Wednesday, May 29, 2019
چائنا کی توسیع پسندانہ عزائم بلوچستان کی آزادی پر منتج ہو گی: بلوچ رہبر حیر بیار مری
ایران پر جنگ کے منڈلاتے ہوے بادل، امریکہ کی جارحانہ پوزیشن تحریر : آرچن بلوچ
جمعہ 10 مئی, 2019
یاد رہے کہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے مغربی ملکوں کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھاکہ ایران کی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے بدلے میں اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائینگی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچتےہوئے یہ کہا کہ یہ ایک بہت بری معاہدہ ہے، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور معائدہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر پہلے سے زیادہ مزید بدتر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔
امریکہ نے ایران پر نہ صرف تیل کی تجارت اور بینکنگ پر بابندی لگا دی ہے بلکن ایران کی فوج یعنی سپاہ پاسدارن انقلاب کو بھی ایک دھشتگرد تنظیم کے درجے میں ڈالا ہے۔جو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ریاستی فوج کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہو۔ جوابی ردعمل دکھاتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو جزوی طور پر پھر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ تیل کی اہم گزرگاہ تنگہائے ہرمرز کو بھی بند کر دینگے۔ ساتھ ہی سی این این نے رپورٹ نے دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کو بحری جنگی کشتیوں پر نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اب اس مرحلے سے آگے کیا ہوگا؟
تنگہائے ہرمرز جہاں دنیا کی تقریبا 40 فیصد تیل گزرتی ہے کی وسعت 40 کیلومیٹر یعنی 25 میل ہے، ایران کی امریکہ کو دھمکی اس بات پر ہے کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کرینگے۔ یعنی وہ اس گزرگاہ میں بحری بارودی سرنگ بچھائینگے۔ جس کی وجہ سے تیل بردار آبی جہازوں کیلئے ممکن نہیں رہے گا وہ اس گزرگاہ سے اپنا تجارتی سفر جاری رکھے ، لیکن امریکہ نے کہا ہے وہ ایران کو ایسا ہرگزکرنے نہیں دینگے۔۔
امریکہ نے یو ایس ایس ابرھم لنکن بحری بیڑہ کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کی فلیٹ کو بھی عرب گلف کی طرف روانہ کیا ہے جو کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہی کے دن کو عرب گلف قطر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں کہ جس سے صاف یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایران نے کہیں بھی کاروائی کی، اس کے جواب میں امریکہ فورا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یاد رہے CIA کی سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پہلے دن سے ہی کہا ہے وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی امکانات کو رد نہیں کرینگے۔
امریکی ایجنسیوں نے ایران کے ارادوں کے بارے ٹھوس اور قابل اعتبار زرائع سے خبر دی ہے کہ وہ عراق اور سوریہ میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے غیراعلانیہ طور ہر کل عراق کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکمرانوں کو ایران کے ارادوں کے بارے خبردار کیا۔ یاد رہے کہ سی این این نے اعلی ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے کشتیوں کے زریعے درمیانہ رینج کے راکٹوں کو عراق روانہ کیا ہے۔
دوسری طرف مغربی ملکوں فرانس جرمنی اور برطانیہ جوایران ڈیل کے شریک ہیں نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 2015 کی معاہدے کے پابند ہیں اگر اس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج نکلینگے۔ حسن روحانی نے مغربی ملکوں کو ساٹھ دنوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائیں، نہیں تو اس کی حکومت یورینیم کی افزودگی کو پھر سے شروع کردے گی ۔
