Thursday, October 27, 2016

سنو، دھشت گرد، مجرم اور غدار تم ہو

آرچن بلوچ 
 

تم مجھ  سے  کہ رہے ہو  کہ ‘‘پاکستان کے ساتھ چلیں۔ کیوں اپنی انرجی ایک لاحاصل اییکٹیویٹی پہ لگا رہے ہیں‘‘؟  اور یہ بھی پوچھ رہ ہے ہو کہ “کیا انڈیا غیر نہیں ہے جس سے بلوچ  مدد مانگ رہے ہیں‘‘؟  اب تم کہ رہے ہو کہ  ‘‘ہاں جی بلکل زیادتیاں ہیں۔ لیکن اداروں کی طرف سے ہونگی۔ پنجابی قوم کی طرف سے نہیں ہیں‘‘۔ بلوچستان کی طول وعرض پر تمھاری فوج کی دھشت گردی نے  بلوچستان  میں  ہر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا ہے۔

تو سنو!  شروع سے لیکر آج تک اس بدبخت ملک کو تمھارے پنجابی مقدرہ قوت فوج اور  سول ادارے چلارہے ہیں، تو پھر یہ کیوں ماننے سے انکار کرہے ہو کہ پنجابی نہیں ادارے زیادیاں کررہےہیں، ان اداروں کو بھی یہی تمھارے پنجابی چلار رہےہیں اور کوئی خدائی فرشتہ یا شیطان  چلا نہیں رہا ہے۔ جب ہم نے صرف حق و حقوق  کی بات تب بھی تم نے ہمارے اوپر غدار اور بغداد کا انجٹ ہونے  کا الزام لگا کر ہمارے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالتے ہوئے موت کی سزا دی۔ ہم اسد جان مینگل کو کیسے بھولیں جسے تم نے اپنی عہد  جوانی میں  غائب کردیا؟  اب جبکہ ہماری قوم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم دائمی حق و حقوق کی لاحاصل جہد نہیں کرینگے  اس سے بہتر  یہی ہے کہ  ہم اپنی کھوئی ہوئی آزادی کو  مسلح جہد کے زریع  بحال کریں کیونکہ ہردو صورتوں میں الزام غداری اور  سز ا موت ہے ۔ اب کی بار  تم ہندوستان اور امریکہ کا اجنٹ ہونے کا  الزام لگا رہے ہو، اور پوچھ رہے ہو کہ ‘‘کیا انڈیا غیر نہیں ہے جس سے بلوچ  مدد مانگ رہے ہیں‘‘؟  جہاں ہاں تم غیر ہو اور انڈیا بلکل غیر نہیں!

 اگر تم غیر نہیں ہوتے  تو بجائے طاقت کے استعمال کے،  تم ہمیں  باہمی رضا و رغبت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر  پاکستان اور بلوچستان کا  ایک یونین  بنانے کی تجویز دیتے۔ لیکن  تم نے  برطانیہ کی وفاداری کی عوض  ملی  فوجی طاقت کے زریعے  ہماری  سرزمیں بلوچستان پر بلجبر قبضہ کیا ، لیکن اس کے باوجود ہمارے بزرگوں نے بامر مجبوری پاکستانی پارلمنانی نظام کے تحت کام کرنے کی حامی بھر لی ، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ بھوک، جہالت، بیماری بے روزگاری، ملکی وسائل کی لوٹ مار، نا انصافی ، پنجابی فوج کی دھشت گردی اور گنڈہ گردی، عزت کی پائمالی، نشتہ و اسملنگ کی بھرمار ، عالمی قوتوں کے مفاداد کی جنگ کا میدان!

