو کب When یعنی وقت کیا تھی؟
5۔ جب ایف سے نے آدمی اٹھایا تو آدمی نے کیا what کیا؟ کوئی مزاحمت تو نہیں کی؟
اب انہی پانچوں Ws کی مدت سے مزید سوالات کے جوابات تلاش کیئے جاسکتے ہین۔ مثال ۔۔
1۔ کہاں whereکے ساتھ ۔۔ اب نے شہر کا نام تو بتایا مگر یہ نہیں بتا کہ وہ آدمی گھر پر تھا یا بس پر سوار یا سکول ، ھاسپٹل ، یا بازار میں ٹھل رہاتھا جب ایف سی نے اٹھایا؟ اب جس علاقے یا جگہ سے اس بندے کو اٹھایاگیا وہ کس کے جوریسڈیکشن Jurisdiction میں تھا؟
2. جب ایف سی نے حملہ کیا تو کس نویت کا What تھا؟
3. ایف سی کیمپ کا نام، کمانڈر کا نام who؟ اس علاقے کے پولیس اسٹیشن کا نام؟ ایس ایچ او کا نام؟ اگر جمہوریت ہے تو کم از کم سنیٹر کا نام، ایم پی اے یا ایم این اے کا نام؟یعنی تمام زمہ واروں کا نام!
4۔ ایف سے نے اٹھایا تو کس وجہ سے why ؟ وہ بندہ ڈاکو یا چور تھا، قاتل تھا، مزھبی انتہا پسند تھا؟ آزادی پسند تھا؟ یا محص ایک عام شہری تھا صرف دھشت پھیلانے کی غرض سے ایف سی نے اجتماعی سزا کے طور پر اٹھایا تاکہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں ؟
5۔ جب ایف سی اس شخص کو تو کیا When وہ شخص مسلح تھا؟ جب ایف سی نے اس شخص کو پکڑا تو کیا اس وقت ایف سی کے پاس عدالتی حکم نامہ تھا؟

Friday, September 11, 2015

گوریلہ - کمزورتریں فریق - اگر خود کو ہیرو سجمھنے لگے تو؟

قومی آزادی کی جنگ میں سرمچار یا گوریلا سب سے کمزورتریں فریق ہے۔ اس لیے تو چپکے سے جنگ لڑتی ہے۔۔۔ کیوںکہ گوریلہ جنگ وہ لڑتے ہیں جو وسائل، تعداد ، مالی اور عوامی حمایت کے لحاظ سے کمزور ہے۔۔ اور یہی کمزوری ان کی اصل طاقت ہے۔۔ اسی کمزوری میں اس کی تمام قوت پوشیدہ ہے۔

اگر اس فریق کے ممبر یعنی سرمچار غرور اور تکبر کے مغالطے میں آکر خود کو ہیرو سجھنے لگیں اور لاپروائی پر اتر آئیں۔ ہر سرمچار خود کو کمانڈر سمجھنے لگے، یہ کمانڈرز بلدیاتی سیاست دانوں کی طرح ہر گاؤں محلوں میں تقریریں کریں اور بندوقیں لہرائیں تو دشمن کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے؟

جیسا کہ پچھلے پانچ سالوں میں بلوچ عسکری محاذ میں یہی ہوتا آرہا ہے خاص کر مکران میں

انٹرنٹ میں کئی ایسے وڈیو کلپس دستیاب ہیں جہاں ہیروازم کا اظہار برپور انداز ہوئی ہے۔۔ بندوق بردار سرمچار تقریریں کرتے ہوے ہوائی فائرینگ کرتے ہوے ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے ابھی ابھی دشمن کو محاذ جنگ سے شکست دیکر گاؤں لوٹیں ہیں۔

ایسی احماقانہ رویہ کو دیکھ کر میں ہمیشہ یہی سوچھتا ہوں کہ تقریر کرنے کے بجائے اگر یہ سرمچار اپنی جنگی تربیت و محارت پر زیادہ توجہ دیتے تو آج حالات یکسر تبدیل ہوجاتے۔۔

تقریر کرنے بجائے یہ سیکھ لیتے کہ کس طرح فضائی حملے کی صورت میں سول آبادی کی کمک کی جاسکتی ہے یا عام عوام کو یہ تربیت دیتے کہ فضائی بمباری کی صورت میں وہ کس طرح اپنی بچاؤ اور نقصان کم کرسکتے ہیں یا زحمی ہونے کی ضورت میں کس طرح فسٹ ایڈ دی جاسکتی ہے؟

لکن افسوز کی بات یہ ہے کہ جب لیڈر شپ کے دماغ میں ہیروازم کا بھوت سوار ہو اور سارا دھان پوٹو پوزینگ دینے پر ہو تو سوچو نتائج کیا نکلیں گے؟
روسی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ مچھلی کا سرنا ان کے سرسے شروع ہوجاتی ہے۔۔

A fish rots from the head down
آرچن بلوچ

Wednesday, September 9, 2015

مزھب سے جان چھڑایا نہ جاسکا

مغرب میں سماجی آزادی، استبدادی سوشلزم، جمہوری حکمرانی، تحمل کے شاندار روایات ، علم و آگہی، سائنس و تکنالوجی اور فردی آزادی کے باوجود مزھب سے جان چھڑایا نہ جاسکا۔۔۔۔

70 سال تک بند سویت سوشلسٹ نظام کے تحت زندگی گزارنے والے روسی سماج سے مزھب حتم نہ ہوسکا۔
جیسے ہی سویت یونین ڈھا گیا، چرچ نے اپنے وجود کو سماج میں قائم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔۔

مگر خوش قسمتی سے چرچ کو اس بات کا احساس ہے کہ مزھب جدید سماجی تقاضوں اور ضرورتوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ سکتا ! اس لیئے چرچ نے مغرب اور دوسرے ممالک میں ریاستی امور سے خود کو الگ رکھا ہے۔

بلوچ سوسائٹی عام طور پر، اور سیاسی سوسائٹی خاص طور پر اس بات کا احساس رکھتا ہے کہ قبضہ گیر کی طرف سے استعمال ہونے کے باوجود مزھب قومی سوچ کے تحت چلنے والی قومی جہد کے سامنے کدی رکاوٹ نہ بنی

مزھب کے حوالے بلوچ کا سیکولر نطریہ اس بات پر مبنی ہے کہ مزھب کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوے
 اسے روحانیت کی حد تک قبول کیا جائے تو سماج کی بنیادیں مضبوط ہوںگی۔۔

Friday, August 7, 2015

یار دوستوں کا اعتراز کہ تنقید کیوں کرتے ہو؟!

بھائی میرے، بات سیدھی سی ہے. آپ قومی تحریک کو پارٹی بازی کی عینک سے کیوں دیکھتے ہو؟ لبز "قومی تحریک" اور "قومی سوچ " کیا معنی رکھتے ہیں اور کس سیاسی رویہ کی متقاضی ہیں؟

جبکہ حیربیار کے فکری ہمراہ قومی سوچ کو کسوٹی مان کر فیصلہ کرتے ہیں. اور جہاں جہاں آپ کے عمل اور فیصلے قومی سوچ کے برخلاف ہوں تو وہاں منطق و دلیل کے ساتھ آپ کی غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے.

اور یہ سلسلہ مثبت سوچ کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتا ہے کیوں کہ سیاسی سماج ایک جامد شے نہیں جہاں تبدیاں رونما نہ ہوں، بلکن برعکس اس کے تبدیلیوں کے ساتھ پالسیاں بدلتے رہتے ہیں، اس سلسلے میں موافق حالات خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور پیدا بھی کیے جاسکتے ہیں۔ قومی مفادات کے حق میں مستقل بینی کرتے ہوئے فیض رساں فیصلے بھی کیے جاتے ہیں۔ مگراگر فیصلے غلط ہوں، اوران پر متواتر اصرار کیاجائے، جس طرح کہ آج ہورہا ہے اور بلوچ قوم بہت سے غلط فیصلوں کی وجہ سے غیرضروری عزاب میں مبتلا ہے تو ایسے میں مثبت تنقید کیے جاتے ہیں ۔۔۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ زوراک کی سفاکیت و معاشی تنگدستی سےبیزار ستم رسیدہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا میں حاص کر فیس بک میں روزانہ اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے رہتے ہیں موجودہ تنقیدی سلسلے کو بند کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن تنقید نہ کرنے کے حق میں معیاری لکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے جوکہ پرزور دلیل بھی دے نہیں سکتے، یہ ایک افسوسناک امر بھی ہے۔ ان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ تحریک کے حوالے سابقہ دور میں کئے گئے تمام منفی فیصلوں پر سوال اٹھانے سے کتھرا رہے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف اُن کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جو کچھ سابقہ دور میں ہوا ہے اور جو اب ہو رہا ہے ان کے بارے کچھ مت کہو.یعنی تمام معاملات کو جوں کا توں رہنے دو اور آگے بڑھو. سابقہ ادوار کے تمام فیصلے اب بھی برقرار و قائم ہیں، ان پر اب بھی بی این ایم، بی ایس او، بی آر پی، بی ایل ایف، بی آر اے وغیرہ عمل پیرا ہیں !!

لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ پہلے ہوا اور اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب پارٹی بازی کی بنیاد پر ہوے ہیں. اسی غیر سیاسی رویہ نے قومی اداروں کو بننے نہیں دیا.

اب قومی تحریک کو صرف اور صرف عام ورکروں کے سروں کے قربانی کے زور پر تو کامیاب نہیں کروایا کا سکتا.
تحریک کو کامیاب سے ہمکنار کرانے کیلئے چھ مضبوط اداروں کی ضرورت ہے.
پہلا ۔۔ ایک مشترکہ سیاسی ادارہ جوکہ مجموعی طور پر قومی تحریک کا سیاسی چہرہ ہو.

دوسرا ادارہ ۔۔۔ وہ قومی عسکری ادارہ جس کی تشکیل رسمی طور پر غیر سیاسی ہو. اسکی اولین و آخری زمہ واری دفاعی حربی و ضربی صلاحیتوں سے لیس ملکی دفاع ہو.

تیسرا ادارہ ۔۔۔ دنیا کے دوسرے مہزب اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے قومی مفادات کی تحفظ کیلئے سیاسی مداخلت سے پاک خارجہ امور کا ادارہ قائم کرنا ہوگا اور اسی کے زریعے سفارت کاری کے امور چلانے ہونگے.
چوتھا ادارہ ۔۔۔ قومی نشریاتی اور میڈیا کے ادارے ہوں جہاں تعصب سے پاک اور غیرجانب دار جرنلزم کی فروغ ہو۔۔

پانچواں اور چھٹا ادارے انصاف کے فراہمی کے ادارے اور عوام کو معاشی رلیف دینے کے مراکز ہونگے ، یہ دونوں ایسی صورت میں ممکن ہونگے جب سیاسی اور عسکری ادارے مضبوط ہونگے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے 15 سالہ قومی جہد پارٹی بازی کی سیاست کی وجہ سے مزکورہ بالا اداروں کوقائم کرنے سے قاصر رہا۔۔


حرف آخر۔۔ شاید کسی کے زھن یہ سوال اٹھتا ہو کہ ہم تو غلام ہیں تو ایسے میں قومی ادارے کیسے بن سکتے ہیں۔ تو جناب اگر نیتیں صاف ہوں اور زھن قومی ہو، پارٹی بازی رکاوٹ نہ بنے تو بلوچ قومی اتنی صلاحتیں ہیں کہ وہ ہفتوں میں نہیں مہینوں میں موجودہ دستیاب وسائل کے ساتھ بلوچستان کی نمائندہ قومی حکومت ضرور قائم کرسکتے ہیں۔۔ سپورٹ اور خام مال کی اتنی فراوانی ہے کہ جس کی تصور کرنا بھی محال ہے۔ بھڑک بازی کی احساس دامن گیر ہونے کے باوجود میں یہ بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم دنیا کی مثالوں سے سبق سیکھیں بلکن ھماری قوم خود دنیا کیلیے ایک نئی مثال قائم کرسکتی ہے۔

Saturday, July 25, 2015

پارٹی پالٹکس اور جامع قومی پروگرام

جب بلوچ نیشنل فرنٹ کے چتری تلے تمام نئے آجوئی پسند پارٹی و تنظیمیں جمع ہوے تو بقول سنگت بزگرگٹ کے اسٹیج پر تقریر کرنے کیلئے بی آر پی، بی ایس او اور بی این ایم کے دوستوں کے درمیان ممقابلہ بازی شروع ہوئی. اور ٹانگوں کی کینچ تھانی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ بیچارہ بلوچ نیشنل فرنٹ اس کی سکت کو برداشت نہ کرسکی اور ٹوٹ گیا.
اس تمام غیر سنجیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوے سنگت حیربیار نے قومی سوچ کے تحت قومی جہد کے بطور لازمی جز ایک جامع قومی پروگرام کی تجویز فکری دوستوں کو دی. نتیجاً آزاد بلوچستان کی چارٹر کی شکل میں جامع قومی پروگرام کی تشکیل ہوئی اور اس جامع پروگرام کو تمام آزادی پسندوں قوتوں حتی اختر مینگل تک کو توسیع دی گئی مگر افسوس محدود سوچھ رکھنے والے ازادی پسند اس کی اھمیت کو جان نہ سکے اور پارٹی بازی کی سیاست کے عینک سے اسے بھونڈے آنداز میں مسترد کردیا.
یاد رہے اس چارٹر کو خان کلات کو بھی پیش کیا گیا. اس نے اسے مسترد تو نہیں کیا مگر اسے ابھی تک رسمی صورت میں قبول بھی نہیں کیا.
فیس بوک میں اکثر و بیشتر دوست اتحاد و تفاق کی باتیں کیا کرتے ہیں. تو عرض ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں بغیر کسی جامع قومی پروگرام کے کامیاب نہیں ہوسکتیں.
میرا مشورہ یہی ہے کہ حالی حولی اتحاد کی باتوں پر زور دینے کے بجائے تمام سیاسی ورکرز اپنے اپنے پارٹی لیڈروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بلوشستان آزادی کی چارٹر کو پارٹی اداروں میں زیر غور لائیں تاکہ مستقل قومی پروگرام کے بنیاد پر قومی آزادی کی جہہد کا راستہ استوار ہو.
چارٹر اب بھی قومی سوچ کے ٹیبل پر موجود ہے.

