Friday, April 7, 2017

حمل حیدربلوچ کا اتحاد کیلئے بات چیت کے پروسس میں دانشوروں اور بزرگ سیاست کاروں کو شامل کرنے کی مثبت تجویز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پہلا قدم کون اٹھائے؟

آرچن بلوچ 
حمل حیدر بلوچ، جوکہ یورپ میں بی این ایم کا نمائندہ رہنما ہے، ان کا ایک مضمون چار دن پہلےمیرے سامنے گزرا، ان کا یہ آرٹیکل بلوچ قومی اتحاد کے حوالے بہت مثبت پیش رفت ہے لیکن مجھے نہیں معلوم یہ آرٹیکل اس نے کب لکھا ہے، لیکن کسی دوست نے میرے ساتھ شئر کیا تھا۔ اس آرٹکل میں لکھی حمل حیدر کی باتوں کو میں نے قابل عمل پایا۔۔ میرے خیال میں باتوں سے آگے دو قدم چل کر ہی عمل کا فرض پورا کیا جاسکتا ہے، اس حوالے فری بلوچستان مومنت کی طرف سے عملی طور پر رابطہ کاری کیلئے کمیٹیاں بنائی گئیں اور عملی طور رابطہ بھی کیا گیا لیکن بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ موجودہ معاروضی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قومی تحریک میں شامل تمام آزادی پسند عملی طور آگے بڑھ کر قوم کی منتشر قوت کو مجتمع کرلیں، حمل حیدر نے تجویز دی ہے کہ ‘‘ہم سب سے پہلے ایک فارمل سیٹ اپ بنائیں جو تمام تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہو تاکہ اتحاد کی بنیاد رکھی جاسکے۔ یہ سیٹ اپ اتحاد سے مشابہ نہیں ہوگا بلکہ اسکا مقصد اتحاد کے پروسس کو میچور بناناہوگا۔ پھر بات چیت کے پہلے مرحلے میں ایک تین روزہ بند کانفرنس بلایا جائے جہاں اتحاد کے مختلف آپشنز پر سیر حاصل بحث کیا جائے۔ اگر اس کانفرنس میں دانشوروں اور فارغ التحصیل سینئر سیاست کاروں کو شامل کیا جائے تو بہتر رہے گا‘‘
حمل حیدر کی یہ تجویز کہ ‘‘اگر اس کانفرنس میں دانشوروں اور فارغ التحصیل سینئر سیاست کاروں کو شامل کیا جائے تو بہتر رہے گا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اب اتحاد کے حوالے سنجیدگی سے سوچھ رہے ہیں، کیونکہ جب تھرڈ پارٹی یعنی دانشور اور بزرگ رہنما اس پروسس میں شامل ہونگے تو پیش رفت ہونے کے قوی امکانات موجود ہونگے اور تحفظات بھی نہیں رہیںگے۔ اس حوالے فری بلوچستان مومنٹ کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ اشتراک عمل کے زریعے قوم کی اجتماعی قوت کو متحد ہونا ہوگا۔ لیکن اب اگر اتحاد کے حوالے حمل حیدر کی طرف سے تھرڈ پارٹی یعنی بزرگوں اور دانشوروں کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تو اسے عوامی حلقوں میں پزیرائی ملے گی کیوںکہ اس سے بات چیت کے تمام مراحل خوش اسلوبی اور اعتماد کے ساتھ حل ہونگے۔ فری بلوچستان مومنٹ کے ورکرز قوم کی اجتماعی قوت کو متحد کرنے کی ہرمثبت عمل کو وش اتک کریگی اس حوالے ایف بی ایم کے پلیٹ فارم کے طرف سے یہ بات پہلے ہی واضع کی گئی ہے کہ بات چیت کیلئے دروازے ہمیشہ کھلے رہینگے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ دوسری طرف باقی آزادی پسندوں کی طرف سے عملی اقدامات اور عملی پیش رفت کس طرح کی ہو وہ حمل حیدر اور ان کے دوستوں کی طرف سے اٹھائے گئے عملی اقدامات سے ہی ثابت ہوسکتا ہے۔


آرچن بلوچ

No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...