Wednesday, October 26, 2016

سقوط بولان کے رنگیں نظارے ، خالص قومی نظریہ ، شہید فدا احمد کا قومی آزادی کا روڈ میپ ، اتحاد، جدوجہد آخری فتح تک، سنگت حیربیارکی کاوشیں


آرچن بلوچ 

سقوط بولان کا پہلا دور  اس وقت  مکمل ہوا جب انگریز بلوچستان پر چڑ دوڑے  خان مہراب خان کی شہادت  بلوچ ریاست پر ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، وہیں سے ہماری تباہی شروع ہوئی اور آج تک اس سے ہم نکلنے میں کامیاب  نہیں  ہوپارہے ہیں۔ یہ ایک مکمل قومی شکست تھی  یہ  شکست بلوچ قبائل اور امرا کیلئے سبق سب آموز  ہوناچاہیے تھا ۔ قبائلی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے قومی سوچ  قوم اجتماعی  قوت کو اہمیت دیتے، لیکن شومئ قسمت بجائے اسکے کہ وہ  قومی سوچ کے تحت خود کو منظم کرتے  آپنی آزادی اور خود مختاری انگریز سے چھین لیتے وہ  الٹا  انگریز کے ایسے مطیع  و  تابعدار بن گئے کہ  انگریز نے انہیں اپنی بگھی کینچوانے کیلئے گھوڑے کی جگہ استعمال کیا۔ اپنے آنکھوں کے سامنے انگریز  نے بلوچ سرزمین کے مختلف حصوں کو کاٹتے  ہوے ہمسایہ قوموں میں بانٹ دیا۔ نواب یوسف خان مگسی  نے بڑی کوششیں کیں کہ بلوچ قبائلی سوچ سے باہر نکلے  قومی سوچ کے تحت ایک  قوم بنے   قومی سوچ کے تابع ہوکر مزاحمت کرے۔ مگر اسے اپنوں کی طرف سے  مایوسی کا سامنا کرنا پڑا  اور مجبوراٰ اسے ان قبائلی سرداروں کو گالی دینا پڑی۔

 بولان کی پہلی سقوط نے گوکہ‘ قومی سوچ‘  کو جنم تو دیا  لیکن بہت بڑی سست رفتاری کے  بعد ۔  اس سے بالاخر  بلوچ قومی نظریہ آزادی  کی تعمیر تو ہوئی  لیکن اسے  ‘عملی طور پر‘   ایک ایسی ‘سیاسی  پلیٹ فارم‘ میسر نہیں آئی جہاں  ‘‘اجتماعی قومی قوت‘‘ کو  اداراتی  شکل دے  سکے اور وطن کی دفاع کرسکے، اس کی بنیادی وجہ  سیاسی قیادت کمی تھی۔   سیاسی قیادت کی کمی  اس  وقت ختم ہوئی جب  قومی نظریہ نسبتاً قبائلی مزاج رکھنےوالے سیاسی قیادت غوث بخش بزنجو، سردار عطاللہ مینگل، نواب خیربخش مری ، نواب اکبر خان بگٹی کے پاس  آئی ، اس  طبقے نے اس قومی نظریہ کو اڈوانس تو کیا، لیکن پاکستانی سیاست کے مکس اپ کی دست برد سے محفوظ نہ سکے۔  اس سیاسی قیادت کو گوکہ قومی نظریہ آزادی پر یقین تھا لیکن ان کی  انفرادییت کی سوچ و  اپروچ ،ضد و انا  نے انہیں خالصتا  قومی سوچ کے تحت متحد ہونے نہیں دیا،  دشمن نے بہتر حکمت عملی کے تحت  ان  کےاندر   نفاق  پیدا کی اور وہ بکھر گئے، باوجود اس کے اُس وقت کئی قیمتی جانیں وطن کی آزادی خواہش کو لیکر قربان ہوئیں۔ یوں سقوط بولان کا دوسرا دور مکمل ہوا۔

 اس کے بعد ہوتے ہوتے یہ نظریہ نسبتاً تعلیم یافتہ طبقہ یعنی ڈاکٹر عبدالحی، منظورگچکی، داکٹر مالک وغیرتک پہنچ گیا۔۔ اب اس طبقے کو تعلیم یافتہ کہو یا متوسط طبقہ، لیکن عام تصور یہ تھا کہ یہ بلوچ معاشرے کا کریم ہے، اس کا مقبول نعرہ بلوچ حق خود اداریت تھا، 1988 میں جنرل ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان میں عام انتخابات کا اعلان کیا گیا تو اس تعلیم یافتہ نےپاکستانی الیکشنوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا، تو جلسہ جلوسوں میں یہ کہا گیا کہ ہم اپنی حق خود اداریت کے حصول کیلئے جمہوری زرائع کو بھی استعمال کرینگے، اگر اس زرائع سے کامیابی نہ ملی تو پھرعوام میں لوٹ آئیں گے، پاکستانی ایوانوں میں پہنچتے ہی یہ تعلیم یافتہ متوسط طبقہ حق خود اداریت کے نعرے کو بھول گیا۔ اورپھران کا وہاں جانا جانا ہی ہوا، پھرکبھی لوٹ کر نہیں آئے! ہم راستہ تکتے رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں جب ہم  بی ایس او  میں تھے   تو شہید وطن فدا احمد جان نے ہم سب کو درس دیا تھا کہ ہمیں ‘اتحاد، جدوجہد آخری فتح تک‘  کے بنیادی اصول پر  عمل کرنا چاہیے، گوکہ یہ ایک چھوٹا سا  فکرہ  تھا لیکن قومی آزادی کا  یہ  ایک مکمل روڈ میپ تھا لیکن ہماری سادگی نے ہماری آنکھو ں پرپٹی باندھی تھی۔ ہم  اپنے صفوں میں خونخوار بیھڑیوں کو پہچان نہ کرسکے  تحریک میں چھپے ان بھیڑیوں نے اس نعرے کو پاکستانی پارلمنٹ کی دہلیز تک پہنچا دیا۔  اور  یوں سقوط بولان کا  تیسرا  مرحلہ مکمل ہوا ۔