Wednesday, July 15, 2015

خطے کی جیوپالٹکس میں نئی تبدیلیاں اور بلوچ مزاحمت

ایران اور باقی مغربی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معائدے کے بعد  مغربی جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیوپالٹکس یکسر تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے اور پاکستان کیلئے ایران گیس پائپ لائن پروجکٹ کے خارجی مخالفت اور رکاوٹیں اب  نہ رہیں۔ سوائے اندرونی بلوچ مزاحمت کے۔

لیکن پاکستان کو اب بلوچستان سے بہ یک وقت دو بڑے منصوبوں کو کامیاب کرانے کی چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک چائنا پاکستان اکنامیک کوریڈور اور دوسرا ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی منصوبہ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی ناکامی کی ایک وجہ امریکہ اور سعودی عرب کی مخالفت ہے۔۔ لیکن چائنا کی ڈالروں کی بارش کی وجہ سے اب پاکستان کو نہ سعودی عرب کی دوستی کا لحاظ رہا اور نہ ہی امریکی پابندیوں کا ڈر اور اگر ایک رکاوٹ ہے تووہ ہے بلوچ مزاحمت۔

دنیا کے سامنے  پاکستان کو بلوچستان پر اپنی رٹ کو قائم کرنے کی ایک نئے صورتحال کا چیلنج پیش آرہا ہے۔  پہلے تو سعودی عرب کی ناراضگی اور امریکی پابندی کا ڈرکا بہانہ تھا۔ اب انہیں دوںوں منصوبوں کو کامیاب کرانے کیلئے بلوچ مزاحمت کا سامنا ہے اور اسے حتم کرنے کیلے اسے مزید سفاکیت کرنا ہوگا۔

اسی طرح بلوچ مزاحمت کو بھی پاکستان کی دونوں بڑے منصوبوں کو ناکام بنانے کا چیلینج بھی ایک نئی صورتحال پیدا کرچکی ہے۔ موجودہ ابترغیرسیاسی صورتحال کی وجہ سے بلوچ مزاحمت اس حالت میں نہیں کہ وہ موجودہ  لیول سے آگے بڑے۔ اور اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہا تو آگے جاکے اسے برقرار رکھنا بھی بہت  مشکل ہوگا۔  
 اب اس لیول کی بلوچ مزاحمتی تحریک کو حتم کرنے کیلئے پاکستان کو چائنا کا کمک تو پہلے ہی حاصل ہے لیکن روس اور امریکی فوجی امداد و کمک حاصل کرنے کی بہت سے سفارتی تدبیروں اور منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان چائینا کی مدت سے  شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ 

 شنگائی کوآپریشن آرگنائیشن کے سمیٹ کے سائڈلائن میں مودی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوے نواز شریف نے بہت سے سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں وہ مودی کو اس بات پر راضی کرچکے ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر فوجی ٹنشن کو کم کرے تاکہ پاک فوج افغانستان کے ساتھ لگے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی حمل و نقل پر روکھ تام کرسکے۔ پاکستان اب اپنی خارجی معاملات  میں بہت سے تبدیلیاں لاچکی ہے۔ اور وہ تبدیلیاں دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات  کے مطابق ھم آہنگ ہوتے نظر آرہے ہیں! ان تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ ہے کہ اب ایس سی او کا ممبر بننے کے بعد پاکستان افغانستان میں بھارتی مفادات کی وجود کو قبول کرچکی ہے۔

 طلالبان کی طرف سے پاکستان کو سیکیورٹی حدشے کا ڈر کبھی نہیں تھا۔  طالبان کو افغان  مزاکرات میں شمولیت پر رضامند کروانے کے بعد  پاکستان اپنی سلامتی کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی صورت میں دیکھ رہاہے۔  کیوں کہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائیشن تجارت سے زیادہ ایک سییکیورٹی تنظیم ہے ۔

 اب اس تمام صورتحال کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضورت ہے۔ بلوچ مزاحتمی تحریک کے منصوبہ سازوں کیلئے حالات غیرمتوقع ہوچکے ہیں! بلوچ آزادی پسند لیڈر حیربیار نے گزشتہ دنوں ایران ڈیل کے حوالے عالمی رہنماؤں کو تنبہ کرتے ہوئے کہا ایران کے ساتھ نیوکلر معاہدہ ایک بہت بڑا رلیف ہوگا اوروہ اسے بلوچ کے خلاف استعمال کریگی۔

قومی سوچ  قومی جہد کے فارمولے کے تحت  قومی تحریک کے اندروںی معاملات کی درستگی اب وقت کی ضرورت ہے۔ اب جیت کیلئے جنگ لڑنی ہوگی۔ ورنا مزاحمت کی جنگ  ہارکی امکان کو رفع نہیں کرسکتا!

Monday, July 13, 2015

مزاحمتی تحریک کا مکران مورچہ ایک المیہ!

ارچن بلوچ 
___________________________________

 پچھلے دو ہفتوں میں بی ایل ایف کے سابقہ کمانڈر فضل حیدر کے ہاتھوں  اکبر زامرانی کا ساتھیوں سمیت قتل اور زخمی ہونا اور پھر فضل حیدر کا بی ایل ایف کے ہاتھوں  مبینہ دھوکہ دہی سے قتل ایک ایسا المیہ ہے کہ جس سے پتا چلتا ہے کہ مزاحمتی تحریک کی مکران کا مورچہ کا  کس ابتر صورت حال  میں ہے۔  تمپ گومازی  بلنگور سے لیکر بالگتر حوشاب تک اور پھر زامران و بلیدہ تک مزاحمت کا چہرہ داغ دار ہوچکی ہے۔ 

تاہم یہ ماننا پڑھتا ہے کہ مزاحمتی تحریکوں میں ایسے واقعات ضرور  ہوتے ہیں مگر وہ یکا دکا ہوتے ہیں۔ اور پھر انہیں سبھالا جاتا ہے لیکن مکران کے مورچے میں تو آوے کا آوا بھگڑ چکا ہے۔ 

  مکران کے مورچے سے پچھلے کئی ایسے واقعات کا تعلق  براہ راست ایسے کئی کمانڈروں کی غیر زامہ دارانہ رویوں سے ہے جس  سے نہ صرف تحریک کی بدنامی ہوئی  ہے بلکن عوام میں بھی تحریک کے کامیابی کے بارے شکوک و شہبات جنم لے چکلے ہیں۔ 

 اور یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بی ایل ایف کی قیادت یا تو انتہاہی نا اھل و نالائق ہے یا اپنی پچھلی غلطیوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں سرائیمگی  اور گھبراھٹ کی شکار ہوچکی ہے۔ اور  ہر غلط پرغلطی کر رہا ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ بی ایس او، بی این ایم اور ڈیاسپورہ بلوچ کا سپورٹ کے باوجود ایک مکران کا مورچہ  بی ایل ایف سے سنبھالا نہیں جارہا! 


