Sunday, July 12, 2015

دیوار کج کا حدشہ

آرچن بلوچ 
___________
کل میں نے بنگلادیش کی ناکام جمہوری نظام کے تناظر میں بلوچستان کی مستقبل سیاسی نظام کے حوالے دو مضبوط جمہوری پارٹیوں کی ضرورت پرزور دیا تھا کیوںکہ بنگلادیش میں محض آزادی کے تین سال بعد تالع آزما فوج نے اورٹیک کیا اور مارشلا کی طویل تاریک دور میں چلاگیا اس کی بنیادی وجہ عوامی لیگ کی یک جماعتی پارٹی سیسٹم تھی۔ بنگلادیش آج بھی سیاسی استحکام کیلئے ترستی ہے۔ اب بات کا ادراک کرتے ہوے میں نے لکھا تھا کہ
“لازوال قربانیوں کا ماحاصل بلوچستان کی قومی آزادی کے بعد دوسرا سب سے بڑا حاصل دو ایسے مضبوط جمہوریت پسند اور اصول پسند پارٹیوں کا قیام ہو جن میں قومی آزادی کی اصل مقصد یعنی عوام کی حکمرانی کو یقینی بنائے جہاں سماجی انصاف کا بول بالا ہو”.
لیکن کچھ دوستوں نے میرے اس حدشے کے حوالے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوے اسے بےجا کہا۔ خاص کر سنگت نودبندگ بلوچ نے براہوئی ضرب مثل کا یہ کومنٹ - اسٹ ءِ لمہ الو ہوغاکہ بلہ کے ۔ دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کہ وہ بلوچستان کے مستقبل کے حوالے کوئی حدشہ نہیں رکھتے۔۔ 
بنگلادیش کی مختصر آزادی کی تاریخ اور بعد کے پے درپے کودیتاؤں کی وجہ جاننے کے بعد آدمی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ آزادی کے بعد فوراً وہاں یک جماعتی نظام مسلط ہوی اوریہ بے لگام استبدادی قوت کی شکل میں تبدیل ہوتی گئی۔ عوامی لیگ نے Bangladesh Krishak Sramik Awami League کے تحت ایک اجارہ دارانہ پارٹی سیسٹم مسلط کردی اس سے بدانتظامی اور کرپشن کی بازار گرم رہی۔ شیخ مجیب کی سربراہی میں قائم BAKSAL کے تحت قوم کے تمام طقبے اور تنظیمیں اس بات کے پابند تھیں کہ وہ نشنل پارٹی یعنی عوامی لیگ میں شامل ہوں ورنا اس کے بغیر کوئی بھی شخص پالمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ 
حالانکہ 1972 میں آزادی کے بعد بنگلادیش کی آئین عوامی لیگ کے پارٹی منشور سیکولر اقدار، قومپرستی، سوشلزم اور جمہوری رویات کی بنیاد پررکھی گئی تھی۔
لیکن اپوزیشن ( دوسری پارٹی ) کی نہ ہونے کی وجہ سے جبر کی نظام پنپنے لگی۔ اس سے منفی قوتوں کو بھی اقتدار پر آنے کی معقول جواز فراہم ہوگئی. اسلیے اس وقت فوج ہی ایک منظم ادارہ تھا جس نے جنرل ارشاد کی سربراہی میں اپوزیشن کی جگہ لینے کا فیصلہ کرلیا. اقدار پر آتے ہی اس نے شیخ مجیب کا فیملی سمیت بے دردی سے قتل کیا. عوامی لیگ پارٹی کے متبادل کے طور بنگلادیش نشنل پارٹی BNP کو تشکیل دیاگیا جس میں پاکستان کے حمایتی مسلم لیگی عناصر سے لیکرمزھبی عناصر خاص کر جماعت اسلامی اور عوامی لیگ سے ناراض دوسرے رہنما شامل کئے گئے تاکہ عوامی لیگ کی جائز حیثیت حتم ہوجاے۔ 
فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ - خشت اول چون نهد معمار کج تا ثریا می رود دیوار گج - اگر آزادی سے پہلے یا بعد میں دو مضبوط پارٹیاں قائم ہوتیں اور بنگلادیشی عوام کی نمائندگی کرتیں تو وہاں کوئی تالع آزما فوجی جنریل عوامی اقتدار پرہرگز مسلط نہیں ہوتا۔ 
بلوچ نفسیاتی طور پر سیکولر تو ہیں مگران کی سرشست میں hegemony یعنی اجارہ داریت کی رجہان بھی شامل ہے یعنی دوسری الفاظ میں غیر جمہوری رویہ! یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر چانس ملا تو کسی شوان یا شکاری کا بیٹا بھی بڑا میرو معتبر، کہودا یا ٹکری کہلوانے کی خواھش کا اظہار ارادی یا غیر ارادی طور پر کرتا رہتا ہے۔ 
میرے حیال میں ایسی ہی حدشات اور منفی رجہانات کے ادراک کی بنیاد پر ہی سنگت حیربیارمری نے اپنی سربراہی میں قومی سوچ کے تحت فکری سنگتوں کے ساتھ بلوچستان آزادی کی چارٹرکو ترتیب دیکر سحیح سمت کا تعین کیا ہے۔ تاکہ استبدادیت کا تدارک ہو۔ 
بلوچستان کے عظیم فرزند لازوال قربانیاں اس امید پر دے رہے ہیں کہ ان کی قوم کی مستقبل محفوظ ہو شرف و آبرو بحال ہو۔ اب جبکہ تمام تر جہد و قربانیاں روشن مستقل کی امید پر وابسطہ ہیں تو کیوں نہ مستقبل کے امکانی حدشات کے حوالے بھی سوچھا نہ جائے؟ اس کی تدارک کیلئے ابھی سے بندوبست کیوں نہ کی جائے تاکہ دیوار کج کا حدشہ نہ رہے اور میرے حیال میں دو پارٹی سیسٹم اس کی بہترین حل ہے۔۔

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...