 

کیا تماری فوج نے  ان حقیقی بلوچ نمائندوں کو جیلوں میں نہیں ڈالا،  جو پاکستانی ریاست کے ساتھ رہ کر اپنے قومی کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے؟

کیا کبھی تماری اس  فوج نے،  جوکہ پنجابیوں پر مشتمل ہے، ہمارے ملک بلوچستان کو مائی کرومنیجمنٹ کرنے کی غلیظ کردار سے اپنی ہاتھ کھینچ لی ہے؟ اب جبکہ  ہماری عوام کو پورا طرح یقین  ہے کہ  تم ایک دھشت گرد اور  مجرم ہو، جہوریت کا قاتل ہو، تو ایسی صورت میں ہم اپنی قومی sovereignty کو کیسے تم جیسے غیروں کے ہاتھوں چھوڑ دیں؟  پچھلے78 سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آپ  کی پنجاب بلوچستان کوگدھ کی طرح نوچ رہا  ہے۔ کہتے ہیں کہ مسلمان کا مال مسلمان پر حرام ہے، اسلام کی اس زریں اصول کے بنیاد پر تم ایک چور ہو، اگر تم غیرنہ ہوتےتو ہماری وسائل پرہماری اختیارکومانتے، ہمیں اپنے برابرسمجھتے، ہمیہں غربت کی طرف نہ دکھیلتے ہمیں آزاد زندگی گزارنےدیتے. بلوچوں پرعرصہ حیات تنگ نہ کرتے،ایک نا ختم  ہونے والے جہدوجہد کی طرف نہ دکھیلتے ہمارے رہنماؤں کوجیلوں میں نہ ڈالتے۔

 

اگر آپ پنجابی مسلم ، قوم غیر نہ ہوتے  تو ہمارے اوپر یقین کرتے اور بلوچستان پر خود کو مسلط نہیں کرتے، ہم اپنی ملک  کی سرحدوں کی حفاظت خود کرتے۔  اگرتم غیرنہ ہوتے تو انگریز کی  کرپٹ  کردہ   راشی ، وخشی سرداروں کو فوج اور آئی ایس آئی کے زریعے ہمارے اورپر  سالوں سال  مسلط نہ کرتے۔

 

اب جبکہ بلوچ عوام نے  جمہوری اور پر امن جہد سے تنگ آکر  اپنی  آزادی اور نجات کیلئےمسلح  دفاعی جہد شروع کیا تو تماری فوج نے بلوچستان کو ایک قتل گاہ  بنا دیا ۔  خون کی ہولی کھیل رہا ہے، ہمیں زیرکرنے کی ہر غلیظ اور ناجائز حربےکوآزما رہا ہے۔ گن شپ ہیلی کپٹر اور جنگی جہازوں سے لیکر شہر کی ایک  بدمعاش چور غنڈوں  تک کو استعمال کرر ہا ہے۔ کبھی جنگی اخلاقیات کے بارے سنا ہے تم نے؟  ہمیں یقین کامل ہے کہ تم مہذب تہذیب پر یقین نہیں رکھتے،  بلکہ تادیبی کاروائیوں کے زریعے تم ہماری جہد کو زیر کرنے کی غلیط حرکتوں پریقین رکھتے ہو۔ تم ہمارے کمزور  اور  غریب لوگوں کے جھونپڑیوں کو جلاتے ہو، نہتے لوگوں کو پر وار کرتے ہو، ہمارے عورتوں کی عزتوں کو فوجی طاقت کے زریعے پائمال کرتے ہو،  یہی ہے تماری مسلمانیت  اور  وخشی  تہذیب! بھلا ہوتماری بدنیتی اور گندھی فکر کا جس نے بلوچوں کو 78  سالوں سے ایسا نہیں چھوڑا کہ وہ ایک دن کی  روٹی باعزت طریقے سے کمائیں،  پانی کی ایک ایک بوندھ سے ہمارے لوگ ترستے ہین۔  وہ اپنی شہروں میں   دبی  Dubai   جیسے بلند و بلا عمارتوں کا تصور تک اپنے زھنوں نہیں لاتے۔ آج  یہاں اگر بلند و بالا عمارتیں ہوتیں تو  بیروت ، بغدار کابل اور سوریا کی تباہی کے  مناظر کم پڑتیں۔

 