بی ایل ایف مزاحمتی تحریک کا ایک جز ہے۔ یہ پچھلے دس سالوں سے مکران میں سرگرم ہے۔ مگر مکران سے اگے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔  اور اس کی قیادت کی پچھلے دس سالوں کی تمام سیاسی فیصلے بھی قومی سوچ کے برعکس رہے ہیں!۔ 


Sunday, July 12, 2015

دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے مشغول کرنے کی ضرورت

پاکستانی مقدرہ قوت پنجابی اور پشتون عام عوام کے زھنوں میں اسلامی نظریات کو بنیاد بناکر یہ بات بٹھا چکے ہیں کہ بلوچ اسلام کے قلعے پاکستان کو اسرائیل اور انڈیا کے مدد سے توڑنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان عالم اسلام کا واحد اٹمی قوت ہے. اور.دنیا کو بھی ایک حد تک باور کراچکی ہے کہ بلوچستان میں جو نیچے درجے کی شورش جاری ہے وہ انڈیا کی پیدہ کردہ پروکسی وار ہے جو کشمیر کی مسئلہ کو دبانے کی خاطر شروع کی گئی ہے.
جب کہ اس کے برعکس بلوچ سیاسی کارکنوں نے روایتی انداز میں سیاسی وسماجی پلیٹ فارم کے زریعے مظاہروں اخباری بیانات اور انسانی حقوق کے اکٹیویزم کے تحت اپنا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے.
اڈورڈ سعید نے امریکہ میں فلسطین کی کیس کو اکیڈمک انٹلکچولزم کے زریعے اسرائیل اور باقی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی جس کے نتائج یوں نکلے کہ دنیا کو فلسطین کی کیس کو سمجھنے میں آسانی ہوئی اور دنیاکے تمام ممالک نے پی ایل او اور یاسر عرفات کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا. مگر خود تحریک کے اندر انتہا پسندی نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا.
اب بلوچ قومی تحریک دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے engaged کرنے میں ناکام رہا ہے.

دیوار کج کا حدشہ

آرچن بلوچ 
___________
کل میں نے بنگلادیش کی ناکام جمہوری نظام کے تناظر میں بلوچستان کی مستقبل سیاسی نظام کے حوالے دو مضبوط جمہوری پارٹیوں کی ضرورت پرزور دیا تھا کیوںکہ بنگلادیش میں محض آزادی کے تین سال بعد تالع آزما فوج نے اورٹیک کیا اور مارشلا کی طویل تاریک دور میں چلاگیا اس کی بنیادی وجہ عوامی لیگ کی یک جماعتی پارٹی سیسٹم تھی۔ بنگلادیش آج بھی سیاسی استحکام کیلئے ترستی ہے۔ اب بات کا ادراک کرتے ہوے میں نے لکھا تھا کہ
“لازوال قربانیوں کا ماحاصل بلوچستان کی قومی آزادی کے بعد دوسرا سب سے بڑا حاصل دو ایسے مضبوط جمہوریت پسند اور اصول پسند پارٹیوں کا قیام ہو جن میں قومی آزادی کی اصل مقصد یعنی عوام کی حکمرانی کو یقینی بنائے جہاں سماجی انصاف کا بول بالا ہو”.
لیکن کچھ دوستوں نے میرے اس حدشے کے حوالے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوے اسے بےجا کہا۔ خاص کر سنگت نودبندگ بلوچ نے براہوئی ضرب مثل کا یہ کومنٹ - اسٹ ءِ لمہ الو ہوغاکہ بلہ کے ۔ دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کہ وہ بلوچستان کے مستقبل کے حوالے کوئی حدشہ نہیں رکھتے۔۔ 
بنگلادیش کی مختصر آزادی کی تاریخ اور بعد کے پے درپے کودیتاؤں کی وجہ جاننے کے بعد آدمی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ آزادی کے بعد فوراً وہاں یک جماعتی نظام مسلط ہوی اوریہ بے لگام استبدادی قوت کی شکل میں تبدیل ہوتی گئی۔ عوامی لیگ نے Bangladesh Krishak Sramik Awami League کے تحت ایک اجارہ دارانہ پارٹی سیسٹم مسلط کردی اس سے بدانتظامی اور کرپشن کی بازار گرم رہی۔ شیخ مجیب کی سربراہی میں قائم BAKSAL کے تحت قوم کے تمام طقبے اور تنظیمیں اس بات کے پابند تھیں کہ وہ نشنل پارٹی یعنی عوامی لیگ میں شامل ہوں ورنا اس کے بغیر کوئی بھی شخص پالمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ 
حالانکہ 1972 میں آزادی کے بعد بنگلادیش کی آئین عوامی لیگ کے پارٹی منشور سیکولر اقدار، قومپرستی، سوشلزم اور جمہوری رویات کی بنیاد پررکھی گئی تھی۔
لیکن اپوزیشن ( دوسری پارٹی ) کی نہ ہونے کی وجہ سے جبر کی نظام پنپنے لگی۔ اس سے منفی قوتوں کو بھی اقتدار پر آنے کی معقول جواز فراہم ہوگئی. اسلیے اس وقت فوج ہی ایک منظم ادارہ تھا جس نے جنرل ارشاد کی سربراہی میں اپوزیشن کی جگہ لینے کا فیصلہ کرلیا. اقدار پر آتے ہی اس نے شیخ مجیب کا فیملی سمیت بے دردی سے قتل کیا. عوامی لیگ پارٹی کے متبادل کے طور بنگلادیش نشنل پارٹی BNP کو تشکیل دیاگیا جس میں پاکستان کے حمایتی مسلم لیگی عناصر سے لیکرمزھبی عناصر خاص کر جماعت اسلامی اور عوامی لیگ سے ناراض دوسرے رہنما شامل کئے گئے تاکہ عوامی لیگ کی جائز حیثیت حتم ہوجاے۔ 
فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ - خشت اول چون نهد معمار کج تا ثریا می رود دیوار گج - اگر آزادی سے پہلے یا بعد میں دو مضبوط پارٹیاں قائم ہوتیں اور بنگلادیشی عوام کی نمائندگی کرتیں تو وہاں کوئی تالع آزما فوجی جنریل عوامی اقتدار پرہرگز مسلط نہیں ہوتا۔ 
بلوچ نفسیاتی طور پر سیکولر تو ہیں مگران کی سرشست میں hegemony یعنی اجارہ داریت کی رجہان بھی شامل ہے یعنی دوسری الفاظ میں غیر جمہوری رویہ! یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر چانس ملا تو کسی شوان یا شکاری کا بیٹا بھی بڑا میرو معتبر، کہودا یا ٹکری کہلوانے کی خواھش کا اظہار ارادی یا غیر ارادی طور پر کرتا رہتا ہے۔ 
میرے حیال میں ایسی ہی حدشات اور منفی رجہانات کے ادراک کی بنیاد پر ہی سنگت حیربیارمری نے اپنی سربراہی میں قومی سوچ کے تحت فکری سنگتوں کے ساتھ بلوچستان آزادی کی چارٹرکو ترتیب دیکر سحیح سمت کا تعین کیا ہے۔ تاکہ استبدادیت کا تدارک ہو۔ 
بلوچستان کے عظیم فرزند لازوال قربانیاں اس امید پر دے رہے ہیں کہ ان کی قوم کی مستقبل محفوظ ہو شرف و آبرو بحال ہو۔ اب جبکہ تمام تر جہد و قربانیاں روشن مستقل کی امید پر وابسطہ ہیں تو کیوں نہ مستقبل کے امکانی حدشات کے حوالے بھی سوچھا نہ جائے؟ اس کی تدارک کیلئے ابھی سے بندوبست کیوں نہ کی جائے تاکہ دیوار کج کا حدشہ نہ رہے اور میرے حیال میں دو پارٹی سیسٹم اس کی بہترین حل ہے۔۔

