ہم روزانہ ٹویٹر اور فیس بک پر دنیا
کو انکی اخلاقی زمہ واریوں کا احساس دلانے اور اسی اخلاق کی بنیاد پر کمک اور مدد
کی تقاضہ ڈنکے کی چھوٹ پر کرتے رہتے ہیں لیکن خود اسی اخلاق کو اپنے اوپر نافذ
کرنے سے قاضر ہین۔ ہم دنیا کو یہ کہتے ہوے نہیں تھکتے کہ ہم ایک سکولر قوم ہیں،
اسلیے ہمارا سپورٹ کیا جائے۔ جبکہ سکولر
کے معنا یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کیاجائے۔
لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی کنٹریبوشن اور تحریک میں حصہ ڈالنےکی
دامے، درمے، سخنے کو قبول اس لیے نہیں کرتے کہ ان کا کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اس
احمقانہ سوچ کا شکار نیپ کے زمانے میں شہید نواب اکبر رہا، پھر اس کے زد میں
حیربیارمری اور خان کلات آئے۔
ہماری قومی جہد کا موجودہ مجموعی سیاسی شکل و صورتحال یا تشکیل ایسا نہیں ہے جسے دوسرے اقوام اعتماد کے ساتھ امداد کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں،
جب تک دنیا کو یہ یقین نہ ہوجائے ہم ایک متحدہ و سنجیدہ قوم ہیں اس وقت تک وہ
ہماری مدد نہیں کرینگے۔ ابھی تک ہماری سوچ سے طبقاتی مظلومیت کا مغالطہ بلکل نکل
نہیں چکاہے، طبقاتی سوچ کے مغالطے کا بھوت میر و معتبر سردار نواب وغیرہ زھنوں میں
ایسے گھرکرچکے ہیں بیچارہ قومی سوچ اور قوم کی تشکیل کا تصور اب محال بنتا جا
رہاہے۔ یہی منفی سوچ الٹا قومی سوچ و
تحریک کے خلاف مسلسل رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔ ممکنہ قومی اتحاد کے سامنے بند باندھ
رہاہے۔
ایسے سوچ رکھنے والوں کو کون سمجھائے
کہ بلوچ سماج میں سردار اور غیر قبائلی کا تقسیم کب کا ختم ہوچکا ہے۔۔ بلوچ سماج
میں سرداری نظام اپنی موت آپ مرچکی ہے، سارے سردار اخلاقی طور ختم ہوچکے ہیں
اخلاقی طور پر یہ مردہ
سردار اور کچھ خودساختہ قوم پرست پنجابی
جرنیلوں کی ڈوزوں Doses کے سہارے
جی رہے ہیں، پنجابی جنرل کا سایہ اگر کل ان کے سر سے اٹھ جائے، تو ان کی اہمیت پالتو کتے
سے بھی کم رہ جائے کی۔ برعکس اس کے، اگر حقیقت سے دیکھا جائے تو ایک ادنا
علاقائی پہاڑی کمانڈر کی طاقت دو سرکاری
سردار کی طاقت سے بڑا ہے۔۔ دوسری سب سےبڑی یہ ہے کہ بلوچستان میں اصل سردار تو
پنجابی جنرلز ہیں۔۔ تحریک میں بلوچ عوام
کی والہانہ شمولیت نے انگریز کی پیدا کردہ قبائل نظام سے لیکر مزہب اور دوسرے تمام علاقائی
حدبندیوں اور ذات پات کو بلکل ختم کردیا ہے۔ مگر اسے سجھنے اور دیکھنے کی ضورت
ہے۔ ڈاکٹر اللہ نظر کی طاقت کئی سرکاری
سرداروں کے طاقت سے زیادہ ہے۔ کبھی کھبی
دوستوں کی باتوں سے یہ تاثر ملتاہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر مظلوم ہے، حال ہی میں طارق فتح کی ایک وڈیو
پیغام سے یہ تاثر ملا کہ قومی تحریک ایک طبقاتی جہد ہے، اور ڈاکٹر اللہ نظر مظلوم
بلوچ طبقے کا نمائند ہے۔ یہی صورتحال اور تاثرات
موجودہ جنگ آزادی سے پہلے ڈاکٹر برادران کی سیاسیت سے ملتاجلتا ہے۔ ایک
زمانے میں ڈاکٹر مالک نے یہ بات عام کروایا تھا کہ اگر سیاسی ڈاکٹر ملک کوئی غلطی
کرے تو ہم اسے باز پرس کرسکتے ہیں لیکن غیرسیاسی میر محمد علی کو کون باز پرس
کرسکتا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہوا؟ کیا کسی نے
ڈاکٹر مالک کا کھبی احتساب کیا؟
اب تک غیر سیاسی رویہ سے یہ لگ رہا ہے
کہ قومی تحریک کی ضروریات اور لوازامات سے
لیکر خارجی امور تک، اندورونی سیاسی مشاکلات سے لیکر کسی بھی معاملے پر موجودہ
آزادی پسند سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی رایہ کو سننے سے بالکل قاصر ہیں، پہاڑوں پر لگے ہوے بڑے گنوں سے
لیکر چھوٹے بندوقوں تک سب یہ احسان جتانے
کی کوشش کرنے لگے ہوہے ہیں کہ جی ہم تو اپنی پہاڑوں میں ہیں قربانی دے رہے ہیں۔۔
لیکن کیا کیا جائے مگر حقیقت ہے کہ بہاڑ کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں کچھ بندوں
کی انٹرنشنل میڈیا اور دوسرے اقوام کی سیاسی رہنماوں تک رسائی کی ضرورت ہوئی ہے، یہ
تحریک ٹیم ورک کے زریعے ہی کامیاب ہوسکتی ہے، لیکن شورشرابہ اور نفسا نفسی کی عالم
میں کس طرح زمہ واریاں بانٹی جاسکتی ہیں۔ ان ساری کمزوریوں کو ادنا ورکروں نے پیدا نہیں
کیے ہیں۔ فیصلہ کرنے کی مجاز پہاڑی لوگ سب
سے زیادہ منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment