Friday, December 21, 2018
متوسطوں کے حیلے بہانے
Monday, October 15, 2018
مشترکہ قومی قیادت ، ریاست کی تشکیل کا نعم البدل : تحریر آرچن بلوچ
جس گناہ نے گزشتہ کئی سالوں سے بلوچ آزادی کی تحریک کو قومی تحریک کا روپ دھارنے نہیں دیا وہ آج تک ہمارے تحریک کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا، اس گناہ کو ہم original sin کا نام دے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ اور یہ گناہ ایک ایسا سوچ ہےجسے اگر اکیڈمک حوالے سے پرکھا جائے تو طبقاتی بیہودگی کے سوا اور کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ 1967 میں جب بی ایس او بنی تو اسی وقت اس طبقاتی بیہودگی کی گمراہ کن اصطلاح کو بلوچ سیاست میں لایا گیا، اور اسی اصطلاح نے ہر”سیاسی لٹیرے“ کے لوٹنے کی کام کو ایک آسان جواز مہیا کیا ۔ قومی آزادی و حق حاکمیت کی شعور کی کمی اپنی جگہ، لیکن اگر تھوڑا بہت جو حاصل قومی شعور میسر تھا تو اس شیطانی و گمراہ کن طبقاتی اصطلاح نے اس تھوڑے سے حاصل قومی شعور کو بھی دو لائنوں میں تقسیم کردیا۔ اس کی ابتداء بی ایس او کی طبقاتی بنیاد پر نظریاتی تقسیم یعنی ” اینٹی سردار بی ایس او“ اور ”عوامی بی ایس او“ کی شکل سے شروع ہوئی۔ یہ طبقاتی تقسیم چلتے چلتے ڈاکٹر یاسین تک پہنچ گئی، یہاں قومی سوچ نے اس طبقاتی سوچ کی منقسمانہ پروسیس پر قابو پالیا جس کی وجہ سے وانندہ آزادی پسند تقسیم ہوتے رہے، شہید فدا احمد بلوچ کی سربراہی میں سنجیدہ اور خالص قومی سوچ نے جڑ پکڑنا شروع کردیا ۔ شہید فدا احمد کی سربراہی میں آزادی پسندوں نے اُس وقت کے بی ایس او کے چیئرمین ڈاکٹر یاسین کو تین نقاط پر مشتمل قومی حق خود اداریت کا ایک قومی پروگرام دیا تاکہ قومی تحریک کو نظریاتی حوالے سے نوجوانوں کی درست رہنمائی ہو کر تحریک کو درست ڈگر پر لایاجائے، یاسین بلوچ نے اس قومی پروگرام کو لیکر ایک پریس کانفرنس کے زریعے تمام آزادی پسند اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دی کہ نمبر 1۔ غیر طبقاتی جد وجہد برائے حق خود ارادیت و قومی خودمختاری نمبر 2۔ ترقی کا غیر سرمایہ دارانہ راہ، نمبر 3۔ جمہوری اصولوں کے تحت کم سے کم نقاط پر مشتمل ہمیں مشترکہ جد و جہد کرناچاہیے۔
لیکن بدقسمتی سے بی ایس او یاسین کابینہ کی اس وقت کی شاطر جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کہور اور رازق بگٹی ماؤزے تنگ کی طبقاتی سوچ کے نعرے کو لیکر خالص نئی قومی تحریک کے نظریے کے سامنے پہاڑ کی مانند آکر کھڑے ہو کر بہت سے بلوچ نوجوانوں کو فکری کجروی کا شکار بناکر بی ایس او کو دو لخت کردیا۔ پھر اختلافات کا ایک سلسلہ شروع ہوا ، اسی اختلافی ماحول کے آڑ میں فدا احمد کو شہید کیا گیا، ان طبقاتی سیاسی لٹیروں نے ایک بار پھر اس نئی بننے والی قومی سوچ کو لوٹ لیا۔ اور پھر اس کے بعد جتنے بھی مضبوط آزادی پسند سیاسی رہنما تھے ان کو قتل کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جن میں شہید مجید بزنجو، شہید اسلم جان گچکی، شہید ایوب بلیدی، شہید عارف جان محمد حسنی۔۔ یعنی شہید فدا دور کے تمام مضبوط آزادی پسندوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ یعنی اس نئی ”قومی سوچ“ کے ظہور ہوتے ہی اسے مضبوط رہنماؤں سے decapitate کیا گیا، اور باقیوں کو ڈرا دھمکا کر خریدا گیا، شہید غلام محمد کی نبشتانک “سقوط بولان” کو پڑھ لیں، باقیوں کے روداد وہاں آپ کو ملینگے۔ پھر ”بڑے سیاسی لٹیرے“ نے ایک اچھی خاصی تحریک کو پارلیمانی سیاست کے تجربے کے نام پر بڑی آسانی سے دشمن کے گھود میں لاکر ڈال دیا۔
