Wednesday, October 11, 2017

ڈاکٹر اللہ نظر کا اتحاد کیلئے کال ایک مثبت پیش رفت

ڈاکٹر اللہ نظر کا اتحاد کیلئے کال ایک مثبت پیش رفت !
تحریر۔ آرچن بلوچ۔۔
ڈاکٹر اللہ نظر نے سوشل میڈیا ٹویٹر کے توسط سے تمام آزادی پسند اسٹاک ہولڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اتحاد کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ اخلاقی  شکست خوردہ پاکستانی ریاست گھناونے حرکتوں میں اتر آئی ہے اور عام عوام بھی یہی سمجھتی ہے کہ اتحاد کے بغیر یہ ایک مشکل سفر ہوگا۔  ڈاکٹر صاحب کا یہ بیان ایک مثبت پیش رفت ہے، ڈاکٹر صاحب کو یہ بات بہلے ہی کرنا چاہیے تھا.
 قومی اتحاد ایک  اسٹراتجک چوائس ہے جس کا انتخاب کرنا کامیابی کیلئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ کردستان اور کٹالان رفڑنڈم نے دنیا کی کئی کثیرالاقومی ملکوں خاصکر ایران پاکستان ترکی، سوریا، اسپین اور عراق کے حکمرانوں کو اس خدشے میں ڈالا ہے کہ ان کی ملکوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ پاکستان نے حالیہٓ بین الاقوامی آزادی پسند تحاریکوں میں یکسانیت، (قومیت کی بنیاد پر) اور رفڑنڈم کے رجحان کے پیش نظر بلوچ قومی تحریک کو کرش کرنے کی غرض سے اٹھاؤ، قتل کرو اور پھینکو کے ساتھ  اب ایک اور گھناؤنا حرکت شروع کردی ہے۔ یعنی بلوچ ننگ و ناموس کی پائیمالی جیسے گھناونے حرکتوں میں اتر آئی ہے۔ کیوںکہ شاید وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح وہ تحریک کو روکھ سکتی ہے۔۔ بلوچ رہنماؤں کیلیے صرف واحد راستہ یہ بچھا ہے کہ وہ قومی قوت کو مجتمع کرتے ہوئے پوری زور و شور سے دنیا سے اپنا مدد مانگے، متحد ہوے بغیر دنیا بلوچ کو کمک دینے کیلیے ہرگز تیار نہیں ہوگا۔ لنگڑے گھوڑوں پر صرف عقل کا مارا ہوا انسان ہی بازی لگا ئے گا۔ ہماری موجودہ جہد کا فارمیشنformation  ، یعنی شکل وتشکیل انتشار کی کیفیت میں ہے۔۔  شاید انہی باتوں کے پیش نظر ڈٓاکٹر اللہ نظر نے آزادی پسند اسٹاک ہولڈروں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے کہ وہ ایک الائنس بنائیں۔
بلوچ رہنماؤں کو یہ بات بھولنا نہیں چاہیے کہ کامیابی کی راز صرف blitz تیزی اور پرتی میں پنہاں ہے۔۔ دنیا جدید سے جدید اختراعات اور ایجادات کے اس تصور کہ ساتھ عمل کر رہی ہے تاکہ ترقی کے مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔ جنگی سازوسامان سے لیکر عام سمارٹ موبائل تک جدیدیت، تیزی اور مسلسل اپ ڈیٹ کا رجحان سپ پر غالب ہے۔ بقول بابا مری کے جتنا دیر کروگے اتنا ہی نقصان اٹھاؤگے۔ اتحاد کیلیے بلوچ رہنماؤں کو بلکل دیر نہیں لگانا چاہیے۔ ہمارے سامنے دنیا کی ساری نظاموں کے ٹپلیٹ  template موجود ہیں۔ ہمیں وہیل پھر سے ایجاد نہیں کرنا۔۔ We do not need to reinvent the wheel
خوش آنند بات یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکروں میں یہ بات یکساں پائی جاتی ہے کہ ہمیں تحریک کو اتحاد کی طرف لے جانا چاہیے، اور پہلے سے بہت زیادہ سنجیدہ اور میچور بھی پائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں غاصب قبضہ گیر کے خلاف ایک لاوا پک رہا ہے، اسے صرف اتحاد کی صورت میں ہی کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔   

اتحاد کے حوالے فری بلوچستان مومنٹ کے سربراھ سنگت حیربیار مری کا شروع دن  سے ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ اشتراک عمل سے ہی بلوچستان آٌزاد ہوگا سنگت حیربیار مری کی طرف سے اتحاد کیلیے کئی بار کوششیں کی گئیں، اور اب بھی فری بلوچستان مومنٹ کی طرف سے اتحاد و الائنس کیلیے کمیٹی قائم ہے۔ سنگت حیربیارمری کی سربراہی میں فکری دوستوں نے قومی اتحاد کیلیے بلوچستان لبریشن چارٹر جیسا ایک بہتریں روڈ میپ بھی دی گئی ہے۔۔ لیکن بدقسمتی سے بلاوجہ کوئی پریزائی نہیں ملی۔ اب جبکہ ڈاکٹر اللہ نظر کی طرف سے اتحاد کی کال آئی ہے، یہ گمان بھی ہے کہ اتحاد کی روڈ میپ کیلیے شاید وہ پہلے ہی ہوم ورک بھی کرچکے ہیں، اگر اس بارے ہوم ورک نہیں کی گئی ہے تو وہ جلد عوام کے سامنے ایک قومی روڈ میپ اور قومی پروگرام سامنے لائے۔ تاکہ اتحاد کی راہیں کھلیں۔

