Saturday, July 6, 2019

اجتماعی سیاسی قیادت وقت کی اھم ضرورت۔۔۔۔



اجتماعی سیاسی قیادت وقت کی اھم ضرورت۔۔۔۔
آرچن بلوچ
ہمارے خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی   جیوپالٹکس، بلوچ سرزمیں پر عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ ، ہماری کمزور حیثیت، دشمن کی سفاکیت، اندرونی سیاسی بحرانی کیفیت، عوام کی دلبرداشتگی، تحریک کی سیاسی، سفارتی  اور  معاشی جیسے بحرانوں کا تقاضہ ہے کہ  قومی تحریک کے  تمام آزادی پسند قوتیں  ایک اجتماعی سیاسی قیادت کے آئیڈیا پر متفق ہوں جو تحریک کے سیاسی، سفارتی  اور معاشی ضرورتوں کو پورہ کرسکے۔۔ مگر دردناک حقیقت یہی ہے کہ سیاسی قیادت کی تشکیل کے سامنے پہاڑ جیسے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔

عوام کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ بلوچ تحریک بحرانی کیفیت میں ہے اور اس کی جڑ عسکری میدان کے کچھ لاپروا رہنما ہیں جو نہیں چاہتے کہ قومی تحریک کا ایک سیاسی قیادت ہو۔۔ وہ یہ سجمھتے ہیں کہ چونکہ وہ پہاڑی بابے ہیں لہذا تحریک پر  انکا اجارہ داری ہو۔ انکا سوچ ہمیشہ اجتماعیت کے برعکس رہا ہے۔

اپنی اس خفیہ اجنڈے کی تکمیل کیلئے وہ عام عوام اور مخلص سیاسی ورکرں کے کانوں کو بھر چکے ہیں کہ سنگت حیربیارمری، نواب براھمدگ بگٹی، خان اف کلات اور مہران بلوچ یہ سب قبائلی سردار ہیں، بقول انکے وہ غیرانقلابی ہیں۔ ان پہاڑی اجارہ داروں نے تحریک کو مکمل ایک طبقاتی جہد میں تبدیل کردیا ہے۔

ان طبقہ پرستوں نے تحریک کے ہر میدان میں چاہے وہ سیاسی، سفارتی اور عسکری میدان ہو یا عام عوام میں سماجی معاملات ہوں سب میں غلطیوں کے پہاڑ کھڑے کیے ہیں۔ انہی کی وجہ سے عام عوام میں مایوسی پھیل چکی ہے۔ اور انہی لوگوں کی وجہ سے تحریک میں کافی negativity آچکی ہے۔

ان تمام معاملات کا حل holistic approach کے ساتھ ایک قومی پروگرام ہے جس سے تحریک کے تمام اسٹاک ہولڈرز ایک ڈسپلن کے تحت تحریک کی کامیابی کیلئے اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں۔


No comments:

Post a Comment

کم اجرت پر کام کرنے والا پشتونوں پر مشتمل ملیشیا ایف سی والے پنجابی کی غلامی میں بلوچ اور پشتون کا خون بہا رہا ہے۔

قابض پاکستانی فوج کے ترجمان آج بلوچ نوجوانوں کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تو ایف سی میں بھرتی ہو جائیں۔ دوسری جانب قابض ری...