موجودہ مزاحمتی تحریک بھی سیاسی لٹیروں کی دست برد اور ریشہ دوانیوں سے خود کو نہیں بچا پایا۔ یہ بھی اب دو فکری لائنوں میں تقسیم ہوچکا ہے، سیاسی اعتبار سے ماسٹر سلیم اور واحد قمبر کا تعلق بھی اینٹی سردار بی ایس او سے ہی رہا ہیں ، اسی لیے جب ان کو بی ایل اے جوائن کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں بی ایل اے کو جوائن کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنا الگ تنظیم بی ایل ایف تشکیل دی، بقول ان کے ” بی ایل اے سرداروں کی تنظیم ہے ، ان کا کیا بھروسہ وہ کل پاکستانی سیاست کو جوائن کرینگے لہذا ہم اپنا جہد بی ایل ایف کی پلیٹ فارم سے جاری کرینگے” اس طبقہ والی نظریاتی تقسیم نے آج تحریک کو کس حال میں چھوڑرکھا ہیں ؟ یعنی شروع سے گمراہ کن طبقاتی نفاق کا بیج ان لوگوں نے بویا ہے، جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اور تحریک کو قومی بننے نہیں دے رہا ۔ متوسطوں کی بلا سے اس تحریک کی قومی چہرہ مسخ ہوتا جا رہا ہے، اسے بھی سیاسی لٹیروں نے اب تقریبا طبقاتی تحریک میں تبدیل کردیا ہیں ، اسلم بلوچ نے بابا مری کی قومی کریڈٹ کارڈ کو اسکریچ کیا تو اُسے اس میں اسے ایک سردار نظر آیا۔ بابا مری اپنے قومی موقف اور قومی نظریہ کے حوالے سے ایک کھلی کتاب کی مانند تھی، اسلم کو اس کی credibility اسکریچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہاں البتہ ہوسکتا ہے کہ بابا مری نے خالص بلوچ قومی نظریہ کو پاکستانی سیاست کے mix up سے محفوظ تو کر لیا لیکن اسے اس بات کا ادراک نہیں ہوا ہوگا کہ اندرونی تنظیمی معاملات محکوم و ستم رسیدہ متوسطوں کی نازک مزاجی یا اپنے گروہی مفادات کی خاطر تحریک کو طبقاتی لائنوں پر تقسیم کریگی۔ بہرحال، اگر تحریک قومی نجات کی ہے تو اس میں ہر فرد چاہے سردار ہو یا شوان،بزگر سب بیرونی قبضہ گیریت کے زیر سایہ مظلومیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایک اکیلا متوسط طبقہ نہیں۔
مشترکہ سیاسی قیادت کی قیام اور ضرورت اس لیے اولین شرط ہے کہ یہ ریاست کی تشکیل state formation کا نعم البدل ہوگا۔ دنیا اور قوم کے سامنے مشترکہ سیاسی قیادت ہی قومی تحریک کا چہرہ ہوگا۔ یہ قومی تحریک کی سیاسی قیادت کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی تحریک کے اندرونی اور بیرونی ضروریات کو پورا کرے۔ ریاستی جبر اور سفاکیت کے سامنے تحریک کے امید کے بارے عوامی اعتماد کو متزلزل ہونے سے بچائے ۔ اس لیے دنیا اعتماد کے ساتھ ایسے ہی قیادت کے ساتھ معاملات طے کرے گا، جو قومی تحریک کے تمام معاشی ، افرادی قوت و وسائل کی دستیابی کا اہتمام کرے گا ، قومی تحریک کے لیے عوام دوست پالیسیوں کو طے کرے گا۔ سفارت کاری کے گہرے سمندر میں قومی تحریک کی کشتی کو navigate کرے گا ۔ عالمی میڈیا میں قومی تحریک کے فلسفے اور کیس کو پیش کرے گا ۔ قومی مفادات کو لیکر دنیا کے سامنے خاص کر ہمسایہ اقوام اور عالمی قوتوں کے ساتھ پارٹنرشپ کے بنیاد پر تحریک کیلئے سپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کریگی۔
لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ گراؤنڈ ، گراؤنڈ کے نعرے کو بلند کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ پہاڑ پر بندوق کی گھن گرج سے تحریک کے وسائل اور دنیا کی سفارتی حمایت خودبخود حاصل ہوگا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے جتنی اہمیت عسکری جہد کی ہے اس سے دو گنا اہمیت سیاسی سفارت کاری کا ہے اور ان دونوں میدانوں کو ایک مضبوط سیاسی قیادت ہی رہنمائی فراہم کرسکتی ہیں ۔