Friday, July 10, 2015

ڈاکٹر مالک کی خان کلات سے متوقع ملاقات


مجھے نہیں لگتا کہ خان کلات ڈاکٹر مالک سے ملاقات کریگی ! کل خان کلات نے فیس بک پر اپنے مسکراتے ہوے چہرے کو update کرتے ہوئے اپنے مخالفیں کو یہ پیغام دیا کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوگا! اسی تناظر میں نے کل یہ لکھا کہ پاکستان کی بڑی کوشش ہے کہ اپنے پالے ہوے گماشدوں کے زریعے خان کلات کی اسٹیٹس کو متنازہ کرواے تاکہ اس کے زریعے قومی تحریک کی قانونی حثیت و اھمیت دنیا کے مقتدر قوتوں کے نظروں سے کم ہو! کیوں کہ ایسی کوششیں کئی دفعہ پہلے بھی ہوچکی ہیں لیکن خان کلات اپنی بلوچی وعدے پر اٹھل رہا ہے۔۔ ا
اور ٹویٹر پر بھی میں نے یہ لکھا کہ
Pakistan's foxy tricks to dispute ‪#‎KhanKalat‬ status among pro freedom forces are deemed to failure! it only strengthens him all the more
مقصد یہ کہ پاکستان کے یہ تمام ٹوٹکے ناکام ہونگے اور خان کلات کی اعتبار نہ صرف عوام کی نظروں میں بلکن دنیا کے ان تمام قوتوں کے پاس بھی اور زیادہ بڑھے گی جو یہ توقع رکھتے ہیں کہ بلوچ قیادت سنجیدگی سے اپنی قومی کیس دنیا کے سامنے پیش کرینگے۔۔

Saturday, May 9, 2015

ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﻟﺒﺮﯾﺸﻦ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ




ﺗﺮﺟﻤﮧ
ﺁﺭﭼﻦ ﺑﻠﻮﭺ
_ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﻟﺒﺮﯾﺸﻦ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ( ﭘﯽ ﺍﯾﻞ
ﺍﻭ) ﮐﻮﻣﺌﯽ 1964 ﺍﺭﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎﮔﯿﺎ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﺌﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﺮﺏ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﭘﺮﻣﺸﺘﻤﻞ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺘﺮﯼﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﯿﻨﺮ ﺗﻠﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﮐﭩﮫ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮑﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﮕﺎ ﮦ ﻭﺍﮔﺰﺍﺭ ) ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﺸﺮﻕ ﻭﺳﻄﮧ ﮐﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﯽ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺒﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺀ ﻣﯿﮟ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﺗﺸﺪﺩ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ 1967 ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺍﻟﻔﺘﺢ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﺟﺴﮑﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﭘﮧ ﻏﺎﻟﺐ ﺁ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﻮﺭﯾﻦ ﺑﺎﺯﻭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﯾﺎﺳﺮﻋﺮﻓﺎﺕ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ،ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ 1967 ﺍﻭﺭ 1973 ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻓﻮﺟﯽ ﻓﺘﺤﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ( ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﻻﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭼﮭﻮﭨﯿﻮﮞ) ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﻮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯼ،ﺑﻠﮑﮧ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪ
ﯾﻮﻧﭩﺲ ﺍﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻏﺎﻟﺒﺎً ﺟﻦ ﺩﻭ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ Black September ﺳﯿﺎﮦ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﺍﻭﺭ Palestinian Front for the Liberation of Palestine ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮔﺮﻭﭘﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﮮ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﺘﺸﺪﺩﺍﻧﮧ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻢ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ، ﻗﺘﻞ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﯽ ﺟﯿﮑﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪﺍﻧﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﺎﺭ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﺘﺸﺪﺩﺍﻧﮧ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﻧﺎﻡ  ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺩﮨﺸﺘﮕﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯼ ﻭﮦ 1972 ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻧﯿﺦ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻌﻘﺪﮦ ﺍﻟﻤﭙﮏ ﮐﮭﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﺳﮑﻮﺍﮈ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﮭﻼﮌﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﻣﻤﺒﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯼ۔ ﺍﺱ ﺣﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﮩﻠﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺴﻠﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﮨﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﻮ ﮐﮭﻼﮌﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ،ﺟﺮﻣﻦ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮭﻼﮌﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻏﻮﺍﺀ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﺋﮯ ﺍ ﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻧﻮ ﮐﮭﻼﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺩﻭ ﺟﺮﻣﻦ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ۔ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭼﮫ ﮨﻔﺘﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺌﮯ ﯾﮧ ﺗﻤﺎ ﻡ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﭘﺴﻨﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻮﺍ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﻣﻤﺒﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺟﮩﺎﺯﮐﻮﮨﺎﺋﯽ ﺟﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺮﻣﻦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺏ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﺮﻭ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭨﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﺎﮞ ﻧﭽﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ،ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﺮﻭﭺ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺶ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮈﺍﻟﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺗﯽ ﻋﺮﺻﻮﮞ ﻣﯿﮟ! ﻋﺮﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺩﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﺎﮦ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺛﺮﻭ ﺭﺳﻮﺥ ﮐﻮ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﺸﺪﺩ ﭘﺴﻨﺪ ﻣﻤﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﺝ ﺩﮮ ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻟﭩﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﻧﮑﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺍﺭﺩﻥ 1970 ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺍ،ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﯾﻼﯾﻮﻧﭩﺲ ﺳﻮﺭﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﻨﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ،ﯾﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩ ﮦ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺩﯾﮕﯽ،ﺍﻭﺭﻟﺒﻨﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﯽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺟﻮﻻﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭼﮭﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺍﺩﯾﮟ ﮔﮯ،ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭼﮭﻮﭦ ﺗﮭﯽ۔ 1974 ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﺮﺏ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﺭﺑﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﺳﺎﺭﯼ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺫﻣﮧ ﻭﺍﺭﯼ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﺎ ۔ 22 ﻣﺎﺭﭺ 1976 ﮐﻮ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﺗﺴﻠﻂ ﺍﺭﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﭘﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﺳﮑﮯ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﭩﯿﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﻘﺎﻡ ﻣﻼ ﺟﻮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﻠﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﺎﺳﺮﻋﺮﻓﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﮮ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻨﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺣﺮﺑﮧ! ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ، ﯾﺎﺳﺮ ﻋﺮﻓﺎﺕ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺮﺑﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﺍﻭﺭﺳﯿﺎﺳﯽ ﻣﺤﺎﺫ ﮐﻮ ﺑﺮﻭﮐﺎﺭﻻﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺨﺖ ﮔﯿﺮ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻼ ﮐﮧ 1978 ﻣﯿﮟ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺧﻠﻔﺸﺎﺭ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺍ ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮔﻮﮐﮧ ﯾﺎﺳﺮﻋﺮﻓﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺍﻭ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮦ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﻠﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﺛﺮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﮭﺎ ، ﺍﻭﺭﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﯽ۔

