آرچن بلوچ
ایکپریس ٹرائیبون کے مطابق پاکستانی معیشت کی حالت بہت بری ہے، اس رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیت میں خام تیل کی قیمتوں میں بہت بڑی گھراوٹ کے باوجود پاکستان کی معیشت کو بہت سے خطرات درپیش ہیں۔ اس ںئے مالی سال میں جو جولائی سے لیکر اس سال کی جنوری تک جاری ہے پاکستان کی تجارتی خسارہ 7۔13 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی تجارتی خسارہ ہے۔ اس رپوررٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ موجودہ پاکستانی معیشت کی یہ صورتحال IMF کی عین اس پیشن گوئی کے مطابق ہے جس میں کہاگیا تھا کہ اگر برآمدات نہ بڑھائی گئیں تو پاکستان کی معیشت کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں سے کوئی فائدہ نہیں پینچھے گا۔ پاکستان کی معشیت کو صرف اور صرف پردیس میں کام کرنے والے مزدوروں کے رمیٹینسز Remittances زرمبادلہ سہارہ دے رہے ہیں۔ اس میں 20 لاکھ بلوچوں کی پیسے بھی شامل ہیں جس سے پاکستان کی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔
پاکستانی
اخبار ڈان کے مطابق خلیجی ممالک سے اتنا Remittances رمیٹنس آرہا ہے کہ وہ
پاکستان کی پٹرولیم درآمدات کی تمام اخراجات کو پورہ کرتے ہیں۔ یعنی ان رمیٹنسس کا
اھمیت lifeline سے کم نہی۔
.
پاکستانی
برآمدات 18 سے 25 بلین تک پہنچ چکے ہیں ، اگر اس دوران پاکستانی رمیٹنسس میں اضافہ
نہ آتا تو پاکستانی کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے توازن میں تباہ کن بگھاڑ آجاتا۔
بیرون
ملک پاکستانی باشندے اکثر حوالہ اور ھنڈی
کے زریعے ملک پیسہ بیجا کرتے تھے کیوںکہ پیسے جلدی لوگوں کو پہینچ جاتے تھے جس سے
پاکستان کی فورکس ریزروز Forex Reserves کوکچھ
فائدہ نہیں پینچ جاتا۔۔ اس لیئے پاکستان نے فوری طور پر اپنے تمام بنکوں کو ھدایت
دی کہ وہ ایسا نظام تشکیل دیں تاکہ لوگوں کو پیسے فورا اپنے نزیک تریں تمام بنک
برانچوں سے وصول ہوں اور حوالہ اور ھنڈی والوں کی نسبت ریٹ بھی سسا ہوں تاکہ لوگ
زیادہ سے زیاہ بنکوں کے زریعے ملک پیسہ بیجیں۔
ریٹ کم
ہونے اور فوری وصولی کی وجہ سے ھنڈی اور حوالہ والے بلکل نیوٹرل ہوگئے۔اسی لاکھ
پاکستانی بیرونی ممالک میں روزگار کما رہی ہیں اور رمیٹنس بیجنے والوں کی اکثریت
خلیجی ممالک سے ہے۔ اور یہ سالانہ 18 بلین سے زیادہ ڈالر پاکستان بیجتے ہیں۔ یہ
پاکستان کی 6 فیصد قومی آمدنی یعنی GDP
کے برابر ہے۔ اگر اس کے بہاؤ میں تھوڑا سا خلل آجائے تو پاکستانی
معیشت پر کاری ضرب ثابت ہوگا۔
رمیٹنسس کا تین چوتھائی حصہ خلیجی ممالک یعنی سعودی بحریں،
قطر عمان، امارات کویت سے آتی ہے۔ 2014
میں بیرون ملک سے 15۔832 بلین ڈالرپاکستان آیا جبکہ ملکی برآمدات 24۔ 162 ڈالر تھا
گوکہ برآمدات رمیٹنسس کی نسبت حجم سے زیادہ رہے مگر یہ رمیٹسس کی فرق ہے کہ جس سے
پاکستانی زرمبادلہ کو سہارہ دے رہاے ہے بغیر کسی خرچہ کے۔
سب سے
زیادہ رمٹنسس امارات سے آیا۔ موجودہ مالی
سال کے چار ماہ میں 350۔1 ڈالر پاکستانی بنکوں میں وارد ہوا۔
اسی طرح حجم کے لحاظ سے سعودی سے 721۔1 ڈالر، متحدہ امریکہ سے 905۔ اور برطانیہ سے
824۔ ڈالر پاکستانی بینکوں می پہنچا ۔
پاکستانی
معیشت کیلیئے رمیٹنسس کا اضافہ بہت ضروری ہے کیوںکہ اپنی زرمبادلہ کے زخائر کو تقویت دینے کیلئے پاکستان کو بین
الاوقوامی ساہوکاروں سے یعنی آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے قرضہ لینا پڑھتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں
بونڈز بھی بیھجنا ہوتاہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب یمن کی جنگ شروع ہوئی تو
پاکستان نے چائنا کے ایما پر اس میں شامل ہونے سے انکارکردیا اور اماراتی اھل
کاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تو اس سے پاکستانیوں کے پسینے چوٹنے لگے ڈان
نیوز نے اپنے تبصرے میں یو ں لکھا کہ عرب
ممالک سے بڑتی ہوئی رمیٹنسس ایک بڑی پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں حاص کر بگھڑتی
ہوئی یمن جنگ کی وجہ سے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان عرب ممالک سے اگر رمیٹنسس آنا
بند ہوگیا تو پاکستانی کے لیے یہ انتہا مشکل ہوگا کہ وہ بیرونی
ادائیگیوں میں توازن برقرار رکھ سکے۔
موجودہ دور میں پاکستانی زرمبادلہ کے زخائر foreign
reserves 19 بلین ڈالر ہیں ۔ اور انہیں ڈالروں سے
پاکستان نہ صرف درامدات کی بلوں کی ادائیگی کرتا رہے گا بلکن بیرونی قرضوں کے قسطوں کو بھی ادا کرتا رہے
گا اور اس کے ساتھ ہی بیرون دنیا میں اخراجات اور خدمات کے مد میں بھی اسے ڈالر
دینے پڑتے ہیں۔
پاکستان 62.649
بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ پاکستان دنیا کے ساتھ تجارت میں ہرماہ برآمدات
کی شکل میں 1.732 بلین ڈالر کماتا ہے لیکن اس کے برعکس ہرماہ درآمادات کی شکل میں
اسے 3.485 بلین کا ڈالر دنیا کو دینے پڑتے
ہیں یعنی تجارتی بیلنس 1.753 بلین
ڈالر کا خسارہ ہے ۔
سوال یہ ہے کہ
پاکستان پھر دیوالیہ ہونے کی قریب
تو پہینچ گئی ہے مگر اسے اس دفعہ کون بیل آوٹ کریگا؟ سابقہ سویت یونین دنیا کی دوسری سب سے بڑی ایٹمی ملک ہونے کے باوجود ڈفالٹ کرگئی اور اس وقت یہ ڈر بھی موجود تھا کہ سویت کے ایٹمی سائنس دان بمع ایٹمی بمبوں کے اسملنگروں کے ہتے چھڑ جائیں
گے لیکن کسی ملک نے اسے دیوالیہ ہونے سے
نہیں بچایا۔