حقیقت حال یہی ہے جس کی ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے خود اعتراف کرلیا ہے کہ کامیاب سفارت کاری نہ ہونے کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہا ۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جب تک تحریک کو ایک مشترکہ سیاسی قیادت میسر نہ ہو، گراونڈ پر موجود جہد کار یتیمی کی حالت میں جنگ لڑتے رہینگے جس سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ صرف ایک مضبوط و منظم قومی قیادت ہی موثر سفارت کاری کے زریعئے سے گراؤنڈ کے وسائل کی دستیابی کا اہتمام کرسکتا ہے۔
کامیاب سفارت کاری نہ ہونے کے متعلق ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی ٹویٹ صرف بیماری کی نشاندہی کر رہا ہے لیکن وہ بیماری کے اسباب ، تشخیص و علاج کے بارے بلکل خاموش ہے۔ ایک طرف ڈاکٹر صاحب بیرونی ممالک میں موجود دوستوں سے کامیاب سفارت کاری کا توقع رکھتے ہیں تو دوسری طرف وہ بھول جاتے ہیں کہ تحریک کو ایک مشترکہ قیادت کی ضرورت ہے، دنیا بکھری ہوئی تنظیموں کو گھاس تک نہیں ڈالتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مشترکہ قومی سیاسی قیادت کس طرح تشکیل پائیگی؟ اگر ہمارے سیاسی رویے ریاستی تشکیل کے نعم البدل کے نیت کے طور پر ہوں تو تحریک میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں لیکن اگر سیاسی لٹیروں کا نیت یہی ہے کہ تحریک کی طوالت کے سبب دوسرے ختم ہونگے اور وہ اکیلا بچ جائینگے اور تحریک کا بے تاج بادشاہ بن جائینگے تو یہ ان کی ایک احمقانہ و مجرمانہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا !
Friday, July 20, 2018
مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورت حال، بلوچستان کے بارے خلیجی عوام کی دوٹوک موقف اور ہماری ناقص پالیساں !! تحریر آرچن بلوچ
تحریر آرچن بلوچ
مڈل ایسٹ میں ایران کی ناجائزمداخلت نے خلیجی ممالک کیلئے سیکیورٹی کے خدشات کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔ ایران کی اس ننگی جارحیت کے خلاف سعودی کیمپ کے تمام دوست ممالک بشمول امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات مصر اردن ،بحرین فرانس اور برطانیہ وغیرہ صف بندیوں میں مصروف ہیں، اسی طرح نیوکلیئر ڈیل کے خاتمہ کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اپنا دفاعی تیاری مکمل کرلے، کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے وہ یکطرفہ طورپر یورنیم افزودگی کی طرف جائے گی۔ ایران کے خلاف منصوبہ بندیوں میں اس بار بلوچ فیکٹر فیصلہ کن کردار کی اہمیت کا اس امر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بلوچستان اور بلوچ تاریخ کے بارے متواتر بحث ومباحث بڑی شد ومد سے جاری ہے، اور یہ سارے معلومات سوشل میڈیا کے زریعے عام عوام کو دستیاب ہیں۔ خلیجی ممالک کی میڈیا میں غیرسرکاری سابقہ عہدہ داروں کے بیانات کو اس خطے کی جیو پالیٹکس کے تناظر میں پڑھاجائے تو بین السطور یہ بات سجمھ میں آئیگی کہ خلیجی ممالک بلوچستان کی وحدت اورآزادی کی حمایت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ خلیجی ممالک پاکستان اور ایران دونوں کو غاصب قوت سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر یوسف محمد العلوی، بحرینی مورخ کہتے ہیں کہ ایران کے زیر تسلط ھرمز ایک بلوچ ملک رہا ہے، اسکے زیراثر علاقے اور حاکمیت کے حدود و اربع ساحل عرب خلیج کے مشرق و مغرب سے لیکر ظفار، بحرین ، القطیف اور الاحساء رہے ہیں، اور 400 سال سے زیادہ عرصے تک اس پر بلوچوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اسی حوالے سے ھورمزگان کے بارے مزید معلومات کیلئے متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کے حاکم ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی کے لیکچرز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی پولیس سابقہ قائم عام جناب ضاحی خلفان نے کھل کر بلوچستان کی آزادی کی بات کی اور تمام عرب ملکوں کو کہا کہ وہ اپنے ملکوں میں بلوچستان کے سفارت خانے کھولنے دیں۔
