قومی آزادی کی جنگ میں سرمچار یا گوریلا سب سے کمزورتریں فریق ہے۔ اس لیے تو چپکے سے جنگ لڑتی ہے۔۔۔ کیوںکہ گوریلہ جنگ وہ لڑتے ہیں جو وسائل، تعداد ، مالی اور عوامی حمایت کے لحاظ سے کمزور ہے۔۔ اور یہی کمزوری ان کی اصل طاقت ہے۔۔ اسی کمزوری میں اس کی تمام قوت پوشیدہ ہے۔
اگر اس فریق کے ممبر یعنی سرمچار غرور اور تکبر کے مغالطے میں آکر خود کو ہیرو سجھنے لگیں اور لاپروائی پر اتر آئیں۔ ہر سرمچار خود کو کمانڈر سمجھنے لگے، یہ کمانڈرز بلدیاتی سیاست دانوں کی طرح ہر گاؤں محلوں میں تقریریں کریں اور بندوقیں لہرائیں تو دشمن کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے؟
جیسا کہ پچھلے پانچ سالوں میں بلوچ عسکری محاذ میں یہی ہوتا آرہا ہے خاص کر مکران میں
انٹرنٹ میں کئی ایسے وڈیو کلپس دستیاب ہیں جہاں ہیروازم کا اظہار برپور انداز ہوئی ہے۔۔ بندوق بردار سرمچار تقریریں کرتے ہوے ہوائی فائرینگ کرتے ہوے ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے ابھی ابھی دشمن کو محاذ جنگ سے شکست دیکر گاؤں لوٹیں ہیں۔
ایسی احماقانہ رویہ کو دیکھ کر میں ہمیشہ یہی سوچھتا ہوں کہ تقریر کرنے کے بجائے اگر یہ سرمچار اپنی جنگی تربیت و محارت پر زیادہ توجہ دیتے تو آج حالات یکسر تبدیل ہوجاتے۔۔
تقریر کرنے بجائے یہ سیکھ لیتے کہ کس طرح فضائی حملے کی صورت میں سول آبادی کی کمک کی جاسکتی ہے یا عام عوام کو یہ تربیت دیتے کہ فضائی بمباری کی صورت میں وہ کس طرح اپنی بچاؤ اور نقصان کم کرسکتے ہیں یا زحمی ہونے کی ضورت میں کس طرح فسٹ ایڈ دی جاسکتی ہے؟
لکن افسوز کی بات یہ ہے کہ جب لیڈر شپ کے دماغ میں ہیروازم کا بھوت سوار ہو اور سارا دھان پوٹو پوزینگ دینے پر ہو تو سوچو نتائج کیا نکلیں گے؟
روسی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ مچھلی کا سرنا ان کے سرسے شروع ہوجاتی ہے۔۔
A fish rots from the head down
A fish rots from the head down
آرچن بلوچ
No comments:
Post a Comment