Saturday, September 2, 2017

اجتماعی طاقت کا حصول انتہائی ناگزیر ہوچکی ہے



آرچن بلوچ

لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین  کے تصور کو لیکر جب ہم  اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ اسی تصور یا نظریہ یعنی سب کا اپنا اپنا دین ہے نے قوم کی اجتماعی قوت کو منتشر کیا ہے۔ وہ یوں کہ پارٹیوں یا تنظیموں کی وجود کا تصور یہ بتاتی ہے کہ قوم کی اجتماعی قوت  انہی پارٹیوں یا تنظیموں کی شکل میں وجود تو رکھتی ہے لیکن الگ الگ  پارٹیوں اور تنظیموں کی شکل میں منقسم و متشر بھی ہے۔ ہم ایک آزاد قوم نہیں ہیں بلکن ایک مقبوضہ قوم ہیں۔ روایتوں کے بنیاد پر تنظیم کاری اور انکی تشکیل مقبوضہ قوم کی جہد آجوئی کے تقاضوں کو پورہ نہیں کرتے۔
بقول سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے‘‘ کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے’’، بلوچ قوم پاکستانی اور ایرانی جارحیت کے شکار ہیں، طاقت کو صرف طاقت ہی روکھ سکتی ہے، بلوچ قوم کا ایک قومی طاقت ہے لیکن وہ منقسم و مفقود ہے۔
 جبکہ دوسری طرف  ازاد ریاست کی شکل میں کسی بھی قوم کی اجتماعی قوت  اس کی قومی اداروں یعنی قومی پارلمنٹ، قومی معیشت اور قومی فوج کی شکل میں وجود رکھتی ہے۔ اگر کوئی آزاد قوم جنگ جانے سے پہلے اپنی قومی معیشت اور عسکری قوت کو دیکھتی ہے۔ ہمارے پاس قوم کی اجتماعی قوت کے حامل بنیادی اہم ادارے یعنی  قومی معیشت اور  قومی فوج نہیں ہے، ہماری قومی قوت  کمزور ڈانچوں والے تنظیموں کی شکل میں منقسم ہیں۔  اور بد قسمتی سے مجھ جیسے عقل کے اندھے انہی شمبلان شمبلان  تنظیموں کو قومی ادارہ بھی گردانتے ہیں۔  موجودہ پارٹیاں اور تنظیمیں اگر مضبوط شکلوں میں ہوتیں تو کچھ ڈھارس بندھا جاتا لیکن بقول پنجابیوں کے آوے کا آواہ ہی بگڑ چکا ہے۔
موجودہ دور میں قومی ترجیحات اور قومی پالسیوں کا از سر نو تعین کا سوال بھی ابھر چکا ہے۔  انکے بارے انفرادی طور پر فیصلہ لینا ممکن نہیں جبتک اس میں قومی اپروچ شامل نہ ہو۔
تحریک آزادی کے متحرک تریں اور سنئرتریں جہدکاروں کو اپنی اپنی چینلوں کے زریعے اس بات  کو اپنے لیڈروں کے ہاں  گوشگزار کرانا چاہے کہ  اجتماعی طاقت کا حصول انتہا ناگزیر ہوچکی ہے۔ موجودہ تمام انفرادی پارٹیاں اور  تنظیمیں قومی تحریک کے تقاضوں، لوازمات اور ضروتوں کو پورہ کرنے سے قاضر ہیں۔  قومی تحریک کی لوازمات اور تقاضوں کی پورہ کرنے کیلئے  چار سادے مگر اہم و  بنیادی فیصلے کرنے ہونگے۔
سب سے پہلے تمام آازاد پسند اسٹیک ہولڈرز ایک امبریلہ آرگنائئزئشن کے تحت جمع ہوں یہ امبریلہ آرگنائزیشن تمام اسٹیک ہولڈروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک نمائندہ قومی کونسل تشکیل دے جس کی حیثیت ایک پارلمنٹ کی ہو اور یہ پارلمنٹ ایک جلا وطن حکومت کا چناؤ کرے۔ اس کے ساتھ ہی قومی فوج کا تشکیل ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت انجام پائے۔انہی اداروں کی تشکیل کے بعد بلوچ کیلئے دنیا سے کمک اور سپورٹ کا حصول بہت آسان ہوگا۔ اور قوم کو کم از کم نفسیاتی بھی رلیف ملے گی۔  


Monday, May 1, 2017

قومی حق حاکمیت کا درس اور پاکستانی انکلابی کتابیں


 آرچن بلوچ  

پتہ نہیں یہ میری نالائقی ہے یا غم روزگار سے فراغت نہ ملنے کی سبب، یا بے یقینی اور بداعتمادی لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسیات کے حوالے اردو میں لکھی گئی  پاکستانی مصنفوں کی کتابوں کو میں نے ابھی تک نہیں پڑھا ہے، ہاں البتہ اقتباسات، حوالے جات اور بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے بارے بلوچوں کی لکھی گئی کچھ چند کتابوں کو ضرور پڑھا ہے، اور ان آرٹیکلوں کو بھی پڑھا ہے جن کا تعلق برائے راست بلوچ سیاسیات و مزاحمتی تحریک سے ہے۔ حاص کر صورت خاں مری، حفیظ حسن آبادی، استاد شبیر بلوچ  اور دوسرے بلوچ لکھاری جنہوں نے بلوچ آزادی کی بحالی کی مقصد کو لیکر اچھے مضامیں لکھے ہیں۔
سیاسیات کے حوالے اردو میں لکھی گئی بیشتر کتابیں سماجی تبدیلی یا انکلابی نعروں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا بلوچ تحریک آزادی سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیوبا، چائنا اور رشیا وغیرہ میں فوجی نوعیت کے استبدادی سماجی تبدیلیوں کو انکلاب  کا رنگ چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جن کے تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ پاکستان میں آپ کو اردو میں لکھی گئی کوئی ایسی کتاب نہیں ملتا جن میں آزادی کی تحریک کے متعلق مباحث ہو۔
میں نے اکثر وبیشتر دیکھا ہے بلوچ طلبا انہی پاکستانی کتابوں کو شوق سے پڑھتے ہیں لیکن وہ قومی علم و آگہی جو قومی حق حاکمیت کی درس سے تعلق رکھتے ہوں  وہ ان کتابوں سے انہیں نہیں ملتے۔  گوکہ یہ کتابیں ترقی پسندی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مگر جداگانہ کلچر اور مفرد تاریخ رکھنے والے اقوام کی اپنی گلزمیں پر اپنی حق حاکمیت کے بحالے    restoration of national sovereignty     کے بارے یہ کتابیں بلکل ھاموش ہیں۔
موجودہ  سیاسی کیڈرز کی بیانات اور گفتار و اظہاریہ سےانکی سیاسی و آگہی بلوغت کا بتہ چلتا ہے کہ انتہائی انکلابی معیارات سے مزین ہیں۔ زیادتر ماوزے تنگ کے  کلچرل انکلاب کے حامی نظر آتے ہیں۔  ماوزے تنگ نے کلچرل انکلاب لانے کیلئے ایک پوری نسل کو خون میں غلطاں کیا اور دنیا کی سفاکتریں خونی کلچرل انکلاب چین میں لایا ، جہاں بیس لاکھ انسان لقمہ عجل  بن گئے۔  اپنے ہی عوام پر اس انکلاب کو لانے کیلئے ناقابل یقین سفاکیت کی حربے آزمائے گئے جو آج تک تاریخ دان یہ سمجنھے سے قاصر ہیں کہ اس طرح کی خوب بہانے کی کیا ضرورت تھی!
برعکس خونی انکلاب کے، آزادی کی  تحریک یا اپنی گلزمین پر قومی حق حاکمیت کی بحالی کی جہد ایک غیر طبقاتی عوام دوست People Friendly تحریک ہوتی ہے جس میں سرمایہ دار، سردار سے لیکر مزدور ڈاکٹر وغیرہ سب غیرمشروط  طورپر شامل ہوتے ہین۔ موجودہ بلوچ آزادی کی جہد خالص ءُومی حق حاکمیت کی بحالی کی تحریک ہے۔ بلوچ طلبا کو چاہیے کہ وہ انکلابی بننے کے بجائے آزاد جمہہوری ملک کی تصور کو لیکر اپنی علمی تشنگی کو ازادی کی تحریکوں کے بارے لکھے گئی کتابوں سے بجھائیں، انگریزی اور دوسرے زبانوں میں ایسے کتابیں اور مضامیں انٹرنٹ میں بکثرت دستیاب ہیں۔
یاد رکھیے کہ لفظ انکلاب ایک نامکمل اصطلاح ہے، انکلاب معنوی لحاظ سے کسی نظریہ یا تصور کو واضع نہیں کرسکتا ہے جب تک کہ اس کے ساتھ لاحقے اور ثابقے نتھی نہ ہوں جیسا کہ ایران کا اسلامی انکلاب، چائںآ کا کلچرل انکلاب اور روس، کیوبا ، کوریا  وغیر کا  سوشلسٹ انکلاب !



