آرچن بلوچ
قومی
بحران سے نکلے کیلئے ‘قومی اپروچ‘ کی اصطلاح بہت اہمیت کا حامل ہے، جب بھی کسی جمہوری
ملک میں قومی الکشن ہوے اور کسی پارٹی کی اکثریت ثابت نہ ہوسکی اور بحرانی کیفیت پیدا
ہوئی تو وہاں ‘قومی‘‘ حکومت قائم کیا گیا۔ جیسا کہ حالیہ افغانستان میں صدارتی الکشنوں
میں کسی ایک فریق کی واضع اکثریت ثابت نہ ہوسکی تو وہاں ‘قومی‘ حکومت قائم کیا گیا۔۔
دنیا میں اکثر جمہوری ممالک میں آئینی طور پر قومی حکومت بنانے کے گنجائش رکھی گئی
ہے تاکہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کی سبیل ہوسکے، اسی طرح دنیا کے تمام ملکوں کے ادارے
یعنی فوج بنک وغیرہ خودمختار قومی ادارے کہلائے جاتے ہیں جن پر کسی خاص پارٹی یا گروہ
کی اجارہ داری نہیں۔
اسی
طرح اگر کسی ملک کا سیکیورٹی یا معیشت بحرانی کیفتیت میں مبتلا ہو تو وہاں قومی پروچ
کے تحت فیصلے لیئے جاتے ہیں، اسی غرض سے آل پارٹی کانفرنس بلائے جاتے ہیں، جیسا کہ
پاکستان نے سیکیورٹی کی بحرانی کیفیت سے نکلنے کیلئے آل پارٹی کانفرنس بلاکرقومی اپروچ
و رایہ کے زریعے نیشنل اکشن پلان ترتیب دیا۔
اب
اسی قومی اپروچ کی تصور کو لیکر بلوچ آزادی کی تحریک کو دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں قومی
اپروچ نظر نہیں آر رہا ہے۔ حالانکہ بلوچ قوم اپنی تاریخ میں بدتریں بحرانی کیفیت میں
گزر رہا ہے، اس کی وجود خطرے میں پڑھ چکی ہے، اسے سیکیورٹی، معاشرتی، معاشی اور انسانی
حقوق کے سنگتین مسائل درپیش ہیں اس کی آزادی کی تحریک جیت اور شکست کی سنگم پر سانس
لے رہا ہے، دنیا کی تیسری بڑی قوت چائنا عملا اپنی فوجی قوت کے ساتھ بلوچ ساحل پر لنگرانداز
ہوچکی ہے، بلوچ سرزمین الاقوامی قوتوں کا اکھاڑا بن چکا ہے۔ چاروں طرف خطرات منڈالا
رہے ہیں، بلوچستان کا کرائسس اب ایک بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے، ہمارے
خطے کی جیوپالٹکس کا نقشہ بلکل بدل چکا ہے۔ لیکن ہم اس تمام صورتحال کو ہم کس اپروچ
کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور جہید کر رہے ہیں؟، اجتماعی قومی اپروچ وسوچ کے ساتھ یا انفرادی
لوکل پارٹی سیاست کے اپروچ کے ساتھ؟
افسوزناک
حقیقت یہی ہے کہ ہم گزشتہ 16 سال سے پارٹی سیاست کے اپروچ کے تحت بے دریغ قربانیاں
دے رہے ہیں، ہم وہ نتائج حآسل ںہ کر سکے جس کی جس سطح کی قربانیاں دی گئیں۔ بقول میرے
دوست کے ہم لوکل سیاست کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے مطالبے بین الاقوامی ہیں
No comments:
Post a Comment