اس تمام معاملے میں مختلف ممالک کے مختلف موقف اور رائے سامنے آئیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ نے کہا ہے انکی اپروچ امریکہ سے مختلف ہے اور پومپیو نے کہا کہ لندن ملاقات کے دوران ”صاف گفتگو“ ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران نیوکلیئر ڈیل یورپی یونین کے سیکیورٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے، فرانسیسی وزیردفاع نے کہا کہ یورپی یونین سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ یہ معاہدہ ختم نہ ہولیکن اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتے ہیں ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے معاہدے کی باقی تمام شریک اپنے زمہ داریوں کے پابند رہیں ساتھ ہی اس نے اس معاہدے کو دستخط کنندگان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چائنا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا بڑے عزم کے ساتھ مخالفت کرینگے۔اسرائیل نے اپنی پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو بلکل نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ”ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنا لڑائی جاری رکھیں گے جو ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں“ نیتن یاہو ، اسرائیلی وزیرآعظم۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بڑے ممالک فرانس برطانیہ جرمنی نے کہا ہے وہ ایران ڈیل کے ساتھ ہیں لیکن وہ ایران کی کسی الیٹیمیٹم کو خاطر میں نہیں لائینگے۔
کہتے ہیں کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد ، اسی لیے حال ہی میں شیخ محمد بن سلمان آل سعود نے کہا ہے وہ ایران کی اس جنگ کو ایران کے اندر ضرور منتقل کرینگے۔ ایران کی ملا رجیم نے اندرونی طور پر بھی لوگوں کی آزادیاں سلب کی ہیں، عوام شدید غم وغصہ میں ہیں، انسانی حقوق کی شدید پائمالیاں ہو رہی ہیں۔ مریم رجوی کے سربراہی میں ایک گروپ یورپ میں مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آ چکی ہے ویسے امریکی صدرکے ٹیبل پر کئے اقوام کے فائل پڑے ہیں، جن میں بلوچوں کا فائل بھی شامل ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جو فائل رکھ دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے سب سے اولیت کا حامل ہے، اس فائل پر عمل کرنا خود امریکہ کے قومی مفاد میں شامل ہے ۔
ایران پر ناگزیر جنگ۔۔۔
اتوار 19 مئی, 2019
Sunday, May 19, 2019
ایران پر ناگزیر جنگ۔۔۔ تحریر : آرچن بلوچ
امریکہ ایران پر مسلسل اپنی عسکری دباؤ کو بڑھا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور انکے اتحادیوں نے ایران پر فوجی یلغارکا مصمم ارادہ کر لیا ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے تجارتی جہازوں کو پرشین گلف پر گزرنے پرانتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غلط شناخت‘‘ کی وجہ سے وہ نشانہ بن سکتے ہیں، فرشین گلف اور گلف آف عمان سے گزرنے والے ان تمام تجارتی ہوائی جہازوں کو کہا گیا ہیں، کہ پرواز کرتے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کیلئے وہ اس خطے کی سخت عسکری اور سیاسی کشیدگی کو مدنظر رکھیں کیونکہ اس ماحول میں جہازوں کے ہواپیمائی کے آلات یعنی راڈار جام بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے برطانیہ کی انشورنس کمپنی لیوڈ آف لندن نے انتباہ کیا تھا کہ اس خطے کی میرین ٹائم میں تجارتی جہازرانی کیلیے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔
دی ٹائم آف اسرائیل کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی قوت کو اس علاقے میں اس وقت بڑھانا شروع کردیا جب امریکہ کو اطلاع ملی کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں چار ہفتے پہلے خفیہ دورہ کرنے کے دوران عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف پراکسی جنگ کیلئے تیار ہوجائیں، جنرل سلیمانی کی اس حکم کی باز گشت ایرانی وزیر خارجہ جواد طریف کی نیویارک میں دی ہوئی اس بیان میں بھی نمایا سامنے آیا جس میں وزیر موصوف نے کہا تھا کہ ایران تباہی کے اتاہ گہرائیوں میں گرنے سے پہلے وار کریگی۔
ایران کی ان دونوں بیانات کی بنیاد پر امریکہ نے اچانک اپنی فوجی قوت کو سریع الوقت جنگی پیمانے پر تعینات کرنا شروع کردیا۔۔ خطرات کے پیش نظر امریکہ نے مجبور ہوکر عراق سے اپنی اضافی فوج اور ایمبیسی اسٹاف کو نکالنا شروع کردیا ہے جس سے عراقی کردوں میں بھی عدم تحفظ پیدا ہوچکا ہیں ۔