 موجودہ آزادی کی تحریک خالص بلوچ قومی نظریہ پر ہے،گوکہ بابا مری اس خالص  قومی نظریہ کو سیاسی پلیٹ فارم دینے سے گریزاں تھے،  اس کی وجہ شاید قابض ریاست کی غیرسیاسی اور غیرجمہوری رویہ تھی لیکن اکیڈمک اور علمی بنیادوں پر  بابا مری نے اسے قومی  کبھی میکس اپ ہونے نہیں دیا، اب امانتاً  یہ  نئی نسل تک پہنچ چکی ہے  عملی طور پر  اس خالص قومی نظریہ آزادی کو  نافذ العمل کررہے ہیں۔ سقوط بولان کے تیسرے  مرحلے کے بعد بابا مری کی سرپرستی میں جب شہید بالاچ اور سنگت حیربیارمری نے خالص قومی سوچ کے تحت بلوچ تحریک آزادی کی  بنیاد مسلح مزاحمت پر رکھی تو خوابیدگی اور غنودگی کی عالم میں مجھ جیسے لوگوں کو یہ ہوش آیا کہ پچھلے تعلیم یافتہ  طبقے کے  یار لوگوں نے پارلمنانی سیاست کے  رنگینیوں میں ہمیں گمراہ کیا ہے، آنکھیں ملتے ہوے یہ سوچھنے لگے چلو اس دفعہ سنگت حیربیار کی  چلتی ٹانگے  میں چلانگ لگا کرسواری کرینگے،  شاید منزل تک پہنچ پائیں، لمبی سفر پر رواں  اس چلتی ٹانگے کی  کیبن میں بیٹھنے  کے   بعد کچھ دنوں کا مسافت طے کرتے ہوئے سوچھنے لگے اور بہت دیر تک ان کو یہ  خیال  آیا کہ اس ٹانگے کو ہانکنے والے کے نیت کا کیا بروسہ ، یہ تو سردار  زادہ ہے، اگر کل کلاں اس نے ٹانگے کا رخ اسلام اباد کی طرف موڈ دیا  تو پھر کیا ہوگا؟  اس ٹانگے کو ہانکنے والے سنگت حیربیار مری نے ان کی نیت کو بانپتے ہوے ان سے کہا کہ اس ٹانگے میں موجود تمام راشن وسائل ہمارے سفر کیلئے ہیں،ہم سب کیلئے ہیں، ہمیں متحد ہوکر چلنا ہوگا۔ راستے میں ہر آنے والے مشکل کا متحد ہوکر مقابلہ کرینگے     لیکن کسی نے سنگت  کی ایک  بات تک نہیں سنی ۔ سب  الگ ہوگئے۔ شروع میں یہ سمجھنے لگے کہ  الگ الگ سفر کرینگے تو یہ محفوظ اور آسان سفر ہوگا،  لیکن  اس لمبی سفر کے راستے میں وہ  لٹتے گئے، آسانی سے رہزنوں کے ہتے چھڑ گئے،  آپس میں بھوک اور پیاس  کے باعث جھگڑا کرتے گئے، کئی دوستوں نے ان سے راستے الگ کئے۔ اس  بات کو کئی عرصہ گزر گیا اور اب بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ سنگت حیربیار نے اپنے ٹانگے کا رخ اسلام آباد کی طرف موڈا اور نہ ہی ان کی قدموں میں لغزش آئی۔ وہ  استقامت کے ساتھ اپنے منزل کی طرف رواں ہے، اور بار بار اپنے بچھڑ ے ہوے ساتھیوں کو آزاد دیتا ہے کہ  آؤ ساتھ  ملکر چلیں گے۔ راستہ آسان ہوگا منزل نزدیک ہوگی۔ سنگت حیربیار مری کیلئے مواقع بہت تھے وہ اگر وہ چاہتے تو پاکستانی پارلمنٹ کا   رخ کرتے، اور پھر وہیں کا  وہیں  ہوجاتے جسطرح غیرسردار زادہ   نام نہاد متوسط طبقے کا ڈاکٹر مالک جب پاکستانی پارلمنت پہنچ گئے تو پھر واپسی کا راستہ بھول گئے لیکن سنگت نے گھٹن راستہ اس لیے چنا کہ وہ پاکستان کا ایک غلام بننا  نہیں چاہتے ابھی کل انکے  ایک ساتھی بشیر زیب نے پھر سنگت حیربیار کی قومی پالسی کو  دھراتے ہوے کہا کہ "بلوچ تحریک سنجیدگی سے عملی طورپر اتحاد کا متقاضی ہے".  مبادہ سقوط بولان کا چوتھا دور نہ آئے۔۔۔

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...