Wednesday, March 25, 2015

حمل حیدراورویزہ کا شغان تحریر،آرچن بلوچ


لامتناعی اختیارات کے حامل سنگت حمل حیدر بلوچ جب خلیج میں تھے، تو اس نے سپرپاور کی طرح اپنی ویٹو پاور کو ایک دوست کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی سرکل سے اسے ایسا تا ابد معطل کردیا اور اس پر میڈیا بلیک آوٹ ایسا لگا دیا کہ ہم کچھ دوست بڑی کوششیں کرتے ایک سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اسے بحال کروانے سے معزور رہے، اسی دوران سنگت حمل حیدر خلیج سے لندن منتقل ہوئے اور وہاں پہنچتے ہی بی ایس او آزاد لندن زون کے کو ڈسمس کردیا، لیکن ان تمام معاملات کی ناجائز حیثیت کو جانتے ہوئے بھی میں نے ایک خط حمل حیدر کے معارفت بی این ایم کے لیڈرشپ کو لکھا کہ میں بی این ایم کا ممبر تو نہیں ہوں، (حالانکہ میں ایک ممبر تھا) لیکن فکری نزدیکی کی وجہ سے میں اس کا ایک خیرخواہ ہوں، اسی فکری نزدیکی کی وجہ سے 2007 سے لیکر 2012 تک میں اس پارٹی اور اس کے تمام ہم نوا تنظیموں کی تمام اہم بیانات کو انگلش میں ترجمہ کرتے ہوئے مختلف بلوچ ویب سائٹ کے توسط سے شائع کراوتا رہا۔اس خط میں ،میں نے بی این ایم کی کمزوریوں کے حوالے لکھا کہ وہ اپنے کمزوریوں پر قابو پالیں۔ سوشل میڈیا کی حوالے بھی میں نے لکھا کہ اس پر سنجیدگی سے توجہ دیں، لیکن مجھے جواب کیا ملا، آپ نیچے دیے ہوئے ان کی طرف سے موصول خط سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنے سنجیدہ تھے۔ اب ان کو سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ ان ہوا ہوگا۔لیکن اس خط کے لکھنے کا جو میرا اصل مقصد تھا وہ یہ تھا کہ بلوچستان لیبریشن چارٹر کے کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ عنقریب اسے شائع کرکے عوام کے سامنے لائیں گے۔ تو میں نے سوچا کہ اگر چارٹر بلوچ نیشنل فرنٹ کے پلیٹ فارم کے زریعے شنگ ہوجائے اور عوام تک پہنچے تو اس کے قومی تحریک کے اندرونی سیاسی معاملات پر کافی مثبت اثرات ہونگے،لیکن یہ ایک غلط فہمی تھا میرا،میری غلط فہمی یہ تھی کہ ڈاکٹراللہ نظر نے اپنے ایک بیان میں چارٹر کے حمایت میں بیان دیا تھا کہ اچھا ہے، تو اسی حمایت کو لیکر میں یہی سمجھ بیٹھا کہ بی این ایم اور بی ایس او اسکی حمایت بی این ایف کے پلیٹ پارم سے کرینگے،میں نے لکھا تھا کہ :In principle I believe every positive contribution must be appreciated for the success of our freedom struggle, Balochistan Liberation Charter is one such a contribution that I think BNF should appreciate it by approaching The Charter\’s Coordinating Committee and offering its platform for public consideration. If they have the will to do so then, I think, it is time to start talking with Charter Committee.اردو ترجمہ: اصولی طور پر میرا یقین ہے کہ قومی جہد کی کامیابی کیلئے ہر مثبت کنٹربیوشن کی حوصلہ افزائی ہونی چاہے، اور بلوچستان لبریشن چارٹر بھی ایک ایسی کنٹریبیوشن ہے، اس لیے بی این ایم کو چاہیے کہ وہ چارٹر کمیٹی کو اپروچ کرتے ہوئے یہ پیش کش کرئے کہ بی این ایف کا پلیٹ فارم چارٹر کو شائع کرنے کیلئے تیار ہے، اگر ان کی خواہش ہے اور وہ اس کیلئے تیار ہیں تو یہی وقت ہے کہ ان کے ساتھ سلسلہ جنبانیت شروع کی جائے۔لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ سنگت حمل حیدربلوچ کولندن کس غرض سے بیجا گیا تھا۔ ان کے منصوبے بعد میں مجھے معلوم ہوئے۔ ان کی سیاسی تنگ نظری کو دیکھ کر مجھے سخت کوفت ہوئی۔ اور میں نے ان کے سرگرمیوں کے بارے لکھنا شروع کیا کہ حمل حیدربلوچ نادانی میں کچھ بدیانت لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہورہا ہے۔ اور لندن میں ان کی ساری حقیر سرگرمیاں حیربیار کو آسولیٹ isolate کرنے کی غرض سے ہورہی ہیں۔میری تمام باتوں کا جواب یہ کہ کردیاگیا کہ ‘آرچنء4َ حمل حیدرسرا زھرکئیت‘ اور وہ ریکشن میں یہ سب کچھ کہہ رہاہے کیونکہ اسے حمل حیدر کی جگہ لندن کا ویزہ نہیں دیا گیا، اس ویزہ کا شگان تاحال میرے اوپر اب بھی جاری ہے اور جب بھی میں ان کے غلط پالیسوں پر لکھتا ہوں توجواب میں ویزہ کا شگان میرا پیچھا نہیں چھوڑتا،میں یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ مغربی دنیا کے ویزہ خلیجی ممالک کے ویزہ کی طرح نہیں ملتے جیساکہ عام طو پرخلیج میں بسنے والے بلوچ اپنے رشتہ داروں کو سیر کروانے یا کام کے غرض سے ویزہ نکلوا کر بیج دیتے ہیں۔ مغربی ممالک کے ویزے سفارتخانوں میں فارم کی شکل میں درخواستیں دیکر ہی حاصل ہوسکتے ہیں اور وہ بھی کسی اچھے بینک میں ذاتی اکاؤنٹ میں ایک اچھا خاصا رقم وجود رکھتا ہو۔میں نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خط کو جو میں نے حمل حیدر کے معارفت بی این ایم کو لکھا اور اس کے جواب میں دو ایمیل مجھے موصول ہوے ان کوبلوچ عوام کے سامنے شیئر کروں۔ اور عوام خود فیصلہ کرے کہ آیا مجھے حمل سے کیا کنس تھی؟ اگر مجھے حمل حیدر سے خدا نخواستہ کوئی دشمنی ہوتی تو میں اس پر اعتماد کرتے کیوں ایک لمبا چوڑا خط لکھتا؟Date: Fri, Dec 21, 2012Subject: Letter To BNM
Dear Hammal Jan, I request you to forward this letter to BNM ’s leadership for consideration as soon as possible and I expect a response o f acknowledg men t from leadership that my letter has reached to the relevant people.
Baloch National MovementDear All,
As BNM is still a part of Baloch National Front and BNF might be weak but it is still not defunct and its statements occupationally appear in media on specific matters.
In principle I believe every positive contribution must be appreciated for the success of our freedom struggle, Balochistan Liberation Charter is one such a contribution that I think BNF should appreciate by approaching The Charter\’s Coordinating Committee and offering its platform for public consideration. If they have the will to do so then, I think, it is time to start talking with Charter Committee.