عرب امارات کی ساحل پر لنگر انداز چار آبی جہازوں پر ثبوتاژ کی کوشش اور سعودی عرب کے تیل کی پائپ لائنوں پر حوثیوں کے ڈرون حملوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی تشویش میں اور بھی اضافہ کردیا ہیں، ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق امریکی ماہرین ایران یا اس کی پراکسیوں کو زمہ وار ٹہرا رہےہیں۔ بیشتر عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہیں، کہ اگر ایران کا راستہ نہیں روکا گیا تو ایران مشرق وسطی کے خطے کی امن و سکون کو مزید تباہ وبرباد کردیگا۔
دوسری طرف متوقع جنگ سے بچنے کیلئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ تاکہ چین اور روس اس تمام معاملے میں بطور فریق شامل ہو، انہوں نے چین اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ ۲۰۱۵ کی ایران امریکہ نیوکلیئر ڈیل کو بچانے کی عملی کوشش تیز کردیں۔ اس سے پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی صدر نے اخبارات سے استفسارکیا ’’کیا روس ایک فائربریگیڈ ہے جو ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائے گی‘‘۔ پاکستان نے بیان دیا ہے کہ وہ اس تمام معاملے میں نیوٹرل کا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کیلے نیوٹرل رہنا بہت سخت اور مشکل فیصلہ ہوگا۔ سعودی عرب اور عرب امارات نے اسے 6 ارب اس لیے دیے ہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں انکا ساتھ دے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کس حد تک نیوٹرل رہے گا یا ساتھ دیگا مگر پاکستان ایک مکار ملک ہے پیٹھ پیچھے سب کو خوش کرنے کی انتھک کوشش کرے گا۔
شرق الاوسط کے سابقہ آڈیٹران چیف سلمان الدوسری خلیج عرب کے موجودہ صورتحال کے بارے لکھتے ہیں ’’ماحول وہی ہے اور ٹینشن بھی وہی۔ انکے مطابق ۳۹ سال پہلے عراق اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی، پھر ۱۹۹۱ میں کویت کو آزاد کرانے کیلئے عراق کے ساتھ ایک جنگ لڑنا پڑا پھر صدام رجیم کو ہٹانے کیلئے ۲۰۰۳میں تیسرا جنگ کرنا پڑا۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ لوگ حقائق کو توڑ مروڑ کرکے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی ایران پر جنگ مسلط کرنا نہیں چاہتا ، دراصل یہ ایران ہی ہے جو جنگ کی آگ کو بھڑکانا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسرے اسے جنگ سے اجتناب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم ایران اب سخت لہجے میں دھمکی دینے پر اترآیا ہے۔ ایرانی سپاہ پاسدارن انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ اف پولیٹکل افیٗرز کے رہنما یداللہ جوانی نے کہاہے کہ امریکہ کی اتنی جرآت نہیں کہ وہ ہمارے خلاف ملٹری ایکشن لے۔ اگر انہوں نے تھوڑا سا حرکت کی تو ہم انکی سر کوکچل کر رکھ دینگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کی مڈل ایسٹ میں موجودگی پہلے بہت سنجیدہ خطرات تھے، لیکن اب وہ ہمارے ٹارگٹ پر ہیں۔ ہم ان پر میزائلوں کا بارش کردینگے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحرینی وزارت خارجہ نےاپنے شہریوں کو کہا ہیں کہ وہ ایران اور عراق جانے سے گریز کرے، اور جو بحرینی شہری ان دونوں ملکوں میں گئے ہیں انکو فورا اپنے ملک واپس آنا چاہیے کیونکہ ایران کی طرف سے جنگی خطرات بڑھ چکے ہیں غیر مستحکم علاقائی حالات، خطرناک پیش رفت جیسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوچکے ہیں۔
محرکات۔۔ ایران اپنی مخصوص مزھبی فرائض impulse کے تحت مجبور ہے کہ عرب ممالک میں اپنی شیعہ انقلاب کو ایکسپورٹ کرے۔ جس کی وجہ سے سارے عرب ممالک بشمول پُرامن و ترقی یافتہ خلیجی ممالک ایران کی اس بے جا مزہبی فرقہ واریت پر مبنی مداخلت کی وجہ سے غیرمستحکم صورتحال سے دوچار ہونے جارہے ہیں۔ ایران کی یہ بے جا مداخلت جنگی جارحیت پر مبنی ہے۔ اب یہ بات صاف ظاہر ہےایک غیرمستحکم خلیج امریکہ اور یورپ کے مفاد میں ہرگز نہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں مغربی شہری بہترین روزگار سے منسلک ہیں اربوں ڈالر کے حساب سے یورپی سرمایہ کاری خلیجی ممالک میں لگ چکی ہے۔ خلیجی ممالک اور مغرب و امریکہ کے درمیان بہترین پرامن بقا باہمی اور تجارتی تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔ گوکہ خلیجی ممالک کی نظام حکومت قبائلی اور سرداری نظام پر مشتمل ہے لیکن یہاں کی عوام اپنے حکمرانوں سے بہت ہی خوش ہیں اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد خلیجی قبائلی حکمرانوں نے اپنے ملکوں کوایک چھوٹی مدت میں ایسا ترقی یافتہ بنایا ہیں جیسا کوئی زمہ وار شخص اپنے گھر کو بہترین تزعین اور آرائش سے مزین کرے اور اپنے بچوں کی مستقبل روشن کو تابناک بنادے ۔ اب ایسے میں وہ کونسا بے وقوف ہوگا جو اپنے خوشحال گھر کو ایک مزھبی جنونی کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھے گا۔
اس تمام صورتحال سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک ایران شیطانی کردار کو روکنے کیلئے کسی حد تک جاسکتے ہیں۔ چاہے اقتصادی پابندیاں ہو یا برائے راست جنگ ، دونوں صورتوں میں خصارہ ایران ہی کا زیادہ ہوگا۔ اگر جنگ ہوئی تو سارا اخراجات اور نقصان ایران ہی سے وصول ہوگا، کیونکہ اقصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے سارے گاہگ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے پاس جاچکے ہیں۔ جس سے اس سرپلس تیل کی آمدنی سے جنگ کے تمام اخراجات پورا ہونگے۔سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ کوشش کرینگے کہ یہ جنگ نہ ہو لیکن بال اب ایران کے کورٹ میں ہے، یاد رہے کچھ دن پہلے عرب نیوز جوکہ کہا جاتاہے کہ سعودی ولی عہد کی ملکیت میں ہے اپنے آڈیٹوریل میں لکھا ہے کہ ایران کو انکی دھشت گردی روکنے کیلیے اس پر حملہ ضرور ہونا چاہیے۔
Friday, May 10, 2019
ایران پر جنگ کے منڈلاتے ہوے بادل، امریکہ کی جارحانہ پوزیشن تحریر : آرچن بلوچ
یاد رہے کہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے مغربی ملکوں کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھاکہ ایران کی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے بدلے میں اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائینگی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچتےہوئے یہ کہا کہ یہ ایک بہت بری معاہدہ ہے، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور معائدہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر پہلے سے زیادہ مزید بدتر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔
امریکہ نے ایران پر نہ صرف تیل کی تجارت اور بینکنگ پر بابندی لگا دی ہے بلکن ایران کی فوج یعنی سپاہ پاسدارن انقلاب کو بھی ایک دھشتگرد تنظیم کے درجے میں ڈالا ہے۔جو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ریاستی فوج کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہو۔ جوابی ردعمل دکھاتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو جزوی طور پر پھر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ تیل کی اہم گزرگاہ تنگہائے ہرمرز کو بھی بند کر دینگے۔ ساتھ ہی سی این این نے رپورٹ نے دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کو بحری جنگی کشتیوں پر نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اب اس مرحلے سے آگے کیا ہوگا؟
تنگہائے ہرمرز جہاں دنیا کی تقریبا 40 فیصد تیل گزرتی ہے کی وسعت 40 کیلومیٹر یعنی 25 میل ہے، ایران کی امریکہ کو دھمکی اس بات پر ہے کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کرینگے۔ یعنی وہ اس گزرگاہ میں بحری بارودی سرنگ بچھائینگے۔ جس کی وجہ سے تیل بردار آبی جہازوں کیلئے ممکن نہیں رہے گا وہ اس گزرگاہ سے اپنا تجارتی سفر جاری رکھے ، لیکن امریکہ نے کہا ہے وہ ایران کو ایسا ہرگزکرنے نہیں دینگے۔۔
امریکہ نے یو ایس ایس ابرھم لنکن بحری بیڑہ کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کی فلیٹ کو بھی عرب گلف کی طرف روانہ کیا ہے جو کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہی کے دن کو عرب گلف قطر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں کہ جس سے صاف یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایران نے کہیں بھی کاروائی کی، اس کے جواب میں امریکہ فورا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یاد رہے CIA کی سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پہلے دن سے ہی کہا ہے وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی امکانات کو رد نہیں کرینگے۔