قومی بحران اور اپروچ لوکل سیاست

 آرچن بلوچ

قومی بحران سے نکلے کیلئے ‘قومی اپروچ‘ کی اصطلاح بہت اہمیت کا حامل ہے، جب بھی کسی جمہوری ملک میں قومی الکشن ہوے اور کسی پارٹی کی اکثریت ثابت نہ ہوسکی اور بحرانی کیفیت پیدا ہوئی تو وہاں ‘قومی‘‘ حکومت قائم کیا گیا۔ جیسا کہ حالیہ افغانستان میں صدارتی الکشنوں میں کسی ایک فریق کی واضع اکثریت ثابت نہ ہوسکی تو وہاں ‘قومی‘ حکومت قائم کیا گیا۔۔ دنیا میں اکثر جمہوری ممالک میں آئینی طور پر قومی حکومت بنانے کے گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کی سبیل ہوسکے، اسی طرح دنیا کے تمام ملکوں کے ادارے یعنی فوج بنک وغیرہ خودمختار قومی ادارے کہلائے جاتے ہیں جن پر کسی خاص پارٹی یا گروہ کی اجارہ داری نہیں۔
اسی طرح اگر کسی ملک کا سیکیورٹی یا معیشت بحرانی کیفتیت میں مبتلا ہو تو وہاں قومی پروچ کے تحت فیصلے لیئے جاتے ہیں، اسی غرض سے آل پارٹی کانفرنس بلائے جاتے ہیں، جیسا کہ پاکستان نے سیکیورٹی کی بحرانی کیفیت سے نکلنے کیلئے آل پارٹی کانفرنس بلاکرقومی اپروچ و رایہ کے زریعے نیشنل اکشن پلان ترتیب دیا۔
اب اسی قومی اپروچ کی تصور کو لیکر بلوچ آزادی کی تحریک کو دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں قومی اپروچ نظر نہیں آر رہا ہے۔ حالانکہ بلوچ قوم اپنی تاریخ میں بدتریں بحرانی کیفیت میں گزر رہا ہے، اس کی وجود خطرے میں پڑھ چکی ہے، اسے سیکیورٹی، معاشرتی، معاشی اور انسانی حقوق کے سنگتین مسائل درپیش ہیں اس کی آزادی کی تحریک جیت اور شکست کی سنگم پر سانس لے رہا ہے، دنیا کی تیسری بڑی قوت چائنا عملا اپنی فوجی قوت کے ساتھ بلوچ ساحل پر لنگرانداز ہوچکی ہے، بلوچ سرزمین الاقوامی قوتوں کا اکھاڑا بن چکا ہے۔ چاروں طرف خطرات منڈالا رہے ہیں، بلوچستان کا کرائسس اب ایک بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے، ہمارے خطے کی جیوپالٹکس کا نقشہ بلکل بدل چکا ہے۔ لیکن ہم اس تمام صورتحال کو ہم کس اپروچ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور جہید کر رہے ہیں؟، اجتماعی قومی اپروچ وسوچ کے ساتھ یا انفرادی لوکل پارٹی سیاست کے اپروچ کے ساتھ؟
افسوزناک حقیقت یہی ہے کہ ہم گزشتہ 16 سال سے پارٹی سیاست کے اپروچ کے تحت بے دریغ قربانیاں دے رہے ہیں، ہم وہ نتائج حآسل ںہ کر سکے جس کی جس سطح کی قربانیاں دی گئیں۔ بقول میرے دوست کے ہم لوکل سیاست کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے مطالبے بین الاقوامی ہیں

Friday, April 7, 2017

حمل حیدربلوچ کا اتحاد کیلئے بات چیت کے پروسس میں دانشوروں اور بزرگ سیاست کاروں کو شامل کرنے کی مثبت تجویز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پہلا قدم کون اٹھائے؟

آرچن بلوچ 
حمل حیدر بلوچ، جوکہ یورپ میں بی این ایم کا نمائندہ رہنما ہے، ان کا ایک مضمون چار دن پہلےمیرے سامنے گزرا، ان کا یہ آرٹیکل بلوچ قومی اتحاد کے حوالے بہت مثبت پیش رفت ہے لیکن مجھے نہیں معلوم یہ آرٹیکل اس نے کب لکھا ہے، لیکن کسی دوست نے میرے ساتھ شئر کیا تھا۔ اس آرٹکل میں لکھی حمل حیدر کی باتوں کو میں نے قابل عمل پایا۔۔ میرے خیال میں باتوں سے آگے دو قدم چل کر ہی عمل کا فرض پورا کیا جاسکتا ہے، اس حوالے فری بلوچستان مومنت کی طرف سے عملی طور پر رابطہ کاری کیلئے کمیٹیاں بنائی گئیں اور عملی طور رابطہ بھی کیا گیا لیکن بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ موجودہ معاروضی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قومی تحریک میں شامل تمام آزادی پسند عملی طور آگے بڑھ کر قوم کی منتشر قوت کو مجتمع کرلیں، حمل حیدر نے تجویز دی ہے کہ ‘‘ہم سب سے پہلے ایک فارمل سیٹ اپ بنائیں جو تمام تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہو تاکہ اتحاد کی بنیاد رکھی جاسکے۔ یہ سیٹ اپ اتحاد سے مشابہ نہیں ہوگا بلکہ اسکا مقصد اتحاد کے پروسس کو میچور بناناہوگا۔ پھر بات چیت کے پہلے مرحلے میں ایک تین روزہ بند کانفرنس بلایا جائے جہاں اتحاد کے مختلف آپشنز پر سیر حاصل بحث کیا جائے۔ اگر اس کانفرنس میں دانشوروں اور فارغ التحصیل سینئر سیاست کاروں کو شامل کیا جائے تو بہتر رہے گا‘‘
حمل حیدر کی یہ تجویز کہ ‘‘اگر اس کانفرنس میں دانشوروں اور فارغ التحصیل سینئر سیاست کاروں کو شامل کیا جائے تو بہتر رہے گا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اب اتحاد کے حوالے سنجیدگی سے سوچھ رہے ہیں، کیونکہ جب تھرڈ پارٹی یعنی دانشور اور بزرگ رہنما اس پروسس میں شامل ہونگے تو پیش رفت ہونے کے قوی امکانات موجود ہونگے اور تحفظات بھی نہیں رہیںگے۔ اس حوالے فری بلوچستان مومنٹ کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ اشتراک عمل کے زریعے قوم کی اجتماعی قوت کو متحد ہونا ہوگا۔ لیکن اب اگر اتحاد کے حوالے حمل حیدر کی طرف سے تھرڈ پارٹی یعنی بزرگوں اور دانشوروں کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تو اسے عوامی حلقوں میں پزیرائی ملے گی کیوںکہ اس سے بات چیت کے تمام مراحل خوش اسلوبی اور اعتماد کے ساتھ حل ہونگے۔ فری بلوچستان مومنٹ کے ورکرز قوم کی اجتماعی قوت کو متحد کرنے کی ہرمثبت عمل کو وش اتک کریگی اس حوالے ایف بی ایم کے پلیٹ فارم کے طرف سے یہ بات پہلے ہی واضع کی گئی ہے کہ بات چیت کیلئے دروازے ہمیشہ کھلے رہینگے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ دوسری طرف باقی آزادی پسندوں کی طرف سے عملی اقدامات اور عملی پیش رفت کس طرح کی ہو وہ حمل حیدر اور ان کے دوستوں کی طرف سے اٹھائے گئے عملی اقدامات سے ہی ثابت ہوسکتا ہے۔


آرچن بلوچ

Monday, March 13, 2017

اجتماعی سیاسی قیادت کی تصور پرمتفق ہونا ہوگا


ہم باربار بلوچ قوم کی اجتماعی قومی قوت کی ایک مرکز میں مرتکز ہونے کی ضرورت پر اس لیے زور دے رہے ہیں کہ ہمارا دشمن باقائدہ اپنی سب سے بڑی منصوبوں کو کامیاب کرانے پر عمل پیرا ہے، اور کسی حد تک troop surge کی اسٹراٹیجی کے بدولت کامیاب ہوچکی ہے۔۔

اور دوسری طرف ہمارا منتشرمزاحمتی قوت، اجتماعی قومی قوت کے بغیر یتیمی کی حالت میں کمزور پوزیشن پر قوم کی دفاع کر رہا ہے۔ اور اسی دفاع کی پاداشت داشت میں سفاک دشمن عام عوام کو اجتماعی سزا دے رہا تاکہ مزاحمت کاروں کو عام عوامی سپورٹ اور حمایت نہ ملے!

اس صورتحال کو بدلنے کیلئے تندہی سے تمام آزادی پسند قوتوں کو ایک اجتماعی قیادت کی ضرورت پر عملی طور پر متفق ہونا ہوگا تاکہ نہ صرف گراؤنڈ پر بلکن بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کی راہیں کھل جائیں


قوم کی اجتماعی قوت دنیا کے سامنے اجتماعی سیاسی قیادت کی شکل میں سامنے نظرآتی ہے اور یہی اجتماعی سیاسی قیادت ہی قومی تحریک کا اصل چہرہ ہوگا۔۔۔

ہنسنے کا مقام یا رونے کا مقام



پتہ نہیں یہ بات ہنسنے کی ہے یا رونے کی، لیکن جب بھی مجھے اس بات کا احساس ہوگا کہ ہمارے جید قومی رہنما اکثر دنیا کی طاقت ورتریں ممالک یورپ امریکہ اور اقوام متحدہ سے اس لیے مدد مانگتے ہیں کہ ان کے پاس طاقت ہے، وہ پاکستان کو روکھنے میں ہماری مدد کریں گے لیکن کیا دنیا اتنا بیوقوف ہے اور ہمیں نہیں پوچھے گی کہ بھئی آپ کا اپنا ایک قومی طاقت ہے کہ نہیں؟ تو کیا جواب بنتا ہے؟ یہی نا کہ ہم منتشر ہیں!

