Sunday, July 12, 2015

دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے مشغول کرنے کی ضرورت

پاکستانی مقدرہ قوت پنجابی اور پشتون عام عوام کے زھنوں میں اسلامی نظریات کو بنیاد بناکر یہ بات بٹھا چکے ہیں کہ بلوچ اسلام کے قلعے پاکستان کو اسرائیل اور انڈیا کے مدد سے توڑنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان عالم اسلام کا واحد اٹمی قوت ہے. اور.دنیا کو بھی ایک حد تک باور کراچکی ہے کہ بلوچستان میں جو نیچے درجے کی شورش جاری ہے وہ انڈیا کی پیدہ کردہ پروکسی وار ہے جو کشمیر کی مسئلہ کو دبانے کی خاطر شروع کی گئی ہے.
جب کہ اس کے برعکس بلوچ سیاسی کارکنوں نے روایتی انداز میں سیاسی وسماجی پلیٹ فارم کے زریعے مظاہروں اخباری بیانات اور انسانی حقوق کے اکٹیویزم کے تحت اپنا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے.
اڈورڈ سعید نے امریکہ میں فلسطین کی کیس کو اکیڈمک انٹلکچولزم کے زریعے اسرائیل اور باقی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی جس کے نتائج یوں نکلے کہ دنیا کو فلسطین کی کیس کو سمجھنے میں آسانی ہوئی اور دنیاکے تمام ممالک نے پی ایل او اور یاسر عرفات کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا. مگر خود تحریک کے اندر انتہا پسندی نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا.
اب بلوچ قومی تحریک دنیا و پاکستان کو اکیڈمک انٹلکچولزم ڈیسکورس کے زریعے engaged کرنے میں ناکام رہا ہے.

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...