آرچن بلوچ
گزشتہ روز
بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ براھمدگ بگٹی نے اپنے طویل وضاحتی بیان میں قومی اتحاد
کیلئے بلوچ آ زادی پسند پارٹیوں اور لیڈروں کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے پاس آ کر سرجوڑ
کربیٹھیں اور اپنی تمام اختلافات کو باہمی گفت و شنید سے دور کرتے ہوے قومی اتحادکی
تشکیل کو یقینی بنائیں۔ درجہ بندی کے حوالے براھمدگ بگٹی کا بیان تین کٹگریز پر مشتمل
ہے ۔ اس بیان کا پہلا حصہ ان ٹوٹے ہوے قومی اتحاد کے بارے وضاحتوں پر مشتمل ہے جہاں
بحیثیت فریق زمہ واریوں سے کوتاہی برتنے کی وجہ سے ان کی پارٹی کو شدید تنقید کا سامنا
ہے۔ اس بیان کے دوسرے حصہ کا ان اعترافات سے تعلق ہے ۔ جہاں ان کی پارٹی سے کمزوریاں
اور غطلیاں سرزد ہوئی ہیں جن کا وہ بظاہر اعتراف کرتے ہیں ۔ اور اس بیان کے تیسرے حصہ
کا تعلق قومی اتحاد کی دعوت پر مشتمل ہے جہاں وہ آزادی پسند پارٹیوں اور رہنماوں کو
یکجاہ سرجوڑنے کو کہتے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کو تشکیل دیں ۔ براھمدگ بگٹی کا بیان قومی
اتحاد کے حوالے ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ حکومت کے ساتھ مزاکرت کرنے کے عمل میں مصروف
ہیں۔ حدشات اور تحفظات کے پیش نظر یہ بات براہ راست پوچھی جاسکتی ہے بھائی صاحب کہیں
ایسا تو نہیں اس قومی اتحاد کے دعوت کے آڑ میں آپ ہمیں مامو بنانے کے چکر میں تو نہیں
ہو؟ یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش تو نہیں کررہے ہو کہ یہ آزادی پسند بندے آپ کے پاس آتے
ہی دنیا کو یہ پیغام جائے کہ آپ کی مزاکراتی عمل میں ان کی رضامندی شامل ہے؟ اور اگر
یہ لوگ آ پ کے پاس آنے میں انکار کردیں تو عوام میں یہ پیغام جائے کہ دیکھو ہم نے قومی
اتحاد کی دعوت دے لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ اس لیئے مجبورا قومی مفاد کی
خاطر دشمن کے ساتھ مزاکرات کرنا پڑرہاہے۔ اگر بالفرض محال مجوزہ آزادی پسند رہنماوں
اور پارٹیوں نے آپ کی دعوت قبول کی اور آپ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مزاکرات کے حق
میں مجوزہ قومی اتحاد سے اکثریت رایہ کا طلب کیا گیا۔ تو اکثریت پاکستان کے ساتھ مزاکرات
کرنے کے حق میں ہوگا۔ کیو نکہ اب جن لوگوں کو آپ نے فریق بنا کر اتحاد کی بات کی ہے
، وہ پہلے ہی آ پ کے ساتھ ہیں۔ گنتی اور حمایتی کے حساب میں مہران مری، جاوید مینگل،
بختیار ڈومکی بی آر پی وغیرہ یہ تمام ایسے افراد ہیں جن کا آپ کے ساتھ پہلے ہی بہت
بڑا ھم آہنگی ہے ۔ اب اس تناظر میں دیکھا جائے تو آ پ کو پہلے ہی مزاکرات کرنے کا منڈیٹ
اور حمایت حاصل ہے، تو قومی اتحاد کی بات کرنا چے معنا دارد؟
ج
No comments:
Post a Comment