ابھی چند دنوں پہلے ٹویٹر پر بلوچستان کی یک وحدتی جغرافیائی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی پروفیسر، اقتصادی و تزویراتی تجزیہ کار اور سعودی عرب آرمی کی سابقہ کمانڈر بریگیڈیرجنرل ڈاکٹر علی التواتی القرشی نے دنیا میں معروف سوشل میڈیا کی ٹوئیٹر میں لکھا ہے کہ بلوچستان ایک آزاد وحدت والا ملک تھا جس کا اپنا ایک حاکم تھا پاکستان نے بلوچوں کو دھوکہ دیکر اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قبضہ کیا، وہاں بلوچوں کی دیار میں تباہی مچادی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اسی طرح ایران نے بھی شمال کی طرف سے اس پر حملہ آور ہوکر ایک حصے پر قابض ہوگیا۔ پاکستان اور ایران کو بلوچستان سے نکلنا چاہیے کیونکہ بلوچ سرزمین ان کا حصہ نہیں ہے۔ بلوچ مظلوم ہیں۔ بلوچوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کا حاکم خود بنیں۔
ایک اور ٹویٹ میں بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹرعلی القرشی لکھتے ہیں کہ میں بلوچوں کا ساتھ ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو بلوچوں کے قومیت کو نفی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلوچوں کا اپنے سرزمیں پر کوئی حق نہیں، وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جائیں۔ ہم نے اس طرح کئی جگہوں پر دیکھا ہے۔ آپ بلوچ ایک قوم ہو، آپ لوگوں کا اپنا ایک الگ زبان ہے،ایک الگ کلچر اور تہذیب ہے۔۔ ہمارے دلوں میں آپ لوگوں کیلئے عزت اور تکریم ہے۔
بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹر علی چین پاکستان اور ایران کے منصوبوں کے بارے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان چین کی مدد سے بلوچوں کی قیمت پر مضبوط ہو ہورہا ہے اور اسی طرح ایران بھی انڈیا کی مدد سے بلوچ وسائل کی قیمت پر تقویت پا رہا ہے۔۔ ڈاکٹر بریگیڈئیر جنرل علی کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر تسلط گوادر اور ایران کے زیر تسلط چابہار دونوں ہی بلوچستان میں ہیں اور بلوچوں کی ملکیت ہیں۔ بلکل اسی طرح اس مقبوضہ ملک بلوچستان میں جہاں پر پاکستان اور ایران دونوں کی قبضہ گیریت جاری ہے، وہاں اس سرزمین کے اہل باشندوں بلوچوں کی کوئی عوامی رائے وجود نہیں رکھتا۔ ان کو کوئی سننے والا نہیں۔
امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسیوں کی بدولت مشرق وسط میں امریکی اور روسی دائرہ اثر sphere of influence تصادم کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ شام میں روس کو رعایت دینے کیلئے تیار ہوچکا ہے، جبکہ ایران کے بارے روس امریکی پالیسی کو قبول کرنے تیار ہوچکا ہے۔ ھلسنکی سربراہی ملاقات میں ٹرمپ اور پوٹن کے ملاقات سے پہلے سعودی عرب کیمپ کے تمام عرب ممالک روس گئے اور وہاں روسی حکمرانوں کو باور کراچکے ہیں کہ مشرق وسطی کی جیوپالٹکس میں روس کی کردار مسلمہ ہے۔ لیکن شام، عراق ،لبنان، یمن اور خلیجی ممالک میں ایران کے مداخلت کو روکنے کی تمام اقدامات کی حمایت کریں۔ ہم نے دیکھ لیا کہ جب پوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں ملکوں کے درمیان ان تین بڑے اختلافات کے بارے ایک بھی لفظ سامنے نہیں آیا۔ یعنی یوکرین پر روسی حملہ اور کریمیا پر قبضہ، شام میں بشارالاسد رجیم کی حمایت اور امریکہ صدارتی الیکشنوں میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا۔