بلے ہی کمزور طاقت ہو، لیکن اسے یکجاہ کرنا قومی رہنماؤں کا ایک اخلاقی فرض تو بنتا ہے۔ اس ایک کمی کی وجہ سے ہمارے تمام سوشل میڈیا کی سرگرمیاں اس وقت تک بے اثر رہیں گے جب تک متحدہ قومی قیادت تشکیل نہیں پاتی! ایک متحرک اور پرعزم اجتماعی قومی قیادت ہی قومی کی اجتماعی قوت ہوتی ہے، وہ تحریک کا چہرہ ہوگا اور دنیا کو اسے قبول کرنے اور اعتماد کرنے پر کوئی دشواری نہیں ہوگی

Saturday, March 11, 2017

خلیل بلوچ کا انکلابی معیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومی اشتراک عمل سے گریزاں کیوں؟

آرچن بلوچ
گہار فاطمہ بلوچ پر قبضہ گیر کا کلہاڑیوں سے وار اور  بعد ازاں اسے تربت ہسپتال سے اپنی بہن اور رشتہ داروں کے ساتھ اٹھانا ماس پارٹیوں کی خاموشی اور ہماری بےبسی ہمیشہ دل میں اس حقیقی حیال کو تقویت دیتی ہے کہ ہم  متحدہ ہوے بغیر اپنا دفاع نہیں کرسکتے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قوم میں ایک مضبوط قومی قوت وجود تو رکھتی ہے لیکن وہ منتشرہے، اسے یکجاہ کرنے کیلئے اگر دھان کسی طرف جاتی ہے تو وہ سیاسی پارٹیاں یا لیڈرز ہیں۔۔۔ اس حوالے تازہ تریں اپ ڈیٹ بی این ایم  کی مرکزی  کابنیہ کے دو روزہ  مٹینگ  کا رپورت خلیل بلوچ کی بیان میں آئی ہے۔  اتحاد کے حوالے خلیل بلوچ کے بیان  میں یہ کہا گیا ہے کہ  ‘سی پیک جیسے استحصالی منصوبے کے توسط سے پاکستان وچین کاگٹھ جوڑاس امرکاواضح ثبوت ہے ایسے نوآبادیاتی منصوبوں کوخاک میں ملانے اورقومی آزادی کی حصول کوممکن بنانے کیلئے بلوچ آزادی پسندقوتوں کااتحادآج وقت کاتقاضہ تو ہے مگراس کیلئے سنجیدگی ،مستقل مزاجی اورکمٹمنٹ کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی معیارکی ضرورت ہے جس میں پارٹی سیاست کو اولیت حاصل ہوناچاہئے کیونکہ قومی وانقلابی پارٹی اور پارٹی اداروں کی عدم تشکیل یا انہیں اہمیت نہ دے کر ہیرارکی یا وراثتی سیاست کو آگے بڑھانے سے پیدا ہونے والے مسائل اور تحریک کے لئے نقصا ن دہ ثابت ہونے والے طریقہ کار ہمیں پارٹی سیاست اور پارٹی اداروں کوشخصی یاگروہی سیاست پر فوقیت دینے کی درس دیتا ہے،،   اتحاد سے گریزاں  سے خلیل بلوچ کی باتوں سے دو واضح موقف نظر آرہا ہے ایک  وراثتی سیاست، دوسرا انکلابی معیار اب پتہ نہیں خلیل بلوچ کو موجودہ  آزادی پسند سیاسی جہد میں شامل  کن جماعتوں یا اشخاس سے وراثتی خطرے کی بو آرہی ہے  نواب براھمدگ بگٹی کے ساتھ  تو انکے مزاکرات جاری ہیں، اب پتہ نہیں یہ انکلابی معیار کے ہیں یا نہیں، لیکن بہت دیر گزر چکا ہے، ابھی تک عوام کو اس حوالے اپ ڈیت نہیں دیاگیا ہے ان کی اتحاد کی بات چیت کہاں پہنچ چکے ہین، یہ سوال بھی ابھر کرسامنے آرہا ہے کہ اب وہ براھمدگ بگٹی سے کس طرح کے انکلابی باتیں آپ منوائینگے، لیکن اگر واجہ خلیل بلوچ کا اشارہ سنگت حیربیارمری کی طرف ہے تو اس نے کب سے وراثتی سیاست کو تیاگ دیا ہے، سنگت حیربیار مری نے قومی آجوئی کی راہ  میں قومی سوچ کے بنیاد پر سیاسی اپروچ کو اپنایا ہے، اسی  قومی سوچ اور عوامی اپروچ  کو لیکر سنگت نے اپنی رہنمائی میں عوام کے ساتھ ایک عمرانی معائدہ آزاد بلوچستان کی چارٹرتحریری شکل میں لائی ہے جس میں آزادی کی شق کے بعد  دوسرا شق یہ ہے کہ عوام طاقت کا منبع ہے  عوام سے یہ ایک باقاعدہ عمرانی معاہدہ ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ جب بابا مری اس جہاں سے رحلت ہوئے تو سنگت نے فورا یہ اعلان کیا کہ بابا کے رحلت کے بعد مری قبیلہ میں سرداری نظام ختم ہوچکی ہے۔  بلوچ  وراثتی سیاست  کو ایک منٹ کیلئے پرے رکھیے، برطانیہ جوکہ جمہوریت کا ماں ہے وہاں ابھی تک ہراریکی کا سلسلہ چل رہا ہے ، خلیجی ممالک، جاپان ، برونائی وغیرہ میں سارے حکمران ہراریکی کے ہیں۔ جہاں مغربی دنیا کے بعد سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک کی انگریزوں سے آزادی کی مدت چالیس سال سے زیادہ نہیں، انگریزوں کے غلامی سے آزادی  کے بعد ان ملکوں کے وراثتی حکمرانوں نے فورا اپنے اپنے ملکوں کو ایسا ترقی دی ہے  جس طرح ایک زمہ وار شخص اپنے گھر کی تزعین و آرائش کرتا ہے۔  جس کا تصور دنیا میں سو سے زیادہ  جمہوری ممالک نہیں کرسکتے۔  ایشیا اور افریقہ میں ایسے سو سے  زیادہ جمہوری  ممالک ہیں جہاں لوگ ایک دن کی نان نطفہ سے محروم ہیں۔  جب کہ دوسری طرف غیروراثتی انکلابی  حکمران، حاص کر سوریا کی حافظ اسد کی بعث پارٹی کی چالیس سالہ حکمرانی، صدام کی بھی بعث پارٹی کا عراق پر بلا شرکت غیرے  جبر و استبدادی کی حکمرانی، لیبیا پر معمر قزافی کی بھی چالیس سالہ گرین پارٹی کی انکلابی حکمرانی شرکت بلا غیرے رہا۔ ایران میں تھیوکراٹیک ملاشاہی کی جمہوری انکلابی نظام۔۔ ان کے بارے انکلاب کا معیار قائم کرنے والے کیا کہتے ہیں، اسٹالن کی سویت ریشیا کی کیا حال سناؤں ! جنگ آزادی کے دوران  بلوچ نظام حکومت کا تعین  کس طرح ہو، اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے بہتر ہے، آزاد بلوچستان کا عوامی رایہ اور پارلمنٹ آئین ہی اس بات کا تعین کریں کہ کس کا طرح  کی نظام حکومت قائم ہو، انکلابی معیار کی ہو یا وراثتی یا جمہوریت کی! خلیل بلوچ کی باتوں سے مجھے کہورخان کی بات یاد آتی ہے 1986 میں بی ایس او کے چیرمیں ڈاکٹریاسین نے سنئر دوستوں کے مشورے سے ایک قومی پروگرام پیش کی جس میں ‘‘غیرطبقاتی جدوجہد برائے حق خود اداریت کو اولیت دی گئی تھی، لیکن ڈاکٹر کہورخان نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کیوںکہ سوشلسٹ یا کمسنٹ کے جہد میں جس طرح سرمایہ دار شامل نہیں ہوسکتا!  اسی طرح ہمارے تحریک میں سردار شامل نہیں ہوسکتا،  دوستوں نے کہا بابا ہمارے  جہدوجہد کا اولین مقصد قبضہ گیریت سے نجات کی ہےکسی نظام کی تبدیلی نہیں۔  
 پہلے تو یہ لوگ کمنسزم اور سوشلزم کی اچھائیاں گنواتے تھے، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہوا کھڑا کرتے ہوئے سنگت کی سیاسی کردار کشی کرتے تھے اب  وراثت کی scarecrow  کو لیکر عوام کو ڈرا رہے ہیں اگر اتحاد کیا تو وراثتی لوگ آگے آئینگے۔
 خلیل بلوچ کی بیان سے ایک اور بات بھی واضع کی گئی ہے وہ ہے پارٹی سیاست یعنی  Party Politics، ان کا یقین ہے کہ پارٹی سیاست کو اولیت حاصل ہوناچاہئے  دنیا  کی مروجہ سیاسی روایتوں میں، خاص کر آزاد جمہوری ملکوں میں عوام کا حمایت حاصل کرنے  اور اقتدار  میں آنےکیلئے  سیاسی داؤ پیچ کھیلا جاتا ہے مخالف پارٹی کی ہر کمزوری  اورغلطی کو عوام کے سامنے اجاگر کرنااور قانون ساز ایوانوں میں رکھاوٹیں ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ برطانیہ اور امریکہ میں ہوتا رہتا ہے، انڈیا میں بی جی پی اور کانگریس کے درمیاں جو سیاسی کھیل کھیلا جاتا ہے وہ پارٹی پالٹکس یا سیاست کے زندہ مثالیں ہیں، پاکستان میں صرف فوج کھیل کھیلتا ہے، یہ بدبخت ملک کسی کٹگری میں فٹ نہیں آتا۔ بلوچوں میں پارٹی پالٹکس کی تاریخ  اس وقت شروع ہوئی جب 1970 کی الیکشنوں میں جیت کی زعم میں  مبتلا بلوچ قیادت  وزارت اعلی اور گورنرشپ کی لالچ میں نیپ کےپلیٹ فارم پر غوث بخش بیزنجو اور  سردارعطاللہ خان مینگل نے نواب نواب اکبرخان بگٹی کو بلا وجہ زک پہنچایا، نیپ کی پلیٹ فارم سے نواب شہید کی بے عزتی اس بات پر  کرائی گئی  کہ وہ  نیپ کا پارٹی ممبر نہیں ہے۔ یہ واقع  بلوچ سیاسی  تاریخ  کا ایک المناک تریں موڈ  ثابت ہوئی! جس کے اثرات نواب کی شہادت تک نظر آئے، تراتانی کی پہاڑوں میں مورچہ زن  شہید نواب نے جب فوج کی نیت کو بانپ لی ، تو اس نے کاغزی شیر کو پکارا ، لیکن وہ اپنی ضد کی ہول سے باہر نہیں نکلا، گستاخ دشمن نے بانپ لیا کہ اب نواب بگٹی سے اکھیلا ہے۔ تو اس نے نواب صاحب اور انکے عظیم ساتھیوں کو شہید کرنے میں ایک دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  بدقسمتی یہی پارٹی سیاست سنگت حیربیارمری کے ساتھ بھی کھیلا گیا، براھمدگ بگٹی نے بی این ایف کو اس بہانے  توڑا کہ فرنٹ  میں شامل دوسرے پارٹیوں نے کیوں حیربیار مری کو  تحریک کی خارجہ امور کی زمہ واریاں تجویز کی گئیں! فرنٹ کی دوسری بڑی پارٹی  بی این ایم کی قیادت نے بھی کہا کہ ہم نے تو اس کا نام  تجویز نہیں کیا۔ بلا وجہ قوم اور دنیا کے سامنے سنگت کی سبکی کرنےکا کیا ضرورت تھی؟  ایک طرف بی آر پی  کی جانب سے خیربیار پر عدم اعتماد کا اظہار اور دوسری طرف بی این ایم کا خیر بیار مری کے ساتھ اظہار لاتعلقی کا بیان دینا کونسا قوم دوستی اور سیاسی بلوغت ہے؟  اس  میں بی این ایم کا کتنا تعلق ہے؟۔  کیا  یہ خیربیار مری کی   ساک کو بلوچ قوم میں اور خاص کر بین الاقوامی اداروں میں متائثر کرانے کی ایک دانستہ یا غیر دانستہ کوشش نہیں تھی؟ یہ ہیں پارٹی پالٹکس کے نتجائج ۔
یہاں پارٹی سیاست سے اگر خلیل بلوچ کا مراد  سیاسی پارٹی پلیٹ فارم یا فورم سے ہے اور اشارہ سنگت حیربیار مری کی طرف ہے  تو خلیل بلوچ کو  اردو میں لکھی گئی علم سیاسیات کی کتابوں کو  پڑھنا چھوڑ دینا چاہیے اور ازسرنو کسی دوسری زبان میں سچے سیاسیات کے بارے پڑھنا چاہے، کیوںکہ  اردو میں لکھی گئی کتابیں پاکستانی سیاست کے گرد گھومتی ہیں، جہاں سچ ہمیشہ مفقود ہے۔ واجہ خلیل بلوچ پارٹی سیاست اور پارٹی پلیٹ فارم میں زمیں و آسمان کا فرق ہے، یہاں یہ بات عرض کرتا ہوں کہ سنگت حیر بیار مری جس نے مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھ دی، وہ کیسے بغیر کسی سیاسی پلیٹ فارم سے عوام کو مزاحمت پر آمادہ کرسکتا ہے؟ مسلح مزاحمتی تنظیمیں بھی سیاسی پلیٹ فارم  یا فورم شمار ہوتے ہیں!
