ہم باربار بلوچ قوم
کی اجتماعی قومی قوت کی ایک مرکز میں مرتکز ہونے کی ضرورت پر اس لیے زور دے رہے ہیں
کہ ہمارا دشمن باقائدہ اپنی سب سے بڑی منصوبوں کو کامیاب کرانے پر عمل پیرا ہے، اور
کسی حد تک
troop surge کی اسٹراٹیجی
کے بدولت کامیاب ہوچکی ہے۔۔
اور دوسری طرف ہمارا
منتشرمزاحمتی قوت، اجتماعی قومی قوت کے بغیر یتیمی کی حالت میں کمزور پوزیشن پر قوم
کی دفاع کر رہا ہے۔ اور اسی دفاع کی پاداشت داشت میں سفاک دشمن عام عوام کو اجتماعی
سزا دے رہا تاکہ مزاحمت کاروں کو عام عوامی سپورٹ اور حمایت نہ ملے!
اس صورتحال کو بدلنے
کیلئے تندہی سے تمام آزادی پسند قوتوں کو ایک اجتماعی قیادت کی ضرورت پر عملی طور پر
متفق ہونا ہوگا تاکہ نہ صرف گراؤنڈ پر بلکن بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی حاصل
کرنے کی راہیں کھل جائیں
قوم کی اجتماعی قوت
دنیا کے سامنے اجتماعی سیاسی قیادت کی شکل میں سامنے نظرآتی ہے اور یہی اجتماعی سیاسی
قیادت ہی قومی تحریک کا اصل چہرہ ہوگا۔۔۔
No comments:
Post a Comment