جب سے بلوچ عوام نے تماری جبر اور بربریت سے نجات حاصل کرنے کیلئے مزاحمت شروع کی تو تم  نے مزاکرات کرنے کے بجائے  ہمیں مسخ شدہ لاشوں دینا شروع کیں، ہزاروں کے حساب میں تماری بدتہزیب فوج نے ہمارے نوجوانوں کو بغیر کسی قانونی وجہ گمنام کردیا۔  ابتک 20000 ہزار سے زیادہ لوگ غائب ہوچکے ہین۔

 

تم کہ رہے ہو کہ ‘‘ہاں جی بلکل زیادتیاں ہیں۔ لیکن اداروں کی طرف سے ہونگی۔ پنجابی قوم کی طرف سے نہیں ہیں‘‘۔  تمھاری نظرمیں اوپر کی تمام باتیں شاید زیادتیاں ہیں،  لیکن مہذب تہذیبوں کے انصاف کے پیمانے انہیں انسانیت کے خلاف نا قابل معافی جنگی جرا ئم گردانتےہیں جسطرح کہ سابقہ چیکوسلواکہ کے فیڈریشن میں سربیا کی جرائم کے کیسز آج ہیگ میں عالمی عدالت کے سامنے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ اس طرح بلوچستان میں تمھارے ملک کے جرائم بھی وہاں پیش ہونگے۔

 

بلوچ آزادی کی تحریک ایک نا ختم ہونے والی جنگ ہے، اب اس کا خاتمہ تمھارے ریاست کی بس کی بات نہیں، اچھے زمانوں میں تمھاری فوج اسے ختم نہ کرسکی جب دنیا  اسلحہ سے لیکر ڈالروں تک تمھاری مدد کررہا تھا۔ پچھلے 17سالوں سے جاری یہ جنگ بہت مظبوط ہوچکا ہے

خارجی طور پر تمھارے پنجابی پاکستان کی ساری خارجی دفاعی لائینیں یکے بعد دیگرے گر رہی ہیں، 

 

1۔ خلیجی ممالک  منہ موڑ لیں گے

2۔ امریکہ ہاتھ کھینچ رہا ہے

3۔ چائنا سی پیک کے مستقبل کے بارے گومگو کا شکار نظر آرہا ہے

4۔ کشمیرکا فرنٹ کارگر ثابت نہیں ہورہا ہے۔

5۔ افغانستان کو ایک ترنوالہ سمجھ کر ہضم کرنے کی تمھاری جرنیلوں کی خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔

6۔ طالبان اب مجبور ہوکر تم سے الگ ہورہے ہیں اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور یہ فرنٹ اب تقریباً پنجابی پاکستان کیلئے کسی کام کا نہیں رہا، بلکن اس کے الٹے اثرات تمارے ملک پاکستان پر نظر آرہے ہیں۔۔۔

7۔ روس سے پینگیں بڑھانے کے تماری تمام کاوشیں بے سود نظر آرہے ہیں!

8۔ یورپ برطانیہ جیسے ملک کے وزیرآعظم کو گھنٹوں انتظارکراونے کے بعد تب 5 منٹ بات کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو پاکستان جیسے ملک کیلئے وہاں ہمدردیاں حاصل کرنا ناممکن سی بات  ہے۔

9۔ آپ کی ملک کے خقیر زرمبادل کے زخائر بہت تیزی سے کم ہوتے جارہے  ہیں،  تھارا ملک 74ٹریلین روپوں کا  قرضدار ہے۔ یہ سی پییک ایک سفید ہاتھی بنتا جارہاہے،  آئی ایم ایف نےاپنی   حالیہ رپورٹ خبردار کرتے ہوے کہا ہے کہ  سرمایہ کاری کے ساتھ   repaymentکرنے پڑتے ہیں جنکی ادائیگی کرنا پاکستانی معیشت کے بس کی بات نہیں۔