خلیل بلوچ کی سابقہ اتحادوں کے ٹوٹ پھوٹ  کے بارے باتیں حقیقت سے چشم پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں، خلیل کہتا ہے کہ  تحریک آزادی سے وابستہ بعض حلقوں نے ماضی میں سطحی مسائل پراتحاداوریکجہتی کے عمل کوسبوتاژکیا، واجہ خود اپنی کردار کے حوالے خاموش ہے، موجودہ مزا حمتی تحریک کا  سب سے بڑا اتحاد سیاسی پلیٹ فارم، بی این ایف تھا جسے شہید غلام محمد نے تشکیل دی، اسے آپ انکلابیوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا؟ ، اس کے توڑنے میں خود خلیل کا کردار مرکزی تھا۔  خلیل دوسروں کو نصیحت کرتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا تدارک کریں، سابقہ دور کی کیا بات کریں موجودہ دور میں بھی یہ پارٹیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کے پروسس میں گزر رہے ہیں، لیکن ان کو پتہ نہیں۔  ٹوٹ پھوٹ کے دو شکلیں ہیں، روایتی طور پر ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے جس طرح غیرسنجیدگی کی وجہ سے بی این ایم ٹوٹ گئی، دوسری ٹوٹ پھوٹ یہ ہے کہ لوگ مایوس ہوکرخاموشی سے پارٹیوں سے الگ ہوجاتے ہیں، اب بی این ایم کی موجودہ قیادت کی تنگ نظری  سے لوگ تنگ آ چکے ہیں, اس سے کنارہ کش ہورہے ہیں۔  اس کی واضع ثبوت یہ ہے کہ جب قبضہ گیر آرمی واجہ عبدالرؤف کی گھر کو اہک ہفتے تک گیرے میں لیتی ہے  تو ہرتال کی کال دینے کے باوجود کوئی سڑکوں پر نہیں آتا۔  گوکہ یہ پارٹی خود کو ماس پارٹی کہتے نہیں تھکتی!
اس پارٹی کی لیڈرشپ کی غیر زمہ دارانہ رویہ  کٹورپن اور نا اھلی اور کیا ہوسکتی ہے  ‘‘اگرکوئی اتحادکی ضرورت کوسنجیدگی سے محسوس کرتاہے تواتحادکیلئے ٹھوس پروگرام وخاکہ پیش کریں اوراپنے ماضی کی غلطیوں کاتدارک بھی کریں۔  ارے میرے بھائی تھمیں شہیدوں کا واستہ، کچھ قوم پر رحم تو کرو،  اتحاد کسی بھوکے انسان کی بھوک کا حاجت نہیں جس کے سامنے تم جیسے طاقت ور انسان  نوالہ پھینک دیتے ہیں، نہ صرف  انسانی سماجوں  میں بلکن حیوانوں میں بھی اتحاد زیست ومرگ کا معاملہ ہے جس کے بغیر دنیا کی تمام طاقت ورتریں ممالک بھی اپنی وجود کو خطرے میں پاتے ہیں نیٹو اس کی زندہ مثال ہے۔ چیرمیں غلام محمد کی مہنتوں کا ثمر ایک بی این ایف تھا جسے آپ لوگ سنھبال نہ سکے،  دوسروں کو کہتے ہو کہ ایک ٹھوس پروگرام اور خاکہ پیش کریں، اگر یہ بات ہے تو تمھاری انکلابی معیارات کو زنگ لگ چکی ہے؟ آپ کا پارٹی کس درد کا دوا جو اتحاد کیلئے ایک پروگرام پیش نہیں کرسکتا؟  کسی درپیش قومی مسئلے کو حل کرنے کیلیئے دنیا کی سیاسی روایات میں سیاسی پارٹیاں قومی کانفس، آل پارٹی کانفرس یا سمیت مٹنگ بلاتے ہیں، اسے اسے پولیٹکل ڈپلومیسی کہتے ہیں، پارٹی پارٹی  کی رٹ لگا کر ایک قومی کانفرنس بلا نہیں سکتے! پھربلا کس چیز کی توقع کریں!
چیئرمین خلیل بلوچ  مزید فرماتے ہیں کہ ‘‘بلوچ قوم کو یہ احساس وادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ آج پاکستان اور چین مشترکہ دشمن کی صورت میں بلوچ سرزمین پر حملہ آور ہیں ،اس لئے بلوچ قوم کے لئے تحریک کا بھرپور حمایت اور عملی تعاون سے جدوجہد کوبڑھانا وقت کی سب سے بڑاتقاضاہے‘‘  اب بات اس پر آکر رکھ گیا ہے کہ عوام میں ادراک واحساس نہیں بقول خلیل بلوچ کے، اس لیے تحریک کامیاب نہیں۔  تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادراک و احساس کس کو کرناچاہیے قوم یا لیڈرشپ کو؟ میرے خیال میں یہ عوام کی احساس و ادراک ہی ہے کہ 16سالہ مزاحمتی تحریک اب تک چل رہاہے، وگرنہ انکلابی لیڈراں تو گزشتہ کتنے عرصے سے ٹانگ کینچھنے میں مصروف رہے ہیں! اب یہ ادراک لیڈرشپ کو کرنا چاہیئے کہ عوام نے کیوں تحریک سے  دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے۔  دوسری بات یہ کہ خلیل بلوچ کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان اور چین مشترکہ دشمن کی صورت میں بلوچ سرزمیں پر حملہ آور ہیں، تو ان کو ضرور اس بات کا بھی ادراک ہوگا کہ نہ پاکستان کمنسٹ ہے اور نہ ہی چین ایک اسلامی  ملک ہے تو پھر ان کے درمیان وہ کونسا انکلابی معیار ہے جس نے ان دونوں ملکوں کو مشترکہ طور پربلوچوں پر حملہ آور کردیا ہے، جبکہ بلوچ مشترکہ ورثہ کا مالک ہوتے ہوئے منتشر ہے ؟ دشمن مشترکہ اتحاد کے تحت بلوچ پر حملہ آور ہوچاکا ہے لیکن خلیل بلوچ نے بلوچوں کے اتحاد  کیلئے انکلاب کا وہ آعلی معیار قائم کردیا ہے کہ جس کے معیار پر شازونادر ہی کوئی دوسرا آزادی پسند اترے ۔
خرف آخر:  قومی اتحاد یا قوم کی اجتماعی قوت کو مجتمع کرنے کی حق سے کوئی حقیقی آزادی پسند دستبردار نہیں ہوسکتا! قومی اتحاد اور اشتراک عمل کے لیے حیربیار مری کی طرف سے قا ئم کردہ کمیٹیوں کی کوششوں کے باوجود کوئی پیش رفت ہوئی مگراس  کے باوجود، فری بلوچستان مومنٹ کے پلیٹ فارم پر متحرک دوستوں پر مشتمل کمیٹیوں نے اپنے حالیہ متوازن بیان میں یہ کہا ہے کہ  ‘‘ہماری طرف سے تمام آزادی پسندوں کے لیے ہر وقت قومی شرائط اور مفادات کے تحت مزاکرات کے لیے دروازے کھلے رہنگ‘‘۔ سنگت حیربیارمری نے اشتراک عمل کے لیے دعوت دی تھی، اشتراک عمل ایک ہلکا پلکا اتحاد ہے، جوکہ اعتماد کی بحالی کے اقدامات (confidence building measure)  کے طور لیے جانا چاہیے تھا، لیکن افسوس کوئی پیش رفت نہ ہوئی!





