Friday, December 21, 2018

متوسطوں کے حیلے بہانے



ہم  روزانہ ٹویٹر اور فیس بک پر دنیا کو انکی اخلاقی زمہ واریوں کا احساس دلانے اور اسی اخلاق کی بنیاد پر کمک اور مدد کی تقاضہ ڈنکے کی چھوٹ پر کرتے رہتے ہیں لیکن خود اسی اخلاق کو اپنے اوپر نافذ کرنے سے قاضر ہین۔ ہم دنیا کو یہ کہتے ہوے نہیں تھکتے کہ ہم ایک سکولر قوم ہیں، اسلیے ہمارا سپورٹ کیا جائے۔  جبکہ سکولر کے معنا یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کیاجائے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی کنٹریبوشن اور تحریک میں حصہ ڈالنےکی دامے، درمے، سخنے کو قبول اس لیے نہیں کرتے کہ ان کا کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اس احمقانہ سوچ کا شکار نیپ کے زمانے میں شہید نواب اکبر رہا، پھر اس کے زد میں حیربیارمری اور خان کلات آئے۔ 
ہماری قومی جہد کا موجودہ مجموعی سیاسی شکل و صورتحال یا تشکیل  ایسا نہیں ہے جسے دوسرے اقوام  اعتماد کے ساتھ امداد کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں، جب تک دنیا کو یہ یقین نہ ہوجائے ہم ایک متحدہ و سنجیدہ قوم ہیں اس وقت تک وہ ہماری مدد نہیں کرینگے۔ ابھی تک ہماری سوچ سے طبقاتی مظلومیت کا مغالطہ بلکل نکل نہیں چکاہے، طبقاتی سوچ کے مغالطے کا بھوت میر و معتبر سردار نواب وغیرہ زھنوں میں ایسے گھرکرچکے ہیں بیچارہ قومی سوچ اور قوم کی تشکیل کا تصور اب محال بنتا جا رہاہے۔  یہی منفی سوچ الٹا قومی سوچ و تحریک کے خلاف مسلسل رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔ ممکنہ قومی اتحاد کے سامنے بند باندھ رہاہے۔
 ایسے سوچ رکھنے والوں کو کون سمجھائے کہ بلوچ سماج میں سردار اور غیر قبائلی کا تقسیم کب کا ختم ہوچکا ہے۔۔ بلوچ سماج میں سرداری نظام اپنی موت آپ مرچکی ہے، سارے سردار اخلاقی طور ختم ہوچکے ہیں  اخلاقی طور پر یہ مردہ سردار اور کچھ خودساختہ  قوم پرست پنجابی جرنیلوں کی ڈوزوں Doses کے سہارے  جی رہے ہیں، پنجابی جنرل کا سایہ اگر کل  ان کے سر سے اٹھ جائے، تو ان کی اہمیت پالتو کتے سے بھی کم  رہ جائے کی۔  برعکس اس کے،  اگر حقیقت سے دیکھا جائے تو ایک ادنا علاقائی  پہاڑی کمانڈر کی طاقت دو سرکاری سردار کی طاقت سے بڑا ہے۔۔ دوسری سب سےبڑی یہ ہے کہ بلوچستان میں اصل سردار تو پنجابی جنرلز ہیں۔۔  تحریک میں بلوچ عوام کی والہانہ شمولیت نے انگریز کی پیدا کردہ قبائل  نظام سے لیکر مزہب اور دوسرے تمام علاقائی حدبندیوں اور ذات پات کو بلکل ختم کردیا ہے۔ مگر اسے سجھنے اور دیکھنے کی ضورت ہے۔  ڈاکٹر اللہ نظر کی طاقت کئی سرکاری سرداروں کے طاقت سے زیادہ ہے۔  کبھی کھبی دوستوں کی باتوں سے یہ تاثر ملتاہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر  مظلوم ہے، حال ہی میں طارق فتح کی ایک وڈیو پیغام سے یہ تاثر ملا کہ قومی تحریک ایک طبقاتی جہد ہے، اور ڈاکٹر اللہ نظر مظلوم بلوچ طبقے کا نمائند ہے۔ یہی صورتحال اور تاثرات  موجودہ جنگ آزادی سے پہلے ڈاکٹر برادران کی سیاسیت سے ملتاجلتا ہے۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر مالک نے یہ بات عام کروایا تھا کہ اگر سیاسی ڈاکٹر ملک کوئی غلطی کرے تو ہم اسے باز پرس کرسکتے ہیں لیکن غیرسیاسی میر محمد علی کو کون باز پرس کرسکتا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہوا؟ کیا کسی نے  ڈاکٹر مالک کا کھبی احتساب کیا؟

 اب تک غیر سیاسی رویہ سے یہ لگ رہا ہے کہ  قومی تحریک کی ضروریات اور لوازامات سے لیکر خارجی امور تک، اندورونی سیاسی مشاکلات سے لیکر کسی بھی معاملے پر موجودہ آزادی پسند سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی رایہ کو سننے سے  بالکل قاصر ہیں، پہاڑوں پر لگے ہوے بڑے گنوں سے لیکر چھوٹے بندوقوں  تک سب یہ احسان جتانے کی کوشش کرنے لگے ہوہے ہیں کہ جی ہم تو اپنی پہاڑوں میں ہیں قربانی دے رہے ہیں۔۔ لیکن  کیا کیا جائے مگر حقیقت ہے کہ  بہاڑ کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں کچھ بندوں کی انٹرنشنل میڈیا  اور  دوسرے اقوام کی  سیاسی رہنماوں تک رسائی کی ضرورت ہوئی ہے، یہ تحریک ٹیم ورک کے زریعے ہی کامیاب ہوسکتی ہے، لیکن شورشرابہ اور نفسا نفسی کی عالم میں کس  طرح زمہ واریاں بانٹی جاسکتی ہیں۔  ان ساری کمزوریوں کو ادنا ورکروں نے پیدا نہیں کیے ہیں۔  فیصلہ کرنے کی مجاز پہاڑی لوگ سب سے زیادہ منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔


Monday, October 15, 2018

مشترکہ قومی قیادت ، ریاست کی تشکیل کا نعم البدل : تحریر آرچن بلوچ

جس گناہ نے گزشتہ کئی سالوں سے بلوچ آزادی کی تحریک کو قومی تحریک کا روپ دھارنے نہیں دیا وہ آج تک ہمارے تحریک کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا، اس گناہ کو ہم original sin کا نام دے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ اور یہ گناہ ایک ایسا سوچ ہےجسے اگر اکیڈمک حوالے سے پرکھا جائے تو طبقاتی بیہودگی کے سوا اور کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ 1967 میں جب بی ایس او بنی تو اسی وقت اس طبقاتی بیہودگی کی گمراہ کن اصطلاح کو بلوچ سیاست میں لایا گیا، اور اسی اصطلاح نے ہر”سیاسی لٹیرے“ کے لوٹنے کی کام کو ایک آسان جواز مہیا کیا ۔ قومی آزادی و حق حاکمیت کی شعور کی کمی اپنی جگہ، لیکن اگر تھوڑا بہت جو حاصل قومی شعور میسر تھا تو اس شیطانی و گمراہ کن طبقاتی اصطلاح نے اس تھوڑے سے حاصل قومی شعور کو بھی دو لائنوں میں تقسیم کردیا۔ اس کی ابتداء بی ایس او کی طبقاتی بنیاد پر نظریاتی تقسیم یعنی ” اینٹی سردار بی ایس او“ اور ”عوامی بی ایس او“ کی شکل سے شروع ہوئی۔ یہ طبقاتی تقسیم چلتے چلتے ڈاکٹر یاسین تک پہنچ گئی، یہاں قومی سوچ نے اس طبقاتی سوچ کی منقسمانہ پروسیس پر قابو پالیا جس کی وجہ سے وانندہ آزادی پسند تقسیم ہوتے رہے، شہید فدا احمد بلوچ کی سربراہی میں سنجیدہ اور خالص قومی سوچ نے جڑ پکڑنا شروع کردیا ۔ شہید فدا احمد کی سربراہی میں آزادی پسندوں نے اُس وقت کے بی ایس او کے چیئرمین ڈاکٹر یاسین کو تین نقاط پر مشتمل قومی حق خود اداریت کا ایک قومی پروگرام دیا تاکہ قومی تحریک کو نظریاتی حوالے سے نوجوانوں کی درست رہنمائی ہو کر تحریک کو درست ڈگر پر لایاجائے، یاسین بلوچ نے اس قومی پروگرام کو لیکر ایک پریس کانفرنس کے زریعے تمام آزادی پسند اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دی کہ نمبر 1۔ غیر طبقاتی جد وجہد برائے حق خود ارادیت و قومی خودمختاری نمبر 2۔ ترقی کا غیر سرمایہ دارانہ راہ، نمبر 3۔ جمہوری اصولوں کے تحت کم سے کم نقاط پر مشتمل ہمیں مشترکہ جد و جہد کرناچاہیے۔
لیکن بدقسمتی سے بی ایس او یاسین کابینہ کی اس وقت کی شاطر جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کہور اور رازق بگٹی ماؤزے تنگ کی طبقاتی سوچ کے نعرے کو لیکر خالص نئی قومی تحریک کے نظریے کے سامنے پہاڑ کی مانند آکر کھڑے ہو کر بہت سے بلوچ نوجوانوں کو فکری کجروی کا شکار بناکر بی ایس او کو دو لخت کردیا۔ پھر اختلافات کا ایک سلسلہ شروع ہوا ، اسی اختلافی ماحول کے آڑ میں فدا احمد کو شہید کیا گیا، ان طبقاتی سیاسی لٹیروں نے ایک بار پھر اس نئی بننے والی قومی سوچ کو لوٹ لیا۔ اور پھر اس کے بعد جتنے بھی مضبوط آزادی پسند سیاسی رہنما تھے ان کو قتل کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جن میں شہید مجید بزنجو، شہید اسلم جان گچکی، شہید ایوب بلیدی، شہید عارف جان محمد حسنی۔۔ یعنی شہید فدا دور کے تمام مضبوط آزادی پسندوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ یعنی اس نئی ”قومی سوچ“ کے ظہور ہوتے ہی اسے مضبوط رہنماؤں سے decapitate کیا گیا، اور باقیوں کو ڈرا دھمکا کر خریدا گیا، شہید غلام محمد کی نبشتانک “سقوط بولان” کو پڑھ لیں، باقیوں کے روداد وہاں آپ کو ملینگے۔ پھر ”بڑے سیاسی لٹیرے“ نے ایک اچھی خاصی تحریک کو پارلیمانی سیاست کے تجربے کے نام پر بڑی آسانی سے دشمن کے گھود میں لاکر ڈال دیا۔
موجودہ مزاحمتی تحریک بھی سیاسی لٹیروں کی دست برد اور ریشہ دوانیوں سے خود کو نہیں بچا پایا۔ یہ بھی اب دو فکری لائنوں میں تقسیم ہوچکا ہے، سیاسی اعتبار سے ماسٹر سلیم اور واحد قمبر کا تعلق بھی اینٹی سردار بی ایس او سے ہی رہا ہیں ، اسی لیے جب ان کو بی ایل اے جوائن کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں بی ایل اے کو جوائن کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنا الگ تنظیم بی ایل ایف تشکیل دی، بقول ان کے ” بی ایل اے سرداروں کی تنظیم ہے ، ان کا کیا بھروسہ وہ کل پاکستانی سیاست کو جوائن کرینگے لہذا ہم اپنا جہد بی ایل ایف کی پلیٹ فارم سے جاری کرینگے” اس طبقہ والی نظریاتی تقسیم نے آج تحریک کو کس حال میں چھوڑرکھا ہیں ؟ یعنی شروع سے گمراہ کن طبقاتی نفاق کا بیج ان لوگوں نے بویا ہے، جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اور تحریک کو قومی بننے نہیں دے رہا ۔ متوسطوں کی بلا سے اس تحریک کی قومی چہرہ مسخ ہوتا جا رہا ہے، اسے بھی سیاسی لٹیروں نے اب تقریبا طبقاتی تحریک میں تبدیل کردیا ہیں ، اسلم بلوچ نے بابا مری کی قومی کریڈٹ کارڈ کو اسکریچ کیا تو اُسے اس میں اسے ایک سردار نظر آیا۔ بابا مری اپنے قومی موقف اور قومی نظریہ کے حوالے سے ایک کھلی کتاب کی مانند تھی، اسلم کو اس کی credibility اسکریچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہاں البتہ ہوسکتا ہے کہ بابا مری نے خالص بلوچ قومی نظریہ کو پاکستانی سیاست کے mix up سے محفوظ تو کر لیا لیکن اسے اس بات کا ادراک نہیں ہوا ہوگا کہ اندرونی تنظیمی معاملات محکوم و ستم رسیدہ متوسطوں کی نازک مزاجی یا اپنے گروہی مفادات کی خاطر تحریک کو طبقاتی لائنوں پر تقسیم کریگی۔ بہرحال، اگر تحریک قومی نجات کی ہے تو اس میں ہر فرد چاہے سردار ہو یا شوان،بزگر سب بیرونی قبضہ گیریت کے زیر سایہ مظلومیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایک اکیلا متوسط طبقہ نہیں۔
مشترکہ سیاسی قیادت کی قیام اور ضرورت اس لیے اولین شرط ہے کہ یہ ریاست کی تشکیل state formation کا نعم البدل ہوگا۔ دنیا اور قوم کے سامنے مشترکہ سیاسی قیادت ہی قومی تحریک کا چہرہ ہوگا۔ یہ قومی تحریک کی سیاسی قیادت کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی تحریک کے اندرونی اور بیرونی ضروریات کو پورا کرے۔ ریاستی جبر اور سفاکیت کے سامنے تحریک کے امید کے بارے عوامی اعتماد کو متزلزل ہونے سے بچائے ۔ اس لیے دنیا اعتماد کے ساتھ ایسے ہی قیادت کے ساتھ معاملات طے کرے گا، جو قومی تحریک کے تمام معاشی ، افرادی قوت و وسائل کی دستیابی کا اہتمام کرے گا ، قومی تحریک کے لیے عوام دوست پالیسیوں کو طے کرے گا۔ سفارت کاری کے گہرے سمندر میں قومی تحریک کی کشتی کو navigate کرے گا ۔ عالمی میڈیا میں قومی تحریک کے فلسفے اور کیس کو پیش کرے گا ۔ قومی مفادات کو لیکر دنیا کے سامنے خاص کر ہمسایہ اقوام اور عالمی قوتوں کے ساتھ پارٹنرشپ کے بنیاد پر تحریک کیلئے سپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کریگی۔
لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ گراؤنڈ ، گراؤنڈ کے نعرے کو بلند کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ پہاڑ پر بندوق کی گھن گرج سے تحریک کے وسائل اور دنیا کی سفارتی حمایت خودبخود حاصل ہوگا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے جتنی اہمیت عسکری جہد کی ہے اس سے دو گنا اہمیت سیاسی سفارت کاری کا ہے اور ان دونوں میدانوں کو ایک مضبوط سیاسی قیادت ہی رہنمائی فراہم کرسکتی ہیں ۔
حقیقت حال یہی ہے جس کی ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے خود اعتراف کرلیا ہے کہ کامیاب سفارت کاری نہ ہونے کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہا ۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جب تک تحریک کو ایک مشترکہ سیاسی قیادت میسر نہ ہو، گراونڈ پر موجود جہد کار یتیمی کی حالت میں جنگ لڑتے رہینگے جس سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ صرف ایک مضبوط و منظم قومی قیادت ہی موثر سفارت کاری کے زریعئے سے گراؤنڈ کے وسائل کی دستیابی کا اہتمام کرسکتا ہے۔
کامیاب سفارت کاری نہ ہونے کے متعلق ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی ٹویٹ صرف بیماری کی نشاندہی کر رہا ہے لیکن وہ بیماری کے اسباب ، تشخیص و علاج کے بارے بلکل خاموش ہے۔ ایک طرف ڈاکٹر صاحب بیرونی ممالک میں موجود دوستوں سے کامیاب سفارت کاری کا توقع رکھتے ہیں تو دوسری طرف وہ بھول جاتے ہیں کہ تحریک کو ایک مشترکہ قیادت کی ضرورت ہے، دنیا بکھری ہوئی تنظیموں کو گھاس تک نہیں ڈالتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مشترکہ قومی سیاسی قیادت کس طرح تشکیل پائیگی؟ اگر ہمارے سیاسی رویے ریاستی تشکیل کے نعم البدل کے نیت کے طور پر ہوں تو تحریک میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں لیکن اگر سیاسی لٹیروں کا نیت یہی ہے کہ تحریک کی طوالت کے سبب دوسرے ختم ہونگے اور وہ اکیلا بچ جائینگے اور تحریک کا بے تاج بادشاہ بن جائینگے تو یہ ان کی ایک احمقانہ و مجرمانہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا !

Friday, July 20, 2018

مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورت حال، بلوچستان کے بارے خلیجی عوام کی دوٹوک موقف اور ہماری ناقص پالیساں !! تحریر آرچن بلوچ


تحریر آرچن بلوچ
مڈل ایسٹ میں ایران کی ناجائزمداخلت نے خلیجی ممالک کیلئے سیکیورٹی کے خدشات کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔ ایران کی اس ننگی جارحیت کے خلاف سعودی کیمپ کے تمام دوست ممالک بشمول امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات مصر اردن ،بحرین فرانس اور برطانیہ وغیرہ صف بندیوں میں مصروف ہیں، اسی طرح نیوکلیئر ڈیل کے خاتمہ کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اپنا دفاعی تیاری مکمل کرلے، کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے وہ یکطرفہ طورپر یورنیم افزودگی کی طرف جائے گی۔ ایران کے خلاف منصوبہ بندیوں میں اس بار بلوچ فیکٹر فیصلہ کن کردار کی اہمیت کا اس امر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بلوچستان اور بلوچ تاریخ کے بارے متواتر بحث ومباحث بڑی شد ومد سے جاری ہے، اور یہ سارے معلومات سوشل میڈیا کے زریعے عام عوام کو دستیاب ہیں۔ خلیجی ممالک کی میڈیا میں غیرسرکاری سابقہ عہدہ داروں کے بیانات کو اس خطے کی جیو پالیٹکس کے تناظر میں پڑھاجائے تو بین السطور یہ بات سجمھ میں آئیگی کہ خلیجی ممالک بلوچستان کی وحدت اورآزادی کی حمایت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ خلیجی ممالک پاکستان اور ایران دونوں کو غاصب قوت سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر یوسف محمد العلوی، بحرینی مورخ کہتے ہیں کہ ایران کے زیر تسلط ھرمز ایک بلوچ ملک رہا ہے، اسکے زیراثر علاقے اور حاکمیت کے حدود و اربع ساحل عرب خلیج کے مشرق و مغرب سے لیکر ظفار، بحرین ، القطیف اور الاحساء رہے ہیں، اور 400 سال سے زیادہ عرصے تک اس پر بلوچوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اسی حوالے سے ھورمزگان کے بارے مزید معلومات کیلئے متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کے حاکم ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی کے لیکچرز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی پولیس سابقہ قائم عام جناب ضاحی خلفان نے کھل کر بلوچستان کی آزادی کی بات کی اور تمام عرب ملکوں کو کہا کہ وہ اپنے ملکوں میں بلوچستان کے سفارت خانے کھولنے دیں۔
ابھی چند دنوں پہلے ٹویٹر پر بلوچستان کی یک وحدتی جغرافیائی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی پروفیسر، اقتصادی و تزویراتی تجزیہ کار اور سعودی عرب آرمی کی سابقہ کمانڈر بریگیڈیرجنرل ڈاکٹر علی التواتی القرشی نے دنیا میں معروف سوشل میڈیا کی ٹوئیٹر میں لکھا ہے کہ بلوچستان ایک آزاد وحدت والا ملک تھا جس کا اپنا ایک حاکم تھا پاکستان نے بلوچوں کو دھوکہ دیکر اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قبضہ کیا، وہاں بلوچوں کی دیار میں تباہی مچادی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اسی طرح ایران نے بھی شمال کی طرف سے اس پر حملہ آور ہوکر ایک حصے پر قابض ہوگیا۔ پاکستان اور ایران کو بلوچستان سے نکلنا چاہیے کیونکہ بلوچ سرزمین ان کا حصہ نہیں ہے۔ بلوچ مظلوم ہیں۔ بلوچوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کا حاکم خود بنیں۔
ایک اور ٹویٹ میں بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹرعلی القرشی لکھتے ہیں کہ میں بلوچوں کا ساتھ ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو بلوچوں کے قومیت کو نفی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلوچوں کا اپنے سرزمیں پر کوئی حق نہیں، وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جائیں۔ ہم نے اس طرح کئی جگہوں پر دیکھا ہے۔ آپ بلوچ ایک قوم ہو، آپ لوگوں کا اپنا ایک الگ زبان ہے،ایک الگ کلچر اور تہذیب ہے۔۔ ہمارے دلوں میں آپ لوگوں کیلئے عزت اور تکریم ہے۔
بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹر علی چین پاکستان اور ایران کے منصوبوں کے بارے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان چین کی مدد سے بلوچوں کی قیمت پر مضبوط ہو ہورہا ہے اور اسی طرح ایران بھی انڈیا کی مدد سے بلوچ وسائل کی قیمت پر تقویت پا رہا ہے۔۔ ڈاکٹر بریگیڈئیر جنرل علی کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر تسلط گوادر اور ایران کے زیر تسلط چابہار دونوں ہی بلوچستان میں ہیں اور بلوچوں کی ملکیت ہیں۔ بلکل اسی طرح اس مقبوضہ ملک بلوچستان میں جہاں پر پاکستان اور ایران دونوں کی قبضہ گیریت جاری ہے، وہاں اس سرزمین کے اہل باشندوں بلوچوں کی کوئی عوامی رائے وجود نہیں رکھتا۔ ان کو کوئی سننے والا نہیں۔
امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسیوں کی بدولت مشرق وسط میں امریکی اور روسی دائرہ اثر sphere of influence تصادم کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ شام میں روس کو رعایت دینے کیلئے تیار ہوچکا ہے، جبکہ ایران کے بارے روس امریکی پالیسی کو قبول کرنے تیار ہوچکا ہے۔ ھلسنکی سربراہی ملاقات میں ٹرمپ اور پوٹن کے ملاقات سے پہلے سعودی عرب کیمپ کے تمام عرب ممالک روس گئے اور وہاں روسی حکمرانوں کو باور کراچکے ہیں کہ مشرق وسطی کی جیوپالٹکس میں روس کی کردار مسلمہ ہے۔ لیکن شام، عراق ،لبنان، یمن اور خلیجی ممالک میں ایران کے مداخلت کو روکنے کی تمام اقدامات کی حمایت کریں۔ ہم نے دیکھ لیا کہ جب پوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں ملکوں کے درمیان ان تین بڑے اختلافات کے بارے ایک بھی لفظ سامنے نہیں آیا۔ یعنی یوکرین پر روسی حملہ اور کریمیا پر قبضہ، شام میں بشارالاسد رجیم کی حمایت اور امریکہ صدارتی الیکشنوں میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا۔
دوسرے طرف امریکی لکھاری جناب لارنس سیلن نے باوثوق زرائع سے یہ لکھا ہے کہ چائنا کے کہنے پر پاکستان اور ایران ایک ہی صف پر آکر کھڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ایران کی آرمی کمانڈر میجر جنرل محمد باغیری کی پاکستان میں غیرمتوقع پانچ روزہ دورہ نے خطے کی فوجی صف بندیوں کو واضع کر دیا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان اور ایران کے دونوں فوجی سربراہاں کا یہ ملاقات چاہے پینے اور گپ شپ لگانے کیلئے نہیں بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان سیکیورٹی معائدہ اور تعاون پر ہوا ہیں۔ آئی ایس پی آر کی اس بیان میں واضع کیا گیا ہے جس میں پاکستانی جنرل قمرباجوا نے اس خطے کی امن اور سلامتی کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون پر زور دیا تھا۔
آج ہی یروشلم پوسٹ نے روسی اخباری زرائع سے تہران میں موجود روسی سفیر حوالے خبر دی ہے کہ روس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تصادم نہ ہوجائے۔ آثرات و قرائن سے یہ پتہ لگ رہا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن ایران پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا جنگی منصوبہ دفتر اسرائیل میں کھل چکا ہے۔
بدقسمتی کہیے یا کچھ اور پاکستانی سیاست کے رنگ میں ڈھلی ہمارے ہاں موجودہ پارٹی بازی کی سیاست کی بنیاد پر قومی آزادی کی نعرے کو لیکر ہم لوکل طرز کی سیاست اور پالیسیاں بناتے آرہے ہیں۔ یہ بھول گئے کہ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور مشرق وسطی کی جیوپالٹکس کے منظرنامے میں ہمارا نہ کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کردار و پروگرام اور نہ ہی متفقہ قومی پالیسی ترتیب دینے کی سوچھ رکھتے ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے بارہا بلوچستان کی کل وحدت کے نعرے کو لیکر بلوچ قومی تحریک کو اس خطے کی جیوپالیٹکس کے ساتھ نتھی کرنے اور دوٹوک موقف ہمیشہ عوام کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ بلا وجہ کارنر کرنے اور یک و تنہا کرنے کی کوششیں غیروں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہم خیال آزادی پسندوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے جب سعودی عربیہ کی معتدل اور اعتدال پسندی کی طرف گامزن ہونے کی پالیسی کو سراہا تو ڈاکٹر اللہ نظر صاحب نے ٹانگ کینچھتے ہوئے کہا خبردار، میں تھماری اس بیان کا سختی سے مزمت کرتا ہوں۔

مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورت حال، بلوچستان کے بارے خلیجی عوام کی دوٹوک موقف اور ہماری ناقص پالیساں !! تحریر آرچن بلوچ

 تحریر آرچن بلوچ

مڈل ایسٹ میں ایران کی ناجائزمداخلت نے خلیجی ممالک کیلئے سیکیورٹی کے خدشات کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔ ایران کی اس ننگی جارحیت کے خلاف سعودی کیمپ کے تمام دوست ممالک بشمول امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات مصر اردن ،بحرین فرانس اور برطانیہ وغیرہ صف بندیوں میں مصروف ہیں، اسی طرح نیوکلیئر ڈیل کے خاتمہ کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اپنا دفاعی تیاری مکمل کرلے، کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے وہ یکطرفہ طورپر یورنیم افزودگی کی طرف جائے گی۔ ایران کے خلاف منصوبہ بندیوں میں اس بار بلوچ فیکٹر فیصلہ کن کردار کی اہمیت کا اس امر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بلوچستان اور بلوچ تاریخ کے بارے متواتر بحث ومباحث بڑی شد ومد سے جاری ہے، اور یہ سارے معلومات سوشل میڈیا کے زریعے عام عوام کو دستیاب ہیں۔ خلیجی ممالک کی میڈیا میں غیرسرکاری سابقہ عہدہ داروں کے بیانات کو اس خطے کی جیو پالیٹکس کے تناظر میں پڑھاجائے تو بین السطور یہ بات سجمھ میں آئیگی کہ خلیجی ممالک بلوچستان کی وحدت اورآزادی کی حمایت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ خلیجی ممالک پاکستان اور ایران دونوں کو غاصب قوت سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر یوسف محمد العلوی، بحرینی مورخ کہتے ہیں کہ ایران کے زیر تسلط ھرمز ایک بلوچ ملک رہا ہے، اسکے زیراثر علاقے اور حاکمیت کے حدود و اربع ساحل عرب خلیج کے مشرق و مغرب سے لیکر ظفار، بحرین ، القطیف اور الاحساء رہے ہیں، اور 400 سال سے زیادہ عرصے تک اس پر بلوچوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اسی حوالے سے ھورمزگان کے بارے مزید معلومات کیلئے متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کے حاکم ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی کے لیکچرز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی پولیس سابقہ قائم عام جناب ضاحی خلفان نے کھل کر بلوچستان کی آزادی کی بات کی اور تمام عرب ملکوں کو کہا کہ وہ اپنے ملکوں میں بلوچستان کے سفارت خانے کھولنے دیں۔
ابھی چند دنوں پہلے ٹویٹر پر بلوچستان کی یک وحدتی جغرافیائی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی پروفیسر، اقتصادی و تزویراتی تجزیہ کار اور سعودی عرب آرمی کی سابقہ کمانڈر بریگیڈیرجنرل ڈاکٹر علی التواتی القرشی نے دنیا میں معروف سوشل میڈیا کی ٹوئیٹر میں لکھا ہے کہ بلوچستان ایک آزاد وحدت والا ملک تھا جس کا اپنا ایک حاکم تھا پاکستان نے بلوچوں کو دھوکہ دیکر اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قبضہ کیا، وہاں بلوچوں کی دیار میں تباہی مچادی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اسی طرح ایران نے بھی شمال کی طرف سے اس پر حملہ آور ہوکر ایک حصے پر قابض ہوگیا۔ پاکستان اور ایران کو بلوچستان سے نکلنا چاہیے کیونکہ بلوچ سرزمین ان کا حصہ نہیں ہے۔ بلوچ مظلوم ہیں۔ بلوچوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کا حاکم خود بنیں۔
ایک اور ٹویٹ میں بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹرعلی القرشی لکھتے ہیں کہ میں بلوچوں کا ساتھ ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو بلوچوں کے قومیت کو نفی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلوچوں کا اپنے سرزمیں پر کوئی حق نہیں، وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جائیں۔ ہم نے اس طرح کئی جگہوں پر دیکھا ہے۔ آپ بلوچ ایک قوم ہو، آپ لوگوں کا اپنا ایک الگ زبان ہے،ایک الگ کلچر اور تہذیب ہے۔۔ ہمارے دلوں میں آپ لوگوں کیلئے عزت اور تکریم ہے۔