10۔ تم اندرونی طور پر بھی تنہائی کا شکار ہو،   تمارے فوجی شکنجے میں جکھڑے تمام اقوام   مہاجر سندھی اور پشتون سب  تم سے نفرت کرتے ہیں،   اگر انگریز دور کا  مراعت یافتہ  پشتون اشرافیہ  طبقہ اور مزہبی  انتہا پسند ملا عسکری لحاظ سے آپ کا اتحادی ہے لیکن وہ تجارت اور معاشی مفاد  کےلیے مغربی روٹ کے بارے ہرگز سودابازی نہیں کرینگے۔ اور دوسری طرف  سیکورٹی کے لحاظ سے مغربی روٹ  چائنا کیلئے قابل قبول نہیں۔

 

خرف آخر ۔ سربوں کی طرح تمھارے  لیے بہتر ہے کہ  تم  نوشتہ دیوار  پڑھ  لو  تمھارے لیئے بس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور  وہ ہے بلوچستان سے اپنی بوری بستر  گول کرکے  نکل جانا،   کیونکہ تم بلوچ مزاحمت کو توڑ نہیں سکتے اور  دنیا کیلئے اب تمھاری وجود بھی قابل قبول نہیں۔ آج بلوچ دنیا میں تنہا نہیں،  دنیا بلوچ کو حمایت دینے کیلئے کھڑی ہے۔

 


Wednesday, October 26, 2016

سقوط بولان کے رنگیں نظارے ، خالص قومی نظریہ ، شہید فدا احمد کا قومی آزادی کا روڈ میپ ، اتحاد، جدوجہد آخری فتح تک، سنگت حیربیارکی کاوشیں


آرچن بلوچ 

سقوط بولان کا پہلا دور  اس وقت  مکمل ہوا جب انگریز بلوچستان پر چڑ دوڑے  خان مہراب خان کی شہادت  بلوچ ریاست پر ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، وہیں سے ہماری تباہی شروع ہوئی اور آج تک اس سے ہم نکلنے میں کامیاب  نہیں  ہوپارہے ہیں۔ یہ ایک مکمل قومی شکست تھی  یہ  شکست بلوچ قبائل اور امرا کیلئے سبق سب آموز  ہوناچاہیے تھا ۔ قبائلی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے قومی سوچ  قوم اجتماعی  قوت کو اہمیت دیتے، لیکن شومئ قسمت بجائے اسکے کہ وہ  قومی سوچ کے تحت خود کو منظم کرتے  آپنی آزادی اور خود مختاری انگریز سے چھین لیتے وہ  الٹا  انگریز کے ایسے مطیع  و  تابعدار بن گئے کہ  انگریز نے انہیں اپنی بگھی کینچوانے کیلئے گھوڑے کی جگہ استعمال کیا۔ اپنے آنکھوں کے سامنے انگریز  نے بلوچ سرزمین کے مختلف حصوں کو کاٹتے  ہوے ہمسایہ قوموں میں بانٹ دیا۔ نواب یوسف خان مگسی  نے بڑی کوششیں کیں کہ بلوچ قبائلی سوچ سے باہر نکلے  قومی سوچ کے تحت ایک  قوم بنے   قومی سوچ کے تابع ہوکر مزاحمت کرے۔ مگر اسے اپنوں کی طرف سے  مایوسی کا سامنا کرنا پڑا  اور مجبوراٰ اسے ان قبائلی سرداروں کو گالی دینا پڑی۔