The onus has now fallen on BNM and I also feel it\’s fully capable to rejuvenate some of its previous good policies once adopted by Shaheed Chairman Gulam Mohammad Baloch when he was the head of the BNF.
Now coming to some of the problems and weaknesses BNM facing in media that I feel be redressed by the leadership. It was only Baloch social Media activists’ pressure that forced American foreign office spokesperson to issue a statement about human rights abuses in Balochistan.
1. Social Media Activism is the most sophisticated weapon that all nations around the world are proactively availing themselves from it for advancing their national agenda and cause. And the media has taken a Quantum leap in technology, but unfortunately, in terms of Social Media activism, BNM has failed to avail itself to level of nothingness.
2. In Facebook it has an account but no one believes that it is a real account of BNM. Just a few days back I saw it had only 33 likes, in comparison Khan kalat account has more than 3300 likes. Why BNM failed to avail itself from this modern social media is beyond of my imagination.3. In twitter BNM has also one Account or Id, but here too it has failed to avail itself to highlight Baloch nation’s political issue.
5. Given the activities of Baloch social activitists , we can see there are more than thousands Baloch activists in social media writing for Baloch cause in different languages in Arabic, English, Balochi, Fasi and Urdu. But BNM failed to select a few dedicated one to be assigned the job of Media cell. Yes we know there are of security concerns and Majbori, but these workers have learned the trick how to do the job.
6. in my experience, I, many times, tried hard to have access to BNM leadership to forward my suggestions or even my protests on some cases but failed. Why BNM failed to devise a mechanism through which suggestions and complains submitted from well۔wishers and activists for leadership’s consideration? On many occasions I forwarded my suggestions through proper channel, but given the lake of response, I feel they were blocked intentionally.
7.Dears, I’m not entirely blaming BNM’s leadership for their failure as things have been made very difficult for them in Balochistan to make up for the weaknesses in media. BNM’s BSO‘s leadership should immediately change the strategic location of the media war. Diaspora workers should be given the responsibility / the task to wage the media campaign in highlighting human rights abuse, above all the main objective of our struggle for freedom from foreign occupation. But we need a leader abroad to coordinate.In short BNM must be organized abroad with active zones from different continents.
With Best wishes and RegardsArchen Baloch
میرے خط کا پہلا جواب بی این ایم کی طرف موصول ہوئی تو میں یہی سمجھ بیٹھا کہ میں نے غلط لوگوں کو خط لکھا۔
info@thebnm.org12/21/12Dear Mr, Archen BalochThank you for your mail and ites the first time BNM as hard any think from You,BNM always welcome and appreciates suggestions .party will forwerd copy to mr hammal baloch as willThanking YouBNMدوسرا خط جسے پڑھتیہوے ایسا لگتا ہے کسی لکھے پڑھے بندے نے لکھا ہےDear Archen,Thankyou for support to our Organization. Your concerns are highly valued and you are assured they have reached to the concerned bodies of the political org.As you know nothing is perfect anywhere. Indeed there are some weak points that our party facing through this tough struggle. But to address these weaknesses, you as a valued well۔wisher are assured; BNM has been working behind the scenes and will soon bring it to public to help give a better picture.To take these weaknesses as a ‘‘total failure’’ would be a little unjust to party’s successful struggle and commitment throughout the period.It is against party policy to discuss the strategies with anyone outside BNM before any official announcement (even though we highly appreciate our well۔wishers for their, suggestions and positive criticism).Social media networks like facebook pages can’t be monitored or controlled by any political party, especially for a party of ours that is busy struggling against a brutal and ruthless state like Pakistan. Moreover, we have an official website and we are working on it, once constructed, will be up and running again.Contacting general public and answering every single question and considering every single suggestion is beyond the capability of any political party and BNM is not any different. However, we have a strong political system, we have a party structure, a line of leadership, a large number of party membership and many institutional bodies where we precisely discuss every agenda, draw conclusions and make policies.Thanks and RegardRozi BalochInformation SecretaryBaloch National Movement.
- See more at: http://humgaam.net/2015/03/20/%d8%ad%d9%85%d9%84-%d8%ad%db%8c%d8%af%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%d8%b1%d8%8c%d8%a2%d8%b1%da%86%d9%86-%d8%a8%d9%84/#sthash.lxCmfjPY.dpuf

