ارچن بلوچ
___________________________________
پچھلے دو ہفتوں میں بی ایل ایف کے سابقہ کمانڈر فضل حیدر کے ہاتھوں اکبر زامرانی کا ساتھیوں سمیت قتل اور زخمی ہونا اور پھر فضل حیدر کا بی ایل ایف کے ہاتھوں مبینہ دھوکہ دہی سے قتل ایک ایسا المیہ ہے کہ جس سے پتا چلتا ہے کہ مزاحمتی تحریک کی مکران کا مورچہ کا کس ابتر صورت حال میں ہے۔ تمپ گومازی بلنگور سے لیکر بالگتر حوشاب تک اور پھر زامران و بلیدہ تک مزاحمت کا چہرہ داغ دار ہوچکی ہے۔
تاہم یہ ماننا پڑھتا ہے کہ مزاحمتی تحریکوں میں ایسے واقعات ضرور ہوتے ہیں مگر وہ یکا دکا ہوتے ہیں۔ اور پھر انہیں سبھالا جاتا ہے لیکن مکران کے مورچے میں تو آوے کا آوا بھگڑ چکا ہے۔
مکران کے مورچے سے پچھلے کئی ایسے واقعات کا تعلق براہ راست ایسے کئی کمانڈروں کی غیر زامہ دارانہ رویوں سے ہے جس سے نہ صرف تحریک کی بدنامی ہوئی ہے بلکن عوام میں بھی تحریک کے کامیابی کے بارے شکوک و شہبات جنم لے چکلے ہیں۔
اور یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بی ایل ایف کی قیادت یا تو انتہاہی نا اھل و نالائق ہے یا اپنی پچھلی غلطیوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں سرائیمگی اور گھبراھٹ کی شکار ہوچکی ہے۔ اور ہر غلط پرغلطی کر رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بی ایس او، بی این ایم اور ڈیاسپورہ بلوچ کا سپورٹ کے باوجود ایک مکران کا مورچہ بی ایل ایف سے سنبھالا نہیں جارہا!
بی ایل ایف مزاحمتی تحریک کا ایک جز ہے۔ یہ پچھلے دس سالوں سے مکران میں سرگرم ہے۔ مگر مکران سے اگے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ اور اس کی قیادت کی پچھلے دس سالوں کی تمام سیاسی فیصلے بھی قومی سوچ کے برعکس رہے ہیں!۔
No comments:
Post a Comment