Friday, February 24, 2017

چین کا بلٹ اور روڈ کا عظیم منصوبہ مگر درپیش خطرات و اندیشے! برنٹ جونسٹن

ترجمہ آرچن بلوچ

چائنا کی پرائم ٹی وی چینل CCTV چینل کے سائٹ میں  لکھی گئی اس آرٹیکل کے مطابق چائنا کی  بلٹ اور روڈ کے عظیم منصوبے کو خطرات و اندیشے درپیش ہیں۔  مضمون نگار، برنٹ جونسٹن کا کہنا ہے کہ چینی صدر ژی  جی پنگ کا قدیم شاہراہ ریشم کو ازسرنو تعمیر کرنے کا ویژن دنیا کی معیشت کیلئے ایک گیم چینجرکے طور پر متعارف ہوئی ہے۔ قدیم زمانے میں چائنا کی معیشت میں اس شاہراہ  کا بڑا کرداررہا ہے۔  لیکن اسے کئی خطرات درپیش ہیں،
 منضمون نگار کا کہنا ہے کہ شاہراہ ریشم کی معاشی پٹی اور اکیسویں صدی کی سمندری شاہراہ ریشم  Marine time Road  Silk   کے بڑے منصوبے، وسیع سرمایہ کاری، انفراسٹکچر، محفوظ سمندری تجارتی راستے ایسے منصوبے ہیں جس سے چائنا کی معیشت کیلئے  نئی عالمی تجارتی مراکز کھل جاتے ہیں۔ چائنا کی ان مصوبوں بلٹ اور روڈ Belt & Road  سے دنیا کی تمام ملکوں کے معیشت کو بڑھاوا ملے گی اس سے کروڑوں خاندانوں کو غربت کی چنگل  سے نجات ملے گی۔  مگر اس تمام کو انجام دینا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہاہے۔ تجویز شدہ شاہراہ ریشم کئی ملکوں میں ہوتا ہوا گزرتا ہے جہاں مختلف علاقے، کلچر، زبانیں اور اعتقادات ہیں۔ ان تمام مختلف الخیال لوگوں میں قدرمشترک ڈھونڈنا اور قبولیت حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔
چائنا پاکستان اکنامکس کوریڈور  CPEC  کے منصوبے سے پتہ چلتا ہے کہ Belt & Road کو کس طرح کی امکانی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سی پیک اس منصوبے کا سب سے پہلا پڑا امتحان ہے اس  تمام منصوبے کی مستقل کامیابی کیلئے اس کا مطالیہ کرنا بہت ضروری ہے۔ توقعات ہیں کہ چائنا گوادرپورٹ اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کو بہت فوائد حاصل ہونگے لیکن اس تمام کو غیرمستحکم کرنے کیلئے کئی خدشات ہیں۔  
سب سے بڑا خطرہ بغاوت کاروں سے ہے، جن میں طالبان، داعش اور بلوچستان کے لوکل آبادی شامل ہے۔ سنٹرل ایشیا اور پاکستان کے گرد و نواع میں سیکیورٹی کے دگرگوں حالات نے بہت سے وسیع پیمانے پر خطرات پیدا کیئے ہیں۔ انہی گروہوں کی سنجیدہ خطرات سے پورٹ، چائینیز شہری اور کارگو محفوظ نہیں ہیں جوکہ انہی علاقوں سے گزرتے ہیں جن پر ان کا کنٹرول ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ سی پیک کا روٹ انہی علاقوں میں گزرتی ہے جہاں پر انڈیا کا دعوا ہے یہ علاقے انہی کے ہیں۔ چین کو چاہیے کہ وہ انہیں رکاوٹوں کے بارے سبق سیکھے اور آئندہ کی پیش رفت کیلئے انہیں بطورخطرے کی علامت استعمال کرے۔
 خوش قسمتی سےچاہنا اور پاکستان   پہلے ہی دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں لیکن اگر ان دونوں ملکوں کے حکومتوں نے ان مزکورہ خطرات کے اثرات کو محدود نہیں کیا تو گوادر پورٹ اور سی پیک کے کامیابی کے امکانات معدوم ہوجائینگے۔ اگر دونوں ملکوں کے حکومتیں انہی معاملات کودرست کرنے میں کامیاب نہیں ہوے اور سی پیک محدود رہا تو یہ دونوں ملکوں کےلیئے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ بیجنگ کو چاہیئے کہ متبادل اپروچ کے ساتھ سی پیک کو آئیندہ نسلوں کے لیئے محفوظ بنائے تاکہ صدر ژی کی اکسویں صدی کا جدید منصوبہ سمندری شاہراہ ریشم Silk/Maritime Road  کا خواب تعبیر ہوسکے۔

برنٹ جونسٹن آسٹریلیا کی مقائری یونی ورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی سیکیورٹی اسکالر کا ماسٹرکا طالب علم ہے
Brant Johnston, master student of International 
Security Scholar at Macquarie Univerisity, Australia


http://english.cctv.com/2017/02/23/ARTIClec36fGvOQST7J4Zjme170223.shtml#.WK8ZlUpsAUI.twitter 


کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...