دوسرے طرف امریکی لکھاری جناب لارنس سیلن نے باوثوق زرائع سے یہ لکھا ہے کہ چائنا کے کہنے پر پاکستان اور ایران ایک ہی صف پر آکر کھڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ایران کی آرمی کمانڈر میجر جنرل محمد باغیری کی پاکستان میں غیرمتوقع پانچ روزہ دورہ نے خطے کی فوجی صف بندیوں کو واضع کر دیا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان اور ایران کے دونوں فوجی سربراہاں کا یہ ملاقات چاہے پینے اور گپ شپ لگانے کیلئے نہیں بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان سیکیورٹی معائدہ اور تعاون پر ہوا ہیں۔ آئی ایس پی آر کی اس بیان میں واضع کیا گیا ہے جس میں پاکستانی جنرل قمرباجوا نے اس خطے کی امن اور سلامتی کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون پر زور دیا تھا۔
آج ہی یروشلم پوسٹ نے روسی اخباری زرائع سے تہران میں موجود روسی سفیر حوالے خبر دی ہے کہ روس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تصادم نہ ہوجائے۔ آثرات و قرائن سے یہ پتہ لگ رہا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن ایران پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا جنگی منصوبہ دفتر اسرائیل میں کھل چکا ہے۔
بدقسمتی کہیے یا کچھ اور پاکستانی سیاست کے رنگ میں ڈھلی ہمارے ہاں موجودہ پارٹی بازی کی سیاست کی بنیاد پر قومی آزادی کی نعرے کو لیکر ہم لوکل طرز کی سیاست اور پالیسیاں بناتے آرہے ہیں۔ یہ بھول گئے کہ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور مشرق وسطی کی جیوپالٹکس کے منظرنامے میں ہمارا نہ کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کردار و پروگرام اور نہ ہی متفقہ قومی پالیسی ترتیب دینے کی سوچھ رکھتے ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے بارہا بلوچستان کی کل وحدت کے نعرے کو لیکر بلوچ قومی تحریک کو اس خطے کی جیوپالیٹکس کے ساتھ نتھی کرنے اور دوٹوک موقف ہمیشہ عوام کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ بلا وجہ کارنر کرنے اور یک و تنہا کرنے کی کوششیں غیروں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہم خیال آزادی پسندوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے جب سعودی عربیہ کی معتدل اور اعتدال پسندی کی طرف گامزن ہونے کی پالیسی کو سراہا تو ڈاکٹر اللہ نظر صاحب نے ٹانگ کینچھتے ہوئے کہا خبردار، میں تھماری اس بیان کا سختی سے مزمت کرتا ہوں۔
مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورت حال، بلوچستان کے بارے خلیجی عوام کی دوٹوک موقف اور ہماری ناقص پالیساں !! تحریر آرچن بلوچ
تحریر آرچن بلوچ
ڈاکٹر یوسف محمد العلوی، بحرینی مورخ کہتے ہیں کہ ایران کے زیر تسلط ھرمز ایک بلوچ ملک رہا ہے، اسکے زیراثر علاقے اور حاکمیت کے حدود و اربع ساحل عرب خلیج کے مشرق و مغرب سے لیکر ظفار، بحرین ، القطیف اور الاحساء رہے ہیں، اور 400 سال سے زیادہ عرصے تک اس پر بلوچوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اسی حوالے سے ھورمزگان کے بارے مزید معلومات کیلئے متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کے حاکم ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی کے لیکچرز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی پولیس سابقہ قائم عام جناب ضاحی خلفان نے کھل کر بلوچستان کی آزادی کی بات کی اور تمام عرب ملکوں کو کہا کہ وہ اپنے ملکوں میں بلوچستان کے سفارت خانے کھولنے دیں۔