بریگیڈئیر جنرل ڈاکٹر علی چین پاکستان اور ایران کے منصوبوں کے بارے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان چین کی مدد سے بلوچوں کی قیمت پر مضبوط ہو ہورہا ہے اور اسی طرح ایران بھی انڈیا کی مدد سے بلوچ وسائل کی قیمت پر تقویت پا رہا ہے۔۔ ڈاکٹر بریگیڈئیر جنرل علی کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر تسلط گوادر اور ایران کے زیر تسلط چابہار دونوں ہی بلوچستان میں ہیں اور بلوچوں کی ملکیت ہیں۔ بلکل اسی طرح اس مقبوضہ ملک بلوچستان میں جہاں پر پاکستان اور ایران دونوں کی قبضہ گیریت جاری ہے، وہاں اس سرزمین کے اہل باشندوں بلوچوں کی کوئی عوامی رائے وجود نہیں رکھتا۔ ان کو کوئی سننے والا نہیں۔
امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسیوں کی بدولت مشرق وسط میں امریکی اور روسی دائرہ اثر sphere of influence تصادم کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ شام میں روس کو رعایت دینے کیلئے تیار ہوچکا ہے، جبکہ ایران کے بارے روس امریکی پالیسی کو قبول کرنے تیار ہوچکا ہے۔ ھلسنکی سربراہی ملاقات میں ٹرمپ اور پوٹن کے ملاقات سے پہلے سعودی عرب کیمپ کے تمام عرب ممالک روس گئے اور وہاں روسی حکمرانوں کو باور کراچکے ہیں کہ مشرق وسطی کی جیوپالٹکس میں روس کی کردار مسلمہ ہے۔ لیکن شام، عراق ،لبنان، یمن اور خلیجی ممالک میں ایران کے مداخلت کو روکنے کی تمام اقدامات کی حمایت کریں۔ ہم نے دیکھ لیا کہ جب پوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں ملکوں کے درمیان ان تین بڑے اختلافات کے بارے ایک بھی لفظ سامنے نہیں آیا۔ یعنی یوکرین پر روسی حملہ اور کریمیا پر قبضہ، شام میں بشارالاسد رجیم کی حمایت اور امریکہ صدارتی الیکشنوں میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا۔
دوسرے طرف امریکی لکھاری جناب لارنس سیلن نے باوثوق زرائع سے یہ لکھا ہے کہ چائنا کے کہنے پر پاکستان اور ایران ایک ہی صف پر آکر کھڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ایران کی آرمی کمانڈر میجر جنرل محمد باغیری کی پاکستان میں غیرمتوقع پانچ روزہ دورہ نے خطے کی فوجی صف بندیوں کو واضع کر دیا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان اور ایران کے دونوں فوجی سربراہاں کا یہ ملاقات چاہے پینے اور گپ شپ لگانے کیلئے نہیں بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان سیکیورٹی معائدہ اور تعاون پر ہوا ہیں۔ آئی ایس پی آر کی اس بیان میں واضع کیا گیا ہے جس میں پاکستانی جنرل قمرباجوا نے اس خطے کی امن اور سلامتی کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون پر زور دیا تھا۔
آج ہی یروشلم پوسٹ نے روسی اخباری زرائع سے تہران میں موجود روسی سفیر حوالے خبر دی ہے کہ روس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تصادم نہ ہوجائے۔ آثرات و قرائن سے یہ پتہ لگ رہا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن ایران پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا جنگی منصوبہ دفتر اسرائیل میں کھل چکا ہے۔
بدقسمتی کہیے یا کچھ اور پاکستانی سیاست کے رنگ میں ڈھلی ہمارے ہاں موجودہ پارٹی بازی کی سیاست کی بنیاد پر قومی آزادی کی نعرے کو لیکر ہم لوکل طرز کی سیاست اور پالیسیاں بناتے آرہے ہیں۔ یہ بھول گئے کہ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور مشرق وسطی کی جیوپالٹکس کے منظرنامے میں ہمارا نہ کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کردار و پروگرام اور نہ ہی متفقہ قومی پالیسی ترتیب دینے کی سوچھ رکھتے ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے بارہا بلوچستان کی کل وحدت کے نعرے کو لیکر بلوچ قومی تحریک کو اس خطے کی جیوپالیٹکس کے ساتھ نتھی کرنے اور دوٹوک موقف ہمیشہ عوام کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ بلا وجہ کارنر کرنے اور یک و تنہا کرنے کی کوششیں غیروں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہم خیال آزادی پسندوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ سنگت حیربیارمری نے جب سعودی عربیہ کی معتدل اور اعتدال پسندی کی طرف گامزن ہونے کی پالیسی کو سراہا تو ڈاکٹر اللہ نظر صاحب نے ٹانگ کینچھتے ہوئے کہا خبردار، میں تھماری اس بیان کا سختی سے مزمت کرتا ہوں۔