 بولان کی پہلی سقوط نے گوکہ‘ قومی سوچ‘  کو جنم تو دیا  لیکن بہت بڑی سست رفتاری کے  بعد ۔  اس سے بالاخر  بلوچ قومی نظریہ آزادی  کی تعمیر تو ہوئی  لیکن اسے  ‘عملی طور پر‘   ایک ایسی ‘سیاسی  پلیٹ فارم‘ میسر نہیں آئی جہاں  ‘‘اجتماعی قومی قوت‘‘ کو  اداراتی  شکل دے  سکے اور وطن کی دفاع کرسکے، اس کی بنیادی وجہ  سیاسی قیادت کمی تھی۔   سیاسی قیادت کی کمی  اس  وقت ختم ہوئی جب  قومی نظریہ نسبتاً قبائلی مزاج رکھنےوالے سیاسی قیادت غوث بخش بزنجو، سردار عطاللہ مینگل، نواب خیربخش مری ، نواب اکبر خان بگٹی کے پاس  آئی ، اس  طبقے نے اس قومی نظریہ کو اڈوانس تو کیا، لیکن پاکستانی سیاست کے مکس اپ کی دست برد سے محفوظ نہ سکے۔  اس سیاسی قیادت کو گوکہ قومی نظریہ آزادی پر یقین تھا لیکن ان کی  انفرادییت کی سوچ و  اپروچ ،ضد و انا  نے انہیں خالصتا  قومی سوچ کے تحت متحد ہونے نہیں دیا،  دشمن نے بہتر حکمت عملی کے تحت  ان  کےاندر   نفاق  پیدا کی اور وہ بکھر گئے، باوجود اس کے اُس وقت کئی قیمتی جانیں وطن کی آزادی خواہش کو لیکر قربان ہوئیں۔ یوں سقوط بولان کا دوسرا دور مکمل ہوا۔

 اس کے بعد ہوتے ہوتے یہ نظریہ نسبتاً تعلیم یافتہ طبقہ یعنی ڈاکٹر عبدالحی، منظورگچکی، داکٹر مالک وغیرتک پہنچ گیا۔۔ اب اس طبقے کو تعلیم یافتہ کہو یا متوسط طبقہ، لیکن عام تصور یہ تھا کہ یہ بلوچ معاشرے کا کریم ہے، اس کا مقبول نعرہ بلوچ حق خود اداریت تھا، 1988 میں جنرل ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان میں عام انتخابات کا اعلان کیا گیا تو اس تعلیم یافتہ نےپاکستانی الیکشنوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا، تو جلسہ جلوسوں میں یہ کہا گیا کہ ہم اپنی حق خود اداریت کے حصول کیلئے جمہوری زرائع کو بھی استعمال کرینگے، اگر اس زرائع سے کامیابی نہ ملی تو پھرعوام میں لوٹ آئیں گے، پاکستانی ایوانوں میں پہنچتے ہی یہ تعلیم یافتہ متوسط طبقہ حق خود اداریت کے نعرے کو بھول گیا۔ اورپھران کا وہاں جانا جانا ہی ہوا، پھرکبھی لوٹ کر نہیں آئے! ہم راستہ تکتے رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں جب ہم  بی ایس او  میں تھے   تو شہید وطن فدا احمد جان نے ہم سب کو درس دیا تھا کہ ہمیں ‘اتحاد، جدوجہد آخری فتح تک‘  کے بنیادی اصول پر  عمل کرنا چاہیے، گوکہ یہ ایک چھوٹا سا  فکرہ  تھا لیکن قومی آزادی کا  یہ  ایک مکمل روڈ میپ تھا لیکن ہماری سادگی نے ہماری آنکھو ں پرپٹی باندھی تھی۔ ہم  اپنے صفوں میں خونخوار بیھڑیوں کو پہچان نہ کرسکے  تحریک میں چھپے ان بھیڑیوں نے اس نعرے کو پاکستانی پارلمنٹ کی دہلیز تک پہنچا دیا۔  اور  یوں سقوط بولان کا  تیسرا  مرحلہ مکمل ہوا ۔