ابھی چند دنوں پہلے ٹویٹر پر بلوچستان کی یک وحدتی جغرافیائی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی پروفیسر، اقتصادی و تزویراتی تجزیہ کار اور سعودی عرب آرمی کی سابقہ کمانڈر بریگیڈیرجنرل ڈاکٹر علی التواتی القرشی نے دنیا میں معروف سوشل میڈیا کی ٹوئیٹر میں لکھا ہے کہ بلوچستان ایک آزاد وحدت والا ملک تھا جس کا اپنا ایک حاکم تھا پاکستان نے بلوچوں کو دھوکہ دیکر اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قبضہ کیا، وہاں بلوچوں کی دیار میں تباہی مچادی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اسی طرح ایران نے بھی شمال کی طرف سے اس پر حملہ آور ہوکر ایک حصے پر قابض ہوگیا۔ پاکستان اور ایران کو بلوچستان سے نکلنا چاہیے کیونکہ بلوچ سرزمین ان کا حصہ نہیں ہے۔ بلوچ مظلوم ہیں۔ بلوچوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کا حاکم خود بنیں۔
ایک اور ٹویٹ میں بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹرعلی القرشی لکھتے ہیں کہ میں بلوچوں کا ساتھ ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو بلوچوں کے قومیت کو نفی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلوچوں کا اپنے سرزمیں پر کوئی حق نہیں، وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جائیں۔ ہم نے اس طرح کئی جگہوں پر دیکھا ہے۔ آپ بلوچ ایک قوم ہو، آپ لوگوں کا اپنا ایک الگ زبان ہے،ایک الگ کلچر اور تہذیب ہے۔۔ ہمارے دلوں میں آپ لوگوں کیلئے عزت اور تکریم ہے۔
بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹر علی چین پاکستان اور ایران کے منصوبوں کے بارے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان چین کی مدد سے بلوچوں کی قیمت پر مضبوط ہو ہورہا ہے اور اسی طرح ایران بھی انڈیا کی مدد سے بلوچ وسائل کی قیمت پر تقویت پا رہا ہے۔۔ ڈاکٹر بریگیڈئیر جنرل علی کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر تسلط گوادر اور ایران کے زیر تسلط چابہار دونوں ہی بلوچستان میں ہیں اور بلوچوں کی ملکیت ہیں۔ بلکل اسی طرح اس مقبوضہ ملک بلوچستان میں جہاں پر پاکستان اور ایران دونوں کی قبضہ گیریت جاری ہے، وہاں اس سرزمین کے اہل باشندوں بلوچوں کی کوئی عوامی رائے وجود نہیں رکھتا۔ ان کو کوئی سننے والا نہیں۔
امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسیوں کی بدولت مشرق وسط میں امریکی اور روسی دائرہ اثر sphere of influence تصادم کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ شام میں روس کو رعایت دینے کیلئے تیار ہوچکا ہے، جبکہ ایران کے بارے روس امریکی پالیسی کو قبول کرنے تیار ہوچکا ہے۔ ھلسنکی سربراہی ملاقات میں ٹرمپ اور پوٹن کے ملاقات سے پہلے سعودی عرب کیمپ کے تمام عرب ممالک روس گئے اور وہاں روسی حکمرانوں کو باور کراچکے ہیں کہ مشرق وسطی کی جیوپالٹکس میں روس کی کردار مسلمہ ہے۔ لیکن شام، عراق ،لبنان، یمن اور خلیجی ممالک میں ایران کے مداخلت کو روکنے کی تمام اقدامات کی حمایت کریں۔ ہم نے دیکھ لیا کہ جب پوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں ملکوں کے درمیان ان تین بڑے اختلافات کے بارے ایک بھی لفظ سامنے نہیں آیا۔ یعنی یوکرین پر روسی حملہ اور کریمیا پر قبضہ، شام میں بشارالاسد رجیم کی حمایت اور امریکہ صدارتی الیکشنوں میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا۔
دوسرے طرف امریکی لکھاری جناب لارنس سیلن نے باوثوق زرائع سے یہ لکھا ہے کہ چائنا کے کہنے پر پاکستان اور ایران ایک ہی صف پر آکر کھڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ایران کی آرمی کمانڈر میجر جنرل محمد باغیری کی پاکستان میں غیرمتوقع پانچ روزہ دورہ نے خطے کی فوجی صف بندیوں کو واضع کر دیا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان اور ایران کے دونوں فوجی سربراہاں کا یہ ملاقات چاہے پینے اور گپ شپ لگانے کیلئے نہیں بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان سیکیورٹی معائدہ اور تعاون پر ہوا ہیں۔ آئی ایس پی آر کی اس بیان میں واضع کیا گیا ہے جس میں پاکستانی جنرل قمرباجوا نے اس خطے کی امن اور سلامتی کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون پر زور دیا تھا۔