Tuesday, July 3, 2018

ایران کے زیر تسلط بلوچستان کے بارے قومی پالیسی ؟؟

مشرق وسطی کی سیاست میں ایران آج طوفانی ہواؤں کے زد میں ہے، اندرونی طور پر ایک لاوا ابل رہا ہے، فارس کے زیر تسلط بلوچ ،احواز ،کرد اور دوسرے اقوام طوق غلامی کی زنجیر کو تھوڑنا چاہتے ہیں، فارس کی شیعہ ملا رجیم بہت کمزور ہوچکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران میں اندرونی تبدلی کو سپورٹ دینے کیلئے ملا رجیم کی عسکری طاقت کو ختم کرنے کیلئے جنگی تیاریاں بھی شروع کردی ہے ہیں۔۔ پیرس میں ایرانی اپوزیشن کے اجلاس میں ٹرمپ کے مشہور قانونی مشیر روڈی جولیانی نے کہا ملا رجیم کے دن گھنے جاچکے ہیں، بس اب ان کو جانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگلے سال وہ اس کنوینشن کو وہاں ایران میں منعقد کرنا چاہتے ہیں۔
اس خطے کی سیاست یعنی جیوپالیٹکس میں طوفانی تبدیلیاں شروع ہوچکی ہیں، عالمی طاقتوں میں ایران کے حوالے دو واضع اسٹریٹجک فیصلے ہوچکے ہیں، سعودی عرب کی سربراہی میں عالم عرب اور اسرائیل کا موقف یہی ہے کہ ایران بالخصوص مشرق وسطی اور بالعموم عالمی امن کیلئے ایک سیکیورٹی رسک بن چکی ہے، اس کا وجود ختم ہونا چاہیے، جبکہ مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران میں ملا رجیم کی تبدیلی کے عمل کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے برقہ کے نیچھے جینز ہے، کالا برقہ ہٹ گیا تو معتدل و اعتدال پسند قوتیں آگے آئینگے۔ لیکن یہ معتدل اور اعتدال پسند قوتوں کا تعلق فارس سے ہوگا۔ وہ دوسرے اقوام بلوچ ،کرد، احوازی عرب وغیرہ کے قومی سوال کے وجود کو نہیں مانتے۔ لیکن ایران میں تبدیلی لانے کیلئے سعودی عرب اسرائیل اور امریکہ کیلئے بلوچ کرد اور احوازی عرب ناگزیر دوست کے طور پر ابھر چکے ہیں،
اس لیئے تمام آزادی پسند بلوچ قوتوں کیلئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی پالیساں اس خطے کی سیاسی حالات کے مطابق تشکیل دیں۔ موجودہ مجموعی قومی آزادی کی سیاست کو پالیسیز کے تناظر میں دیکھا جائے تو فری بلوچستان مومنٹ کی قیادت ایک واضع اور جامع قومی پروگرام پر عمل پیرا ہے جس میں تمام ایریاز اف پالیسیز کو جامع انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ فری بلوچستان مومنٹ کی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بلوچستان ایک جامع وحدت ہے، موجودہ سرحدی حد وحدود یعنی پاکستان کے زیرتسلط بلوچستان کے تمام علاقے ایران کے زیرتسلط تمام علاقے اور افغانستان میں شامل تمام علاقے ایک ہی وحدت یعنی بلوچستان کے جزلاینفک ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ ان تمام لکیروں کو کیھنچنے والے غیر تھے اس میں بلوچ کی مرضی شامل نہیں تھی۔ جبکہ بی آر پی اور بی این ایم اس حوالے سے اپنی عملی سیاست میں جزوی طور پر پاکستان کی زیر تسلط بلوچستان تک محدود ہیں ! بلکہ ان بلوچ علاقوں کے بارے بھی خاموش ہیں جو پنجاب اور سندھ کے اندرشامل کیے گئے ہیں۔ انکی استدلال یہی ہے ہیں، بی آر پی کی قیادت کا موقف ہے کہ مغربی بلوچستان میں قومی آزادی کی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے، اس لیئے وہاں مداخلت کرنا مناسب نہیں اسی طرح بی این ایم کا موقف ہے کہ ہم کمزور ہیں وہاں تحریک نہیں چلا سکتے ۔ ان دونوں پارٹیوں کی موقف اس حوالے سے بابا مری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”جب تک جنگ نہیں کروگے، دعوا نہیں کروگے تو دشمن طاقت ور ہے اور رہے گا بھی“۔۔ شروع میں پاکستان کے زیر تسلط مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کے پاس کونسی حربی طاقت تھی جسے بلوچ نوجوانوں نے ناقابل شکست مزاحمت میں بدل دیا؟ یعنی ابتداء جنگ اور دعوا سے شروع کیا گیا، اب اسے ختم کرنا پاکستان کی بس میں نہیں رہا۔ اندرونی کمزوریاں بہت ہیں، لیکن قابل حل ہیں ۔
اسی طرح بی آرپی کی یہ موقف کہ وہاں کوئی تحریک نہیں چل رہی بھی کمزور دلیل ہے. شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ ”ڈاکٹر مالک اور عبدالحئی وغیرہ نے قومی آزادی کی تحریک بی این ایم کو دشمن کے گود میں ڈال کر تحریک کو تباہ کر دیا ہے، سب کچھ بجھ چکاہے لیکن وہ اس راکھ کے نیچھے بچے اس چنگھاری کو اس وقت تک دمتا رہے گا جب تک یہ ایک شعلہ ور آگ بن کر قابض قوت کو تباہ نہ کردے“۔ ایران کے زیر تسلط بلوچستان میں سیاسی آزادی پر پابندی نے اسے ایک آہنی دیوال کا ایک جیل خانہ بنا دیا ہے، مگر وہاں لاکھوں بلوچ اپنے دلوں میں آزادی کی تمنا رکھتے ہیں جنہیں ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ وہاں اگر ایک بھی آزادی پسند بلوچ موجود ہے تو ہمیں اس کی قومی نظریہ اور فرض کے بنیاد پر اس کی حمایت کرنی چاہیے۔۔
بی آر پی اور بی این ایم کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطی کی جیوپالیٹکس کو بلوچ مفادات کے تناظر میں دیکھیں اور اپنی پالیسوں میں بہتر تبدیلی لائیں، تاکہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں آسانیاں پیدا ہوں۔