امریکی ایجنسیوں نے ایران کے ارادوں کے بارے ٹھوس اور قابل اعتبار زرائع سے خبر دی ہے کہ وہ عراق اور سوریہ میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے غیراعلانیہ طور ہر کل عراق کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکمرانوں کو ایران کے ارادوں کے بارے خبردار کیا۔ یاد رہے کہ سی این این نے اعلی ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے کشتیوں کے زریعے درمیانہ رینج کے راکٹوں کو عراق روانہ کیا ہے۔
دوسری طرف مغربی ملکوں فرانس جرمنی اور برطانیہ جوایران ڈیل کے شریک ہیں نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 2015 کی معاہدے کے پابند ہیں اگر اس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج نکلینگے۔ حسن روحانی نے مغربی ملکوں کو ساٹھ دنوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائیں، نہیں تو اس کی حکومت یورینیم کی افزودگی کو پھر سے شروع کردے گی ۔
اس تمام معاملے میں مختلف ممالک کے مختلف موقف اور رائے سامنے آئیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ نے کہا ہے انکی اپروچ امریکہ سے مختلف ہے اور پومپیو نے کہا کہ لندن ملاقات کے دوران ”صاف گفتگو“ ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران نیوکلیئر ڈیل یورپی یونین کے سیکیورٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے، فرانسیسی وزیردفاع نے کہا کہ یورپی یونین سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ یہ معاہدہ ختم نہ ہولیکن اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتے ہیں ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے معاہدے کی باقی تمام شریک اپنے زمہ داریوں کے پابند رہیں ساتھ ہی اس نے اس معاہدے کو دستخط کنندگان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چائنا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا بڑے عزم کے ساتھ مخالفت کرینگے۔اسرائیل نے اپنی پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو بلکل نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ”ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنا لڑائی جاری رکھیں گے جو ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں“ نیتن یاہو ، اسرائیلی وزیرآعظم۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بڑے ممالک فرانس برطانیہ جرمنی نے کہا ہے وہ ایران ڈیل کے ساتھ ہیں لیکن وہ ایران کی کسی الیٹیمیٹم کو خاطر میں نہیں لائینگے۔
اب ان تمام محرکات کے بارے کچھ مختصر باتیں کرینگے کہ جن کی وجہ سے ایران آج ایک خطرناک طوفانی بھنور میں پھنس چکی ہے، جس کے اوپر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بقول محمد بن سلمان آل سعود جب سے ایران میں شیعہ انقلاب آئی ہے، اس وقت سے عرب ممالک میں ایران مزھبی فرقہ واریت کے بنیاد پرمداخلت کر رہا ہے، ایران کی اس مداخت کی وجہ سے تقریبا تمام عرب ممالک کی سوسائٹی بھی دو مزھبی فرقہ واریت کے بھنور میں پھنس چکے ہے۔ لبنان، فلسطین، عراق، سوریا، بحرین، یمن، سعودی عرب، سوڈان اور کویت میں ایران مسلسل مداخلت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سنیوں میں مزھبی خدشات بلکہ ان ممالک کی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، آج عراق، سوریا، یمن اور لبنان کئی حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ بحرین جیسا ایک پرامن چھوٹا سا ملک بھی ایران کی شرانگیزیوں سے نہیں بچھا ہے۔ لیکن ان شریف عرب ممالک نے ابھی تک ایران کے اندرونی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی ہے۔ ایک زمانے سے لے کر اج تک ایران اپنے مخالفین کو دنیا کے کسی بھی کونے میں ٹارگٹ کلنگ کرتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں فرانس میں ایرانی دہشتگردی کا ایک سرغنہ پکڑا گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد ، اسی لیے حال ہی میں شیخ محمد بن سلمان آل سعود نے کہا ہے وہ ایران کی اس جنگ کو ایران کے اندر ضرور منتقل کرینگے۔ ایران کی ملا رجیم نے اندرونی طور پر بھی لوگوں کی آزادیاں سلب کی ہیں، عوام شدید غم وغصہ میں ہیں، انسانی حقوق کی شدید پائمالیاں ہو رہی ہیں۔ مریم رجوی کے سربراہی میں ایک گروپ یورپ میں مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آ چکی ہے ویسے امریکی صدرکے ٹیبل پر کئے اقوام کے فائل پڑے ہیں، جن میں بلوچوں کا فائل بھی شامل ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جو فائل رکھ دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے سب سے اولیت کا حامل ہے، اس فائل پر عمل کرنا خود امریکہ کے قومی مفاد میں شامل ہے ۔
Thursday, May 9, 2019
آزاد بلوچستان کا مقدمہ تحریر: آرچن بلوچ
جرمنی کی جمہوریت پسندی ، انسانی حقوق کی حفاظت و احترام اور آزادی اظہار رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی بلوچ سیاسی کارکنان نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں۔ لیکن بد قسمتی سے بلوچ سیاسی کارکنان کا اندراج یا تو پاکستانی یا پھر ایرانی شناخت سے ہوتا ہے، اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ معلومات کی عدم دستیابی ہے جہاں جرمنی کے ساتھ، ساتھ دنیا کے دیگر اقوام کو بلوچستان پر پاکستانی اور ایرانی غیر قانونی قبضے کا علم نہیں ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ نے جرمنی میں ایک دستخطی آگاہی مہم کا آغاز کیا تاکہ جرمن عوام کے ساتھ، ساتھ جرمن حکومت کو بلوچستان کے متعلق آگاہ کیا جائے کہ “بلوچستان نہ پاکستان ہے اور نہ ہی ایران”۔مظالم، نا انصافی اور جابرانہ غلامی کے خلاف بلوچ عوام کی آواز دبانے اور اس کو دنیا کے دیگر مہذب ممالک و اقوام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے قابض پاکستان و ایران نے بلوچستان میں میڈیا پر شدید قسم کی قدغن اور پابندی لگائی ہوئی ہے۔ لیکن جرمنی کی جمہوریت پسند معاشرے میں فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں کو اپنی رائے کے اظہار اور قابضین کے جرائم کو دنیا کے سامنے آشکار کرانے کا موقع ملا تو وہ اپنی پوری توانائی سے اس کوشش میں لگ گئے ہیں کہ وہ جرمنی سمیت پوری دنیا کو بتا سکیں کہ بلوچ قوم کا پاکستان و ایران کے ساتھ رشتہ کیا ہیں ۔
اس وقت نظریہ ضرورت سے سمجھوتہ کئے بغیر فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں انسانی حقوق تک محدود نہیں رکھیں بلکہ وہ ایک حقیقی مقصد کے ساتھ بلوچستان کی مکمل آزادی کے موقف و جدوجہد آزادی کا پرچار کرتے ہوئے پوری دنیا کو یہ بتانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ بلوچ قوم کو پاکستان و ایران کا حصہ نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دو ممالک سے کسی قسم کی تاریخی قربت کے بغیر غیر قانونی طور پر بلوچستان کی آزاد و خودمختار حیثیت پر شب خون مارا گیا اور بلوچستان کی آزادی بزور طاقت ختم کی گئی۔فری بلوچستان موومنٹ جرمنی چیپٹر کے آرگنائزر الٰہی بخش بلوچ نے بلوچ ورنا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اپنی چھینی گئی آزاد و خود مختار حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں، اس وقت ہماری سرزمین دو حصوں میں تقسیم ہے جن میں سے ایک حصے پر پاکستان اور دوسرے پر ایران قابض ہے۔ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہم جرمن عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوسکیں کہ بلوچ ایک الگ قوم ہے وہ پاکستانی و ایرانی اقوام کا حصہ نہیں۔ ہم ہر طرح سے الگ ہیں۔ ہماری زبان، ثقافت، کھانا، موسیقی اور دیگر رسم و رواج مختلف ہیں۔ ہمارے اور پنجابی و فارسی کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں”۔
الٰہی بخش بلوچ نے مزید بتایا کہ “اس وقت یہ دستخطی آگاہی مہم بعنوان”بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” تین ماہ سے زائد عرصے سے جرمنی کے تقریباً زیادہ تر بڑے شہروں میں منعقد ہوگیا ہے۔ ہمارا مقصد جرمن عوام کو اپنی تحریک آزادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے، ہمیں اپنے وطن بلوچستان جس پر فوجی قوت و طاقت کے ذریعے قبضہ کیا گیا ہے اور اسی طاقت کے زور پر اس قبضے کو برقرار رکھنے کی ظالمانہ کوشش کی جارہی ہے کے بارے میں جرمنی اور دنیا کو معلومات فراہم کرنی ہیں۔ اس لئے یہ تمام مہذب اور آزادی پسند اقوام کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ہماری طرف مدد کے ہاتھ بڑھائیں تاکہ ہم اپنی کھوئی ہوئی آزاد و خودمختار حیثیت کو دوبارہ حاصل کرسکیں”