آج ہی یروشلم پوسٹ نے روسی اخباری زرائع سے تہران میں موجود روسی سفیر حوالے خبر دی ہے کہ روس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تصادم نہ ہوجائے۔ آثرات و قرائن سے یہ پتہ لگ رہا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن ایران پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا جنگی منصوبہ دفتر اسرائیل میں کھل چکا ہے۔
بدقسمتی کہیے یا کچھ اور پاکستانی سیاست کے رنگ میں ڈھلی ہمارے ہاں موجودہ پارٹی بازی کی سیاست کی بنیاد پر قومی آزادی کی نعرے کو لیکر ہم لوکل طرز کی سیاست اور پالیسیاں بناتے آرہے ہیں۔ یہ بھول گئے کہ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور مشرق وسطی کی جیوپالٹکس کے منظرنامے میں ہمارا نہ کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کردار و پروگرام اور نہ ہی متفقہ قومی پالیسی ترتیب دینے کی سوچھ رکھتے ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے بارہا بلوچستان کی کل وحدت کے نعرے کو لیکر بلوچ قومی تحریک کو اس خطے کی جیوپالیٹکس کے ساتھ نتھی کرنے اور دوٹوک موقف ہمیشہ عوام کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ بلا وجہ کارنر کرنے اور یک و تنہا کرنے کی کوششیں غیروں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہم خیال آزادی پسندوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے جب سعودی عربیہ کی معتدل اور اعتدال پسندی کی طرف گامزن ہونے کی پالیسی کو سراہا تو ڈاکٹر اللہ نظر صاحب نے ٹانگ کینچھتے ہوئے کہا خبردار، میں تھماری اس بیان کا سختی سے مزمت کرتا ہوں۔
Tuesday, July 3, 2018
ایران کے زیر تسلط بلوچستان کے بارے قومی پالیسی ؟؟
مشرق وسطی کی سیاست میں ایران آج طوفانی ہواؤں کے زد میں ہے، اندرونی طور پر ایک لاوا ابل رہا ہے، فارس کے زیر تسلط بلوچ ،احواز ،کرد اور دوسرے اقوام طوق غلامی کی زنجیر کو تھوڑنا چاہتے ہیں، فارس کی شیعہ ملا رجیم بہت کمزور ہوچکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران میں اندرونی تبدلی کو سپورٹ دینے کیلئے ملا رجیم کی عسکری طاقت کو ختم کرنے کیلئے جنگی تیاریاں بھی شروع کردی ہے ہیں۔۔ پیرس میں ایرانی اپوزیشن کے اجلاس میں ٹرمپ کے مشہور قانونی مشیر روڈی جولیانی نے کہا ملا رجیم کے دن گھنے جاچکے ہیں، بس اب ان کو جانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگلے سال وہ اس کنوینشن کو وہاں ایران میں منعقد کرنا چاہتے ہیں۔
اس خطے کی سیاست یعنی جیوپالیٹکس میں طوفانی تبدیلیاں شروع ہوچکی ہیں، عالمی طاقتوں میں ایران کے حوالے دو واضع اسٹریٹجک فیصلے ہوچکے ہیں، سعودی عرب کی سربراہی میں عالم عرب اور اسرائیل کا موقف یہی ہے کہ ایران بالخصوص مشرق وسطی اور بالعموم عالمی امن کیلئے ایک سیکیورٹی رسک بن چکی ہے، اس کا وجود ختم ہونا چاہیے، جبکہ مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران میں ملا رجیم کی تبدیلی کے عمل کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے برقہ کے نیچھے جینز ہے، کالا برقہ ہٹ گیا تو معتدل و اعتدال پسند قوتیں آگے آئینگے۔ لیکن یہ معتدل اور اعتدال پسند قوتوں کا تعلق فارس سے ہوگا۔ وہ دوسرے اقوام بلوچ ،کرد، احوازی عرب وغیرہ کے قومی سوال کے وجود کو نہیں مانتے۔ لیکن ایران میں تبدیلی لانے کیلئے سعودی عرب اسرائیل اور امریکہ کیلئے بلوچ کرد اور احوازی عرب ناگزیر دوست کے طور پر ابھر چکے ہیں،