 موجودہ آزادی کی تحریک خالص بلوچ قومی نظریہ پر ہے،گوکہ بابا مری اس خالص  قومی نظریہ کو سیاسی پلیٹ فارم دینے سے گریزاں تھے،  اس کی وجہ شاید قابض ریاست کی غیرسیاسی اور غیرجمہوری رویہ تھی لیکن اکیڈمک اور علمی بنیادوں پر  بابا مری نے اسے قومی  کبھی میکس اپ ہونے نہیں دیا، اب امانتاً  یہ  نئی نسل تک پہنچ چکی ہے  عملی طور پر  اس خالص قومی نظریہ آزادی کو  نافذ العمل کررہے ہیں۔ سقوط بولان کے تیسرے  مرحلے کے بعد بابا مری کی سرپرستی میں جب شہید بالاچ اور سنگت حیربیارمری نے خالص قومی سوچ کے تحت بلوچ تحریک آزادی کی  بنیاد مسلح مزاحمت پر رکھی تو خوابیدگی اور غنودگی کی عالم میں مجھ جیسے لوگوں کو یہ ہوش آیا کہ پچھلے تعلیم یافتہ  طبقے کے  یار لوگوں نے پارلمنانی سیاست کے  رنگینیوں میں ہمیں گمراہ کیا ہے، آنکھیں ملتے ہوے یہ سوچھنے لگے چلو اس دفعہ سنگت حیربیار کی  چلتی ٹانگے  میں چلانگ لگا کرسواری کرینگے،  شاید منزل تک پہنچ پائیں، لمبی سفر پر رواں  اس چلتی ٹانگے کی  کیبن میں بیٹھنے  کے   بعد کچھ دنوں کا مسافت طے کرتے ہوئے سوچھنے لگے اور بہت دیر تک ان کو یہ  خیال  آیا کہ اس ٹانگے کو ہانکنے والے کے نیت کا کیا بروسہ ، یہ تو سردار  زادہ ہے، اگر کل کلاں اس نے ٹانگے کا رخ اسلام اباد کی طرف موڈ دیا  تو پھر کیا ہوگا؟  اس ٹانگے کو ہانکنے والے سنگت حیربیار مری نے ان کی نیت کو بانپتے ہوے ان سے کہا کہ اس ٹانگے میں موجود تمام راشن وسائل ہمارے سفر کیلئے ہیں،ہم سب کیلئے ہیں، ہمیں متحد ہوکر چلنا ہوگا۔ راستے میں ہر آنے والے مشکل کا متحد ہوکر مقابلہ کرینگے     لیکن کسی نے سنگت  کی ایک  بات تک نہیں سنی ۔ سب  الگ ہوگئے۔ شروع میں یہ سمجھنے لگے کہ  الگ الگ سفر کرینگے تو یہ محفوظ اور آسان سفر ہوگا،  لیکن  اس لمبی سفر کے راستے میں وہ  لٹتے گئے، آسانی سے رہزنوں کے ہتے چھڑ گئے،  آپس میں بھوک اور پیاس  کے باعث جھگڑا کرتے گئے، کئی دوستوں نے ان سے راستے الگ کئے۔ اس  بات کو کئی عرصہ گزر گیا اور اب بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ سنگت حیربیار نے اپنے ٹانگے کا رخ اسلام آباد کی طرف موڈا اور نہ ہی ان کی قدموں میں لغزش آئی۔ وہ  استقامت کے ساتھ اپنے منزل کی طرف رواں ہے، اور بار بار اپنے بچھڑ ے ہوے ساتھیوں کو آزاد دیتا ہے کہ  آؤ ساتھ  ملکر چلیں گے۔ راستہ آسان ہوگا منزل نزدیک ہوگی۔ سنگت حیربیار مری کیلئے مواقع بہت تھے وہ اگر وہ چاہتے تو پاکستانی پارلمنٹ کا   رخ کرتے، اور پھر وہیں کا  وہیں  ہوجاتے جسطرح غیرسردار زادہ   نام نہاد متوسط طبقے کا ڈاکٹر مالک جب پاکستانی پارلمنت پہنچ گئے تو پھر واپسی کا راستہ بھول گئے لیکن سنگت نے گھٹن راستہ اس لیے چنا کہ وہ پاکستان کا ایک غلام بننا  نہیں چاہتے ابھی کل انکے  ایک ساتھی بشیر زیب نے پھر سنگت حیربیار کی قومی پالسی کو  دھراتے ہوے کہا کہ "بلوچ تحریک سنجیدگی سے عملی طورپر اتحاد کا متقاضی ہے".  مبادہ سقوط بولان کا چوتھا دور نہ آئے۔۔۔

