آرچن بلوچ
پتہ نہیں یہ میری نالائقی ہے یا غم روزگار سے فراغت نہ ملنے کی
سبب، یا بے یقینی اور بداعتمادی لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسیات کے حوالے اردو میں لکھی
گئی پاکستانی مصنفوں کی کتابوں کو میں نے
ابھی تک نہیں پڑھا ہے، ہاں البتہ اقتباسات، حوالے جات اور بلوچستان کی سیاسی تاریخ
کے بارے بلوچوں کی لکھی گئی کچھ چند کتابوں کو ضرور پڑھا ہے، اور ان آرٹیکلوں کو بھی
پڑھا ہے جن کا تعلق برائے راست بلوچ سیاسیات و مزاحمتی تحریک سے ہے۔ حاص کر صورت خاں
مری، حفیظ حسن آبادی، استاد شبیر بلوچ اور
دوسرے بلوچ لکھاری جنہوں نے بلوچ آزادی کی بحالی کی مقصد کو لیکر اچھے مضامیں لکھے
ہیں۔
سیاسیات کے حوالے اردو میں لکھی گئی بیشتر کتابیں سماجی
تبدیلی یا انکلابی نعروں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا بلوچ تحریک آزادی سے کوئی واسطہ
نہیں۔ کیوبا، چائنا اور رشیا وغیرہ میں فوجی نوعیت کے استبدادی سماجی تبدیلیوں کو
انکلاب کا رنگ چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جن
کے تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ پاکستان میں آپ کو اردو میں لکھی گئی کوئی
ایسی کتاب نہیں ملتا جن میں آزادی کی تحریک کے متعلق مباحث ہو۔
میں نے اکثر وبیشتر دیکھا ہے بلوچ
طلبا انہی پاکستانی کتابوں کو شوق سے پڑھتے ہیں لیکن وہ قومی علم و آگہی جو قومی
حق حاکمیت کی درس سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان
کتابوں سے انہیں نہیں ملتے۔ گوکہ یہ کتابیں
ترقی پسندی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مگر جداگانہ کلچر اور مفرد تاریخ رکھنے والے
اقوام کی اپنی گلزمیں پر اپنی حق حاکمیت کے بحالے restoration
of national sovereignty کے بارے یہ کتابیں بلکل ھاموش ہیں۔
موجودہ سیاسی کیڈرز کی بیانات اور گفتار و اظہاریہ
سےانکی سیاسی و آگہی بلوغت کا بتہ چلتا ہے کہ انتہائی انکلابی معیارات سے مزین
ہیں۔ زیادتر ماوزے تنگ کے کلچرل انکلاب کے
حامی نظر آتے ہیں۔ ماوزے تنگ نے کلچرل
انکلاب لانے کیلئے ایک پوری نسل کو خون میں غلطاں کیا اور دنیا کی سفاکتریں خونی
کلچرل انکلاب چین میں لایا ، جہاں بیس لاکھ انسان لقمہ عجل بن گئے۔
اپنے ہی عوام پر اس انکلاب کو لانے کیلئے ناقابل یقین سفاکیت کی حربے
آزمائے گئے جو آج تک تاریخ دان یہ سمجنھے سے قاصر ہیں کہ اس طرح کی خوب بہانے کی
کیا ضرورت تھی!
برعکس خونی انکلاب کے، آزادی کی تحریک یا اپنی گلزمین پر قومی حق حاکمیت کی بحالی کی جہد
ایک غیر طبقاتی عوام دوست People
Friendly تحریک ہوتی ہے جس میں
سرمایہ دار، سردار سے لیکر مزدور ڈاکٹر وغیرہ سب غیرمشروط طورپر شامل ہوتے ہین۔ موجودہ بلوچ آزادی کی جہد
خالص ءُومی حق حاکمیت کی بحالی کی تحریک ہے۔ بلوچ طلبا کو چاہیے کہ وہ انکلابی
بننے کے بجائے آزاد جمہہوری ملک کی تصور کو لیکر اپنی علمی تشنگی کو ازادی کی
تحریکوں کے بارے لکھے گئی کتابوں سے بجھائیں، انگریزی اور دوسرے زبانوں میں ایسے
کتابیں اور مضامیں انٹرنٹ میں بکثرت دستیاب ہیں۔
یاد رکھیے کہ لفظ انکلاب ایک نامکمل
اصطلاح ہے، انکلاب معنوی لحاظ سے کسی نظریہ یا تصور کو واضع نہیں کرسکتا ہے جب تک کہ
اس کے ساتھ لاحقے اور ثابقے نتھی نہ ہوں جیسا کہ ایران کا اسلامی انکلاب، چائںآ کا
کلچرل انکلاب اور روس، کیوبا ، کوریا وغیر
کا سوشلسٹ انکلاب !
No comments:
Post a Comment