اس لیئے تمام آزادی پسند بلوچ قوتوں کیلئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی پالیساں اس خطے کی سیاسی حالات کے مطابق تشکیل دیں۔ موجودہ مجموعی قومی آزادی کی سیاست کو پالیسیز کے تناظر میں دیکھا جائے تو فری بلوچستان مومنٹ کی قیادت ایک واضع اور جامع قومی پروگرام پر عمل پیرا ہے جس میں تمام ایریاز اف پالیسیز کو جامع انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ فری بلوچستان مومنٹ کی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بلوچستان ایک جامع وحدت ہے، موجودہ سرحدی حد وحدود یعنی پاکستان کے زیرتسلط بلوچستان کے تمام علاقے ایران کے زیرتسلط تمام علاقے اور افغانستان میں شامل تمام علاقے ایک ہی وحدت یعنی بلوچستان کے جزلاینفک ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ ان تمام لکیروں کو کیھنچنے والے غیر تھے اس میں بلوچ کی مرضی شامل نہیں تھی۔ جبکہ بی آر پی اور بی این ایم اس حوالے سے اپنی عملی سیاست میں جزوی طور پر پاکستان کی زیر تسلط بلوچستان تک محدود ہیں ! بلکہ ان بلوچ علاقوں کے بارے بھی خاموش ہیں جو پنجاب اور سندھ کے اندرشامل کیے گئے ہیں۔ انکی استدلال یہی ہے ہیں، بی آر پی کی قیادت کا موقف ہے کہ مغربی بلوچستان میں قومی آزادی کی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے، اس لیئے وہاں مداخلت کرنا مناسب نہیں اسی طرح بی این ایم کا موقف ہے کہ ہم کمزور ہیں وہاں تحریک نہیں چلا سکتے ۔ ان دونوں پارٹیوں کی موقف اس حوالے سے بابا مری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”جب تک جنگ نہیں کروگے، دعوا نہیں کروگے تو دشمن طاقت ور ہے اور رہے گا بھی“۔۔ شروع میں پاکستان کے زیر تسلط مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کے پاس کونسی حربی طاقت تھی جسے بلوچ نوجوانوں نے ناقابل شکست مزاحمت میں بدل دیا؟ یعنی ابتداء جنگ اور دعوا سے شروع کیا گیا، اب اسے ختم کرنا پاکستان کی بس میں نہیں رہا۔ اندرونی کمزوریاں بہت ہیں، لیکن قابل حل ہیں ۔
اسی طرح بی آرپی کی یہ موقف کہ وہاں کوئی تحریک نہیں چل رہی بھی کمزور دلیل ہے. شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ ”ڈاکٹر مالک اور عبدالحئی وغیرہ نے قومی آزادی کی تحریک بی این ایم کو دشمن کے گود میں ڈال کر تحریک کو تباہ کر دیا ہے، سب کچھ بجھ چکاہے لیکن وہ اس راکھ کے نیچھے بچے اس چنگھاری کو اس وقت تک دمتا رہے گا جب تک یہ ایک شعلہ ور آگ بن کر قابض قوت کو تباہ نہ کردے“۔ ایران کے زیر تسلط بلوچستان میں سیاسی آزادی پر پابندی نے اسے ایک آہنی دیوال کا ایک جیل خانہ بنا دیا ہے، مگر وہاں لاکھوں بلوچ اپنے دلوں میں آزادی کی تمنا رکھتے ہیں جنہیں ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ وہاں اگر ایک بھی آزادی پسند بلوچ موجود ہے تو ہمیں اس کی قومی نظریہ اور فرض کے بنیاد پر اس کی حمایت کرنی چاہیے۔۔
بی آر پی اور بی این ایم کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطی کی جیوپالیٹکس کو بلوچ مفادات کے تناظر میں دیکھیں اور اپنی پالیسوں میں بہتر تبدیلی لائیں، تاکہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں آسانیاں پیدا ہوں۔
Friday, June 8, 2018
بی این پی مینگل کا گڈا گورنس کا اجنڈا
کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔
قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...
-
نبشتانک: آرچن بلوچ سال 2026 پر بوتگ، ءُ من سوب مندی ءُ تاوانی آنی ھساب کنگءِ تہا جیڑگایاں کہ ما 60 ملیون گیش بلوچءَ چنچو ببا داتگ ءُ چنچو...
-
آرچن بلوچ لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین کے تصور کو لیکر جب ہم اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پی...
-
لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین کے تصور کو لیکر جب ہم اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ اسی ت...