Tuesday, October 18, 2016

قومی مسائل ، قومی سوچ کے منتظر

آرچن بلوچن

رپبلکن نیوز نیٹ ورک کے سائٹ  میں  خالد بلوچ کا ایک شائع شدہ آرٹیکل میں یہ لکھا گیا ہے کہ”  جب بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے نوابزادہ حیربیار مری کو بیرون ممالک بلوچ قومی سفیر کا درجہ دیا گیا تھا تو اس پر سب سے پہلے بلوچ ریپبلکن پارٹی اور پھر بلوچ نیشنل موومنٹ سمیت دیگر آزادی پسند جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو رد کر دیا۔اگر دیکھا جائے توحیر بیار مری بلوچستان میں اسٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جب بات قوم کی نمائندگی کی آگئی تو سب نے اسے رد کر دیا۔ کیونکہ قومی فیصلے فرد نہیں بلکہ منظم ادارے کرتے ہیں آج بلوچ قوم کے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو اس طرح اہمیت کے حامل فیصلے کر بھی سکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کر سکتے ہیں"

حیربیار مری  کے حوالے خالد بلوچ کی یہ باتیں  حقا ئق کے بلکل برعکس ہیں اور وہ خود تضادبیانی کررہےہیں، آپ خود کہ رہے ہو کہ بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب اسے بیرون ملک بلوچ قومی سفیر کا درجہ دیاگیا تھا، اسے رد اسلئے کردیا گیا تھا کیونکہ وہ ایک فرد ہے ، جبکہ دوسری سانس میں یہی کہ رہے ہو کہ وہ بلوچستان میں ایک اسٹیک ہولڈر ہیں۔ حیربیار مری کس طرح ایک فرد ہوسکتےہیں جبکہ  وہ مزاحمتی تحریک کا ہشت اول رکھنے والا  سربراہی لیڈر ہے۔ یہ   اب فرد کا ٹپہ لگاکر تحریک پر وار کرنے کا ایک شاطر  چال ہوسکتا ہے لیکن حقیقت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

اُس وقت بی این ایف میں شامل پارٹیوں میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بی این ایم اور بی آر پی تھیں، بشمول باقی پارٹیوں کے سب نے متفقہ طور پر حیربیارمری کو بی این ایف کی خارجہ امورکا  نمائندہ مقرر کیا۔۔ لیکن بعد  میں کچھ  ہی دنوں کے بعد بی این پی مینگل کی ایما پر  مہران مری پر کرپشن کے الزامات  کو لیکر  ذاتی و خاندانی رشتوں کے بنیاد پر براھمندگ بگٹی نے قومی تحریک کے  نقصانات کو بالاے تاک  رکھتےہوے  حیربیار مری کو بغیر کسی معقول وجہ کے متنازع  بنانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس وقت براھمدگ خود بی  این ایف کا  متفقہ  سربراہ تھا ۔   دوسری طرف بی این ایم نے بھونڈے طریقے سے کہا کہ جی ہم نے خیربیار مری کو اپنا نمائندہ مقرر نہیں کیا، حالانکہ حیربیار نے کسی کو نہیں کہا  تھا کہ اسے کوئی تحریک کی خارجہ امور  کا نمائندہ مقرر کروایا جائے۔ لیکن یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ تحریک کے ساتھ اپنی رہنمایانہ صلاحیتوں اور کمیٹمنٹ  کی وجہ سے سنگت حیربیارمری کے بارے  شہید چیرمین غلام محمد  اور دوسرے سنجیدہ رہنماؤں کے خیالات یہی تھے کہ  سنگت حیربیارمری  تحریک آزادی کا خارجہ امور کا رہنمائی کرے۔

اسی طرح تحریک میں شامل کئی دوستوں کا مشورہ تھا کہ بی این ایف کی قیادت  تحریک سے وابسطہ  رہنماؤں کا ٹیم تشکیل دیکر  بابا مری  سے ملاقات کرے اور  ان کے رہنمائی میں بلوچستان کی آزادی کا روڈ میپ ، آئین ، نظام حکومت ، معاشی نظام ، خارجہ امور  وغیر ہ  سب پر ایک ڈاکومنٹ تیار کرے تاکہ عوام کے ساتھ تحریری شکل میں  ایک عمرانی معائدہ  ہو ،   اور   اس سے دنیا کو بھی بلوچستان کی آزادی کی تحریک کی  بنیادی مقصد کو سمجھانے میں آسانیاں پیدا ہوں!

لیکن وائے شومہ قسمت کہ وہ جو ہونا تھا وہ نہ ہوسکا۔  کیا ہوتا اگر بی این ایف کو توڑنے کے بجائے سنگت براھمدگ بگٹی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتےہوئے، تندہی سے بی این  ایف کے پلیٹ فارم سے تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ سوچ بچارکرتےہوئے  مہران مری کے معاملہ کو اللہ نظر کے ساتھ مل کر خوش اسلوبی سے  حل کرنے کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کرتے ؟ اتنے بڑے  سیاسی کرداروں کے ہوتے ہوئے ایک چھوڑا سا اندرونی  معاملہ حل نہ ہوسکا؟   قومی اور خود  احتسابی  کےاصول کے تحت سنگت حیربیارمری نے مہران مری کے کیس کو ڈاکٹراللہ نظر اور ان کے دوستوں کےسامنے اس لیئے پیش کیا تاکہ دنیا کل یہ انگلی نہ اٹھائے ایک قومی معاملہ کو ذاتی رشتہ کی بنا پر رفع دفع کیاگیا۔
مستقل مزاجی سے تحریک آزادی  کی سیاسی پہلو بی این ایف کے پلیٹ فارم کو  اگر براھمدگ رہنمائی کرتے  اور اسی پلیٹ فارم میں  تحریک کا  بحیثیت  ایک اسٹیک ہولڈر  حیربیارمری کی شمولیت کو یقینی بناتے  تو سوچھوآج تحریک کی منظر  کیا ہوتی؟

ہمیں نائلہ کی  صالاحتوں پر کوئی شک نہیں ، لیکن ایک جلاوطن حکومت بنانے کیلئے قومی سطح کے فیصلے کرنےہونگے۔۔

ہم بار بارقومی سوچ‘ ‘قومی فیصلےوغیرہ کی تکرار اس لیئے کرتے آرہے ہیں کیونکہ پارٹی بازی کی اپروچ سے ہم اپنی قوم کو نجات دلا نہیں سکتے۔ پارٹی بازی کی اپروچ قومی اپروچ کا تضاد ہے۔۔  کیونکہ ٹیکنیکلی اگر سوچھا جائے قوم اگر تقسیم ہے تو پارٹیوں کی  شکل میں۔۔  اسی اپروچ کی وجہ سے قوم کی اجتماعی قوت منقسم ہے اب ایک منقسم قوم کی منقسم قوت کو لیکر کس طرح آپ ایک بد تہزیب دشمن کو شکست دے سکتے ہیں؟

قومی اپروچ کا زرا مزید وضاحت کرو، براھمدگ بگٹی نے کہا کہ جلاوطن حکومت کا قیام ایکقومیمسئلہ ہے۔ جلاوطن حکومت کے قیام کے بارے براھندگ کا موقف بلکل ایک قومی اپروچ ہے۔ تو پھر اسی نقطے کو لیکر سوچھو،  کہ قومی آزادی کا جہد بھی قومی اپروچ کا متقاضی ہے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز  کو یک جٹ ہوکر تمام معاملات کو قومی سوچ کے پیرائے میں  حل کرنے ہونگے۔۔ 

میں یہاں کولیمبیا کی فارک گوریلہ کمانڈر انیبال کی بات کو دھراتاہوں ، سیاست جنگ سے زیادہ سخت ہے، جنگ کی میدان میں اگر ایک سپائی نے غلطی کی تو وہ اپنی جان کو کھو بیٹھے گی، لیکن سیاست کی میدان میں اگر تھوڑا سا چونک ہوا تو سارا تحریک بیٹھ جائے گی!


Anibal 'You payfor a mistake on the battlefield with your life,' he said, swinging back and forth, 'but an error in the field of politics brings down an entire organization.'

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...