مہم “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران”کا انعقاد کرنے والے کارکنان اپنی سرگرمیوں کی تشہیر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیسبک پر اپنے پارٹی پیج اور دیگر آن لائن بلوچ خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک جاری بیان میں انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ انگریز آقاؤں نے بلوچستان کو دو مصنوعی لکیروں “ڈیورنڈ” اور “گولڈ سمتھ” کے ذریعے تقسیم کیا اور پھر ایران و پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بلوچستان کی آزاد و خودمختار سرزمین پر قبضہ کرلیں جو قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔
تین مئی دوہزار انیس بروز جمعہ فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں نے بیک وقت دو مقامات پر مہم کا انعقاد کیا۔ جرمن دارالحکومت برلن میں امریکی و فرانسیسی سفارت خانوں کے سامنے برلن گیٹ کے مقام پر مہم کا انعقاد ہوا جبکہ دوسری جانب جرمن صوبے نارتھ ویسٹ فالیا کے شہر وُوپرتال میں بھی اسی روز مہم منعقد ہوئی۔ مہم کا انعقاد کرنے والوں کے مطابق جرمن عوام کے علاوہ دیگر اقوام بھی بڑی تعداد میں حصہ لے کر “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” کے موقف کی حمایت کررہے ہیں ۔مہم کا انعقاد کرنے والوں نے ان الفاظ میں اپنے سابقہ حکمران برطانوی راج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “ یہ امر برطانوی تاریخ و ارتقاء پر ہمیشہ ایک قرض رہے گا، اب یہ برطانیہ کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنی تاریخی غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی مدد کرے تاکہ برطانیہ کی آزادی و جمہوریت پسند عوام کے لئے ان کی تاریخی غلطی باعث شرمندگی نہ بنے”۔
فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ واجہ حیربیار مری نے حال ہی میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے درخواست کی کہ “پاکستان اور ایران کو بلوچستان میں بلوچ نسلی کُشی اور دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کی پاداش میں بلیک لیسٹ کیا جانا چاہئے تاکہ ان ممالک کو اپنے جرائم کی وجہ سے ایک سخت اور واضح پیغام مل سکے”۔
بلوچ ایک سیکیولر قوم ہے جو اپنی بنیادی حق آزادی اور قومی وقار کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ ان کے اپنے آزاد ملک بلوچستان کے بغیر ان کو دبایا جائیگا اور دو انتہا پسند ممالک پاکستان و ایران اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کے لئے ان کے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے۔
فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ آگاہی مہم حقیقی طور سے بلوچ قوم کی امنگوں اور موقف کی نمائندگی کرتی ہے جس کو پاکستان اور ایران کے ذرائع ابلاغ ہمیشہ غلط اور منفی انداز میں تھوڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام جلا وطن بلوچ آزادی پسند کارکنان کی اخلاقی اور قومی ذمہداری بنتی ہے کہ وہ فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ دستخطی مہم کی تشہیر کریں تاکہ دنیا کو بلوچستان پر غیر قانونی قبضے اور بلوچ قوم کی جدوجہد آزادی کے متعلق مطلع کیا جا سکے۔
کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔
قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...
-
نبشتانک: آرچن بلوچ سال 2026 پر بوتگ، ءُ من سوب مندی ءُ تاوانی آنی ھساب کنگءِ تہا جیڑگایاں کہ ما 60 ملیون گیش بلوچءَ چنچو ببا داتگ ءُ چنچو...
-
آرچن بلوچ لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین کے تصور کو لیکر جب ہم اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پی...
-
لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین کے تصور کو لیکر جب ہم اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ اسی ت...