Friday, June 8, 2018

بی این پی مینگل کا گڈا گورنس کا اجنڈا


 آرچن بلوچ

بلوچستان میں بنائے گئے جتنے غیرآزادی پسند پارٹیاں ہیں، ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی واضع قومی اجنڈا نہیں ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔  لیکن ایک بات واضع ہے ان کا اول اور آخری واجب آئی ایس آئی کے اجنڈے کی تکمیل ہے، وہ اجنڈا ہے بلوچستان کو مزید پسماندہ رکھنا تاکہ بلوچوں میں مزاحمت کا رمک باقی نہ رہے اور پنجابی حکمرانوں کا لوٹ کھسوٹ کی بازار گرم رہے۔

صرف بی این پی مینگل کا ایک اجنڈا ہے جسکا اس پارٹی نے بھی تک کھلم کھلا اعلان تو نہیں کیا  ہے لیکن ثنا بلوچ کی انٹریوز سے پتہ چلتا ہے وہ موجودہ پاکستانی آئین کے ساتھ متمئن ہیں، ان کے مطابق آئینی لحاظ سے بلوچستان کے حقوق  بلوچ قوم کو  دیے گئے ہیں، مسئلہ صرف گڈ گورنس کا ہے۔ یعنی ایک اچھا حکومت آئے۔

 بی این پی  مینگل کے منشور میں  بلوچستان کی حق خود ارادیت کا ڈمانڈ شامل ہے، اب پتا نہیں کہ  موجودہ پاکستانی آئین کے فریم ورک سے متمئن ہونے کے بعد آیا بی این پی مینگل کا موجودہ  موقف کہ آئینی لحاظ سے بلوچستان کے حقوق ہمیں دیے گئے ہیں درست ہے کہ نہیں۔ اور دوسرا سوال یہ کہ  کیا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جائے کہ بی این پی مینگل کا حق خود ارادیت کا مطالبہ پورہ ہوچکا ہے؟

پچھلے ادوار میں  بی این پی مینگل نعرہ تو حق خود ارادیت کا لگاتا تھا لیکن انکے انتخابی اور احتجاجی اتحادی جمعت علما اسلام اور مسلم لیگ نون وغیرہ رہے ہیں۔ حالانکہ ان پارٹیوں  نے کبھی بھی بلوچوں کی حق خود ارادیت کو قبول نہیں کیا ہے۔  اس دفعہ  کا نعرہ انتحابی گڈ گورنس ہے اور اتحادی کون ہیں صورتحال واضع نظر نہیں آ رہا ہے۔۔

 اچھے وقتوں میں بھی پاکستان آرمی نے بلوچستان میں انتخابات کو مائیکرو منیج کیا ہے اور اپنے پسند کے لوگوں کو سامنے لایا ہے۔  اب جبکہ موجودہ دور میں پاکستان کو بلوچستان میں ایک مضبوط آزادی پسند مزاحمتی تحریک کا سامنا ہے، تو ایسے میں یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں ہوگا جو بی این پی مینگل کیلیے میدان کھلی چھوڑ دے۔

دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ بی این پی مینگل میں اقتدار میں آنا چاہتا ہے،  اور قابض حکمرانوں کیلھے بھی بی این پی  کو دینے کیلے بہت کچھ ہے۔ شرط یہ ہے کہ اخترمینگل بلوچستان پر پاکستان کی قبضہ گیریت کے شکنجے کو اور مضبوط کرنے میں مدد دے۔۔

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...