Friday, March 6, 2015

کوبانی کی محاذ نے کردوں کو کیا سکھایا؟

ترجمہ آرچن بلوچ 


کوبانی کی حالیہ واقعات سے یہ بات ثاب ہوئی ہے کہ جب کرد چاروں اطراف سے متحد ہونگے تو کامیابی ان کی قدم چھومے گی۔کسی بھی سوسائٹی میں متضاد نظریے اور مختلف پارٹیاں شدید اختلافات کے سبب بنتے ہیں، اور یہی صورتحال دنیا میں ہرجگہ سیاست میں پائی جاتی ہے۔ جب الیکشنوں کا وقت آتا ہے تو مہینوں پہلے ایک دوسرے کو بدنام کرنے جیسے مہم اور محاذ آرائیاں شروع ہوجاتیں ہیں جیساکہ آج کل برطانیہ اور ترکی میں ہورہا ہے۔ گر چہ کرد آزادی کی خواب بننے کی وجہ سے بہت مشہور ہیں مگر اتحاد جیسا شے ان کے ہاں ناپید ہے۔ مگر پھر بھی تمام تباہیوں کے باوجود امید کا ایک کرن اب بھی ہے۔ صرف ایک دفعہ کردستان کے تمام بڑے فرقوں کے سرمچار کوبانی کے محاذ پر یکجاہ ہوکر لڑے۔ عراقی کردستان کے دونوں دھڑوں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) اور (پی یو کے) نے کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے )، ڈیموکرٹیک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) اور سب سے خطرناک اور مضبوط پارٹی پیپلز پروٹکشن یونیٹس (وائی پی جی) نے مل کر اس جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ قوتوں کے اس مشترکہ محاذ نے جنوری کے آخر میں داعش کے جہادیوں کو کوبانی سے بے دخل کیا۔چارماہ کی اس سفاک جنگ نے تمام دنیا کی توجہ اپنی طرف مبزول کروایا، اور صرف اس دفعہ کرد کا مسئلہ مثبت انداز میں واپس دنیا کے میڈیا کی ہیڈلائن بن گئی۔ ISIS داعش دنیا کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی ہے، اور کردوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ انہیں شکست دینے کا مرکزی کردار کا حامل ہیں۔ 2014 میں اپریل کے مہینے اسلامی ریاست نے کردوں کی قدیم مذہبی فرقہ یزیدی آبادی کا قتل عام کیا ، ہزاروں کے حساب میں لوگ مارے گئے۔ اس قتل عام سے بچنے کی غرض سے جو یزیدی اپنا علاقہ گھر بار چھوڑ کر سنجار کے پہاڑی علاقہ جاکر پھنس گئے ، بھوک ، پیاس اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ہزاروں کے حساب میں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ کرد ش سیاست کے رہنماؤں کا مکانیزم کچھ بھی ہو، مگر کوبانی ان کے لوگوں کی خواہشوں کا سنبل ہے ۔ تاریخ کے تمام واقعات اب اس بات کو سچ ثابت کرچکے ہیں کہ ہر آزادی کی جہد کی بنیاد عام عوام مرد اور خواتین ہوتے ہیں۔ تاریخ میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ برطانیہ یا امریکہ نے کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ ہوتے بغیر ان کے عوام کو آزادی دلائی ہو۔ کردوں نے سالوں کی مظالم کا مقابلہ کیا ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ خود اپنی مستقبل کا تعین کریں۔ اس کے علاوہ دنیا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کرد اپنی سرزمین کے باہر کوئی عزائم نہیں رکھتے۔ ان کی ترجیحات صرف اپنی لوگوں اور سرزمین کی دفاع ہے۔ پیش مرگہ جس کے معنی سرمچار ہیں کو ہمسایہ ممالک ، امریکہ اور برطانیہ نے سالوں جنگی تربیت دی ہے، نے اپنی دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے بڑی کامیابی سے اپنے علاقوں کی کنٹرول سنھبا لی ہے۔ لیکن حال ہی میں یہ انکشاف ہوئی ہے کہ کردش علاقی حکومت نے پیش مرگہ کو حالیہ عرصے میں اچھی تربیت نہیں دی ہے ۔ یہ کہے بغیر رہا نہیں جاسکتا کہ پیش مرگہ اپنے خاندانوں اور زمین کی حفاظت کا عزم مصمم کیے ہوئے ہیں،یہ بلا شک کہی جاسکتی ہے کہ وہ تنقید کو برداشت نہیں کرسکتے،جیمس ریڈ ، ان دو سابقہ برطانیوی فوجی سپاہیوں میں سے ایک ہے جس نے نومبر 2014 میں پیش مرگہ کو جوائن کیا ، اس نے دعوی کیا کہ پیش مرگہ جنگی اصولوں کے تربیت یافتہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نے بہت کوشش کی کہ جنگی معارت کے کچھ بنیادی طریقوں کو ان تک منتقل کرے، مگر وہ اس میں دلچسپی نہیں لیتے تھے کیوں کہ یہ ان کی نظریات کے برخلاف تھی۔یہ ماننا پڑے گا کہ (KRG ) عراقی کردش علاقائی حکومت والے تنقید کو مانتے ہیں خاص کر جب تنقید تعمیراتی ہو، یعنی ایسا تنقید نہیں جس سے محض ان کی تمام کاوشوں کا بیخ کنی ہو۔ ان کو یہ احساس ہے کہ تعمیری تنقید سے پیش مرگہ اپنی تنظیمی اور تزویراتی معملات میں مزید بہتری لاسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ لوگوں کو مزید یقین ہوگا کہ پیش مرگہ ان کی تحفظ دے سکتا ہے اور مستقبل میں بھی تحفظ دیگی بھی، یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کے حوالے حال ہی میں کردستان میں کرسچن پارٹی کے لیڈر یونادن کنہ نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ یہ واقعی ایک ایشو ہے۔KRG کو چاہیے کہ سنجار کی ناکامیابی کے بارے احتساب کا سامنا کرے اور اس میں پیش مرگہ کی مستقبل کو تعین کرنے کیلئے پیشہ ور زانتکاروں اور عالموں کو بھی شامل کیاجائے کیونکہ پیش مرگہ ایک ایسی قوت ہے جس پر تمام قوم تحفظ کیلئے انحصار کررہی ہے،جنوبی کردستان کا سوسائٹی قوم پرستی پرمشتمل ہے، جو اس کی سیاست کو زیادہ قابل فہم بنادیتی ہے، لیکن آگے پیشرفت کرنے کیلئے مسائل کھڑا کرسکتی ہے۔ اب یہ KRG کے لیے بہت ضروری ہوچلا ہے کہ وہ ایک ایسے فلسفہ پر کاربند ہو جس سے تمام علاقوں کے لوگوں کیلئے مشترکہ یکساں سوچ کی زمین ہموار ہوسکے۔ یہ نہ صرف ایک مضبوط سیاسی موقف بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرسکتا ہے بلکہ سماجی ترقی کیلئے بھی مفید ہوگا خاص کر سوسائٹی کے ان اہم ایشوز کیلئے جنہیں ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ قانون سازی کی عمل میں عورتوں کی حصہ کو مزید بڑھانے کیلئے رجوا کی ڈیموکرٹیک یونین پارٹی کی طرف سے 10 نومبر 2014 میں جو Equality Degree یا جنسی ہم برابری کی مرسوم ایشو کیا گیا وہ آگے کی طرف بڑھنے کیلئے بہت بڑی پیش قدمی تھی۔ کردش قانون سازی میں عملی طور عورتوں کی ضروتوں اور مرضی کو شامل و نافذ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ قوانیں تمام اداروں میں فکری صورت میں اور زندگی کے طورطریقوں کے مطابق نافذہوں ، محض نافذ شدہ قانون کی شکل میں نہ ہوں! ۱۱۱ سیٹوں والی کردستان پارلمنٹ میں عورتوں کی ۴۲ سیٹیں ہیں۔ مالکم ایکس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ \” محض ٹیبل پر بیٹھنے سے تو تمہارا ڈنر نہیں ہوسکتا جب تک پلیٹ سے کچھ نہیں کھاؤگے۔\”جولائی 2014 میں اسلامی ریاست نے ایربیل پر دھاوا بول دیا تھا جسے PPK نے ناقابل تردید طور پر پسپا کردیا۔ جبکہ عراقی کردوں کی سربراہ جناب برزانی نے پیش مرگہ کے دستوں کو کوبانی کے محاذ پر بھیجا تاکہ وہ YPG/J، کے ساتھ مل کر اسلامی ریاست کے خون خوار درندوں کو شکست دیں۔ یہKRG کی وقار کیلئے ایک بہت بڑی کارنامہ تھی۔ مجھے امید ہے کہ یہ تمام آپسی تعاون و اشتراک عمل آگے جاکر چاروں علاقوں کے کردوں کو متحد کرنے میں نئے سنگ میل ثابت ہونگے۔\” کہاں کا کرد \” یعنی عراقی ایرانی ترکی یا سوریا جیسے سوالوں کے بجائے کردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آ پ کو صرف کردستان کی کرد کے طور متعارف کروائیں۔کرد دنیا کی وہ سب سے بڑی نسلی گروہ ہے جسے مغربی میڈیا نے کبھی درخوراعتنا نہیں سمجھا،دنیا میں اپنی قومی حیثیت کو تسلیم کروانے کیلئے کردوں کو شاید مزید سالیں لگیں، لیکن بین الاقوامی طاقتوں کے نظروں میں اب مثبت کردار کے حامل ہونے کی وجہ سے وہ اپنی منزل مقصود کے قریب تر ہوچکے ہیں، کردوں کیلئے مستقبل کا نقشہ کچھ بھی ہو، مگر یہ کہے بغیر رہا نہیں جا سکتا کہ اگر پیش مرگہ کی اپنی قوم کو ہر حال میں تحفظ دینے کی قوم پرستانہ جوش ولولہ اور مصمم ارادہ اور PKK کی مضبوط تنظیم اور ترقی پسندانہ نظریہ کا ملاپ ہو تو مزید متحد و مضبوط ہونگے۔

Rojava or Western Kurdistan ( Syria)The Kurdistan Democratic Party (KDP)Kurdistan Workers Party (PKK),Democratic
Union Party (PYD)Peoples Protection Units (YPG)Kurdish Regional Government (KRG)بشکریہ :KURDISH QUESTION

http://kurdishquestion.com/index.php/kurdistan/what-kobane-taught-the-kurds.html
- See more at:http://humgaam.net/2015/03/06/%DA%A9%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B0-%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%9F-%D8%AA/#sthash.SSiODcRz.UTVyXWa0.dpuf

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...